دادی جان کا آنگن

ہنسنے کا عالمی دن

آج ہنسنے کا عالمی دن کے بارے میں ٹی وی پر خبر آ رہی تھی۔ یہ سُن کر محمود بہت خوش ہو گیا۔ وہ گھر میں ادھر اُدھر گھومتے ہوئے سب کو بتا رہا تھا، امی! دادی جان! آپ کو پتا ہے؟ ہر سال تین مئی کو ہنسنے کا عالمی دن منایا جاتا ہے!

دادی جان مسکرا کر بولیں، اچھا! تو پھر آج ہم بھی اپنے گھر میں یہ دن منائیں گے، مگر ایک اچھے انداز میں۔

احمد، محمود اور گڑیا فوراً دادی جان کے پاس آکر بیٹھ گئے۔ دادی جان نے کہا : چلو پہلے ہم لطیفوں کا ایک چھوٹا سا مقابلہ کرتے ہیں۔

سب بچوں نے باری باری لطیفے سنائے اور گھر میں خوشی اور مسکراہٹیں پھیل گئیں۔ کچھ دیر بعد دادی جان نے نرمی سے سمجھایا، بچو! ہنسنا اچھی بات ہے، مگر بلا وجہ زور زور سے ہنسنا اور قہقہے لگانا مجلس کے آداب کے خلاف ہوتا ہے۔

محمود بولا: جی دادی جان! یہ تو مسجد کے آداب کے بھی خلاف ہے۔

احمد نے کہا: بالکل! مسجد میں اگر بچے زیادہ ہنستے ہیں تو ناظم صاحب اطفال یا قائد صاحب ہمیں نصیحت کرتے ہیں کہ ادب کا خیال رکھیں۔

محمود : پچھلی دفعہ ایک بچہ پھسل کر گر گیا تو مجھے ہنسی آ گئی، مگر ناظم صاحب نے مجھے غور سے دیکھا، تب میں فوراً خاموش ہو گیا!

دادی جان نے پیار سے کہا: دیکھو بچو! کسی کی تکلیف یا حادثے پر ہنسنا مناسب نہیں۔ ہمیں دوسروں کے جذبات کا خیال رکھنا چاہیے۔

پھر دادی جان نے قرآن کریم کی آیت سنائی: فَلۡیَضۡحَکُوۡا قَلِیۡلًا وَّلۡیَبۡکُوۡا کَثِیۡرًاۚجَزَآءًۢ بِمَا کَانُوۡا یَکۡسِبُوۡنَ (التوبہ: 82)

پس چاہیے کہ وہ تھوڑا ہنسیں اور زیادہ روئیں، اُس کی جزا کے طور پر جو وہ کسب کرتے رہے۔

گڑیا نے معصومیت سے پوچھا، دادی جان! کیا ہمارے پیارے نبی ﷺ بھی مزاح کیا کرتے تھے؟

دادی جان نے جواب دیا: جی ہاں بیٹا! رسول کریم ﷺ مزاح فرمایا کرتے تھے ۔ مگر ہمیشہ سچائی اور نرمی کے ساتھ۔ ابھی چند دن قبل بچوں کے الفضل میں ایک حکایت آئی تھی ناں کہ کس طرح رسول کریم ﷺنے ایک رونی صورت بنائے ہوئے بچے کو ایسی بات کہی کہ وہ خوش ہو گیا۔ پھر ایک بوڑھی عورت نے پوچھا کہ کیا وہ جنت میں جائے گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا:بوڑھی عورتیں جنت میں نہیں جائیں گی۔ وہ پریشان ہو گئی، پھر آپﷺ نے فرمایا:جنت میں سب جوان ہو کر جائیں گے۔ یوں آپ ﷺ نے اُس کا دل خوش کردیا۔

احمد: دادی جان! یہ تو بہت پیارا مزاح تھا!

گڑیا :کیا حضرت مسیح موعودؑ کا بھی کوئی واقعہ ہے؟

دادی جان : میرے ذہن میں ایک روایت آئی ہے۔ گڑیا بیٹا ریک سے حیاتِ قدسی تو مجھے پکڑائیں۔

دادی جان کتاب کھولتے ہوئے بولیں: حیاتِ قدسی حضرت مولانا غلام رسول راجیکی صاحبؓ کی کتاب ہے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ

سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃوالسلام سے میری پہلی ملاقات کے دنوں کا ذکر ہے کہ ایک دفعہ مفتی محمد صادق صاحب بھیروی حضور اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ایک انگریزی اخبار ترجمہ کرکے سنا رہے تھے۔اس میں حضرت مریم ؑکے متعلق کوئی ایسا لطیفہ لکھا ہوا تھا جسے سن کر حضور علیہ السلام بہت ہنسے۔میں نے اس وقت بچپن کی بے سمجھی کی وجہ سے اور غلط تصوف کے ضلالت آلود ماحول کی بناء پر خیال کیا کہ اتنی ہنسی شاید مقدس منصب کے منافی ہو۔رات میں جب اسی فکر میں سویا تو مجھے الہام ہوا فَتَبَسَّمَ ضَاحِکًا چنانچہ صبح اُٹھتے ہی میں نے اس الہام کی تعبیر بعض بزرگوں سے دریافت کی مگر کوئی تشفی نہ ہوئی آخر دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے دوبارہ راہ نمائی فرمائی کہ یہ اس خلش کا جواب ہے جو تیرے دل میں حضور علیہ السلام کے تبسم کے متعلق پیدا ہوئی تھی۔کیا تو نے قرآن مجید میں سلیمان نبی کے متعلق فَتَبَسَّمَ ضَاحِکًا نہیں پڑھا جب سلیمان نبی بھی تبسم اور ضحک فرما سکتے ہیں اور ان کے تبسم اور ضحک فرمانے کے باوجود انہیں نبی ہی تسلیم کیا جاتا ہے تو یہ امر شان نبوت کے منافی کس طرح ہوا۔اس پر میں سمجھ گیا کہ اس الہامی فقرہ سے مجھے ایک نئے علم اور نئی معرفت سے نوازا گیا ہے جس سے میں بالکل بے خبر تھا۔

گڑیا: جزاکِ اللہ دادی جان۔

محمود بولا: اور ہمارے پیارے حضور بھی بچوں سے پیار سے بات کرتے ہیں اور کبھی کبھی ہلکا سا مزاح بھی فرماتے ہیں، جس سے ہمیں بہت خوشی ہوتی ہے!

دادی جان نے سب بچوں کو پیار سے دیکھا اور کہا: جی ہاں لیکن آپ یہ بھی دیکھیں کہ وہ لطائف سبق آموز بھی ہوتے ہیں۔ اور حضور انور ایدہ اللہ اس کے بعد اس کے بیان کرنے کی وجہ بھی بیان فرماتے ہیں۔ تو بچویاد رکھو! ہنسنا اچھی بات ہے، مگر ہمیشہ سچائی، نرمی اور دوسروں کے احترام کے ساتھ ہونا چاہیے۔

محمود: ان شاء اللہ دادی جان۔ کیا آپ ہمیں کچھ اور لطائف سنادیں گی؟

دادی جان: کیوں نہیں بیٹا ۔ مجھے لطائف یاد نہیں ہیں۔ آپ بچوں کا الفضل پکڑائیں میں سناتی ہوں۔

احمد: محمود لیکن یاد رہے کہ ان لطائف پر تو یہ چیلنج ہے کہ ہنسنا منع ہے!

یہ سن کر سب مسکرا دیتے ہیں۔

(ابو الفارس محمود)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button