بنیادی مسائل کے جوابات

بنیادی مسائل کے جوابات(قسط نمبر ۱۱۵)

(ظہیر احمد خان۔ مربی سلسلہ، انچارج شعبہ ریکارڈ دفتر پی ایس لندن)

٭… آنحضورﷺ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مزار پر دعا کے لیے جائیں تو اپنی زبان میں کیسے دعا کرتے ہیں؟

٭… فجر کی نماز میں صرف دو رکعات کیوں پڑھی جاتی ہیں جبکہ باقی نمازوں میں دو سے زیادہ رکعات پڑھی جاتی ہیں؟

٭… رمضان کے تین عشروں کے لیے جو دعائیں مشہور ہیں کیا وہ سنت یا حدیث سے ثابت ہیں؟نیز اَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ رَبِّيْ مِنْ كُلِّ ذَنْبٍ وَّاَتُوْبُ اِلَيْهِ کی سند کیا ہے؟ حضرت عائشہؓ کے مطابق تو حضورﷺ سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ کے بعد صرف اَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ وَاَتُوْبُ اِلَيْهِ کی دعا کرتے تھے۔ اور قرآن کریم میں بھی اَنِ اسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّکُمۡ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَیۡہِ(ھود:۴) کے الفاظ ہیں۔ اس بارہ میں راہنمائی کی درخواست ہے؟

٭… حدیث میں بیان ’’نار حجاز‘‘ کی پیشگوئی جس کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی ذکر فرمایا ہے، سے مراد Oil اور Fossil Fuel کی دریافت کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے؟

سوال: امریکہ سے ایک خاتون نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں استفسار بھجوایا کہ اگر آنحضورﷺ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مزار پر دعا کے لیے جائیں تو اپنی زبان میں کیسے دعا کرتے ہیں؟حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۲۳؍فروری ۲۰۲۴ء میں اس بارے میں درج ذیل راہنمائی فرمائی۔ حضور نے فرمایا:

جواب: سورت فاتحہ اور درود شریف پڑھیں، ان میں تمام دعائیں آ جاتی ہیں۔ پھر اپنی زبان میں اللہ تعالیٰ سے ان بزرگ ہستیوں کے بلندیٔ درجات کے لیے دعا کریں اور یہ بھی دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کے متبعین کو بھی ان نیکیوں اور ان چیزوں پر قائم فرمائے جنہیں یہ لے کر آئے تھے۔ پھر اپنے لیے دینی و دنیوی حسنات کے حصول کی دعائیں کریں۔ اور اللہ تعالیٰ سے جو چاہیں مانگیں۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے احباب جماعت کی راہنمائی کے لیے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مزار پر دعا اور اس کی حکمت کے عنوان پر ایک تقریر فرمائی تھی، جو کتابی شکل میں شائع ہو چکی ہے۔ اس تقریر میں حضور نے بہت سی اہم باتوں کی طرف احباب جماعت کو توجہ دلائی تھی، اس کا بھی آپ کو مطالعہ کرنا چاہیے۔ اس میں حضور اپنے طریق دعا کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’میں اپنے متعلق بتاتا ہوں کہ جب بھی میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی قبر پر دعا کرنے کے لیے آتا ہوں میں نے یہ طریق رکھا ہوا ہے کہ پہلے میں رسول کریمﷺ کے لیے دعا کیا کرتا ہوں اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لیے دعا کرتا ہوں اور دعا یہ کیا کرتا ہوں کہ یا اللہ! میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جو میں اپنے اِن بزرگوں کی خدمت میں تحفہ کے طور پر پیش کر سکوں۔ میرے پاس جو چیزیں ہیں وہ انہیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتیں۔ البتہ تیرے پاس سب کچھ ہے اس لیے میں تجھ سے دعا اور التجا کرتا ہوں کہ تُو مجھ پر احسان فرما کر میری طرف سے انہیں جنت میں کوئی ایسا تحفہ عطا فرما جو اِس سے پہلے انہیں جنت میں نہ ملا ہوتو وہ ضرور پوچھتے ہیں کہ یا اللہ! یہ تحفہ کس کی طرف سے آیا ہے؟ اور جب خدا انہیں بتاتا ہے تو وہ اُس کے لیے دعا کرتے ہیں اور اِس طرح دعا کرنے والے کے مدارج بھی بلند ہوتے ہیں اور یہ بات قرآن اور احادیث سے ثابت ہے۔ اسلام کا مسلمہ اصل ہے اور کوئی شخص اس سے انکار نہیں کر سکتا کہ دعا ئیں مرنے والے کو ضرور فائدہ پہنچاتی ہیں۔ قرآن کریم نے بھی فَحَیُّوۡا بِاَحۡسَنَ مِنۡہَا (النساء:۸۷) کہہ کر اِس طرف توجہ دلائی ہے کہ جب تمہیں کوئی شخص تحفہ پیش کرے تو تم اُس سے بہتر تحفہ اُسے دو ورنہ کم از کم اتنا تحفہ تو ضرور دو جتنا اُس نے دیا۔ قرآن کریم کی اِس آیت کے مطابق جب ہم رسول کریمﷺ یا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لیے دعا کریں گے اور ان پر درود اور سلام بھیجیں گے تو خداتعالیٰ ہماری طرف سے اِس دعا کے نتیجہ میں اُنہیں کوئی تحفہ پیش کر دے گا۔ ہم نہیں جانتے کہ جنت میں کیا کیا نعمتیں ہیں مگراللہ تعالیٰ تو اُن نعمتوں کو خوب جانتا ہے اِس لیے جب ہم دعا کریں گے کہ الٰہی! تو رسول کریم ﷺ کو کوئی ایسا تحفہ دے جو اِس سے پہلے اُنہیں نہ ملا ہو تو یہ لازمی بات ہے کہ جب وہ تحفہ اُنہیں دیا جاتا ہوگا تو ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ بھی بتایا جاتا ہو گا کہ یہ فلاں شخص کی طرف سے تحفہ ہے۔ پھر کس طرح ہو سکتا ہے کہ اِس علم کے بعد وہ چُپ کرکے بیٹھے رہیں اور تحفہ بھجوانے والے کے لیے دعا نہ کریں۔ ایسے موقع پر بے اختیار اُن کی روح اللہ تعالیٰ کے آستانہ پر گر جائے گی اور کہے گی کہ اے خدا! اَب تو ہماری طرف سے اِس کو بہتر جزاء عطا فرما۔ اِس طرح فَحَیُّوۡا بِاَحۡسَنَ مِنۡہَا کے مطابق وہ دعا پھر درود بھیجنے والے کی طرف لوٹ آئے گی اور اِس کے درجہ کی بلندی کا باعث ہو گی۔ پس یہ ذریعہ ہے جس سے بغیر اِس کے کہ کوئی مشرکانہ حرکت ہو ہم خود بھی فائدہ اُٹھا سکتے ہیں اور قوم بھی فائدہ اُٹھا سکتی ہے۔ ‘‘(مزار حضرت مسیح موعودؑ پر دعا اور اس کی حکمت، انوار العلوم جلد ۱۷ صفحہ ۱۸۳،۱۸۲)

سوال: کینیڈا سے ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے دریافت کیا کہ فجر کی نماز میں صرف دو رکعات کیوں پڑھی جاتی ہیں جبکہ باقی نمازوں میں دو سے زیادہ رکعات پڑھی جاتی ہیں؟حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۲۵؍فروری ۲۰۲۴ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب عطا فرمایا۔ حضور نے فرمایا:

