از مرکز

تازہ ترین:اپنی زندگی میں اللہ تعالیٰ سے قریبی تعلق پیدا کرنے کو ایک خاص امتیاز بنائیں (خلاصہ خطاب حضور برموقع تقریب تقسیم اسناد جامعہ احمدیہ یوکے ۲۰۲۶ء)

٭…آج آپ ایک بہت اہم ذمہ داری کے ساتھ میدان عمل میں آ رہے ہیں اور آنا چاہیے۔ اگر یہ سوچ یہ ارادہ اور اس کے لیے اپنی تمام تر استعدادوں کے ساتھ قربانی کا جذبہ نہیں تو آپ کامیدان عمل میں آنا کوئی حیثیت نہیں رکھتا

٭…آپ وہ لوگ ہیں جنہوں نے افراد جماعت کے سامنے ایک نمونہ بننا ہے۔ آپ وہ لوگ ہیں جن کو تربیتی اور تبلیغی میدان میں ایک ارتعاش پیدا کرنا ہے۔ اپنوں کی تربیت بھی کرنی ہے اور غیروں تک اسلام کی تعلیم کی خوبصورتی کو پہنچانا ہے۔ اس کے لیے اپنے آپ میں ایک جوش پیدا کریں۔ اس کے لیے ان معیاروں کو حاصل کرنے کی کوشش کریں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام اپنی جماعت کے افراد سے چاہتے ہیں

٭…اللہ تعالیٰ کی پناہ کے اس محفوظ قلعے میں آنے کے لیے تقویٰ اختیار کرنا ہوگا اور جب آپ اس محفوظ قلعہ میں آ جائیں گے تو پھر آپ کا ہر قول اور فعل اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق ہوگا اور آپ کا ہر عمل وہ بہتر نتائج پیدا کرے گا جو آپ کو تربیت میں بھی کامیابیاں عطا کرے گا اور تبلیغ کے میدان میں بھی آپ کو کامیابیاں عطا ہوںگی۔ پس اس طرف خاص طور پر بہت توجہ دینے کی ضرورت ہے

٭…تبلیغ کے میدان میں بھی یاد رکھیں کہ ہمیشہ دلائل کے علاوہ نرمی اور اعلیٰ اخلاق کا ہونا بھی ضروری ہے اور اس کا مظاہرہ ہونا چاہیے ۔اور پھر اس کے ساتھ دلائل کے ساتھ بات کرنی چاہیے۔ یہی ہمیں قرآن کریم کا حکم ہے یہی ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے۔ یہی ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے تعلیم دی ہے کہ ہمارے منہ سے کبھی ایسے الفاظ نہیں نکلنے چاہئیں جو کسی بھی رنگ میں سختی کا اظہار کرنے والے ہوں کیونکہ یہ بات کم ہمتی اور علم کی کمی پر دلالت کرتی ہے

٭…خدا تعالیٰ کی عبادت، قرآن کریم کے علم اور اس کی تلاوت میں اضافہ، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی کتب پڑھنے کی طرف توجہ، خلفاء کے ساتھ تعلق اور ان کے خطبات سننے کی طرف توجہ اور ان کے پیغام کو آگے پہنچانے کی طرف توجہ بہت ضروری ہے کیونکہ آپ خلیفہ وقت کے نمائندے بھی ہیں اور خلیفہ وقت کی نمائندگی کا حق ادا کرنا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ خطبات بھی سنیں اور اس پیغام کو آگے پہنچائیں

(جامعہ احمدیہ یوکے، ۲؍مئی ۲۰۲۶ء، نمائندگان الفضل انٹرنیشنل)امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز آج جامعہ احمدیہ یوکے میں رونق افروز ہوئے جہاں جامعہ احمدیہ یوکے، کینیڈا اور جرمنی کے ۲۰۲۵ء کے فارغ التحصیل ہونے والے مربیان کرام نے حضور پُرنور کے دست مبارک سے شاہد کی سند حاصل کرنے کی تاریخی سعادت پائی۔ علاوہ ازیں حضورِ انور نے جامعہ احمدیہ یوکے کے تعلیمی سال ۲۰۲۵/۲۰۲۴ء میں نمایاں پوزیشنز حاصل کرنے والے طلبہ کو امتیازی اسناد سے بھی نوازا۔ اس موقع پر  جامعہ احمدیہ انٹرنیشنل گھانا کے علاوہ پہلی مرتبہ جامعہ احمدیہ انڈونیشیا سے بھی رپورٹ اور وہاں سے فارغ التحصیل مربیان کرام کے اسماء بھی پڑھ کر سنائے گئے۔ اس طرح آج کی مبارک تقریب میں  چار بر اعظموں کے جامعات شامل تھے-فالحمد للہ علی ذالک- یاد رہے کہ جامعہ احمدیہ وہ بابرکت ادارہ ہے جس کی بنیاد سیدنا حضرت اقدس مسیح موعودؑ کے ہاتھوں حضرت مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹیؓ اور حضرت مولانا برہان الدین صاحب جہلمیؓ کی وفات کے بعد رکھی گئی تا کہ جماعت کو ہر آنے والے وقت میں خدمت دین بجالانے والے علماء میسّر ہوتے رہیں۔ چنانچہ آج کی تقریب اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ جس مشن کو حضرت اقدس مسیح موعودؑ نے جاری فرمایا خلافت احمدیہ کے زیر سایہ وہ پروان چڑھتا جا رہا ہے اور علمائے سلسلہ کے تیار کرنے کا سلسلہ ہر آن وسعت پذیر ہے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ جامعہ احمدیہ یوکے کی عمارت کے سامنے وسیع سبزہ زار میں اس تقریب کے لیے نصب کیے گئے شامیانے میں بارہ بج کر۴۳؍ منٹ پر رونق افروز ہوئے۔ کرسیٔ صدارت پر تشریف رکھنے کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے السلام علیکم ورحمۃ اللہ کا تحفہ پیش کیا۔ بعد ازاں تقریب کی کارروائی کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا جو ماہد احمد صاحب نے سورت ابراھیم کی آیات ۲۴ تا ۲۸ سے کی۔ متلوّ آیات کا ترجمہ از تفسیر صغیر خان فرید احمد صاحب نے پیش کیا۔ فارس نسیم صاحب نے حضرت اقدس مسیح موعودؑ کا منظوم کلام بعنوان ’مناجات اور تبلیغِ حق‘ میں سے منتخب اشعار پیش کیے جن کا آغاز درج ذیل شعر سے ہوا:

اَے خدا اَے کارساز و عیب پوش و کردگار

اَے مرے پیارے مرے محسن مرے پروردگار

بعد ازاں جامعہ احمدیہ انڈونیشیا اور گھانا کی طرف سے آن لائن جبکہ جامعہ احمدیہ کینیڈا، جرمنی اور یوکے کی طرف سے سٹیج پر آکر کارگزاری رپورٹس پیش کی گئیں۔ اس کے بعد شاہدین جامعہ احمدیہ کینیڈا، جرمنی اور یوکے کو حضور انور کے بابرکت ہاتھوں سے شاہد کی ڈگری، نیز تدریسی سال ۲۰۲۴-۲۵ء کی جامعہ یوکے کی باقی چھ کلاسوں میں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کو حضور انور سے اسناد عطا ہوئیں۔بعدہ ایک بج کر ۲۷؍منٹ پر حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ منبر پر تشریف لائے اور خطاب کا آغاز فرمایا۔

خلاصہ خطاب حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ

تشہد، تعوذ اور سورة فاتحہ کی تلاوت کے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

الحمدللہ! آج آپ جامعہ سے سات سالہ تعلیم مکمل کر کے میدانِ عمل میں آنے کے لیے تیار ہیں۔ یوکے، جرمنی، کینیڈا، انڈونیشیا اور گھانا کے جامعات سے آپ لوگ اس سوچ کے ساتھ میدان عمل میں آ رہے ہیں کہ ہم نے تربیت کے کام بھی کرنے ہیں اور تبلیغ کے کام بھی کرنے ہیں۔ اس سوچ کے ساتھ میدان عمل میں آ رہے ہیں کہ ہم زندگی وقف ہیں اور چوبیس گھنٹے جماعت کی خدمت کے لیے تیار ہیں۔ اگر یہ سوچ نہیں تو پھر آپ جماعت کی ترقی کے لیے اس طرح مفید وجود نہیں بن سکتے جس کی جماعت آپ سے توقع رکھتی ہے جس کی خلیفہ وقت آپ سے توقع رکھتا ہے اور جس کا آپ نے عہد کیا ہوا ہے۔ وہ عہد جو آپ نے خدا تعالیٰ سے کیا ہوا ہے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ پس

آج آپ ایک بہت اہم ذمہ داری کے ساتھ میدان عمل میں آ رہے ہیں اور آنا چاہیے۔ اگر یہ سوچ یہ ارادہ اور اس کے لیے اپنی تمام تر استعدادوں کے ساتھ قربانی کا جذبہ نہیں تو آپ کامیدان عمل میں آنا کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔

