بنیادی مسائل کے جوابات(قسط نمبر۱۱۲)
٭… ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سےایڈز کی بیماری، حضرت موسیٰ اور خضر کے واقعہ، اپنی تفسیر قرآن، اپنی بعض ذاتی کمزوریوں،کتابوں کے مطالعہ اور A Man of Godکتاب میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ کے بعض واقعات کے بارے میں استفسارات کیے۔ نیز حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب نورالقرآن کی بعض عبارتوں کے بارے میں اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے
٭… کیا قرآن مجید کی تلاوت بغیر وضو کے کر سکتے ہیں۔ یا وضو کرنا ضروری ہے۔ بعض لوگوں کا وضو زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا، ان کے لیے کیا اسلامی حکم ہے؟
٭…کیا رسول اللہﷺفتح مکہ کے بعد حجۃ الوداع کے علاوہ بھی کبھی مکہ تشریف لے گئے تھے؟ نیز یہ کہ اسلام کے آغاز ہی میں ایک وفد چین گیا تھا، جس کی قیادت حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کر رہے تھے۔ کیا یہ بات درست ہے؟
٭… حدیث میں آتا ہے کہ جو لوگ علم حاصل کرنے جاتے ہیں، ان کے لیے مچھلیاں بھی دعا کرتی ہیں۔ اس حدیث کا کیا مطلب ہے؟
سوال: ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سےایڈز کی بیماری، حضرت موسیٰ اور خضر کے واقعہ، اپنی تفسیر قرآن، اپنی بعض ذاتی کمزوریوں،کتابوں کے مطالعہ اور A Man of Godکتاب میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ کے بعض واقعات کے بارے میں استفسارات کیے۔ نیز حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب نور القرآن کی بعض عبارتوں کے بارے میں اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۲۵؍جنوری ۲۰۲۴ء میں ان تمام سوالات کے بارے میں درج ذیل راہنمائی عطا فرمائی۔ حضور نے فرمایا:
جواب: پہلے دو امور یعنی ایڈز کی بیماری اور حضرت موسیٰ اور خضر کے واقعہ کے بارے میں آپ کے سوالوں کے جواب میں اپنے سابقہ خطوط میں آپ کو بھجوا چکا ہوں۔ باقی جہاں تک آپ کے قرآن کریم کی تفسیر لکھنے کی بات ہے تو اللہ تعالیٰ آپ کو حقیقی علم و عرفان عطا فرمائے، قرآن کریم کے معارف سمجھنے کی توفیق بخشے اور ہمیشہ آپ کو ہدایت کے راستوں پر گامزن رکھے۔ آمین
اپنی ذاتی کمزوریوں کا آپ کو زیادہ پتا ہے، انہیں کسی کو بتانے کی ضرورت نہیں کیونکہ آنحضورﷺنے اس سے منع فرمایا ہے۔(صحیح بخاری کتاب الادب باب سَتْرِ الْمُؤْمِنِ عَلَى نَفْسِهِ) اس لیے بہتر ہے کہ اللہ تعالیٰ جو عالم الغیب و الشہادہ ہے اسی کے سامنے اپنی کمزوریاں بیان کر کے اس سے توبہ کی جائے، آئندہ ان غلطیوں سے اجتناب کا وعدہ کیا جائے اور خداتعالیٰ سے ہی معاملہ رکھ کر اس کے حضور دعا کی جائے کہ وہ ان کمزوریوں کو دور کرنے میں آپ کی مدد فرمائے۔
A Man of Godکتاب کے حوالے سے آپ نے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کے میوزک سننے کے حوالے سے جو بات لکھی ہے،اس بارے میں ایک بات تو یہ ہے کہ اس کتاب کا اردو ترجمہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کی زندگی میں ہی تیار ہو کر شائع ہوا تھااور اس میں سے لائٹ میوزک سننے والی بات حذف کر دی گئی تھی۔ اس سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ A Man of God کتاب کے انگریز مصنف نے سہواً یہ فقرہ اس کتاب میں شامل کر دیا تھا، جو اردو ترجمہ میں سے حذف کر دیا گیا۔ باقی یہ بات حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے خلافت کی ذمہ داریاں ملنے سے پہلے کی ہے، جب وہ جوانی کی عمر میں انگلستان میں تعلیم حاصل کررہے تھے، اس دوران انہوں نےاگر کبھی ریڈیو پر کوئی لائیٹ میوزک سنا ہو تووہی اسے بہتر جانتے ہیں لیکن اب تو وہ فوت ہو چکے ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ انہوں نے سنا تھا یا نہیں۔ ویسے بھی ہم اسے حرام نہیں کہہ سکتے۔