جواب: یہ تو اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے، جس طرح اس نے اپنے رسول ﷺ کو حکم دیا اس طرح حضور ﷺ نے ہمیں نمازوں کی رکعات بتائی اور سمجھائی ہیں۔ باقی جو شخص نماز تہجد پڑھتا ہے وہ رات کے اس آخری حصہ میں نماز فجر سے کچھ پہلے ایک لمبی نفل نماز بھی پڑھ چکا ہوتا ہے۔ اس لیے ایسے شخص کی آسانی کے لیے اللہ تعالیٰ نے فجر کی نماز کی باقی نمازوں سے نسبتاً کم رکعات مقرر فرمائی ہیں۔ علاوہ ازیں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے اپنے مختلف خطبات میں نمازوں کے اوقات اور ان کی رکعات وغیرہ کی حکمت بیان فرمائی ہے، ان میں ایک جگہ نماز فجر کی رکعات کے بارہ میں آپ فرماتے ہیں: ’’اصل بات یہ ہے کہ جب انسان سو کر اُٹھتا ہے تو اُس وقت اُس کی زندگی کا ایک نیا دَور شروع ہوتا ہے اور نئے دَور کی ابتداء کے وقت ضروری ہوتا ہے کہ انسان اپنے اندر بلند ارادے پیدا کرے اور کہے کہ میں یوں کروں گا، میں وُوں کروں گا اور یہ تمام باتیں چونکہ قرآن کریم میں موجود ہیں اِس لیے جب سو کر اُٹھنے کے بعد انسان کی زندگی کا نیا دَور شروع ہوتا ہے اُسے اِس کے روحانی پروگرام کی طرف توجہ دلانے کے لیے اسلام نے اس وقت قرآن کریم کی لمبی تلاوت مقرر کر دی اور حکم دیا کہ فجر کی نماز میں قرآن کریم کی لمبی تلاوت کی جائے اور چونکہ خدا تعالیٰ کا معاملہ احکام میں یُسر کا ہے عسر کا نہیں اِس لیے فجر کی نماز اس نے باقی تمام نمازوں سے چھوٹی کر دی تاکہ لمبی تلاوت کی جاسکے۔ پس فجر کی نماز کو تو اس نے چھوٹا کیا لیکن تلاوتِ قرآن کو لمبا کر دیا۔ کیونکہ اس وقت اِس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ قرآن کریم کے مضامین بار بار سامنے آئیں۔ پس فجر کی نماز کو چھوٹا کرنا ضروری تھا تا تلاوت کو لمباکیا جاسکے۔ یہ نماز درحقیقت عصر کی نماز کے مقابل پر ہے اور ظاہر میں اِس کے عدد کو عصر کے ساتھ اِس طرح بھی مشابہت ہوجاتی ہے کہ عصر کے ساتھ کوئی سُنت موَکدہ نہیں ہیں اور صبح کے ساتھ دو سنتیں ایسی ہیں جو عام موَکدہ ہیں۔ اِس طرح صبح کی رکعتیں بھی چار ہو جاتی ہیں اور عصر کی بھی چار ہوتی ہیں۔‘‘ (خطبات محمود جلد نمبر ۲۰ صفحہ ۱۷۲۔ خطبہ جمعہ ارشاد فرمودہ ۱۷؍مارچ ۱۹۳۹ء)

سوال: آسٹریلیا سے ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں لکھا کہ رمضان کے تین عشروں کے لیے جو دعائیں مشہور ہیں کیا وہ سنت یا حدیث سے ثابت ہیں؟نیز اَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ رَبِّيْ مِنْ كُلِّ ذَنْبٍ وَّاَتُوْبُ اِلَيْهِ کی سند کیا ہے؟ حضرت عائشہؓ کے مطابق تو حضورﷺ سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ کے بعد صرف اَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ وَاَتُوْبُ اِلَيْهِ کی دعا کرتے تھے۔ اور قرآن کریم میں بھی اَنِ اسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّکُمۡ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَیۡہِ (ھود:۴) کے الفاظ ہیں۔ اس بارے میں راہنمائی کی درخواست ہے؟حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۲۹؍فروری ۲۰۲۴ء میں اس بارہ میں درج ذیل راہنمائی فرمائی۔ حضور انور نے فرمایا:

جواب: رمضان کے عشروں کی طرف جو دعائیں منسوب کی جاتی ہیں، ان کا ان عشروں کے ساتھ مخصوص ہونا آنحضورﷺ کی سنت یا کسی مستند حدیث سے ثابت نہیں۔ لگتا ہے کہ بعدمیں کسی زمانہ میں لوگوں نے ان دعاؤں کو ان عشروں کے ساتھ مخصوص کر دیا ہے۔ حضور ﷺ نے ماہ رمضان کے ان عشروں کو صرف رحمت، مغفرت اور جہنم سے آزادی کے نام سے موسوم فرمایا ہے۔ (شعب الإيمان للبيهقي کتاب فضائل شهر رمضان باب أظلكم شهر عظيم، شهر مبارك)