جماعت میں مربیان اور مبلغین کی ایک اَور کھیپ کا اضافہ ہوگا جو بے معنی ہے۔ مختلف جامعات کے پرنسپل صاحبان نے رپورٹس پیش کیں اور بڑی خوش کن رپورٹس تھیں۔ جو انہوں نے جامعہ میں آپ کی علمی اور روحانی اور عملی ترقی کے لیے کوشش کرنی تھی وہ کی۔

لیکن ہمیشہ یاد رکھیں کہ

ترقی کرنے والی قومیں اپنی کمزوریوں پہ بھی نظر رکھتی ہیں۔ اس لیے آپ لوگ یہی نہ سمجھ لیں کہ یہاں پرنسپل صاحبان نے آپ کی رپورٹ میں تعریف کر دی اور بہت کام ہو گیا بلکہ عملی طور پر جو جامعہ میں پڑھ رہے ہیں وہ بھی اور جو فارغ ہو رہے ہیں وہ بھی اور جو میدان عمل میں ہیں وہ بھی اس بات کا خیال رکھیں کہ ہم نے وہ معیار حاصل کرنے ہیں جو حقیقت میں ہمیں اس تعریف کا حقدار بھی بنائیں اور جو کوششیں ہم پر کی گئی ہیں اس کے نیک نتائج پیدا کرنے والے بھی بنیں۔

حضور انور نے فرمایا کہ گزشتہ کنووکیشنز میں مَیں نے دیکھا ہے کہ مختلف اوقات میں آپ لوگ ڈائریاں نکال کے لکھ رہے ہوتے ہیں۔ آج بھی آپ ڈائری میں نوٹ لے رہے ہوں گے لیکن اس لکھنے کا کیا فائدہ ہے؟ اگر یہ تحریر ڈائریوں میں ہی بند ہو جانی ہے اور ان پر اس جوش و خروش سے تمام عمر عمل نہیں ہونا جس جوش و خروش کا آج آپ اس وقت لکھتے وقت اظہار کر رہے ہیں اور جو جذبہ اس وقت آپ میں پیدا ہوا ہوگا۔

گزشتہ پندرہ بیس سال سے جب سے مختلف ممالک میں جامعات شروع ہوئے ہیں اگر ایک جذبے اور لگن سے کام کرنے کی نظّارے نظر آتے تو ایک واضح تبدیلی ہمیں ہر جگہ نظر آنی چاہیے تھی۔ لیکن بہت کم ایسے ہیں جن میں یہ جذبہ ہے۔ پس

آج میں آپ کو یہ بھی کہتا ہوں اور اس موقع پر میدان عمل میں جو مربیان ہیں ان سے بھی کہتا ہوں کہ مستقل اپنا جائزہ لیتے رہیں کہ جس عظیم مقصد کے لیے آپ نے اپنے آپ کو پیش کیا ہے کیا اس کے حصول کے لیے آپ نے اپنی تمام تر صلاحیتیں استعمال کی ہیں؟ اگر نہیں تو پھر یہ قابل فکر بات ہے۔ اگر کی ہیں تو الحمدللہ۔ اس کو مزید بہتر کرنے کی کوشش کریں۔

حضور انور نے فرمایا کہ دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا عہد تو ہر احمدی کا عہد ہے۔ ہر ایک احمدی یہ عہد دہراتا ہے اور آپ تو اس عہد کے سب سے اوّل مخاطب ہیں۔

آپ وہ لوگ ہیں جنہوں نے افراد جماعت کے سامنے ایک نمونہ بننا ہے۔ آپ وہ لوگ ہیں جن کو تربیتی اور تبلیغی میدان میں ایک ارتعاش پیدا کرنا ہے۔ اپنوں کی تربیت بھی کرنی ہے اور غیروں تک اسلام کی تعلیم کی خوبصورتی کو پہنچانا ہے۔ اس کے لیے اپنے آپ میں ایک جوش پیدا کریں۔ اس کے لیے ان معیاروں کو حاصل کرنے کی کوشش کریں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام اپنی جماعت کے افراد سے چاہتے ہیں۔

 مربی کے معیار تو اس سے بہت اونچے ہونے چاہئیں۔ تبھی آپ نمونہ بن سکتے ہیں۔ پس اپنا جائزہ لیتے رہیں کہ کیا خدا تعالیٰ سے محبت اس کی توحید کے قیام اور عبادات کی طرف توجہ کے لیے ہم بھرپور کوشش کر رہے ہیں؟ اس بارے میں قرآن اور حدیث اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کامطالعہ کرتے رہیں اور انتہائی باریکی سے اپنا جائزہ لیتے رہیں کہ ہماری عبادت کے کیا معیار ہیں۔ ہماری فرض نمازوں کے کیا معیار ہیں۔ نوافل اور ذکر الٰہی کے کیا معیار ہیں۔ تب ہی ہمارے کام میں برکت ہو گی اور دوسروں کو اس کا اثر بھی ہو گا۔

حضور انور نے فرمایا کہ

یہ بھی یاد رکھیں کہ کبھی اپنی کسی کامیابی یا علمی برتری کو یا کسی بھی ایسے کام کو جو آپ کو ممتاز کرنے والا ہو اپنی عقل، اپنے علم اور کسی صلاحیت پر محمول نہ کریں بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی عطا پر شکر ادا کریں کہ اس نے آپ کو یہ توفیق دی جس کی وجہ سے آپ اس قابل ہوئے کہ آپ جس مسئلے میں بھی ڈالے گئے تھے اسے صحیح طور پر پیش کر سکیں اور اس کا حل نکال سکیں۔

اگر ایسا نہیں تو یہ باتیں پھر تکبر پیدا کریں گی اور تکبر جیسا کہ آپ جانتے ہیں، سب نے پڑھا ہوا ہے، گہرائی میں جا کے پڑھا ہوگا کہ شرک کی طرح ہے۔ اور چاہےآپ کے یہ خیالات دل میں ہی پیدا ہوں بیشک ان کا اظہار نہ بھی ہو تب بھی یہ شرک خفی جو ہے یہ آہستہ آہستہ سارے دل پر قبضہ کر لیتا ہے اور اس کے لیے ایک مربی کو بہت زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔

پس باریکی سے اپنا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ متکبر ہرگز جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ اور آپ لوگ تو وہ ہیں جو لوگوں کو جنت کے راستے بتانے والے ہیں کجا یہ کہ آپ میں خود ایسی بات پیدا ہو جائے جو آپ کو اس سے دور ہٹانے والی ہو۔

حضور انور نے فرمایا کہ تقریروں میں آپ ہمیشہ یہ کہتے ہیں اور آئندہ بھی کہیں گے کہ تکبر اور شیطان کا گہرا تعلق ہے۔ لیکن اس سے پہلے خود اپنا جائزہ لینا ہوگا کہ ہم کہاں تک اس گناہ سے پاک ہیں۔ پس ہمیشہ یاد رکھیں کہ تکبر سے بچنا ہے چاہے ہلکا سا بھی تکبر ہو، کبھی دل میں تکبر پیدا نہ ہو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نظر میں یہ سخت مکروہ چیز ہے۔

اسی طرح نمازوں کی طرف توجہ ہونی چاہیے۔ جیسا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں۔ ہر مربی کا یہ کام ہے کہ وہ پانچوں وقت کی نماز بروقت ادا کرے اور جس سینٹر میں اسے مقرر کیا گیا ہے یا جس مسجد میں امامت دی گئی ہے وہاں پانچوں وقت نمازوں کے لیے مسجد کے دروازے کھلنے چاہئیں اور اذان دے کر مربی کو وہاں حاضر ہونا چاہیے۔ اور جو مربیان دفتروں میں کام کرنے والے ہیں خاص طور پر یہاں مرکزی دفاتر میں اور ہو سکتا ہے وہاں دوسرے ملکوں میں بھی جو دفتروں میں کام کرنے والے ہوں اور دفتر ان کے مسجد سے پیچھے ہوں۔ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ دفتری کام زیادہ اہم ہے اس لیے ہم دفتر میں ہی نماز پڑھ لیں۔ اگر باجماعت نماز بھی ہو رہی ہے تو امام کے پیچھے دفترمیں پڑھ لیں گے لیکن یہ غلط سوچ ہے۔ اس لیے

یہاں دفترمیں بیٹھنے والوں کو بھی چاہیے کہ بجائے اس کے کہ دفتر میں بھی بیٹھے رہیں مسجد میں جا کر نماز پڑھا کریں۔ یہ نہ دیکھا ہے کہ فلاں فلاں دفتر میں بیٹھ کر خطبہ سن رہا ہے تو ہم بھی دفتر میں بیٹھے رہیں بلکہ جمعہ کے اوقات میں بھی بعض دفعہ شکایتیں ملتی ہیں یہاں مرکزی دفاتر میں، جن کی دفتروں میں ڈیوٹی ہوتی ہے کہ وہ جمعہ کے وقت مسجد میں نہیں جاتے۔ جمعہ کے لیے بہرحال مسجد میں جانا ہے اور یہ بہت ضروری چیز ہے۔

حضور انور نے فرمایا کہ اسی طرح جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا کہ