ڈانس اور ناچ گانا وغیرہ بہرحال لغو کام ہیں ان پر انسان کو اپنا وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ خود حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے بھی اس قسم کی لغویات سے مجتنب رہنے کی کئی مواقع پر تلقین فرمائی ہوئی ہے۔
اسی کتاب کے حوالے سے حضرت چودھری محمد ظفراللہ خان صاحب ؓکا واقعہ لکھ کر آپ نے جو پوچھا ہے کہ کیا خلفائے احمدیت کی آراء میں اختلاف ہو سکتا ہے؟تو اس بارے میں واضح ہو کہ شریعت کے بنیادی احکامات کے بارے میں تو ان کی آراء میں اختلاف نہیں ہوتا لیکن چونکہ ان کی ایک ذمہ داری شریعت کے احکامات پر عمل کروانا اور انہیں لاگو کرنا بھی ہوتا ہے۔ اس لیےشریعت کے فروعی مسائل میں زمانہ، وقت اور حالات کے بدلنے کے ساتھ جو تبدیلی آتی ہے، ان کی وجہ سے ان مسائل کے بارے میں خلفاء کی آراء مختلف ہو سکتی ہیں، اس میں نہ کوئی حرج ہے اور نہ کوئی ممانعت ہے۔ مثلاً قرآن کریم کی تفاسیر چودہ سو سال سے لکھی جا رہی ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی قرآن کریم کی مختلف سورتوں کی تفسیر لکھی بھی ہے اور اپنی تقاریر و ملفوظات میں بیان بھی فرمائی ہے۔ پھر آپ کےبعد خلفائےاحمدیت بھی اپنے اپنے وقت میں مختلف قرآنی سورتوں اور آیات کی تفاسیر کرتے آئے ہیں اور ہر زمانہ اور حالات کے مطابق قرآن کریم سے مختلف مسائل کا استنباط بھی کرتے رہے ہیں، جن میں بعض اوقات ان خلفاء کی آراء کا باہم اختلاف بھی ہوتا ہے۔ اب جیسا کہ آپ نے لکھا ہے کہ آپ بھی قرآن کریم کی تفسیر لکھ رہے ہیں اور بعض جگہوں پر ہو سکتا ہے کہ آپ اس زمانہ اور حالات کے مطابق کسی آیت سے ایسا استنباط کریں جو پہلے نہ کیا گیا ہو تو کیا یہ بات قابل اعتراض ہو گی؟
باقی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب نورالقرآن کے حوالے سے آپ نے جو باتیں لکھی ہیں، وہ درست نہیں ہیں اور کم علمی کی وجہ سے آپ کے ذہن میں اس قسم کے اعتراض اُٹھ رہے ہیں۔ جبکہ اصل بات یہ ہے کہ مخالفین اسلام اور خاص طور پر عیسائیوں کی طرف سے ہمارے آقا و مولیٰ حضرت اقدس محمد مصطفیٰﷺ کے خلاف بد زبانی کی ابتدا کی گئی تھی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پہلے انہیں مختلف طریقوں سے سمجھانے کی کوشش کی کہ کوئی مذہب بھی کسی دوسرے کے پیشوا کے خلاف بدزبانی کی اجازت نہیں دیتاکیونکہ ایک تو یہ شعائر اللہ کی حرمت کے خلاف ہے اور دوسرا اس سے اس پیشوا کے ماننے والوں کی دل شکنی ہوتی ہے۔ لیکن جب بار بار کی نصیحت کے باوجود مخالفین باز نہ آئے تو چونکہ یہ آنحضورﷺکے ناموس کا سوال تھا اس لیے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آنحضور ﷺکی ذات اطہر کے خلاف زبان درازی کرنے والوں کی مذہبی کتب سے ان کے پیشواؤں کے بارہ میں حقائق بیان کر کے ان کا منہ توڑ جواب انہیں دیا۔ اسی طریق کو حضور علیہ السلام نے نور القرآن میں عیسائیوں کے خلاف استعمال فرمایا اور انجیل کے بیانات سے عیسائیوں کے مزعومہ خدا یسوع مسیح کے بارہ میں الزامی جواب کے طور پر حقائق بیان فرمائے۔ ورنہ جہاں تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تعلق ہے تو قرآن کریم نے ان کا جو مقام و مرتبہ بیان فرمایا ہے، اس کا کسی جگہ بھی آپؑ نے انکار نہیں کیا اور ایسا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کر بھی کیسے سکتے تھے جبکہ آپ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قدموں پر آیا ہوں یعنی جس طرح موسوی سلسلہ کےآخر میں آنے والے مسیح وہ تھے، محمدی سلسلہ کے آخر میں آنے والا مسیح میں ہوں۔ اس مضمون کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی مختلف کتب میں بیان فرمایا ہے۔ چنانچہ ایک جگہ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’جس حالت میں مجھے دعویٰ ہے کہ میں مسیح موعود ہوں اور حضرت عيسیٰ عليہ السلام سے مجھے مشابہت ہے تو ہر ايک شخص سمجھ سکتا ہے کہ میں اگر نعوذ باللہ حضرت عيسیٰ عليہ السلام کو بُرا کہتا تو اپنی مشابہت ان سے کيوں بتلاتا؟ کيونکہ اس سے تو خود ميرا بُرا ہونا لازم ہوتا ہے۔‘‘(کشف الغطاء، روحانی خزائن جلد۱۴ صفحہ ۲۲۶ حاشیہ )
اسی طرح نور القرآن میں حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’واضح ہو کہ چونکہ پادری فتح مسیح متعین فتح گڑھ ضلع گورداسپور نے ہماری طرف ایک خط نہایت گندہ بھیجا اور اس میں ہمارے سیدو مولیٰ محمد مصطفیٰﷺپر زنا کی تہمت لگائی اور سوا اس کے اور بہت سے الفاظ بطریق سب و شتم استعمال کئے۔ اس لیے قرین مصلحت معلوم ہوا کہ اس کے خط کا جواب شائع کر دیا جاوے۔ لہٰذا یہ رسالہ لکھا گیا امید کہ پادری صاحبان اس کو غور سے پڑھیں اور اس کےالفاظ سے رنجیدہ خاطر نہ ہوں کیونکہ یہ تمام پیرایہ میاں فتح مسیح کے سخت الفاظ اور نہایت ناپاک گالیوں کا نتیجہ ہے۔ تاہم ہمیں حضرت مسیح علیہ السلام کی شان مقدس کا بہرحال لحاظ ہے۔ اورصرف فتح مسیح کے سخت الفاظ کے عوض ایک فرضی مسیح کا بالمقابل ذکر کیا گیا ہے اور وہ بھی سخت مجبوری سے کیونکہ اس نادان نے بہت ہی شدت سے گالیاں آنحضرتﷺکونکالی ہیں اور ہمارا دل دکھایا ہے۔(نورالقرآن، روحانی خزائن جلد ۹ صفحہ ۳۷۶)
ایک اور جگہ حضور علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں: ’’خبیث ہے وہ انسان جو اپنے نفس سے کاملوں اور راستبازوں پر زبان دراز کرتا ہے۔ میں يقين رکھتا ہوں کہ کوئی انسان حسين جيسے يا حضرت عيسیٰ جيسے را ستباز پر بد زبانی کر کے ايک رات بھی زندہ نہيں رہ سکتا۔ اور وعيد مَنْ عَادَا وَلِيًّالِیدست بدست اُس کو پکڑ ليتا ہے۔ (اعجاز احمدی ضمیمہ نزول المسیح، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ ۱۴۹)
پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ تحریر مخالفین کی باربار کی بدزبانی کے جواب میں انہیں کے بیان کردہ ایک فرضی مسیح کے بارے میں تھی ورنہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آپ خداتعالیٰ کا برگزیدہ اور سچا نبی خیال کرتے تھے اور اپنی بعثت انہیں کی بعثت کے مطابق اور مشابہ قرار دیتے تھے۔
اسی طرح مخالفین کی طرف سے آنحضورﷺکی ذات اقدس پر حدیث میں بیان ایک واقعہ کے بارہ میں بدزبانی کے جواب میں حضور علیہ السلام نے اس حدیث کی جو مختلف تشریحات بیان فرمائی ہیں، وہ آنحضورﷺ کی نفیس اور پاک فطرت کے عین مطابق ہیں۔
