از افاضاتِ خلفائے احمدیت

ہمارے لئے اب عمل کا زمانہ ہے اورعمل ہمیشہ جذبات سے ہوا کرتا ہے نہ کہ عقل سے(قسط دوم۔ آخری)

(خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمودہ ۱۹؍دسمبر ۱۹۴۷ء بمقام لاہور)

۱۹۴۷ء میں حضورؓ نے یہ خطبہ ارشاد فرمایا۔ آپؓ نےاحمدیت سے جذباتی طور پر وابستہ ہونے کی اہمیت کو پُر معارف انداز میں بیان فرمایا ہے۔ قارئین کے استفادے کے لیے یہ خطبہ شائع کیا جاتا ہے۔(ادارہ)

جب ایک شخص دعویٰ کرتا ہے کہ مجھے خدا تعالیٰ نے دنیا کی اصلاح کے لئے بھیجا ہے تو ہمارا پہلا فرض یہ ہے کہ ہم عقل سے کام لیں اور غور کریں کہ وہ اپنے دعویٰ میں سچاہے یا نہیں۔ مگر جب ہم نے اُسے مان لیا تو پھرعقل کا کام ختم ہو گیا۔ پھر جذبات کا زمانہ شروع ہونا چاہیئے اورہمارا فرض ہونا چاہیئے کہ ہم عقل کی بجائے جذبات سے کام لیں۔ اور اس قدر کام لیں کہ ایک لمحہ کے لئے بھی ہم اِس سے اِدھر اُدھر نہ ہوں۔ جس طرح ماں اپنے بچہ کی پرورش کرتی ہے اِس طرح ہمارا بھی فرض ہے کہ ہم اُس مدعی کے ساتھ عقلی نہیں بلکہ جذباتی تعلق رکھیں

[تسلسل کے لیے دیکھیں الفضل انٹرنیشنل ۳۰؍اپریل۲۰۲۶ء]

عقل و فکر محض اس لئے دی گئی ہے کہ ہم بُرے اور بھلے میں تمیز کریں۔

مگر

جب بُر ے اور بھلے میں ہم تمیز کر لیں تو عقل کا کام ختم ہوجاتا ہے۔

اس کے بعد

جو چیز ہمارے سامنے ہونی چاہیئے اور جس سے ہمیں کام لینا چاہیئے وہ جذبات ہیں۔

لوگ سمجھتے ہیں کہ جذبات اور عقل دونوں ایک وقت میں کام کر سکتے ہیں۔ حالانکہ یہ بالکل غلط بات ہے۔ عقل و فکر صرف ایک وقت کام کرتے ہیں پھر اُن کا دَور ختم ہو جاتا ہے اور جذبات کا دَور شروع ہوتا ہے۔ جیسے انسانی عمر کے مختلف دور ہوتے ہیں۔ مثلاً ایک دَور بچپن کا ہے۔ پھر اِس بچپن کے دَور کے کئی حصے ہیں۔ ایک پنگھوڑے کا زمانہ ہے۔ ایک دودھ پینے کا زمانہ ہے۔ ایک کھیلنے کُودنے کا زمانہ ہے۔ بچپن کے بعد جوانی اور نشوونما کا زمانہ ہے۔ پھر شادی بیاہ کا زمانہ ہے۔ پھر بچوں کا زمانہ ہے۔ پھر اعلیٰ درجہ کے کام کرنے کا زمانہ ہے۔ پھر کمزوری اور ضعف کا زمانہ ہے جس میں دماغ کا کام تو بڑھ جاتا ہے مگر جسم کمزور ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ پھر قویٰ کے اضمحلال کا زمانہ ہے۔ جس طرح یہ دَور مختلف ہیں اِسی طرح کاموں کے بھی مختلف حصے ہیں۔

عقل انسان کو صرف ایک حد تک لے جاتی ہے اِس کے بعد جذبات کا زمانہ شروع ہوتا ہے۔ جو شخص ساری عمر عقل کو اپنے ساتھ لئے چلا جاتا ہے وہ کہیں کامیاب نہیں ہو سکتا۔

اِسی طرح

جو شخص ساری عمر جذبات سے کام کئے چلا جاتا ہے وہ بھی کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔ جو شخص اُس وقت جذبات سے کام لے گا جب عقل سے کام لینا چاہیئے تو وہ غلط فیصلہ کرے گا۔