تہجد کی نماز بہت ضروری ہے۔

ایک مربی جس کا اپنے کام کی کامیابی میں کلی انحصار اللہ تعالیٰ ہی پر ہے اور اس کی اپنی کوئی کوشش نہیں اسے تو نمازوں کی طرف بہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اسے نوافل کی طرف بھی بہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ پس ہر ایک کو نوافل اور نماز تہجد کا خاص اہتمام کرنا چاہیے اور اس کے علاوہ موقع ملے تو نوافل خاص طور پر بہت زیادہ کوشش سے ادا کرنے کی کوشش کریں۔

اسی طرح میں نے درود بھیجنے اور دعائیں کرنے کی تحریک کی تھی لیکن میں نے دیکھا ہے کہ اکثر اس کی باقاعدگی نہیں کرتے۔ باقاعدگی سے اس پر عمل نہیں کرتے۔ جو اس وقت میدان عمل میں ہیں ان میں بھی باقاعدگی نہیں ہے اور آپ جو جامعہ کے طلبہ ہیں آپ میں بھی باقاعدگی نہیں ہے۔

اب یہاں بیٹھے آپ عہد کریں، بیٹھے ہیں تو آپ یہ عہد کریں کہ آپ نے باقاعدگی سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے پر خاص توجہ دینی ہے اور اس میں مداومت اختیار کر نی ہے۔ اسی طرح میں نے استغفار کرنے کا کہا تھا اس میں بھی باقاعدگی اختیار کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کی حمد بھی کرنی چاہیے۔ جب یہ چیزیں آپ میں پیدا ہوں گی تبھی آپ انہیں آگے جماعت کے افراد میں بچا سکیں گے اور ان میں پیدا کر سکیں گے۔ ان باتوں کا خاص طور پر خیال رکھیں۔

حضور انور نے فرمایا کہ پھر قرآن کریم کامطالعہ ہے جس کی طرف بہت توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ بیشک اچھی رپورٹیں پیش کی گئی ہیں لیکن وہ توجہ جو دینی چاہیے تھی نہ آپ نے زمانہ طالب علمی میں دی اور نہ ہی بہت سے ایسے مربیان جو اس وقت میدان عمل میں ہیں وہ توجہ دیتے ہیں۔ لیکن

اب آپ یہ عہد کریں کہ آپ نے روزانہ قرآن کریم کی تلاوت کرنی ہے۔ ایک مربی کے لیے ایک آدھ رکوع پڑھنا کوئی کمال نہیں ہے۔ کم از کم آدھا پونہ سپارہ تو ضرور پڑھنا چاہیے۔ اور اگر ایک سپارہ نہیں تو ایک سپارے کے قریب قریب پڑھنا چاہیے۔ اور پھر اس کے مطالب پر غور کرنا چاہیے اس کی تفسیر پڑھنی چاہئے

تبھی آپ کو گہرائی میں جا کر ان احکامات کا پتہ لگے گا جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن کریم میں دی ہیں۔ اور جب آپ اس راہنما کتاب کو اپنے سامنے رکھیں گے تبھی آپ حقیقی طور پر اسلام کی تعلیم سے آگاہ ہو سکیں گے۔ تبھی لوگوں کی صحیح راہنمائی کر سکیں گے اور تبھی تبلیغ کا حق بھی ادا کر سکیں گے۔ اس کی اہمیت کے پیش نظر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے فرمایا تھا اور آپ نے بھی پڑھا ہوگا لیکن پڑھ کے بھول جانے سے کوئی فائدہ نہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ

قرآن شریف کو محجور کی طرح نہ چھوڑ دو کہ تمہاری اسی میں زندگی ہے۔

اب یقیناً ایک مربی سے یہ امید تو نہیں کی جاتی کہ وہ اسے محجور کی طرح چھوڑ دے گا لیکن یہ جو توجہ دینی چاہیے وہ اس طرح نہیں دی جاتی جو اس کا حق ہے۔ پس اس طرف بہت توجہ کی ضرورت ہے۔

پس اب فراغت کے بعد فیلڈ میں جانے کے بعد اور میدان عمل میں جانے کے بعد آپ نے قرآن کریم کی تعلیم پر بہت زیادہ توجہ دینی ہے۔ اس پر غور کرنا ہے اور اس کی تفاسیر پڑھنی ہیں تا کہ آپ کے علم میں زیادہ سے زیادہ اضافہ ہو اور یہی اضافہ آپ کو پھر میدان عمل میں بھی کامیابیاں عطا کرے گا۔

حضور انور نے فرمایا کہ

اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا مطالعہ ہے۔ یہ بھی بہت ضروری ہے۔

ایک مجلس میں جہاں لوگ ملنے آئے تھے مجھے۔ کینیڈا یاامریکہ سے ایک مربی صاحب تھے۔ ان کی ایک بات سن کے مجھے حیرت ہوئی۔ مجھے پتہ نہیں تھا کہ وہ مربی ہیں۔ جب میں ان سے پوچھا کہ آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتنی کتابیں پڑھی ہیں تو انہوں نے بتایا کہ ساٹھ کتابیں پڑھ لی ہیں۔ میں نے کہا بڑی اچھی بات ہے۔ میں نے پوچھا آپ کیا کرتے ہیں؟ تو پتہ لگا مربی ہیں۔ تو بہرحال بڑی اچھی بات ہے اگر ایک مربی صاحب نے ساٹھ کتابیں پڑھ لیں لیکن ایک مربی کی حیثیت سے تو آپ لوگوں کو تمام کتب پڑھنے کی کوشش کرنی چاہیے اور پڑھنی چاہئیں۔

بہرحال اس وقت یہاں بہت سارے مربیان ایسے ہیں جنہوں نے اگر پڑھی بھی ہیں تو چند کتابیں ہی پڑھی ہوں گی اور وہ بھی پوری طرح یاد نہیں رہتیں کیونکہ جب ان سے کوئی حوالہ پوچھا جاتا ہے تو ان کے لیے حوالہ دینا مشکل ہو جاتا ہے۔ پس اس طرف بہت توجہ کی ضرورت ہے کیونکہ اگر ہم یہ کریں گے تب ہی ہم مربی ہونے کا حق ادا کر سکیں گے۔

پھر جماعت میں محبت اور بھائی چارے کی تلقین کرنا یہ بھی بہت ضروری ہے۔

آپ میدان عمل میں جا رہے ہیں۔ آپ کو ایسی چیزوں سے واسطہ پڑے گا۔ ان تربیتی کاموں پر بھی آپ کو بہت محنت کرنے کی ضرورت ہے لیکن اس محنت کرنے سے پہلے خود اپنا جائزہ لیں کہ

کیا ہم میں یہ معیار ہے کہ ہم محبت اور بھائی چارے کو قائم رکھنے کے لیے ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہوں یا اپنی ذاتی انا، ذاتی خواہشات اور ذاتی مقاصد کی خاطر ان باتوں کو بھول جائیں۔

پھر یہ بھی جائزہ لیں کہ ہمارے اندر تقویٰ اور طہارت کس حد تک ہے؟

ایک مربی اور مبلغ کو تقویٰ کی باریکیوں کو تلاش کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اگر ایسا ہوگا تو تب ہی آپ کو کامیابیاں ملیں گی۔

جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے فرمایا ہے کہ تقویٰ اختیار کر کے ہی تم خدا تعالیٰ کی پناہ کے حصن حصین میں آ سکتے ہو۔

حضور انور نے فرمایا کہ پس

اللہ تعالیٰ کی پناہ کے اس محفوظ قلعے میں آنے کے لیے تقویٰ اختیار کرنا ہوگا اور جب آپ اس محفوظ قلعہ میں آ جائیں گے تو پھر آپ کا ہر قول اور فعل اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق ہوگا اور آپ کا ہر عمل وہ بہتر نتائج پیدا کرے گا جو آپ کو تربیت میں بھی کامیابیاں عطا کرے گا اور تبلیغ کے میدان میں بھی آپ کو کامیابیاں عطا ہوںگی۔ پس اس طرف خاص طور پر بہت توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

جب تقویٰ ہوگا تو آپ کی اخلاقی حالت بھی بہتر ہو گی اور جب اخلاقی حالت بہتر ہوگی تو آپ ان غلط قسم کے پروگراموں سے بچیں گے جو آج کل انٹرنیٹ یا ٹی وی پر آتے ہیں اور جن کی طرف بعض دفعہ توجہ پیدا ہو جاتی ہے اور مربیان بھی دیکھنے لگ جاتے ہیں۔ ایسے ناپسندیدہ پروگرام بعض دفعہ دیکھتے ہیں اور پھر دیکھتے چلے جاتے ہیں جس کی وجہ سے پھر ان کی بیوی بچوں کی طرف سے یا لوگوں کی طرف سے شکایات آتی ہیں۔ اگر معلومات کی حد تک ایک دفعہ کوئی پروگرام دیکھ لیا تو اس سے یہ تو پتہ لگ جاتا ہے کہ اس میں کتنی گندگی اور غلاظت ہے لیکن اس میں بالکل ڈوب جانا اور اپنی بیویوں اور رشتہ داروں یا جماعت کے افراد کو شکایت کا موقع دینا کہ مربی صاحب فلاں پروگرام دیکھتے ہیں یہ ایک ایسی چیز ہے جو آپ کے کام میں رکاوٹ پیدا کرے گی اور اس سے برکت بھی اٹھ جائے گی اور آپ کی بدنامی کا باعث بھی بنے گی۔

