مسجد بیت الفتوح میں ’ بِگ افطار‘پروگرام کا انعقاد
اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ برطانیہ کی مسجد بیت الفتوح میں مورخہ ۷؍مارچ بروز ہفتہ ’بگ افطار‘ پروگرام کا انعقاد کیا گیا جس میں اراکین پارلیمنٹ، میئرز، سول سوسائٹی کے نمائندگان اور مختلف مذاہب و طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ اس پروگرام کی تیاری نیشنل سیکرٹری تبلیغ جماعت احمدیہ یوکے مکرم ابراہیم اخلف صاحب کی سربراہی میں کئی ماہ قبل شروع کی گئی تھی۔ مہمانوں کے لیے باقاعدہ اجازت نامے جاری کیے گئے تھے جبکہ کار پارک صرف مہمانوں کے لیے مختص کیا گیا تھا۔ پروگرام کے انتظامات بیت الفتوح کے طاہر ہال اور ناصر ہال میں کیے گئے جبکہ سینکڑوں رضاکاران مہمانوں کی خدمت اور انتظامی امور کی انجام دہی میں مصروف رہے۔

اس موقع پر ایک خوبصورت اور معلوماتی نمائش کا بھی اہتمام تھا جس میں قرآن کریم کے مختلف زبانوں میں تراجم پیش کیے گئے۔ اس کے علاوہ مختلف کتب اور تعارفی لٹریچر بھی مہمانوں کے لیے پیش کیا گیا۔ مہمانوں کے چھوٹے گروپس بناکر انہیں مسجد بیت الفتوح کے خوبصورت نئے کمپلیکس کا دورہ بھی کروایا گیا۔ اس دوران مہمانوں کو مسجد کے مرکزی حصے میں مردوں اور خواتین کے نماز ادا کرنے کے ہالز، دفاتر اور دیگر انتظامی حصوں کا تعارف کروایا گیا۔ تعارف کے دوران شرکاء کو اسلام اور احمدیت کی بنیادی تعلیمات اور مسجد کی اہمیت کے بارے میں آگاہ کیا گیا جبکہ مہمانوں کی جانب سے کیے جانے والے مختلف سوالات کے جواب بھی دیے گئے۔
پروگرام کی صدارت مکرم رفیق حیات صاحب امیر جماعت احمدیہ برطانیہ نے کی۔ تقریب کا آغاز مکرم محمود وردی صاحب مبلغ سلسلہ کی تلاوت قرآن کریم سے ہوا جبکہ اس کا انگریزی ترجمہ مکرم جوناتھن بٹر ورتھ صاحب نے پیش کیا۔ بعدازاں مکرم منصور کلارک صاحب مبلغ سلسلہ نے مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور پروگرام کی غرض و غایت بیان کی۔ اس موقع پر ایک مختصر ویڈیو کے ذریعے جماعت احمدیہ کا تعارف، اس کے بنیادی عقائد اور دنیا بھر میں خدمات انسانیت کے مختلف پہلوؤں کو پیش کیا گیا۔

مکرم ابراہیم اخلف صاحب نے اپنی تقریر میں حضرت مسیح موعودؑ کی تعلیمات، ماہ رمضان کی روحانی اہمیت اور جہاد کے حوالے سے جماعت احمدیہ کے مؤقف کو واضح کیا۔ ایک ویڈیو کلپ کے ذریعے حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے بعض خطابات کے اقتباسات بھی دکھائے گئے جن میں دنیا بھر میں پائدار امن کے قیام کے لیے عالمی طاقتوں اور حکومتوں کو انصاف اور ذمہ داری کے ساتھ کردار ادا کرنے کی تلقین کی گئی۔
تقریب میں مختلف معزز مہمانوں نے جماعت احمدیہ کی خدمات کو سراہا۔ محترمہ سوزن ویب صاحبہ (ڈپٹی لیفٹیننٹ گریٹرلندن) نے کہا کہ مختلف مذاہب کے باوجود خدا ایک ہے اور باہمی احترام ضروری ہے۔ محترمہ فلیور اینڈرسن صاحبہ اور مکرم ایڈورڈ ڈیوی صاحب کے ویڈیو پیغامات میں بھی جماعت احمدیہ کی خدمت انسانیت اور قیامِ امن کی کوششوں کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ مرٹن کونسل کے لیڈر جناب روزگیروڈ صاحب اور میئر جناب مارٹن وہیلٹن صاحب نے مرٹن میں جماعت کی خدمات کو سراہا جبکہ ڈاکٹر رابن مکنیل لو صاحب نے مختلف مذاہب و قومیتوں کے افراد کی بڑی تعداد اور رضاکارانہ خدمات کو جماعت کی تنظیمی صلاحیت کی مثال قرار دیا۔ اسی طرح حنا بخاری صاحبہ نے بھی اس تقریب کو بین المذاہب ہم آہنگی کی خوبصورت مثال قرار دیا۔

آخر میں مکرم امیر صاحب جماعت احمدیہ یوکے نے رمضان المبارک کی حقیقی روح اور اس کے مقاصد پر روشنی ڈالی۔ آپ نے کہا کہ رمضان انسان کو اس کی زندگی کے اصل مقصد یعنی خدا تعالیٰ سے تعلق قائم کرنے کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ تمام انبیاء نے انسانیت کو امن، محبت اور ایک خدا کی عبادت کا پیغام دیا ہے۔ نیز آپ نے دنیا کے موجودہ حالات کا ذکر کرتے ہوئے حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی ان نصائح کا حوالہ دیا جن میں عالمی قیادت کو انصاف کے ساتھ امن قائم کرنے اور جنگوں سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے۔
پروگرام کے اختتام پر مکرم طاہر خالد صاحب مبلغ سلسلہ نے اذان دی جس کے بعد بعض مہمان نماز کا منظر دیکھنے کے لیے مسجد بھی تشریف لے گئے۔ ادائیگی نماز کے بعد تمام شاملین کی عشائیہ سے تواضع کی گئی۔
اس تقریب میں ۷۳۵؍غیر از جماعت مہمانان سمیت کُل حاضری ۱۴۳۵؍تھی۔ اللہ تعالیٰ اس بابرکت تقریب کے مثبت اور دیرپا اثرات مرتب فرمائے۔ آمین
(رپورٹ:لطیف احمد شیخ۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل)
مزید پڑھیں: گیمبیا میں موجود جماعتی سکول مانساکونکو میں رمضان المبارک میں حسن قراءت قرآن کریم کا مقابلہ




