قدرت کا ننھا رقاص مکڑا: Peacock Spider
آپ نے یہ محاورہ تو سنا ہوگا کہ جنگل میں مور ناچا، کس نے دیکھا؟ لیکن آسٹریلیا کے جنگلوں میں یہ محاورہ یوں تبدیل ہوجاتاہے: جنگل میں مکڑا ناچا، کس نے دیکھا؟ جی ہاں مور کی طرح ایک مکڑا بھی ہے جو مور کی طرح ناچ کر اور اپنی رنگ برنگی دم ہلا کر مادہ کو محظوظ کرتا ہے۔

Peacock Spider ایک حیرت انگیز اور دلکش ننھا سا مکڑا ہے جو اپنے شوخ رنگوں اور رقص جیسے انداز کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہے۔ جمپنگ سپائڈرز کے خاندان کے اس مکڑے کا سائنسی تعلق جنس Maratus سے ہے، جو صرف آسٹریلیا میں پایا جاتا ہے۔اسے Coastal Peacock Spider بھی کہتے ہیں جسامت کے لحاظ سے یہ مکڑا محض چند ملی میٹر لمبا ہوتا ہے، یعنی ایک چاول کے دانے سے بھی چھوٹا، لیکن اس کے باوجود اس کی خوبصورتی اور حرکات اتنی غیرمعمولی ہیں کہ بڑے بڑے جانور بھی اس کے مقابلے میں سادہ محسوس ہوتے ہیں۔ قدرت نے اس چھوٹے سے جاندار میں رنگ، حرکت، روشنی اور رویّے کا ایسا امتزاج پیدا کیا ہے جو حیاتیاتی ارتقا کی ایک شاندار مثال سمجھا جاتا ہے۔
اس مکڑے کی سب سے نمایاں خصوصیت نر کا رنگین پیٹ ہے جو پنکھے کی طرح کھل سکتا ہے۔ اس حصے پر نہایت باریک ترازو نما ساختیں ہوتی ہیں جو روشنی کو مختلف زاویوں سے منعکس کر کے نیلا، سرخ، نارنجی، سبز اور بنفشی جیسے چمکدار رنگ پیدا کرتی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ رنگ عام روغنی رنگ نہیں ہوتے بلکہ روشنی کے انعکاس اور مائیکرو ساخت(scale’s nanostructures) کے باعث بنتے ہیں، جسے ساختی رنگ کہا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روشنی بدلنے سے ان کے رنگ بھی بدلتے دکھائی دیتے ہیں، جیسے قوسِ قزح یا تتلی کے پروں کی چمک۔
Peacock Spider کی شہرت کا اصل سبب اس کا دلکش رقص ہے۔ جب نر مادہ کو متاثر کرنا چاہتا ہے تو وہ اپنا رنگین پیٹ اوپر اٹھا کر پنکھے کی طرح پھیلا دیتا ہے اور ساتھ ہی اپنے اگلے پاؤں بلند کر کے مخصوص انداز میں جھٹکے دیتا ہے۔ وہ دائیں بائیں ہلتا ہے، تھرتھراہٹ پیدا کرتا ہے اور وقفے وقفے سے حرکت روک کر دوبارہ شروع کرتا ہے۔ اس رقص کا مقصد مادہ کو متاثر کرنا ہوتا ہے، کیونکہ اگر وہ متاثر نہ ہو تو وہ نر پر حملہ بھی کر سکتی ہے اور بعض اوقات اسے کھا بھی جاتی ہے۔ اس خطرے نے نر مکڑوں کو مزید خوبصورت اور بہتر رقاص بننے پر مجبور کیا ہے، جسے حیاتیات میں جنسی انتخاب کہا جاتا ہے۔