آپ کو حضور علیہ السلام کی یہ تشریحات اچھی لگیں یا نہ لگیں،اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو حکم و عدل بنا کر مبعوث فرمایا ہے اور حکم و عدل کا یہی کام ہے کہ وہ ان باتوں کا درست فیصلہ فرمائے، جن میں لوگوں نے بگاڑ پیدا کر دیا ہے۔ اور احادیث میں چونکہ بہت سی ظنی باتیں داخل ہو گئی ہوئی ہیں۔ اس لیے آپ علیہ السلام کے فیصلہ کے مطابق اب وہی احادیث قابل قبول ہیں جو قرآن کریم، آنحضور ﷺکی سنت اور آپؐ کی عصمت کے مطابق ہوں گی، جو احادیث ان محکم معیاروں سے ٹکراتی ہوں گی، ان کی اگر کوئی تاویل ہو سکتی ہو جو قرآن کریم اور آنحضورﷺکی سنت کے مطابق ٹھہرتی ہو تو ٹھیک ہے ورونہ ایسی حدیثیں اپنے ظاہر معانی کے لحاظ سے قابل قبول نہیں ہو سکتیں۔
سوال: ملائیشیا سے ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں تحریر کیا کہ کیا قرآن مجید کی تلاوت بغیر وضو کے کر سکتے ہیں۔ یا وضو کرنا ضروری ہے۔ بعض لوگوں کا وضو زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا، ان کے لیے کیا اسلامی حکم ہے؟حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ یکم فروری ۲۰۲۴ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب عطا فرمایا۔ حضور انور نے فرمایا:
جواب: قرآن کریم پڑھنے کے لیے ہوش وحواس قائم ہونے ضروری ہیں تاکہ انسان کو علم ہو سکے کہ وہ کیا پڑھ رہا ہے، اسی لیے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اے ایماندارو! جب تک تم اپنے حواس میں نہ ہو نماز کے قریب نہ جاؤ اس وقت تک کہ تم جو (کچھ) کہہ رہے ہو اسے سمجھنے (نہ) لگو۔(النساء:۴۴)
آنحضورﷺکے بارہ میں بھی احادیث میں یہی آتا ہے کہ حضورﷺرات کے وقت جب بیدار ہوتے تو بعض اوقات اسی وقت قرآن کریم کا کچھ حصہ پڑھتے تھے لیکن اس سے پہلے اپنے چہرہ مبارک پر اچھی طرح ہاتھ پھیر کر نیند کو دور کر لیا کرتے تھے۔ پھر بعد میں اٹھ کر وضو فرماتے اور تہجد کی نماز ادا فرماتے۔ (صحیح بخاری کتاب الوضوء بَاب قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ بَعْدَ الْحَدَثِ وَغَيْرِهِ)
پس بغیر وضو کے زبانی قرآن کریم پڑھا جا سکتا ہے البتہ اپنے ہوش و حواس میں ہونا ضروری ہے۔ لیکن اگر باقاعدہ تلاوت کرنی ہو تو اگر کوئی مجبوری نہ ہو تو بہتر ہے کہ ایک دفعہ وضو کرلیا جائے لیکن اگر دوران تلاوت وضو ٹوٹ جائے تو تیمم کیا جاسکتا ہے۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس سوال کہ قرآن شریف پڑھتے ہوئے درمیان میں وضو ساقط ہو جائے تو کیا پھر وضو کیا جائے؟ کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’قرآن شریف کی تلاوت سے قبل جب پہلی دفعہ وضو کرلیا ہو، اور اثنائے تلاوت میں اگر وضو قائم نہ رہے تو پھر تیمم کیا جاسکتا ہے۔ (ذکر حبیب از حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ۔ صفحہ ۱۵۶، زیر عنوان اصلاح مسودہ(نمبر۵۰)، ضیاء الاسلام پریس ربوہ)
اسی طرح اگر قرآن کریم کوپکڑ کر پڑھنا ہو تو ہاتھوں کا پاک و صاف ہونابھی ضروری ہے۔ تاکہ اس مقدس کام کے لیے ظاہری صفائی اور طہارت کا خیال بھی رکھا جا سکے۔ اور تا ہمارے دلوں میں قرآن کریم کا احترام قائم رہے۔
