جلسے کا ایک اَدب۔ قہقہوں سے پرہیز
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز جلسے کے آداب بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ’’فضول گفتگو سے اجتناب کریں ۔ باہمی گفتگو میں دھیماپن اور وقار قائم رکھیں ۔ تلخ گفتگو سے اجتناب کریں… آپس میں ایک دوسرے کے جذبات کا خیال رکھیں ، کسی بھی قسم کی تلخی پیدا نہیں ہونی چاہئے۔نہ مہمانوں کی آپس میں نہ مہمانوں اور میزبانوں کی، اور نہ میزبانوں کی آپس میں ۔ تو کسی بھی شکل میں کوئی تلخی نہ ہو۔ بلکہ ایک روحانی ماحول ہو جو ہر دیکھنے والے کو نظر آتاہو۔ اور پھر یہ ہے کہ بعض لوگ بلند آواز سے عادتاً تُوتُو مَیں مَیں کرکے باتیں کررہے ہوتے ہیں یا ٹولیوں کی صورت میں بیٹھ کر قہقہے لگارہے ہوتے ہیں ۔تو ان تین دنوں میں ان تمام چیزوں سے جس حد تک پرہیز کر سکتے ہیں کریں بلکہ مکمل طورپر پرہیز کرنے کی کوشش کریں ۔ویسے بھی یہ کوئی ایسی اچھی عادت نہیں ۔
دوسرے مختلف قسم کے لوگ یہاں آئے ہوئے ہوتے ہیں ۔بعض اونچا سننے والے ہیں ، بعض زبان نہ سمجھنے والے ہیں تو دیکھنے والا بعض دفعہ باتیں کررہاہوتاہے اور اُن کی طرف دیکھ کرہنس رہاہوتاہے جس سے بلاوجہ غلط فہمی پیدا ہوتی ہے تو ان چیزوں سے بچنا چاہئے، پرہیز کرنی چاہئے۔‘‘
(خطبہ جمعہ 18؍ جولائی 2003ء)
پھر فرمایا کہ ’’بازار والے بھی یاد رکھیں اور ہمیشہ کی طرح شعبہ تربیت بھی یاد رکھے کہ بازار جلسہ کے دوران بند رہنے چاہئیں اور کوئی کسی چیز کی تلاش میں ادھر ادھر نہ پھرے بلکہ جلسہ کے دوران جلسے کی کارروائی کو مکمل طور پر سنُے۔ پھر فضول گفتگو سے اجتناب کریں، یہ پہلے میں بتا چکا ہوں، آپس میں باتیں وقار سے کریں، نرمی سے کریں۔ پھر یہ کہ بعض دفعہ نوجوانوں کی ٹولیاں ہوتی ہیں جو ٹولیاں بنا کر بیٹھ جاتے ہیں اور پھر بڑی اونچی اونچی باتیں بھی ہو رہی ہوتی ہیں، قہقہے بھی لگ رہے ہوتے ہیں تو خاص طور پر ایسے حالات میں جب قریب ایسے لوگ بیٹھے ہوں جو آپ کی زبان نہ سمجھتے ہوں تو پھر بعض دفعہ بدمزگی کی صورت پیدا ہو جاتی ہے۔ اس لئے خیال رکھنا چاہئے۔‘‘
(خطبہ جمعہ 28؍ جولائی 2006ء)