وہ یہ نہیں دیکھے گا کہ واقع میں یہ کام مفید ہے یانہیں۔ وہ صرف اپنے میلان کو دیکھے گا اور میلان غلط بھی ہو سکتا ہے۔ اِسی طرح جوشخص اُس وقت عقل سے کام لے گا جب جذبات سے کام لینے کا وقت ہو گا وہ بھی کبھی کامیاب نہیں ہو سکے گا۔ کیونکہ وہ ہمیشہ بے اطمینانی کی حالت میں رہے گا اور کبھی نڈر اور بےخوف ہوکر اپنے لئے کوئی راستہ تجویز نہیں کر سکے گا۔

جب ایک شخص دعویٰ کرتا ہے کہ مجھے خدا تعالیٰ نے دنیا کی اصلاح کے لئے بھیجا ہے تو

ہمارا پہلا فرض یہ ہے کہ ہم عقل سے کام لیں اور غور کریں کہ وہ اپنے دعویٰ میں سچاہے یا نہیں۔

مگر

جب ہم نے اُسے مان لیا تو پھرعقل کا کام ختم ہوگیا۔ پھر جذبات کا زمانہ شروع ہونا چاہیے اورہمارا فرض ہونا چاہیے کہ ہم عقل کی بجائے جذبات سے کام لیں۔ اور اس قدر کام لیں کہ ایک لمحہ کے لئے بھی ہم اِس سے اِدھر اُدھر نہ ہوں۔

جس طرح ماں اپنے بچہ کی پرورش کرتی ہے اِس طرح ہمارا بھی فرض ہے کہ ہم اُس مدعی کے ساتھ عقلی نہیں بلکہ جذباتی تعلق رکھیں۔ عقل تبھی تک تھی جب تک ہم نے اُسے نہیں مانا تھا۔ جب ہم نے مان لیا تو عقل کا کام ختم ہو گیا۔ اس کے بعد جذبات کا دَور شروع ہو گا۔

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب جنگ بدر کے لئے تشریف لے گئے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے گو آپ کو معلوم تھا کہ جنگ ہو گی مگر ساتھ ہی آپ کو یہ ہدایت تھی کہ ابھی یہ صورتِ حالات صحابہؓ کو نہ بتائی جائے۔ صحابہ ؓ کا خیال تھا کہ وہ قافلہ جو شام سے تجارت کر کے واپس آ رہا ہے ہمارا اُس سے مقابلہ ہو گا۔ اِس لئے صحابہؓ میں سے بہت تھوڑے لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گئے اور اکثر مدینہ میں ہی رہ گئے۔ کیونکہ وہ جنگ کی امید نہیں رکھتے تھے۔ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم میدانِ جنگ کے قریب پہنچے تو آپ نے صحابہؓ کواکٹھا کیا اور فرمایا مجھے اطلاع دی گئی ہے کہ کفّار سے ہماری جنگ ہو گی۔ اب تم بتاؤ کہ تمہاری کیا صلاح ہے؟ آیا تم اِس خیال سے کہ ہم تیاری کر کے نہیں آئے واپس لَوٹنا چاہتے ہو یا اس خیال سے کہ خدا نے موقع دے دیا ہے کہ ہم دشمن سے اپنے اختلافات کا فیصلہ کر لیں لڑناچاہتے ہو؟ مہاجرین صحابہؓ یکے بعد دیگرے کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! ہم لڑائی کے لئے تیار ہیں۔ اگر خدا تعالیٰ کا یہی منشاء ہے کہ جنگ ہو تو ہم ڈرتے نہیں۔ اگر تھوڑے ہیں تو کیا ہوا؟ پہلے ایک نے مشورہ دیا پھر دوسرے نے مشورہ دیا پھر تیسرے نے مشور ہ دیا پھر چوتھے نے مشورہ دیا پھر پانچویںنے مشورہ دیا پھر چھٹے نے مشورہ دیا۔ مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر مشورے کے بعد فرماتے: اے لوگو! مجھے مشورہ دو کہ کیاکرنا چاہیئے؟ جب یکے بعد دیگرے پانچ سات مہاجرین کھڑے ہوئے اور ہر ایک کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہی فرماتے چلے گئے کہ اے لوگو! مجھے مشورہ دو تو ایک انصاری کھڑے ہو ئے او ر انہو ںنے کہا یا رسول اللہ! آپ کو مشورہ تو مل رہا ہے ۔ یکے بعد دیگرے مہاجرین کھڑے ہو کر اپنے جذبات کا اظہار کر رہے ہیں مگر آپ بار بار فرماتے ہیں کہ اے لوگو! مجھے مشورہ دو۔ شاید آپؐ کی مُراد ہم انصار سے ہے کہ اے ا نصار! تم مجھے مشورہ دو کہ اس موقع پر ہمیں کیا کرنا چاہیئے؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم ٹھیک سمجھے ہو۔میرا یہی منشاء ہے۔ اِس پر اُس نے کہا یا رسول اللہ! غالباً آپ کا اشارہ اُس معاہدہ کی طرف ہے جو ہم نے آپ سے اُس وقت کیا تھا جب ہمارا وفد مکہ میں آپ سے ملا۔ اور ہم نے اس شرط پر آپؐ کی بیعت کی تھی کہ اگر مدینہ پر دشمن نے حملہ کیا تو ہم اپنی جان اور اپنا مال قربان کر کے آپؐ کی اور آپ کے ساتھیوں کی حفاظت کریں گے۔ جس سے یہ نتیجہ نکلتا تھا کہ اگر مدینہ سے باہر لڑائی ہو گی تو ہم اِس معاہدہ کے پابند نہیں ہونگے بلکہ آزاد ہونگے۔ خواہ شامل ہوں یا نہ ہوں۔ آپ نے فرمایا ٹھیک ہے۔ اُس نے کہا یا رسول اللہ! جب ہم نے وہ معاہدہ کیا تھا اُس وقت ایمان ابھی ہمارے دل میں داخل نہیں ہوا تھا۔ ہمارے دماغوں نے بے شک سمجھا تھا کہ یہ شخص سچا ہے۔ لیکن ہم نے یہ نہیں سمجھا تھا کہ نبی کا رُتبہ کیا ہوتا ہے اور اُس کے ساتھ کس قسم کی محبت کا تعلق ہونا چاہیئے۔ اِس لئے ہم نے ایسی ایسی شرطیں کی تھیں۔ مگر یا رسول اللہ! اِس کے بعد ہمیں پتہ لگ گیا کہ نبی کا کیا رُتبہ ہوتا ہے اور ہمارا عقلی تعلق محبت کے تعلق سے بدل گیا۔ اس لئے اب شرطوں کا کوئی سوال ہی نہیں۔ یارسول اللہ! سامنے سمندر ہے ۔ آپ ہمیں حکم دیجیے تو ہم اُس میں بلادریغ کُود جائیں گے۔ (سیرت ابن ہشام جلد۲صفحہ۲۶۷،۲۶۶ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء) اور اگر دشمن سے مقابلہ ہوا تو یا رسول اللہ! ہم آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے، آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے اور دشمن جب تک ہماری لاشوں کو روندتا ہوا نہ گزرے وہ آپ تک نہیں پہنچ سکتا۔ (بخاری کتاب المغازی باب قِصَّۃ غَزْوَۃِ بَدْرٍ)

