شرائطِ بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں
رسموں سے اجتناب
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام چاہتے تھے کہ آپؑ کی جماعت میں شامل ہونے والا ہر شخص قرآن کریم کے حکموں پر عمل کرنے والا ہو یا کم از کم عمل کرنے کی کوشش کرنے والاہو ،اس کو ماننے والاہو۔ اگر ایک حکم کوبھی نہیں مانتا تو فرمایاکہ اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔ آپ چاہتے تھے کہ آپ کے ماننے والے دنیا کی رسموں سے بالا ہو کر دنیا کے لالچوں اور فضول رسموں سے بچنے والے ہوں۔ اور انہی اعمال کو بجا لانے کی کوشش کرنے والے ہوں جن کا خدا اور اس کے رسولﷺنے حکم دیا ہے۔ اورخدا کے رسول نے وہی حکم دیاہے جو خدا کا قرآن میں حکم ہے۔ تبھی تو جب کسی نے حضرت عائشہؓ سے پوچھاتھاکہ ہمیں آنحضرت ﷺکے خُلق کے بارہ میں بتائیں تو آپ ؓنے فرمایا کیاقرآن نہیں پڑھتے۔ جو قرآن میں خُلق بیان ہوئے ہیں وہی آنحضرت ﷺکے خُلق تھے۔ اس لئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ مَیں تو اپنے آقا اورمطاع کی پیروی کرتاہوں اور قرآن کے ہر حکم کو اپنا دستورالعمل قرار دیتاہوں۔ تم بھی اگر ایسی اتباع کرنے کی کوشش کروگے تو میری جماعت میں شمار ہوگے اوربیعت کرنے کے بعد پھر اس کے نمونے بھی جماعت نے دکھائے۔
سب سے پہلے ایک خاتون کا نمونہ یہاں پیش کرتا ہوں۔ یہ حضرت چوہدری ظفراللہ خان صاحبؓ کی والدہ تھیں۔ ان کے بھانجے چوہدری بشیر احمد صاحب بیان کرتے ہیں۔ انہوں نے چوہدری صاحب سے بیان کیا ، چوہدر ی صاحب نے یہ لکھاہے یہاں کہ والدہ صاحبہ کو بدعات رسوم سے کس قدر نفرت تھی اس کا اندازہ اس طرح ہوتاہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میر ی شادی کا موقع تھا (چوہدری بشیر صاحب کی)۔ نکاح کے بعد مجھے زنانہ میں بلایا گیا۔ مَیں نے دیکھا کہ جیسے دیہات میں رواج ہے دونشستوں کا ایک دوسرے کے مقابل انتظام کیاگیاہے اورمجھ سے توقع کی جارہی ہے کہ مَیں ایک نشست پر بیٹھ جائوں اور دوسری پر دلہن کو بٹھا دیا جائے۔ اور بعض رسوم ادا کی جائیں جنہیں پنجابی میں بیڑو گھوڑی کھیلنا کہتے ہیں۔ مَیں دل میں گھبرایا۔ لیکن پھرمَیں نے خیال کیاکہ ا س وقت عورتوں کے ساتھ بحث اور ضد مناسب نہیں اور مَیں اس نشست پر جو میرے لئے تجویز کی گئی تھی بیٹھ گیااور ان اشیاء کی طرف جو اس رسم کے لئے مہیاکی گئی تھیں ہاتھ بڑھایا۔ اتنے میں ممانی صاحبہ (یعنی چوہدری صاحب کی والدہ نے) میراہاتھ کلائی سے مضبوط پکڑ کر پیچھے ہٹا دیا اورکہا :نہ بیٹا یہ شرک کی باتیں ہیں۔ اس سے مجھے بھی حوصلہ ہوگیا ، مَیں نے ان اشیاء کو اپنے ہاتھ کے ساتھ بکھیر دیااورکھڑے ہوکرکہہ دیا کہ مَیں ان رسوم میں شامل نہیں ہوں گا اور ا س طرح میری مخلصی ہوئی۔