مادہ Peacock Spider نر کے برعکس سادہ رنگت رکھتی ہے۔ اس کا جسم عموماً بھورا یا سرمئی ہوتا ہے تاکہ وہ اپنے ماحول میں چھپکلی یا شکاریوں سے آسانی سے چھپ سکے۔ یہ فرق نر اور مادہ کے درمیان ظاہری تضاد کی مثال ہے جسے جنسی تضاد یا سیکسول ڈائیمارفزم(sexual dimorphism) کہا جاتا ہے۔ نر اپنی خوبصورتی سے توجہ حاصل کرتا ہے جبکہ مادہ اپنی سادگی سے دشمنوں سے بچتی ہے۔ اس طرح دونوں اپنی اپنی حکمت عملی سے زندہ رہنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔
یہ مکڑے جال بننے کی بجائے فعال شکاری ہوتے ہیں۔ ان کی آنکھیں بڑی اور سامنے کی طرف ہوتی ہیں، جس سے انہیں بہترین نظر اور گہرائی کا اندازہ ہوتا ہے۔ وہ شکار کو آہستہ آہستہ قریب جا کر اچانک چھلانگ لگا کر پکڑ لیتے ہیں۔ ان کی چھلانگ عضلات سے زیادہ جسم کے اندر موجود دباؤ کی تبدیلی سے ممکن ہوتی ہے، جس کے باعث وہ اپنے جسم کی لمبائی سے کئی گنا زیادہ فاصلے تک اچھل سکتے ہیں۔ وہ چھلانگ لگانے سے پہلے ریشم کا ایک دھاگا پیچھے چھوڑ دیتے ہیں تاکہ اگر نشانہ چوک جائے تو واپس چڑھ سکیں۔ ان کا مسکن گھاس، پتے، جھاڑیاں اور جنگلاتی کنارے ہوتے ہیں۔ چونکہ یہ بہت چھوٹے ہوتے ہیں، اس لیے اکثر انسانوں کی نظر سے اوجھل رہتے ہیں، لیکن ماحولیاتی نظام میں ان کا کردار اہم ہے کیونکہ یہ چھوٹے کیڑوں کی آبادی کو قابو میں رکھتے ہیں۔ سائنسدان اب بھی اس جنس کی نئی اقسام دریافت کر رہے ہیں، اور ہر نئی قسم اپنے منفرد رنگوں اور رقص کے انداز کے ساتھ سامنے آتی ہے۔ جدید مائیکرو فوٹوگرافی اور سست رفتار ویڈیوز نے ان کی حرکات کو قریب سے دیکھنا ممکن بنایا ہے، جس سے ان کی زندگی کے راز مزید واضح ہو رہے ہیں۔
مور اسپائیڈر صرف حیاتیاتی تحقیق کے لیے ہی اہم نہیں بلکہ یہ لوگوں کے خوف کو تجسس میں بدلنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ بہت سے لوگ جو عام طور پر مکڑیوں سے ڈرتے ہیں، ان کے رنگ اور رقص دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں تعلیمی پروگراموں اور دستاویزی فلموں میں اکثر مثال کے طور پر دکھایا جاتا ہے تاکہ طلبہ کو ارتقا، حیاتیاتی اشاروں اور جانوروں کے رویّوں کے بارے میں دلچسپ انداز میں سمجھایا جا سکے۔
مختصراً، Peacock Spider اس بات کا ثبوت ہے کہ قدرتی حسن کا تعلق جسامت سے نہیں ہوتا۔ ایک نہایت چھوٹے جسم میں رنگوں کی سائنس، حرکات کی موسیقی اور ارتقائی حکمت عملی کا ایسا امتزاج موجود ہے جو انسان کو حیرت میں ڈال دیتا ہے۔ یہ ننھا سا جاندار ہمیں یاد دلاتا ہے کہ فطرت کے عجائبات صرف بڑے جانوروں تک محدود نہیں بلکہ کبھی کبھی سب سے حیران کن کہانیاں سب سے چھوٹے وجود میں پوشیدہ ہوتی ہیں۔(ابو الفارس محمود)
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: ۳؍مئی: عالمی یومِ آزادیٔ صحافت