پس اس لحاظ سے بھی بہت ضروری ہے کہ آپ ان چیزوں سے بچیں۔ بعض دفعہ لوگوں کے دلوں میں شکوک پیدا ہو جاتے ہیں لیکن ایک مربی کو اس یقین پر ہمیشہ خود بھی قائم رہنا چاہیے اور جماعت کے افراد کو بھی قائم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ خدا تعالیٰ نے جو بشارتیں ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کو دی ہیں اور جو پیشگوئیاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہیں وہ انشاء اللہ ضرور پوری ہونی ہیں اور جماعت کا غلبہ ہونا ہے۔ پس اس کے لیے جیسا کہ میں نے پہلے کہا تھا اپنے دینی علم کو قرآن کریم کے ذریعہ سے بڑھانا حدیث کے ذریعہ سے بڑھانا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کے ذریعہ سے بڑھانا اور اس کے علاوہ خود بھی تحقیق کرنا بہت ضروری ہے اور اس ایمان پر قائم ہونا ضروری ہے کہ جماعت احمدیہ نے غالب آنا ہے انشاء اللہ۔ جب آپ کے اندر یہ یقین ہوگا تو پھر آپ جو ٹارگٹ مقرر کریں گے وہ بہت بلند اور اونچے ہوں گے کیونکہ آپ کے سامنے ایک بہت بڑا کام ہے جو آپ کے سپرد کیا گیا ہے۔ آپ کو اس کے لیے مقرر کیا گیا ہے کہ اس غلبے کے لیے تمہاری کوششیں بھی شامل ہونی چاہئیں۔ پس

اپنی علمی صلاحیتوں اور عملی کوششوں کے لحاظ سے اپنے آپ کو بہتر کرنے سے آپ کو وہ معیار حاصل ہوگا جس سے آپ اسلام اور احمدیت کاغلبہ بھی دیکھنے والے ہوں گے اور اس کی ترقی میں مددگار و معاون ثابت ہوں گے اور اس کا حصہ بنیں گے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ پھر

یہ بھی یاد رکھیں کہ قبولیت دعا کے لیے ضروری ہے کہ انسان تقویٰ پر چلنے والا ہو۔

آپ نے جامعہ میں پرانے بزرگوں کے واقعات بھی پڑھے ہیں۔ پرانے اولیاء اللہ کے واقعات بھی پڑھے۔ آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی قبولیت دعا کے واقعات بھی پڑھے ہیں۔ حدیثوں میں بھی آپ نے واقعات پڑھے ہیں۔ آج کل جو خطبات میں دے رہا ہوں ان میں بھی آپ نے سنے ہوں گے اور قرآن کریم میں بھی پڑھا ہوگا۔ آخر یہ سب کچھ آپ پڑھ کے ہی نکلے ہیں جامعہ سے۔ لیکن

ان واقعات کے پڑھنے اور سننے کا فائدہ تبھی ہے جب آپ خود بھی تقویٰ کے ان معیاروں کو حاصل کریں جہاں آپ کا اللہ تعالیٰ سے ایک براہ راست تعلق پیدا ہو اور پھر آپ خود بھی قبولیت دعا کے نظارے دیکھنے والے ہوں۔ اس بارے میں ہر مربی کو کوشش کرنی چاہئے۔

پھر

یہ بھی یاد رکھیں کہ اگر آپ کے اعلیٰ اخلاق ہیں، آپ کا علمی معیار اونچا ہے پھر آپ کو کسی مخالف سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ آپ میں اس چیز سے ایک ہمت اور دلیری پیدا ہو گی۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہمارے بہت سے مربیان ہیں جن کا علمی معیار بھی اچھا ہے اور وہ مخالفین سے بحث کر کے ان کے منہ بند کر دیتے ہیں۔ لیکن

تبلیغ کے میدان میں بھی یاد رکھیں کہ ہمیشہ دلائل کے علاوہ نرمی اور اعلیٰ اخلاق کا ہونا بھی ضروری ہے اور اس کا مظاہرہ ہونا چاہیے ۔اور پھر اس کے ساتھ دلائل کے ساتھ بات کرنی چاہیے۔ یہی ہمیں قرآن کریم کا حکم ہے یہی ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے۔ یہی ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے تعلیم دی ہے کہ ہمارے منہ سے کبھی ایسے الفاظ نہیں نکلنے چاہئیں جو کسی بھی رنگ میں سختی کا اظہار کرنے والے ہوں کیونکہ یہ بات کم ہمتی اور علم کی کمی پر دلالت کرتی ہے ۔

پس

اعلیٰ اخلاق کا معیار ہر ایک مربی کی سب سے اعلیٰ صفت ہونی چاہیے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ پھر یہ بھی یاد رکھیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس طرف بھی بار بار توجہ دلائی ہے کہ احمدیوں کو عملی نمونہ دکھانا چاہیے جیسے کہ پہلے بھی میں کہہ چکا ہوں کیونکہ عملی نمونہ ہی ہے جس سے لوگوں میں توجہ پیدا ہوتی ہے اور

ایک مربی کے عملی نمونہ کا معیار بہت بلند ہونا چاہیے۔

گو یہ باتیں ہیں جو میں کر رہا ہوں ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہیں اور نظر یہی آتا ہے کہ بار بار دہرا رہا ہوں لیکن ان کی بہت ضرورت ہے۔ اس پر خاص توجہ کی ضرورت ہے کیونکہ

عملی نمونہ ایک انقلاب اور لوگوں میں تبدیلیاں پیدا کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

آج کل جو میں خطبات دے رہا ہوں ان میں بھی میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کا ایک اقتباس سنایا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عملی نمونے کی وجہ سے ہی جو آپ کے قریب رہنے والے لوگ تھے آپ سے متاثر ہوئے۔ بلکہ یہی وہ عملی نمونہ تھا جس کی وجہ سے ان لوگوں کے دلوں پر ایک خاص اثر ہوا۔ آپ کی سچائی ان پر ظاہر ہوئی اور انہوں نے اس سچائی کو دیکھ کر آپ کو قبول کیا۔

پس

ایک مربی میں سچائی کے بھی اعلیٰ ترین معیار ہونے چاہئیں تاکہ کبھی یہ شکوہ نہ ہو کہ اس نے غلط طور پر گواہی دی یا غلط طور پر ہم سے بات کی۔

دفعہ میدان عمل میں آنے والوں کی شکایت ہوتی ہیں کہ مربی صاحب نے فلاں کی حمایت کر دی۔ اگر تقویٰ پر چلتے ہوئے حمایت کی ہے تو اللہ تعالیٰ کو اس کا علم ہے اور اگر کسی غلط تعلق کی وجہ سے کسی ذاتی تعلق کی وجہ سے حمایت کی ہے تو وہ غلط ہے اور اس کی اصلاح ہونی چاہیے۔ آپ لوگوں کو بھی اپنی عملی زندگی میں اس بات کا ہمیشہ خیال رکھنا چاہیے۔ اسی طرح یہ بھی یاد رکھیں کہ آپ لوگ تقریروں میں تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کے اقتباسات کا حوالہ دیتے ہیں کہ اپنے اندر صحابہؓ کا سا جوش پیدا کرو اور اسلام کے لیے وہ حمیت اور غیرت پیدا کرو اور اگر یہ نہیں کرو گے تو اس وقت تک تم اپنے آپ کو ایسا نہ سمجھو کہ ہم دنیا کی اصلاح کر سکتے ہیں یا دنیا کے لیے مفید وجود بن سکتے ہیں۔ یہ توقع تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک عام احمدی سے رکھی ہے کہ تم بھی ایسے بنو لیکن ایک مربی کو تو اس طرف خاص طور پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ اسے ایک جوش پیدا کرنا پڑے گا جیسا کہ میں نے شروع میں کہا تھا۔ اگر یہ جوش ہر ایک میں پیدا ہوتا تو اب تک پندرہ بیس سال سے جتنی بھی کھیپیں نکلی ہیں ایک انقلاب پیدا ہو سکتا تھا لیکن وہ جوش ہمیں نظر نہیں آتا۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ پس

ہر مربی کو ایک جوش پیدا کرنا پڑے گا اور وہ جوش اسی وقت ہوگا جب خدا تعالیٰ سے ایک خاص تعلق پیدا ہوگا۔ اس لیے یہ بنیادی چیز پھر وہیں آ کر ختم ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے خاص تعلق پیدا کریں۔ دنیاوی چیزوں کو بھول جائیں۔ آپ کے دلوں میں اسلام کی خاطر غیرت ہو۔ جب تک یہ چیز پیدا نہیں ہوتی اس وقت تک یہ نہ سمجھیں کہ آپ کو اپنی ہلکی پھلکی کوششوں سے کامیابیاں مل سکتی ہیں کیونکہ پھر کامیابیاں نہیں مل سکتیں۔

