نظم

تری محبت میں میرے پیارے ہرا ک مصیبت اٹھائیں گے ہم

تری محبت میں میرے پیارے ہر اک مصیبت اٹھائیں گے ہم
مگر نہ چھوڑیں گے تجھ کو ہر گز نہ تیرے دَر پر سے جائیں گے ہم

تری محبت کے جرم میں ہاں جو پیس بھی ڈالے جائیں گے ہم
تو اس کو جانیں گے عین راحت نہ دل میں کچھ خیال لائیں گے ہم

سنیں گے ہر گز نہ غیر کی ہم نہ اُس کے دھوکے میں آئیں گے ہم
بس ایک تیرے حضور میں ہی سرِاطاعت جھکائیں گے ہم

جو کوئی ٹھوکر بھی مار لے گا تواُس کو سہہ لیں گے ہم خوشی سے
کہیں گے اپنی سزا یہی تھی زباں پہ شکوہ نہ لائیں گے ہم

ہمارے حالِ خراب پر گو ہنسی اُنہیں آج آ رہی ہے
مگر کسی دن تمام دنیا کو ساتھ اپنے رُلائیں گے ہم

(کلامِ محمود صفحہ 94)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button