رمضان کے عشروں کی طرف منسوب کی جانے والی جو دعائیں ہیں، ان میں سے رَبِّ اغۡفِرۡ وَارۡحَمۡ وَاَنۡتَ خَیۡرُ الرّٰحِمِیۡنَ۔ (المومنون:۱۱۹)ایک قرآنی دعا ہے جس کے معانی ہیں کہ اے میرے رب! معاف کر اور رحم کر اور تو سب سے اچھا رحم کرنے والا ہے۔ اللّٰهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّيکی دعا کے بارہ میں حدیث میں آتا ہے کہ حضرت عائشہؓ کے سوال پر کہ اگر مجھے علم ہو جائے کہ یہ رات لیلۃ القدر کی رات ہے تو میں اس میں کیا دعا کروں؟ اس پر حضورﷺ نے آپ کو یہ دعاسکھائی۔ (سنن ابن ماجہ کتاب الدعا بَاب الدُّعَاءِ بِالْعَفْوِ وَالْعَافِيَةِ) اس دعا کا ترجمہ یہ ہے کہ اے اللہ تعالیٰ !تُو معاف کرنے والا ہے، معاف کرنے کو پسند کرتا ہے، پس مجھ سے بھی درگزر فرما۔ جبکہ استغفار والی دعا بھی ان الفاظ کے ساتھ کسی مستند حدیث میں روایت نہیں ہوئی۔

استغفار کے لیے حضور ﷺ نے مختلف الفاظ اور مختلف جملے استعمال فرمائے ہیں، جو احادیث میں روایت ہوئے ہیں۔ اَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ رَبِّيْ مِنْ كُلِّ ذَنْبٍ وَّاَتُوْبُ اِلَيْهِِکے الفاظ پر مشتمل استغفار جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ کسی مستند حدیث میں مروی نہیں، لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس استغفار کو بیعت لیتے وقت پڑھا ہے۔ (مکتوبات احمد جلد سوم صفحہ ۲۴۷ جدید ایڈیشن مطبوعہ یکم دسمبر ۲۰۱۳ء)، جو یقیناً اللہ تعالیٰ کے فرمان کے نتیجے میں ہی ہو گا۔ اور ویسے بھی اس استغفار میں رَبِّيْ اور مِنْ كُلِّ ذَنْبٍ کے الفاظ سے خدا تعالیٰ کے ساتھ ایک ذاتی تعلق کا احساس اور اپنے ہر قسم کے گناہوں سے معافی کا خیال پیدا ہوتا ہے اور یہ استغفار انسان کو خدا تعالیٰ کے قریب لے جانے کا موجب ہوتا ہے۔ اس لیے ایسے استغفار کے کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ اجتناب ایسی چیزوں سے ہونا چاہیے جو شرک پیدا کرنے والی ہوں اور انسان کو خدا تعالیٰ سےدور لے جانے والی ہوں۔

ان امور کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی ہمیشہ مد نظر رہنی چاہیے کہ انسان کو اپنا علم جتانے اور اس کا بے جا اظہار کرنے کے لیے ایسی فضول اور لا یعنی قسم کی علمی بحثوں میں نہیں پڑنا چاہیے۔

سوال: یوکے سے ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں لکھا کہ حدیث میں بیان ’’نارِ حجاز‘‘ کی پیشگوئی جس کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی ذکر فرمایا ہے، سے مراد Oil اور Fossil Fuel کی دریافت کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے؟حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۱۲ مارچ ۲۰۲۴ء میں اس بارہ میں درج ذیل راہنمائی فرمائی۔ حضور انور نے فرمایا:

جواب: اصل بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے پیاروں کے منہ سے جو مختلف پیش خبریاں دنیا کے لیے بیان کرتا ہے، ان کے مختلف پہلو ہوتے ہیں۔ بعض اوقات وہ ظاہری طور پر بھی پوری ہوتی ہیں اور بعض اوقات ان کے ایسے معانی بھی ہوتے ہیں جن میں کسی قدر اخفا کا پہلو پایا جائے۔ نارِ حجاز سے متعلق پیشگوئی کتب احادیث میں حضرت ابوہریرہؓ سے اس طرح مروی ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا کہ وہ گھڑی اس وقت تک قائم نہیں ہو گی، جب تک کہ حجاز کی زمین سے ایک آگ نہ نکلے جو بُصریٰ میں اونٹوں کی گردنوں کو روشن کر دے گی۔ (صحیح بخاری کتاب الفتن بَاب خُرُوجِ النَّارِ۔ صحیح مسلم کتاب الفتن و اشراطۃ الساعۃ بَاب لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَخْرُجَ نَارٌ مِنْ أَرْضِ الْحِجَازِ)