پس یہ چند باتیں ہیں جو آپ سے میں کرنا چاہتا ہوں ان کو ہمیشہ یاد رکھیں۔

خدا تعالیٰ کی عبادت، قرآن کریم کے علم اور اس کی تلاوت میں اضافہ، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی کتب پڑھنے کی طرف توجہ، خلفاء کے ساتھ تعلق اور ان کے خطبات سننے کی طرف توجہ اور ان کے پیغام کو آگے پہنچانے کی طرف توجہ بہت ضروری ہے کیونکہ آپ خلیفہ وقت کے نمائندے بھی ہیں اور خلیفہ وقت کی نمائندگی کا حق ادا کرنا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ خطبات بھی سنیں اور اس پیغام کو آگے پہنچائیں۔

ان خطبات میں آج کل میں بعض دفعہ تاریخی اور بعض دفعہ سیرت کی باتیں بیان کر رہا ہوں تو آپ نے ان میں سے ہی نکات نکال کر آگے جماعتوں تک پہنچانے ہیں اور اسی سے مزید تربیتی پہلو بھی نکالنے ہیں۔بعض کامیاب مربیان اور مبلغین ان میں سے نکات نکالتے ہیں اور پھر آگے جماعت تک پہنچاتے ہیں جس کا جماعت کو فائدہ بھی ہوتا ہے۔

پھر

جماعت میں محبت اور اخوت پیدا کرنے کے لیے خاص کوشش کریں۔ کوشش یہ ہونی چاہیے کہ ہر جماعت کا فرد ایک بھائی اور قریبی عزیز کی حیثیت سے ایک دوسرے کا حق ادا کرنے والا ہو اور جماعت میں کوئی ایسا شخص نہ ہو جو کسی کا حق غصب کرنے والا ہو۔

اگر مربیان یہ باتیں سامنے رکھیں اور وقتاً فوقتاً اس کی تلقین کرتے رہیں اور لوگوں میں یہ احساس دلائیں کہ مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں اور ہم نے ایک ہو کر رہنا ہے جو جماعت کی ترقی کے لیے ضروری ہے تو پھر انشاء اللہ تعالیٰ جماعت کے اندر تربیت کا معیار بہت اونچا ہو گا اور بہت سے ایسے جھگڑے جو آج کل بڑھنا شروع ہو گئے ہیں وہ بھی ختم ہو جائیں گے۔

میدانِ عمل میں جا کر آپ کو بہت سی چیزوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس لیے ذہنی طور پر تیار رہیں کہ آپ کو ان مسائل سے گزرنا ہوگا اور ان کے حل کے لیے آپ نے کیا لائحہ عمل بنانا ہے اس کی طرف بھی توجہ دینی ہوگی۔ سات سال کی تربیت میں آپ کو بنیادی طور پر یہ عادت ڈال دی گئی ہے کہ آپ قرآن پڑھیں اور اس پر غور کریں۔ یہ عادت ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے۔ حدیث پڑھیں اور اس پر غور کریں۔ کلام پڑھیں اور اس پر غور کریں۔ اور اسی طرح خطبات بھی سنیں اور ان پر غور کریں۔ اس کے علاوہ اپنے دینی اور دنیاوی علم کو بھی بڑھائیں۔ یہ صلاحیت بھی آپ میں ہونی چاہیے تاکہ کسی موقع پر اگر آپ کو دنیا داروں کے سامنے اسلام کی برتری ثابت کرنی ہو تو وہاں آپ کو تاریخ اور موجودہ حالات کا بھی علم ہو تاکہ آپ ثابت کر سکیں کہ اسلام کی تعلیم کی طرف توجہ دینا ہی ان مسائل کا اصل حل ہے جن میں آج تم لوگ گرفتار ہو۔ اس لیے اس سے پھر آپ کے لیے تبلیغ کے نئے نئےراستے کھلیں گے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ

اسی طرح بعض مخالفین اور معاندین جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کے خلاف اعتراض کرتے ہیں ان کے جوابات بھی آپ کو تیار رکھنے چاہئیں۔ گویا آپ نے ہر میدان میں آگے بڑھنے کی کوشش کرنی ہے۔ تربیت کے میدان میں بھی اور تبلیغ کے میدان میں بھی آپ نے تربیت کے پہلوؤں کو بھی سامنے رکھنا ہے اور تبلیغ کے میدان کے مختلف پہلوؤں کو بھی سامنے رکھنا ہے۔

مسلمانوں کو تبلیغ کس طرح کرنی ہے۔ دہریوں کو تبلیغ کس طرح کرنی ہے۔ عیسائیوں کو تبلیغ کس طرح کرنی ہے۔ اور جو انتہائی مخالف ہیں ان کو تبلیغ کس طرح کرنی ہے۔ یہودیوں کوتبلیغ کس طرح کرنی ہے۔ دلائل سے ان کے منہ کس طرح بند کرنے ہیں اور انہیں لاجواب کرنا ہے اور دنیا میں اسلام کی برتری کو کیسے ثابت کرنا ہے۔ ان سب باتوں کو آپ نے اپنے سامنے رکھنا ہے۔

پس جب آپ یہ باتیں اپنے سامنے رکھیں گے تبھی آپ ایک کامیاب مربی اور مبلغ بن سکتے ہیں اور تبھی یہ کہا جا سکے گا کہ ہاں! آج جامعہ سے فارغ التحصیل ہونے والی کلاس کے مربیان نے حقیقت میں ایک مربی اور مبلغ ہونے کا حق ادا کر دیا ہے۔ اور جیسا کہ میں نے شروع میں کہا تھا

پھر میں کہتا ہوں کہ اس کے لیے ضروری ہے کہ اپنی زندگی میں اللہ تعالیٰ سے قریبی تعلق پیدا کرنے کو ایک خاص امتیاز بنائیں اور اس کے لیے تہجد کی طرف بھی خاص توجہ کریں تاکہ اللہ تعالیٰ آپ کی دعائیں بھی سنے اور ان دعاؤں کے نتیجے میں آپ کو کامیابیاں بھی عطا فرمائے۔

جب آپ یہ چیزیں حاصل کر لیں گے تو انشاء اللہ تعالیٰ ہم کہہ سکیں گے کہ آج جامعہ سے پاس ہونے والے یہ طلبہ حقیقت میں وہ مربی اور مبلغ بن کر نکل رہے ہیں جو جماعت کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہیں اور کارآمد وجود ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔ دعا کر لیں۔

حضور انور کا خطاب دو بج کر ایک منٹ تک جاری رہا جس کے بعد حضورِ انور نے دعا اجتماعی دعا کروائی۔

تصاویر

دعا کے بعد تقریب میں شرکت کرنے والے مہمان کرام نماز کی ادائیگی کے لیے جامعہ کی عمارت میں نماز کے لیے مختص مقامات میں چلے گئے جبکہ مارکی میں حضور انور کے ساتھ درج ذیل گروپس کی تصاویر ہوئی:

فارغ التحصیل جامعہ احمدیہ کینیڈا، فارغ التحصیل جامعہ احمدیہ جرمنی، فارغ التحصیل جامعہ احمدیہ یوکے، طلبہ جامعہ احمدیہ یوکے (ساتوں کلاسس کی الگ تصاویر ہوئیں)، کارکنان جامعہ احمدیہ یوکے، اساتذہ جامعہ احمدیہ یوکے اور اجتماعی تصویر طلبہ، اساتذہ و کارکنان جامعہ احمدیہ یوکے۔

بعد ازاں حضورِ انور کچھ دیر کے لیے سٹون ہاؤس تشریف لے گئے۔ اس کے بعد دو بج کر ۴۰؍منٹ پر حضورِ انور جامعہ کے اسمبلی ہال میں تشریف لائے جہاں نماز ظہر و عصر جمع کر کے پڑھائیں۔ نماز کے بعد حضورِ انور دوبارہ مارکی میں تشریف لا گئے جہاں تمام مہامانان کو حضورِ انور کی معیت میں ظہرانے میں شرکت کرنے کا اعزاز حاصل ہوا۔

ظہرانے کے بعد حضور انور ایدہ اللہ مکرم ظہیر احمد خان صاحب (مربی سلسلہ و استاد جامعہ احمدیہ یوکے) کے لیے جامعہ کے احاطے میں تعمیر کی جانے والی رہائش گاہ کا معائنہ فرمانے کے بعد اسلام آباد کے لیے روانہ ہو گئے۔

رپورٹ جامعہ احمدیہ انڈونیشیا

از سید طہٰ انور صاحب پرنسپل جامعہ احمدیہ انڈونیشیا

جامعہ احمدیہ انڈونیشیا میں حضور انور ایدکم اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی منظوری سے سال ۲۰۱۸ء میں انٹرنیشنل جامعہ سلیبس اور شاہد کلاس کا با قاعدہ آغاز کیا گیا۔