یہ واقعہ بتا رہا ہے کہ عقل اور جذبات کا کیا تعلق ہے۔ انصار جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پرایمان لائے اُس وقت اُن کا آپ سے صرف عقلی تعلق تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ ہم تھوڑے ہیں اور مدینہ بھی ایک چھوٹی سی جگہ ہے۔ اگر دشمن نے کسی وقت مدینہ کا محاصرہ کر لیا تو چونکہ ایک چھوٹی جگہ میں مقابلہ ہو گا ہم دشمن سے لڑیں گے اور مریں گے۔لیکن باہر ہم دشمن کا مقابلہ کس طرح کرسکتے ہیں۔ اُس وقت عقل یہی کہتی تھی۔ مگر جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انہو ں نے مان لیا اور آپ کی شان کو انہوں نے پہچان لیا تو عقل کا دَور ختم ہو گیا۔ اور انہوں نے سمجھ لیا کہ جب یہ سچا ہے تو اب عقل کا کام ختم ہے۔ اب عمل کا زمانہ شروع ہوتا ہے اور عمل ہمیشہ جذبات سے ہوتا ہے۔

دنیا میں کوئی عمل جذبات کے بغیر نہیں ہوتا۔ عملِ کامل ہمیشہ جذبات سے وابستہ ہوتا ہے۔