سوال: پاکستان سے ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں استفسار بھجوایا کہ کیا رسول اللہﷺفتح مکہ کے بعد حجۃ الوداع کے علاوہ بھی کبھی مکہ تشریف لے گئے تھے؟ نیز یہ کہ اسلام کے آغاز ہی میں ایک وفد چین گیا تھا، جس کی قیادت حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کررہے تھے۔ کیا یہ بات درست ہے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۴؍فروری ۲۰۲۴ء میں ان سوالات کے درج ذیل جواب عطا فرمائے۔ حضور انور نے فرمایا:
جواب: فتح مکہ جو ۸؍ہجری میں ہوئی اس کے بعد حضورﷺ۱۰؍ہجری کو حجۃ الوداع کے موقع پر مکہ تشریف لے گئے تھے، اس کے علاوہ فتح مکہ کے بعد حضورﷺکا مکہ تشریف لے جاناتاریخ سے ثابت نہیں ہوتا۔
کسی وفد کے چین جانے کے بارے میں آپ کے سوال کے جواب میں تحریر ہے کہ اسلام کے آغاز میں ہی حضورﷺکے صحابہ ؓتبلیغ دین کا فریضہ ادا کرنے کے لیے دنیا کے مختلف کونوں میں پھیل گئے تھے۔ جن میں ایران، عراق،شام اور مصر کے علاوہ چین،افغانستان، جزائر، افریقہ اور ہندوستان کے مختلف علاقے بھی شامل ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام صحابہ کی اشاعت اسلام کے لیے کی جانے والی کوشش کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’آنحضرتؐ کے صحابہؓ بھی اشاعتِ اسلام کے واسطے دُور دراز ممالک میں جایا کرتے تھے۔ یہ جو چین کے ملک میں کئی کروڑ مسلمان ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں بھی صحابہؓ میں سے کوئی شخص پہنچا ہوگا۔ (ملفوظات جلد دہم صفحہ ۳۸۳، مطبوعہ یوکے ۲۰۲۲ء)
حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اس بارے میں فرماتے ہیں: ’’تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریمﷺکی وفات کے معاًبعد کچھ صحابہ ایران میں چلے گئے۔ کچھ افغانستان میں چلے گئے کچھ چین کی طرف نکل گئے۔ کچھ جز ائر کی طرف چلے گئے اور اس طرح ایک طرف چین کے انتہائی کناروں تک اور دوسری طرف الجزائر تک رسول کریمﷺکے صحابہؓ کی زندگی میں ہی قرآن پھیل گیا۔ گویا جتنی معلومہ دنیا تھی اُس میں قرآن کی تعلیم صحابہؓ کے ہاتھ سے پھیل گئی بلکہ بعض ممالک کے لوگ اب تک اس بات کے مدعی ہیں کہ صحابہؓ کی لائی ہوئی قرآن کی کاپیاں اُن کے پاس موجود ہیں۔‘‘ (تفسیر کبیر جلد ۱۱ صفحہ ۲۵۵، ایڈیشن۲۰۲۳ء)
پھرفرمایا:پانچواں سامان اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی حفاظت کے لیے یہ کر دیا کہ اسلام شروع میں ہی مختلف ممالک میں پھیل گیا۔ چنانچہ ابھی ہزاروں صحابہ ؓ زندہ تھے کہ اسلام شام میں پہنچ گیا۔ عراق میں بھی پہنچ گیا۔فلسطین میں بھی پہنچ گیا۔ انطاکیہ میں بھی پہنچ گیا۔ ایران میں بھی پہنچ گیا۔ مصر میں بھی پہنچ گیا۔ اِسی طرح افریقہ کے مختلف علاقوں تک اسلام کا نام جا پہنچا۔ یہاں تک کہ صحابہؓ چین تک گئے اور انہوں نے اسلام کی اشاعت کی۔ ہندوستان میں آئے اور یہاں انہوں نے اسلام پھیلایا۔ سندھ میں جہاں ہماری زمینیں ہیں وہاں ایک گاؤں ہے جسے دیہہ صابو کہا جاتا ہے یعنی صحابہؓ کا گاؤں اور وہاں ایک قبر بھی ہے جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ کسی صحابیؓ کی قبر ہے۔ (تفسیر کبیر جلد ۱۲ صفحہ ۷۶، مطبوعہ یوکے ۲۰۲۳ء)