جامعہ سے شاہدین کا پہلا بیج ۲۰۲۰ء میں فارغ التحصیل ہو کر میدانِ عمل میں آیا۔ اب تک کل ۳۷؍ مبلغین جامعہ احمدیہ انڈونیشیا سے فارغ التحصیل ہو کر میدانِ عمل میں آچکے ہیں۔ اس وقت جامعہ میں کل ۱۰۴؍طلبہ زیر تعلیم ہیں اور  ۲۰؍اساتذہ خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔ آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے آٹھ طلبہ شاہد کی ڈگری حاصل کریں گے۔

جامعہ کے تعلیمی سال کا کیلنڈر حضور انور ایدکم اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی ہدایات کی روشنی میں تیار کیا جاتا ہے۔ دوران سال مختلف تعلیمی اور ورزشی پروگرام اس کیلنڈر کے مطابق منعقد کیے گئے۔ چار روزہ علمی ریلی اور چار روزہ سپورٹس ریلی کا انعقاد ہوا جس میں طلبہ نے اپنے اپنے گروپس میں مقابلوں میں حصہ لیا۔ حضور انور ایدکم اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی ہدایت کی روشنی میں طلبہ کے دنیاوی علوم میں اضافے کے لیے بھی مختلف علوم کے ماہرین کے لیکچرز کا بھی انتظام کیا گیا۔

حضور انور کی ہدایت اور ارشاد کے مطابق اساتذہ طلبہ کے علمی معیار کے ساتھ ساتھ ان کے دینی، اخلاقی و روحانی معیار اور وقف کی روح پیدا کرنے کی طرف بھی خصوصی توجہ دیتے ہیں۔

جامعہ کے زیر نگرانی مدرستہ الحفظ بھی قائم ہے۔ وہاں سے اب تک کل ۱۶؍حفاظ فارغ ہو چکے ہیں۔

امسال فارغ التحصیل ہونے والے آٹھ طلبہ کے نام درج ذیل ہیں:

۱۔ مکرم عدنان ارسال احمد صاحب، ۲۔ مکرم آرگامولانا احمدی پُترا صاحب، ۳۔ مکرم بنتانگ نظم الدین راشد صاحب، ۴۔مکرم فارق نور جامق صاحب، ۵۔ مکرم فضل محمد طلحہ صاحب، ۶۔ مکرم حبیب الرحمٰن صاحب، ۷۔ مکرم حافظ قدرت اللہ صاحب، ۸۔ مکرم راحس فضل احمد صاحب

حضور انور ایدکم اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے خطاب اور دعا کے بعد انشاء اللہ العزیز امیر جماعت انڈونیشیا زکی فردوس صاحب فارغ التحصیل طلبہ میں اسناد تقسیم کریں گے۔

حضور انور اید کم اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں دعا کی درخواست ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو احسن رنگ میں حضور انور کی ہدایات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

رپورٹ جامعہ احمدیہ انٹرنیشنل گھانا

از فرید احمد نوید صاحب پرنسپل جامعہ احمدیہ انٹرنیشنل گھانا

اللہ تعالیٰ کے خاص فضل واحسان سے حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدکم اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے اس بابرکت دورخلافت میں دنیا بھر کے مختلف ممالک میں جامعہ احمدیہ کی بہت سی شاخیں قائم ہوئی ہیں جن میں سے ایک جامعہ احمدیہ انٹرنیشنل بھی ہے جو ۲۰۱۲ء میں گھانا میں قائم ہوا تھا اور آج اس کی ۱۰ویں سالانہ تقریب تقسیم اسناد کے لیے ہم سب یہاں مسرور ہال جامعہ احمدیہ میں موجود ہیں۔ الحمد للہ

سیدی! اس سال دس ممالک سے تعلق رکھنے والے ۴۵؍طلبہ فارغ التحصیل ہو رہے ہیں۔ اس موجودہ کلاس کو شامل کرکے اللہ تعالیٰ کے فضل سے جامعہ کی اس شاخ سے اب تک ۲۸؍ممالک کے ۲۴۱؍طلبہ شاہد کی ڈگری لے کرفارغ التحصیل ہو چکے ہیں جبکہ اس وقت اللہ تعالیٰ کے فضل سے ۳۶؍ممالک کے ۲۵۹؍ طلبہ جامعہ احمدیہ میں زیر تعلیم ہیں۔ ان ممالک کے نام حروف تہجی کی ترتیب کے اعتبار سے پیش ہیں۔

1.Afghanistan, 2. Argentina, 3. Australia, 4. Benin, 5. Burkina Faso, 6. Cameroon, 7. Canada, 8. Central African Republic, 9. Congo Brazzaville, 10. Congo Kinshasa, 11. Côte d’Ivoire, 12. Egypt, 13. Ghana, 14. Guinea-Bissau, 15. Kenya, 16. Liberia,17. Madagascar, 18. Malaysia, 19. Mali, 20. Mauritius, 21. Niger, 22. Nigeria, 23. Pakistan, 24. Philippines, 25. Rodrigues Island, 26. Rwanda, 27. Senegal, 28. Sierra Leone, 29. South Africa, 30. Sri Lanka, 31. Tanzania, 32. The Gambia, 33. Uganda, 34. USA, 35. Zambia, 36. Zimbabwe.

 سیدی! ان ممالک کے علاوہ Kyrgyzstan, Kazakhstan, Jordan, Indonesia, Togo, Gabon, Guinea Conakry کے طلبہ بھی قبل ازیں جامعہ سےشاہد کی ڈگری لیکرفارغ التحصیل ہو چکے ہیں اس طرح اللہ تعالیٰ کے فضل سے سب تک کل ۴۵؍ممالک کے طلبہ اس جامعہ سے استفادہ کرچکے ہیں یا کر رہے ہیں۔ فالحمدللہ علی ذلک۔

سیدی! آج فارغ التحصیل ہونے والی کلاس کےتمام طلبہ کو اس پر وقار تقریب میں حضور انور کے خطاب اور اختتامی دعا کے بعد قائم مقام امیر صاحب جماعت احمدیہ گھانا شاہد کی ڈگری اور میڈلز دیں گے۔ ان شاء اللہ

آج کی اس تقریب میں مرکزی مجلسِ عاملہ جماعت احمدیہ گھانا کے بعض ممبران، ریجنل مشنریز، ذیلی تنظیموں کے نمائندگان، انگلستان سے آئے ہوئے خدام پر مشتمل ایک وفد اور دیگر عمائدین ملک شامل ہیں۔

سیدی! جو طلبہ فارغ التحصیل ہورہے ہیں حضور کی اجازت سے ان کے اسماء ملک وار خاکسار پیش کردیتا ہے۔ امسال فارغ التحصیل ہونے والی کلاس میں

گھانا سے : ۱۔ جبریل علی، ۲۔ عثمان صادق، ۳۔ حافظ یوسف فزاکر، ۴۔ ابراہیم نکرومہ، ۵۔ متین بوادی، ۶۔ ابراہیم عیسیٰ، ۷۔ عبدالشکور، ۸۔ مصطفیٰ دازی، ۹۔ عبدالحکیم، ۱۰۔ حافظ الحسن بشیر، ۱۱۔ الحسن عیسیٰ، ۱۲۔ عیسیٰ بن اسحاق، ۱۳۔ سعید خالد، ۱۴۔ اسماعیل ایکنز، ۱۵۔ فرید کومسن، ۱۶۔ فضیل محمد، ۱۷۔ مظفر احمد، ۱۸۔ صادق انساح، ۱۹۔ ابراہیم رانسفورڈ، ۲۰۔ بشیرالدین بن جعفر، ۲۱۔ عباس سعید، ۲۲۔ عبداللطیف

نائجیریا سے: ۲۳۔ حافظ حبیب اللہ، ۲۴۔ عبدالباقی، ۲۵۔ حافظ ابراہیم، ۲۶۔ عبدالفتاح، ۲۷۔ مصطفیٰ مبارک، ۲۸۔ عبدالرحیم، ۲۹۔ حافظ عبد الاول

دی گیمبیا سے: ۳۰۔ محمد جاوو، ۳۱۔ حافظ عمر کِنٹے، ۳۲۔ ابراہیم جالو، ۳۳۔ ابوبکر باہ، ۳۴۔ الفا جالو، ۳۵۔ اسماعیل کلے، ۳۶۔ ابوبکر سیسے

یوگنڈا: ۳۷۔ اقبال وامبی، ۳۸۔ عبدالوحید۔ تنزانیہ: ۳۹۔ موسیٰ سعید، ۴۰۔ خالد بلال۔ لائبیریا: ۴۱۔ عبدالحیّ۔ سیرالیون: ۴۲۔ محمود باہ۔ ماریشس: ۴۳۔ توحید احمد۔ روانڈا: ۴۴۔ عیدی سعیدی۔ کینیڈا: ۴۵۔ فاتح عالم

حضور کی خدمت میں دعا کی عاجزانہ درخواست ہے کہ اللہ تعالیٰ ان تمام فارغ التحصصیل ہونے والے طلبہ کو بھی اور ہم سب کو بھی خلافت کا جاں نثار اور وفا دار بنائے رکھے۔ اور دین کی مقبول خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔ جزاکم اللہ سیدی