اور انسانِ کامل وہی ہوتا ہے جو ایک حد تک عقل سے کام لینے کے بعد اُسے کہتا ہے کہ اے عقل! تیرا شکریہ اب تُو میرا پیچھا چھوڑ، جذبات سے کام لینے کا وقت آ گیا ہے۔ اور جب جذبات سے کام لینے کا وقت آ جائے تو اُس وقت یہ نہیں سوچا جاتا کہ فائدہ کیا ہے اور نقصان کیا ہے، اچھا کیا ہے اور بُرا کیا ہے، مفید کیا ہے اور مُضِر کیا ہے، مرنا کیا ہے اور جینا کیا ہے۔ کیونکہ جذبات کے میدان میں ان چیزوں کا کوئی سوال ہی نہیں ہوتا۔ تو دیکھو انصار نے کیسے معقول طور پر اس نکتہ کو بیان کیا ہے کہ جب تک ایمان کامل نہیں تھا ہمارا تعلق محض عقلی تھا۔ لیکن اس کے بعد ہمارا عقلی تعلق نہیں رہا۔ عقل سے کام لیا جائے تو انسان یہی کہتا ہے کہ مَیں کیوں مروں؟ یا کس حد تک قربانی کروں؟ مگر جذبات یہ نہیں کہتے۔ بچہ بیمار ہوتا ہے، اُسے ٹائیفائیڈ ہوتا ہے چالیس چالیس دن تک اُس کا بخار چلتا جاتا ہے۔ تو ماں راتوں کو جاگتی ہے، اس کی خبرگیری کرتی ہے، اور ہر وقت بچہ کی نگہداشت اور اس کی تیمارداری میں مصروف رہتی ہے۔ اُس وقت اگر کوئی شخص اُسے یہ کہے کہ تُو اتنی مشقّت کیوں برداشت کرتی ہے؟ تُوکچھ دیر کے لئے رات کو آرام بھی کیا کر۔ تووہ یہ نہیں کہے گی کہ جَزَاکَ اللّٰہُ۔ تُو میرا بڑا ہمدرد ہے۔ بلکہ وہ اُسے گالیاں دے گی او ر کہے گی تُو کہاں سے میرا خیر خواہ نکل آیا۔ اسی طرح اصل مقام ایمان کا جذباتی ایمان ہوتا ہے۔ جب تک عقل سے کوئی چیز تمہاری سمجھ میں نہیں آتی اُس وقت تک تم اُسے کبھی قبول نہ کرو۔ لیکن

جب عقل سے کوئی بات تمہاری سمجھ میں آ جاتی ہے اور اُس کے درست ہونے کے تمام دلائل تم پر واضح ہو جاتے ہیں۔ تو اُس کے بعد ایک ہی ذریعہ تمہاری کامیابی کا رہ جاتا ہے کہ تم عقل کو تہہ کر کے رکھ دو اور جذبات کی رَو میں بہہ جاؤ۔ صرف جذبات ہی جذبات تمہارے اندر کام کر رہے ہوں۔

جب تک تم جذبات کی کشتی میں نہیں بیٹھتے اُس وقت تک تم حوادث اور طوفان سے کبھی محفوظ نہیں رہ سکتے۔ تمام انبیاء کی امتوں نے ایسا ہی کیا اور تمہیں بھی ایسا ہی کرنا ہو گا۔ اگر

احمدیت تم نے عقل سے قبول نہیں کی تو تم نئے سرے سے دلائل پر غور کرو اور نئے سرے سے سوچو کہ مرزا صاحب خدا تعالیٰ کی طرف سے تھے یا نہیں؟ اور اگر تم پہلے سوچ چکے ہو یا دو بارہ سوچ کر نتیجہ نکالتے ہو کہ احمدیت سچی ہے۔ اگر تم کوئی بھی نفع دنیا میں حاصل کرنا چاہتے ہو اگر تم کوئی بھی مفید کام دنیا میں کرنا چاہتے ہو، تو تم عقل کو تہ کر کے رکھ دو اور اُسے کہو کہ تم نے جس حد تک قربانی کرنی تھی کردی۔ اب تمہارا کام نہیں اب جذبات سے کام لینے کا وقت آ گیا ہے۔ اب موت اور حیات اور نفع اور نقصان کا میرے لئے کوئی سوال نہیں۔ جب تک مَیں نے حقیقت کو نہیں سمجھا تھا مجھے نفع اور نقصان کا احساس تھا۔ لیکن جب مَیں نے حقیقت کو سمجھ لیا تو ہر نیک انجام یا ہر بد انجام میرے لئے ایک بے حقیقت شے ہے۔ میرا راستہ میرے سامنے ہے اور اس سے ہٹنا یا اِدھر اُدھر ہونا میرا کام نہیں۔ یہی اور یہی ایک ذریعہ ہے جس سے پہلے انبیاء کی جماعتیں کامیاب ہوئیں اور یہی ایک ذریعہ ہے جس سے تم دنیا میں کامیاب ہو سکتے ہو۔

(الفضل ۲۷؍جنوری ۱۹۴۸ء)

مزید پڑھیں: ہمارے لئے اب عمل کا زمانہ ہے اورعمل ہمیشہ جذبات سے ہوا کرتا ہے نہ کہ عقل سے(قسط اوّل)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button