باقی جہاں تک حضرت سعد بن ابی وقاص ؓکے چین جانے اور وہیں آپؓ کی وفات اور تدفین ہونے کی بات ہے تو تاریخ سے اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ بلکہ اس کے برعکس تاریخ و سیرت کی کتب سے ثابت ہوتا ہے کہ آپؓ کی وفات مدینہ سے ملحقہ مقام عقیق میں ہوئی، مسجد نبویؐ میں آپ کی نماز جنازہ پڑھی گئی، جس میں ازواج مطہرات نے بھی شرکت کی اور پھر مدینہ میں آپ کی تدفین ہوئی۔ (الطبقات الکبریٰ لابن سعد، جزء ثالث صفحہ ۱۰۹، ۱۱۰، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان، ۱۹۹۰ء) (اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ جزء ثانی صفحہ ۴۵۶، دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان) (الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب جزء ثانی صفحہ ۶۱۰، دارالجیل بیروت)
سوال: جرمنی سے ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں لکھا کہ حدیث میں آتا ہے کہ جو لوگ علم حاصل کرنے جاتے ہیں، ان کے لیے مچھلیاں بھی دعا کرتی ہیں۔ اس حدیث کا کیا مطلب ہے؟حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۲؍فروری ۲۰۲۴ء میں اس بارے میں درج ذیل راہنمائی عطا فرمائی۔ حضور انور نے فرمایا:
جواب: آپ نے جس حدیث کا ذکر کیا ہے وہ صحاح ستہ کی مختلف کتابوں میں مذکور ہے اور یہ پوری حدیث اس طرح ہے کہ حضرت ابو الدرداءؓ روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺکو فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص علم کی تلاش میں کسی راستہ پر چلا، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے، اور فرشتے طالبعلم سے خوش ہو کر اس کے لیے اپنے بازو بچھا دیتے ہیں، آسمان و زمین کی ساری مخلوق یہاں تک کہ پانی میں مچھلیاں بھی طالبعلم کے لیے مغفرت کی دعا کرتی ہیں۔ اور ایک عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہی ہے جیسے چاند کی فضیلت سارے ستاروں پر۔ یقیناً علماء ہی انبیاء کے وارث ہیں اوریقیناً انبیاء نے کسی کو دینار و درہم کا وارث نہیں بنایا بلکہ انہوں نے علم کا وارث بنایا ہے، لہٰذا جس نے اس علم کو حاصل کیا، اس نے (علم اور وراثت نبوی سے) پورا پورا حصہ لیا۔(سنن ابن ماجہ كتاب المقدمۃ بَابُ فَضْلِ الْعُلَمَاءِ وَالْحَثِّ عَلَى طَلَبِ الْعِلْمِ)
اس حدیث میں صرف مچھلیوں کا ذکر نہیں بلکہ علم کے حصول کی خاطر سفر اختیار کرنے والے کے لیے زمین و آسمان کی ساری مخلوق ہی مغفرت کی دعا کرتی ہے۔ اور زمین و آسمان کی مخلوق کی مغفرت کی دعا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح انسان اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء، تسبیح و تحمید کرتے اور اس سے مغفرت کی دعائیں کرتے ہیں، اسی طرح زمین و آسمان کے چرند پرند،درخت، پہاڑگویا کہ زمین و آسمان میں بسنے والی ہر قسم کی مخلوق اور اس کا ذرہ ذرہ اپنےاپنے انداز میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تحمید میں لگا ہوا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے وَاِنۡ مِّنۡ شَیۡءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمۡدِہٖ وَلٰکِنۡ لَّا تَفۡقَہُوۡنَ تَسۡبِیۡحَہُمۡ۔(بنی اسرائیل :۴۵)یعنی (دنیا کی) ہر چیز اس کی تعریف کرتی ہوئی (اس کی) تسبیح کرتی ہے لیکن تم ان (اشیاء) کی تسبیح کو نہیں سمجھتے۔
پس جب اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے سے خوش ہوتا ہے تو وہ زمین و آسمان کی مخلوق اور اس کی ہر چیز کو حکم دیتا ہے تو وہ مخلوق اور وہ تمام اشیاء بھی اس بندے سے خوش ہو جاتے اور اس کے حق میں مغفرت کی دعا کرنے لگ جاتے ہیں۔
مزید پڑھیں: بنیادی مسائل کے جوابات(قسط نمبر۱۱۱)