رپورٹ جامعہ احمدیہ کینیڈا

از مختار چیمہ صاحب وائس پرنسپل جامعہ احمدیہ کینیڈا

محض اللہ تعالیٰ کے فضل اور حضور انور ایدکم اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی مسلسل راہنمائی کے طفیل جامعہ احمدیہ کینیڈا انٹرنیشنل سے اب تک ۱۷۵؍مبلغین ومربیان فارغ التحصیل ہو کر میدانِ عمل میں خدمات بجا لا رہے ہیں۔ الحمد للہ علیٰ ذالک

سیّدی! اس وقت جامعہ میں کینیڈا اور امریکہ کے علاوہ ۸ دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے کل ۱۰۳؍طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔ (ان دیگر ممالک میں آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جاپان، انڈونیشیا، ٹرینیڈاڈ، ماریشس، فلسطین اور اُردن شامل ہیں)

سیّدی! حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کے قائم کردہ اس مقدس ادارہ کی آبیاری حضور انور ایدکم اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی طرف سے مستقل ملنے والی ہدایات اور راہنمائی کے مطابق کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ طلبہ کو مختلف مضامین پڑھانے کے ساتھ ساتھ ان کی روحانی، علمی اور اخلاقی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کی غرض سے دوران سال مختلف پروگرام تشکیل دیے جاتے ہیں۔ چنانچہ معمول کی تدریس کے علاوہ جامعہ میں قائم چار گروپس کے مابین علمی و ورزشی مقابلہ جات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔

مختلف علوم کے ماہرین اور بزرگانِ سلسلہ کو جامعہ میں بغرض لیکچر مدعو کیا جاتا ہے، عربی اور اردو کے لینگوئج کیمپس (Language Camps) کا اہتمام کیا جاتا ہے، طلبہ کو مذہبی اور تاریخی مقامات کا مطالعاتی دورہ کروایا جاتا ہے، طلبہ کو وقف عارضی پر بھجوایا جاتا ہے۔

طلبہ اہم جماعتی مواقع پر ڈیوٹیاں سر انجام پانے کی توفیق پاتے ہیں۔ درجہ سادسہ کے طلبہ رمضان میں اعتکاف بیٹھنے کی توفیق پاتے ہیں۔ اسی طرح عملی ٹریننگ کے طور پر کھانا پکانے، گاڑی کی دیکھ بھال اورمرمّت اور تجہیزو تکفین جیسے امور کی عملی مشق کرنے کی توفیق پاتے ہیں۔

سیّدی! جامعہ احمدیہ کی زیر نگرانی ’حفظ القرآن سکول‘ کامیابی سے کام کررہا ہے جہاں سے اب تک اللہ تعالیٰ کے فضل سے کل ۷۵؍بچے قرآن کریم مکمل حفظ کر چکے ہیں اور اس وقت۲۵؍بچے زیر تعلیم ہیں۔

پیارے آقا کی خدمتِ اقدس میں عاجزانہ دعا کی درخواست ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی ذمہ داریاں حضور انور ایدکم اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خواہش اور منشاء کے مطابق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

سیّدی! اب گذشتہ سال جامعہ احمدیہ کینیڈا سے فارغ التحصیل ہونے والے ۱۸؍ مبلغین و مربیان اپنے پیارے آقا کے دستِ مبارک سے شاہد کی اسناد لینے کی سعادت پائیں گے۔ الحمد للہ علیٰ ذالک

رپورٹ جامعہ احمدیہ جرمنی

از شمشاد احمد قمر صاحب پرنسپل جامعہ احمدیہ جرمنی

سیدی! جامعہ احمدیہ جرمنی کی سال ۲۰۲۴ء/۲۰۲۵ء کی مختصر کارگزاری رپورٹ حضور انور کی خدمت میں پیش ہے۔

الحمدللہ کہ آج جامعہ احمدیہ جرمنی کی گیارھویں کلاس اپنی تعلیم مکمل کر کے اپنے پیارے آقا کے دستِ مبارک سے اسناد حاصل کرنے کی سعادت پا رہی ہے، اس کلاس میں کل ۱۸؍مربیان ہیں جن میں ۱۳؍وقفِ نو کی بابرکت تحریک میں شامل ہیں اور اس طرح جامعہ احمدیہ جرمنی اب تک ۱۵۶؍پھل اپنے پیارے آقا کی خدمت میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کر چکا ہے۔ الحمد للہ علیٰ ذالک

پیارے آقا دورانِ سال مقررہ نصاب کی تدریس کے ساتھ ساتھ طلبہ کی علمی و جسمانی استعداد کو بڑھانے کے لیے جامعہ میں قائم مجلسِ علمی اور مجلس العاب کے تحت انفرادی اور اجتماعی سطح پر علمی و ورزشی مقابلہ جات کروائے جاتے رہے۔ ۱۳؍کلو میٹر پیدل سفر اور ہائکنگ کا انتظام کیا گیا۔ جماعتی سطح پر ہونے والے مختلف مقابلہ جات میں بھی جامعہ کی ٹیمیں حصہ لیتی رہیں۔ مجلسِ ارشاد کے تحت مختلف موضوعات پر سیمینارز اور دیگر پروگرام منعقد کروائے گئے نیز مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے علماء و ماہرین کے معلوماتی لیکچرز کا انتظام کیا گیا۔ دورانِ سال طلبہ کو براہِ راست معلومات حاصل کرنے کے لیے مختلف مذاہب کے سینٹرز کا دورہ کروایا گیا جن میں یہودیوں اور عیسائیوں کی عبادت گاہیں اور سینٹرز شامل ہیں، اسی طرح مختلف سکولوں اور دیگر اداروں کے طلبہ اور اساتذہ اور دیگر احباب اسلام اور احمدیت کے تعارف کے لیے جامعہ احمدیہ میں تشریف لاتے رہے۔ نیز واقفین اور واقفاتِ نو کے وفود بھی جامعہ میں تشریف لاتے رہے۔ طلبہ کو وقتاً فوقتاً تبلیغی امور سر انجام دینے کا بھی موقع ملتا رہا۔ اوپن ڈے کے موقع پہ شعبہ تبلیغ کے تحت ملک کے مختلف سینٹرز میں جامعہ کے طلبہ نے ڈیوٹیاں دیں، فلائرز کی تقسیم، آن لائن سوال و جواب اور ایم ٹی اے کے مختلف پروگراموں میں بھی طلبہ خدمت کی توفیق پاتے رہے۔

وقفِ عارضی کی سکیم کے تحت طلبہ کو جرمنی کے علاوہ مختلف ممالک میں وقفِ عارضی کرنے کا موقع ملا نیز حضور انور کی منظوری اور ہدایت کے مطابق درجہ شاہد کے طلبہ نے رمضان المبارک کا پورا مہینہ مختلف جماعتوں میں وقفِ عارضی کی۔ درجہ شاہد کے مقالہ جات، امتحانات، پیپرز کی تیاری اور چیکنگ نیز انٹرویوز کے مختلف مراحل کے سلسلے میں حضور انور کی ہدایات پر عمل کیا گیا اور تمام ریزلٹس ساتھ ساتھ برائے ملاحظہ و منظوری حضور انور کی خدمت میں پیش کیے جاتے رہے۔ امتحانات کے بعد طلبہ کو بعض امور کی عملی ٹریننگ بھی دی گئی جن میں کھانا پکانا، بجلی کا کام، ہومیوپیتھی کا تعارف اور گاڑی سے متعلق ضروری امور کی آگاہی شامل ہیں۔

پیارے آقا کی خدمت میں دعا کی عاجزانہ درخواست ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہماری کمزوریوں کی پردہ پوشی فرماتے ہوئے ہمیں اپنی اور اپنے امام کی رضا کے مطابق کماحقہٗ خدمت کی توفیق عطاء فرماتا رہے۔ آمین

رپورٹ جامعہ احمدیہ یوکے

از مکرم ظہیر احمد خان صاحب صدر تعلیمی بورڈ جامعہ احمدیہ یوکے

سیدی!آج کی اس گیارھویں بابرکت تقریب تقسیم اسناد میں جامعہ احمدیہ یوکے سے فارغ التحصیل ہونے والے ۱۶؍مربیان کرام کا یہ تیرھواں بیچ انشاء اللہ حضور انور ایدکم اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے دست مبارک سے اسناد حاصل کرنے کی سعادت پائے گا۔ جن کی ۲۰۱۸ء میں حضور انور نے از راہ شفقت جامعہ احمدیہ یوکے میں داخلہ کی منظوری عطا فرمائی تھی۔

ان مربیان کرام کے فارغ التحصیل ہونے پر جامعہ احمدیہ یوکے کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب تک دنیا بھر کے پانچ براعظموں کے ۱۹؍مالک سے تعلق رکھنے والے کل ۲۵۳؍مربیان کا نذرانہ اپنے آقا کی خدمت اقدس میں پیش کرنے کی توفیق مل چکی ہے۔الحمد للہ علیٰ ذالک