اکثر علماء کا اتفاق ہے کہ حضورﷺ کی بیان فرمودہ یہ پیشگوئی ۶۵۴ہجری میں ظاہر ہو چکی ہے۔ اور کہا جاتا ہے کہ یہ آگ تین ماہ تک رہی۔ (فتح الباری شرح بخاری) اسی طرح لکھا ہے کہ جمادی الآخر ۶۵۴ ہجری کی ۳ تاریخ اور بدھ کی رات مدینہ منورہ میں ایک ہولناک گونج سنائی دی۔ اس کے بعد زلزلہ آیاجس نےہر چیز کو ہلا کر رکھ دیا۔ یہ سلسلہ جمعہ کے دن تک جاری رہا۔ جس کے بعد ایک عظیم آگ مدینہ کے مقام حرّہ سے ظاہر ہوئی۔ یہ آگ اس طرح پھیل رہی تھی جس طرح پانی بہتا ہے اور یہ آگ بڑی بڑی چنگاریاں پھینک رہی تھی۔ (البدایہ والنہایہ) امام نووی لکھتے ہیں کہ ۶۵۴ہجری میں مدینہ کے مشرقی جانب حرہ کے پیچھے سے ایک بہت بڑی آگ روشن ہوئی تھی، ملک شام اور دوسرے ملکوں کے لوگوں کو متواتر اس کا علم ہے۔ (المنھاج شرح صحیح مسلم)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اس پیشگوئی کے پورا ہونے کا مختلف جگہوں پر ذکر فرمایا ہے۔ چنانچہ نوجوانوں کے لیے خدا تعالیٰ کی لا متناہی اور کبھی نہ ختم ہونے والی لامحدود قدرتوں اور اس کے قانون قدرت کی بصیرت افروز حقیقت بیان کرتے ہوئے حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: مثلاً آگ با لخاصیت محرق ہے جس کی اس خاصیت کو بارہا ہم تم آزما چکے ہیں بلکہ یہ خاصیت ہمارے مجربات و مشاہدات متواترہ میں سے ہے مگر با ایں ہمہ یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی ایسی دو ایا روغن پیدا ہو کہ جب وہ کسی عضو یا کسی اور چیز پر لگایا جائے تو آگ اپنی خاصیت احراق اس پر ظاہر نہ کر سکے اور یہ بھی ممکن ہے کہ خود آگ میں ہی باذنہ تعالیٰ کسی اندرونی یا بیرونی حوادث سے یہ صورت پیدا ہو جائے ایسا ہی یہ بھی ممکنات میں سے ہے کہ کوئی اس قسم کی آگ زمین سے یا آسمان سے پیدا ہو جو اپنے خواص میں اس آگ سے اختلاف رکھتی ہو جیسی نارحجاز جس کے نکلنے کی خبر(اس کے وقوع پذیر ہونے سے۔ ناقل) چھ سو باون برس پہلے نبی کریم ﷺ نے دی تھی جو صحیح بخاری اور مسلم میں پانسو برس پہلے ظہور سے مندرج اور شائع ہو چکی تھی۔ غرض صدہا ایسی صورتیں تاثیرات ارضی یا سماوی اور موجبات اندرونی یا بیرونی سے ظہور میں آ سکتی ہیں کہ جو ایک چیز کی خاصیت موجودہ مجربہ میں خلل انداز ہو سکیں اور علوم جدیدہ کا دروازہ جو نہایت وسیع اور غیر متناہی طور پر کھلا ہوا ہے وہ اسی بنا پر تو ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ تم بے سمجھے سوچے میری بات کو اپنی رائے کی بنیاد قرار دو۔ بلکہ میں کہتا ہوں کہ تم خوب جانچو اور پر کھو اور کھوٹے کھرے میں تمیز کرو اور جو کچھ زمانہ تمہیں دکھلا رہا ہے اسے اچھی طرح آنکھیں کھول کر دیکھو پھر اگر یہی رائے غالب اور فائق نظر آئے(تو اے ہمارے ملک کے نوجوانوں) اسے قبول کرو۔ (سرمہ چشم آریہ، روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۱۰۲)