آج بھی عورتوں کو ان باتوں کا خیال رکھنا چاہئے۔ صرف اپنے علاقہ کی یا ملک کی رسموں کے پیچھے نہ چل پڑیں۔ بلکہ جہاں بھی ایسی رسمیں دیکھیں جن سے ہلکا سا بھی شائبہ شرک کا ہوتاہو ان سے بچنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اللہ کرے تمام احمدی خواتین اسی جذبہ کے ساتھ اپنی اوراپنی نسلوں کی تربیت کرنے والی ہوں۔ ہمارے ملکوں میں،پاکستا ن اور ہندوستان وغیرہ میں مسلمانوں میں بھی یہ رواج ہے کہ لڑکیوں کو پوری جائداد نہیں دیتے۔ پوری کیا،دیتے ہی نہیں۔ خاص طورپر دیہاتی لوگوں میں، زمینداروں میں۔ اس کاایک نمونہ ہے ،چوہدری نصراللہ خان صاحب کا۔ چوہدری صاحب لکھتے ہیں کہ ہماری ہمشیر ہ صاحبہ مرحومہ کو اس زمانہ کے رواج کے مطابق والدصاحب نے ان کی شادی کے موقع پر بہت سارا جہیز دیا اور پھر آپ نے یہ وصیت بھی کردی کہ آپ کا ورثہ شریعت محمدی کے مطابق تقسیم بھی ہوگا، لڑکوں میں بھی اور لڑکیوں میں بھی۔ چنانچہ اس کے مطابق ان کی وفات کے بعد ان کی بیٹی کو بھی شریعت کے مطابق حصہ دیا گیا۔
اطاعت کے نادر نمونے… سگریٹ نوشی کے مُضر اثرات
ایک واقعہ ہے: حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۹۲ء میں جالندھر تشریف لے گئے تھے۔ حضور کی رہائش بالائی منزل پر تھی۔ ’’کسی خادمہ نے حقہ رکھا اور کسی کام کو چلی گئی۔ آگ فرش پر گرگئی تو فرش کا کچھ حصہ جل گیا۔ نماز سے فارغ ہوکر دیکھا اور بجھایا (گیا)۔ اس وقت حضور نے حُقّہ پینے والوں سے ناراضگی سے اظہار نفرت فرمایا۔ تو نیچے تک اطلاع پہنچی۔ کئی آدمی حقہ پیتے تھے اور ان کے حقے مکان میں موجود تھے۔ جب اس ناراضگی کا علم ان کو ہوا تو سب حُقّہ والوں نے اپنے حقے توڑ دئیے اور پینا ترک کردیا۔ اس دن سے جماعت کو بھی معلوم ہوا کہ حضور حقہ کو نا پسند فرماتے ہیں تو بہت سے با ہمت احمدیوں نے حقہ پینا ترک کردیا۔ ‘‘(اصحاب احمد۔ جلد۱۰۔ صفحہ۱۵۷-۱۵۸۔ مطبوعہ ۱۹۸۵)
مرزا احمد بیگ صاحب آف ساہیوال بھی روایت کرتے ہیں کہ حضرت مصلح موعود نے ایک دفعہ میرے ماموں مرزا غلام اللہ صاحب سے فرمایا کہ مرزا صاحب دوستوں کو حقہ چھوڑنے کی تلقین کیا کریں۔ ماموں صاحب خود حقہ پیتے تھے انہوں نے حضور سے عرض کیا بہت اچھا حضور۔ گھر آکر اپناحقہ جو دیوار کے ساتھ کھڑا تھا اسے توڑ دیا۔ ممانی جان نے سمجھا کہ آج شاید حقہ دھوپ میں پڑا رہا ہے اس لئے یہ فعل ناراضگی کا نتیجہ ہے لیکن جب ماموں نے کسی کو کچھ بھی نہ کہا تو ممانی صاحبہ نے پوچھا آج حقے پہ کیا ناراضگی آگئی تھی؟ فرمایا مجھے حضرت صاحب نے حقہ پینے سے لوگوں کو منع کرنے کی تلقین کرنے کے لئے ارشاد فرمایا ہے اور میں خود حقہ پیتا ہوں اس لئے پہلے اپنے حقہ کو توڑا ہے۔ چنانچہ ماموں صاحب نے مرتے دم تک حقے کو ہاتھ نہ لگایا اور دوسروں کو بھی حقہ چھوڑنے کی تلقین کرتے رہے۔ (سوانح فضل عمر۔ جلد ۲۔ صفحہ ۳۴)
آج کل یہی برائی ہے حقہ والی جو سگریٹ کی صورت میں رائج ہے۔ توجو سگریٹ پینے والے ہیں ان کوکوشش کرنی چاہئے کہ سگریٹ چھوڑیں۔ کیونکہ چھوٹی عمرمیں خاص طورپر سگریٹ کی بیماری جوہے وہ آگے سگریٹ کی کئی قسمیں نکل آئی ہوئی ہیں جن میں نشہ آور چیزیں ملا کر پیاجاتاہے۔ تو وہ نوجوانوں کی زندگی برباد کرنے کی طرف ایک قدم ہے جو دجال کا پھیلایاہواہے اور بدقسمتی سے مسلمان ممالک بھی اس میں شامل ہیں۔ بہرحال ہمارے نوجوانوں کوچاہئے کہ کوشش کریں کہ سگریٹ نوشی کو ترک کریں۔
(شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں صفحہ ۲۲۷تا۲۳۰)
مزید پڑھیں: اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کو وسیع کیا ہوا ہے