جامعہ احمدیہ یوکے کے طلبہ پر اللہ تعالیٰ کا سب سے بڑا فضل اور احسان یہ ہے کہ ان طلبہ کو اپنے آقا ایدکم اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے براہ راست حصول تربیت کی سعادت ملتی رہتی ہے۔ چنانچہ فارغ التحصیل ہونے والی اس کلاس کے طلبہ کو اپنے آقا کے ساتھ چار انفرادی اور ایک گروپ ملاقات کی سعادت ملی۔ حضور انور کے ساتھ ہونے والی ایک علمی نشست اور جامعہ یوکے کی چار تقاریب تقسیم اسناد میں شمولیت کی توفیق ملی۔ حضور انور کے مختلف مواقع خصوصاً جمعۃ المبارک کے روز اسلام آباد میں رونق افروز ہونے پر سیر کے دوران اس کلاس میں سے متعدد خوش قسمت طلبہ کو حضور انور سے براہ راست گفتگو کا شرف حاصل ہوا اور حضور انور کی اقتداء میں نمازوں اور نماز جمعہ کی ادائیگی کی سعادت ملی۔ فالحمد للہ علیٰ ذالک وما توفیقُنا الا باللہ

اللہ تعالیٰ جامعہ احمدیہ کے طلبہ، اساتذہ اور کارکنان کو حضور انور کی طرف سے عطا ہونے والی ان تمام نعماء کا حقیقی شکرگزار بنائے، خلافت احمدیہ کے مخلص اور وفادار خدام میں ہم سب کا شمار فرمائے، ہمیں ایسے رنگ میں خدمت دین کی توفیق بخشے جس سے ہم حضور انور ایدکم اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور دعائیں حاصل کرنے والے ہوں اور ہم سے کوئی ایسا کام سرزد نہ ہو جو حضور انور کے لیے تکلیف کا موجب ہو۔ آمین

سیدی! اس دعا کے ساتھ ہم سب حضور انور کے بے حدشکر گزار اور ممنون احسان ہیں کہ حضور انور نے ہماری عاجزانہ درخواست کو از راہ شفقت قبول فرماتے ہوئے اس تقریب کو برکت بخشی۔ فالحمدللہ علیٰ ذالک وجزاکم اللہ تعالیٰ

ان مختصر گزارشات کے ساتھ حضور انور کی خدمتِ اقدس میں نہایت ادب کے ساتھ درخواست ہے کہ حضور انور از راہ شفقت کینیڈا، جرمنی اور یوکے کے جامعات سے فارغ التحصیل ہونے والے مربیانِ کرام کو شاہد کی ڈگری عطا فرمائیں۔ نیز تدریسی سال ۲۰۲۴-۲۵ء کی جامعہ یوکے کی باقی چھ کلاسوں میں اوّل، دوم اور سوم پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کو اسنادِ امتیاز سے نوازیں۔

شاہدین جامعہ احمدیہ کینیڈا ۲۰۲۵ء

۱۔مکرم رستگار احمد چوہان صاحب مربی سلسلہ، ۲۔مکرم عاطف احمد عارف صاحب مربی سلسلہ، ۳۔مکرم ماہد شریف ناصر صاحب مربی سلسلہ، ۴۔مکرم حمزہ عبید اللہ صاحب مربی سلسلہ، ۵۔مکرم محمد مفلح احمد صاحب مربی سلسلہ، ۶۔مکرم دانیال احمد چوہدری صاحب مربی سلسلہ، ۷۔مکرم حسیب احمد مرزا صاحب مربی سلسلہ، ۸۔مکرم عبد المقتدر صاحب مربی سلسلہ، ۹۔مکرم مشہود احمد صاحب مربی سلسلہ، ۱۰۔مکرم حزیم احمد صاحب مربی سلسلہ، ۱۱۔مکرم سدید احمد باجوہ صاحب مربی سلسلہ، ۱۲۔مکرم صہیب احمد کلیم صاحب مربی سلسلہ، ۱۳۔مکرم ثمر قمر احمد صاحب مربی سلسلہ، ۱۴۔مکرم رویل احمد اکبر صاحب مربی سلسلہ (ویزہ نہ ملنے کی وجہ سے یہ حاضر نہیں ہوسکے)، ۱۵۔مکرم عمر عثمان چوہدری صاحب مربی سلسلہ، ۱۶۔مکرم ولید احمد منگلا صاحب مربی سلسلہ، ۱۷۔مکرم مصور الٰہی صاحب مربی سلسلہ، ۱۸۔مکرم طاہر ودود صاحب مربی سلسلہ

شاہدین جامعہ احمدیہ جرمنی ۲۰۲۵ء

۱۔مکرم فیاض احمد صاحب مربی سلسلہ، ۲۔مکرم برہان الدین فیضان صاحب مربی سلسلہ، ۳۔مکرم اویس قمر صاحب مربی سلسلہ، ۴۔مکرم ادیب احمد بٹ صاحب مربی سلسلہ، ۵۔مکرم مبارز احمد صاحب مربی سلسلہ، ۶۔مکرم واسق خالد بھٹی پرویز صاحب مربی سلسلہ، ۷۔مکرم مجاہد احمد صاحب مربی سلسلہ، ۸۔مکرم عمر رشید صاحب مربی سلسلہ، ۹۔مکرم جاذب احمد عزیز صاحب مربی سلسلہ، ۱۰۔مکرم سلطان احمد سمیع صاحب مربی سلسلہ، ۱۱۔مکرم سجیل احمد باجوہ صاحب مربی سلسلہ (ویزہ نہ ملنے کی وجہ سے یہ حاضر نہیں ہوسکے)، ۱۲۔مکرم حمزہ احمد صاحب مربی سلسلہ، ۱۳۔مکرم باسل جاوید صاحب مربی سلسلہ، ۱۴۔مکرم فرحان مسرور احمد صاحب مربی سلسلہ، ۱۵۔مکرم طلال احمد صاحب مربی سلسلہ، ۱۶۔ مکرم ادیب احمد صاحب مربی سلسلہ، ۱۷۔ مکرم دانش احمد صاحب مربی سلسلہ، ۱۸۔مکرم فرخ خرم صاحب مربی سلسلہ

شاہدین جامعہ احمدیہ یوکے ۲۰۲۵ء

۱۔مکرم سرفراز احمد صاحب مربی سلسلہ، ۲۔مکرم مطہر مبشر عفت صاحب مربی سلسلہ، ۳۔مکرم صہیب طاہر رانا صاحب مربی سلسلہ، ۴۔مکرم حافظ سید عبدالہادی صاحب مربی سلسلہ، ۵۔مکرم حافظ عبدالحنان صاحب مربی سلسلہ، ۶۔مکرم خاقان احمد صاحب مربی سلسلہ، ۷۔مکرم لبیق احمد صاحب مربی سلسلہ، ۸۔مکرم ادیب احمد بٹ صاحب مربی سلسلہ، ۹۔مکرم عاشر احمد طاہر صاحب مربی سلسلہ، ۱۰۔مکرم صہیب احمد اکمل صاحب مربی سلسلہ، ۱۱۔مکرم تمثیل مشتاق احمد صاحب مربی سلسلہ، ۱۲۔مکرم طاہر ناصر صاحب مربی سلسلہ، ۱۳۔مکرم محمد احسان احمد صاحب مربی سلسلہ، ۱۴۔مکرم جہانزیب خان صاحب مربی سلسلہ، ۱۵۔مکرم فاتح احمد کریم صاحب مربی سلسلہ، ۱۶۔مکرم ذیشان نصیر صاحب مربی سلسلہ

جامعہ احمدیہ یو کے تعلیمی سال 25-2024ء میں درجہ ممہدہ سے درجہ خامسہ تک اوّل، دوم اور سوم پوزیشن لینے والے طلبہ

درجہ خامسہ: ۱۔ عزیزم طٰہٰ ؤ الدین خاندکر، ۲۔عزیزم حمید محمود خان، ۳۔عزیزم خاقان مظفر ارائیں

درجہ رابعہ: ۱۔ عزیزم صباح الدین علیم، ۲۔ عزیزم ماہد احمد، ۳۔عزیزم رائے اطہر احمد

درجہ ثالثہ: ۱۔عزیزم مسرور احمد عودہ، ۲۔عزیزم خان فرید احمد، ۳۔عزیزم فارس احمد نسیم

درجہ ثانیہ: ۱۔عزیزم طلحہ احمد، ۲۔عزیزم محمد حذیفہ، ۳۔عزیزم طلحہ رحمٰن رانا

درجہ اولیٰ: ۱۔عزیزم تنزیل احمد خرم، ۲۔عزیزم مصلح محمود، ۳۔عزیزم لبید احمد قدیر

درجہ ممہدہ: ۱۔عزیزم ماہد رحمٰن، ۲۔عزیزم سجیل احمد ملک، ۳۔عزیزم ناصر احمد

ادارہ الفضل انٹرنیشنل اس تاریخی موقع پر حضورِانور کے دستِ مبارک سے سند حاصل کرنے والے مربیان کرام کو مبارکباد پیش کرتا ہے نیز دعا گو ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا کے تمام خطوں میں خدمت کی توفیق پانے والے سب مبلغینِ کرام کو خلافتِ احمدیہ کا سلطانِ نصیر بنائے اور حضورِانور کی منشائے مبارک کے مطابق اپنے فرائض سرانجام دینے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

٭…٭…٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button