پھر اسی نار حجاز کی پیشگوئی پر مشتمل حدیث کا ذکر کرتے ہوئے احادیث نبویہ ﷺ کی صداقت کے معیار بیان کرتے ہوئے حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’یہ بات تو ہر یک عاقل کے نزدیک مسلّم ہے کہ اگر مثلاً ایک حدیث احاد میں سے ہو اور سلسلہ تعامل میں بھی داخل نہ ہو مگر ایک پیشگوئی پر مشتمل ہو کہ وہ اپنے وقت پر پوری ہو جائے یا اُس کا ایک جز پورا ہو جائے تو اس حدیث کی صحت میں کوئی شک باقی نہیں رہے گا۔ مثلاً نارحجاز کی حدیث جو صحیحین میں درج ہے کچھ شک نہیں کہ احاد میں سے ہے لیکن وہ پیشگوئی قریباً چھ سو برس گذرنے کے بعد بعینہ پوری ہوگئی جس کے پورے ہونے کے بارے میں انگریزوں کو بھی اقرار ہے اور اُس زمانہ میں پوری ہوئی کہ جب صد ہا سال ان کتابوں کی تالیف اور شائع ہونے پر بھی گذر چکے تھے تو کیا ان حدیثوں کی نسبت اب یہ رائے ظاہر کر سکتے ہیں کہ وہ احاد ہیں اس لیے یقینی طور پر قبول کے لائق نہیں۔ کیونکہ جب اُن کی صداقت کھل گئی تو پھر ایسا خیال دل میں لانا نہایت بُری اور مکروہ نادانی ہے۔‘‘ (شہادۃ القرآن، روحانی خزائن جلد ۶ صفحہ ۳۰۵)

پس یہ تو اس پیشگوئی کا ظاہری طور پر پورا ہونا ہے۔ جو حضور ﷺ کے بیان کے عین مطابق پوری ہو گئی۔ لیکن جیسا کہ میں نے کہا کہ پیشگوئی کے کئی بطون ہوتے ہیں، جو اللہ تعالیٰ کے اذن سے اپنے وقت میں ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔ Oil اور Fossil Fuel کی دریافت بھی یقیناً اس پیشگوئی کے پورا ہونے کا ایک اور پہلو ہے اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سرمہ چشم آریہ والے اقتباس میں اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرتیں لا متناہی اور لامحدود ہیں اور اس ضمن میں حضور علیہ السلام نے آگ کی بھی مختلف صورتوں کا ذکر فرمایا ہے۔ تو Oil اور Fossil Fuel آگ ہی کی ایک ایسی صورت ہے جو سواریوں اور دیگر ایجادات کو جن میں یہ Oil اور Fuel وغیرہ استعمال ہوتا ہے، بظاہر جلاتی تو نہیں لیکن ان کے چلنے اور ان کے کام کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔

اور پھر اس پیشگوئی کو اگر مسیح موعود کے زمانہ کی علامتوں کے ساتھ ملایا جائے تو ان میں جن سواریوں کی ایجاد کی خبر دی گئی ہے اور خصوصیت کے ساتھ اونٹوں کے ترک کرنے کا ذکر کیا گیا ہے حالانکہ آنحضورﷺ کے عہدِ مبارک میں سواری کے لیے سب سے زیادہ کارآمد چیز اونٹ ہی تھا، تو نار حجاز کی پیشگوئی کے پورا ہونے کا ایک اور پہلوسامنے آتا ہے۔ پھر اس آگ کے ذریعہ اونٹوں کی گردنوں کا روشن ہونا بھی اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ اس آگ کے نتیجہ میں سفروغیرہ کے لیے استعمال ہونے والی اشیاء میں ایک ایسا غیرمعمولی انقلاب برپا ہو گا کہ ہر طرف روشنی ہو جائے گی، کیونکہ اونٹوں کی گردنوں کا روشن ہونا ہر طرف روشنی کے پھیلنے کی طرف اشارہ ہے۔

پس آپ کا بیان کردہ نقطہ درست ہے۔ اور اس پیشگوئی میں Oil اور Fossil Fuel وغیرہ کی دریافت کی طرف اشارہ نکلتا ہے۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: بنیادی مسائل کے جوابات(قسط نمبر ۱۱۴)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button