ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل(عمومی علامات کے متعلق نمبر ۲۱)(قسط ۱۴۶)
(ڈاکٹر لئیق احمد)
(حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ’’ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل ‘‘کی ریپرٹری یعنی ادویہ کی ترتیب بلحاظ علامات تیار کردہ THHRI)
ڈلکا مارا Dulcamara
(Bitter Sweet)
ڈلکاما را نزلاتی جھلیوں کی بہت اہم دوا ہے۔ اس میں یہ بات نمایاں طور پر پائی جاتی ہے کہ موسم میں کوئی بھی تبدیلی ہو، خواہ گرمی سردی میں بدلے یا سردی گرمی میں، نمی خشکی میں تبدیل ہو یا خشکی نمی میں یہ تبدیلی نزلاتی جھلیوں پر اثر انداز ہوتی ہے خصوصاً اگر یہ یکا یک واقع ہو تو عین ممکن ہے کہ ڈلکاما را دوا ہو۔ موسم کی تبدیلی کے دنوں میں نزلہ زکام بہت کثرت سے پھیلتا ہے۔ اگر مریض کی دیگر علامتیں واضح نہ ہوں لیکن ہر موسم کی تبدیلی پر بیمار پڑ جائے تو اس کے لیے ڈلکا مارا مفید ہے۔ وہ کھلاڑی جو کھیل کے بعد جب کہ ابھی جسم گرم ہو، کپڑے جلد اتار دیں تو انہیں نزلاتی تکلیفیں شروع ہو جاتی ہیں۔ اسی طرح سردی سے اچانک باہر گرمی میں نکل جانے سے بھی نزلہ ہو جاتا ہے۔ رات کے وقت اور آرام کرنے سے تکلیف بڑھتی ہے۔ گردے، انتڑیوں اور معدے پر بھی نزلاتی اثرات ظاہر ہوتے ہیں اور بار بار پیشاب آتا ہے یا اسہال شروع ہو جاتے ہیں۔ اسہال کی یہ تکلیف انتڑیوں، معدے یا گردوں کی نزلاتی تکلیف سے ہوتی ہے۔ نم دار جگہوں پر رہنے سے اور نم دار موسم میں تکلیفیں بڑھ جاتی ہیں۔ گرمیوں کے موسم میں پہاڑوں پر جانے یا وہاں سے واپس آنے پر نزلاتی تکلیفیں ہو جائیں تو ان میں بھی ڈلکا مارا دوا ہے۔ (صفحہ۳۶۳-۳۶۴)
بعض لوگوں کو سردی لگنے سے اسہال کی بجائے پیچش شروع ہو جاتی ہے۔ اس پیچش کی دوا بھی ڈلکا مارا ہے۔ ڈلکامارا اونچی طاقت میں دی جائے تو وہ اس قسم کی کمزوریوں کا حفظ ماتقدم ہے اور اس دوا کی اونچی طاقت کے استعمال کے بعد اکثر مریض موسم کی تبدیلیوں سے اس قدر متاثر نہیں ہوتے۔(صفحہ۳۶۴)
اگر پسینہ آیا ہو اور ٹھنڈی جگہ میں آنے سے دب جائے تو اس سے پیدا ہونے والی تکلیفوں میں بھی ڈلکا مارا مفید ہے۔ (صفحہ۳۶۳۔۳۶۴)
بیماریوں کی علامات کروٹ پر لیٹنےسے کم ہوتی ہیں اور کمر کے بل لیٹنے اور جھکنے سےبڑھتی ہیں۔حرکت سے کمی ہوتی ہے۔شام کے وقت اوررات کوبڑھ جاتی ہیں۔موسم کی تبدیلی سے، مرطوب موسم میں بھیگ جانے اور ٹھنڈی چیزیں استعمال کرنے سے بھی تکلیفیں بڑھ جاتی ہیں۔(صفحہ۳۶۵-۳۶۶)
الیکٹریسی ٹاس Electricitas
اس دوا کا تعلق ایسے مریضوں سے ہے جو بادل کے گرجنے اور بجلی چمکنے سے متاثر ہوتے ہیں۔ طوفان کے آنے سے پیشتر یا طوفان کی آمد پر مریض پر دمہ کا حملہ ہو جاتا ہے یا نزلاتی تکلیفیں شروع ہو جاتی ہیں۔ عمومی ڈیپریشن، بے چینی، مایوسی، نبض کی تیزی اور سردرد وغیرہ طوفان کے نتیجہ میں شروع ہوجائیں تو یہ دوا مفید بتائی جاتی ہے۔ (صفحہ۳۶۷)
اگر موسم کی تبدیلی سے جسم میں درد شروع ہو جائے تمام جسم کانپے، بہت کمزوری اور تھکن محسوس ہو، مریض بے خوابی کا شکار ہو جائے، بخار ہو اور بہت پسینہ آئے تو الیکٹریسی ٹاس مفید دوا بتائی جاتی ہے۔ کہتے ہیں کہ یہ دوا مرکری کے بداثر کو بھی زائل کرتی ہے۔ (صفحہ۳۶۷)
الیکٹر سٹی Electricity
اسے دل کی دھڑکن اور بازوؤں کے فالج میں مفید بتایا جاتا ہے۔یہ عموماً ایسے مریضوں کو دی جاتی ہےجو پلسٹیلا کی طرح غمگین رہتے ہوں اور رونے اور آہیں بھرنے کا رجحان رکھتے ہوں خوفزدہ ہوں اور اداس رہتے ہوں۔ طوفان کی آمد پر ڈر جاتے ہوں اور ان کی تکلیفوں میں اضافہ ہو جا تا ہو۔ پاگلوں کی طرح بے اختیار ہنسی جو رکنے کا نام نہ لے وہ بھی اس کی ایک علامت بتائی جاتی ہے۔(صفحہ۳۶۹)
یوپیٹوریم
Eupatorium perfoliatum
(Thorough Wort)
یوپیٹوریم میں ہڈیوں کے درد کے ساتھ سردی کا احساس ضرور پایا جاتا ہے۔یہ علامت ملیریا کی نشان دہی بھی کرتی ہے۔اس لیے یوپیٹوریم ملیریا کی بھی ایک مفید دوا ہے۔اس کی سردی صبح چھ بجے سے لے کر نو بجے تک زیادہ محسوس ہوتی ہے۔یوپیٹوریم کی علامتیں سورج چڑھنے کے ساتھ ہی شروع ہوجاتی ہیں۔جبکہ نیٹرم میور کی علامتیں اشراق کے وقت صبح نو بجے کے بعد بڑھتی ہیں۔(صفحہ۳۷۲)
یو پیٹوریم کی امراض اکیس دن کے بعد دوبارہ اپنا زور دکھاتی ہیں۔ بات چیت میں مصروف رہنے سے یو پیٹوریم کے مریضوں کو افاقہ محسوس ہوتا ہے۔ یو پیٹوریم معدہ، جگر اور ہوا کی نالیوں کی اندرونی جھلیوں پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ یہ عموماًمرطوب علاقوں میں پیدا ہونے والی بیماریوں میں مفید ہے مگر سخت خشک موسم میں بھی اس کا عارضہ ملتا ہے جیسے ڈینگو بخار۔ (صفحہ۳۷۳)
یوفریزیا Euphrasia
(Eyebright)
یوفریزیا میں روشنی سے زود حسی پائی جاتی ہے۔ خسرے میں بھی یہ اس کی ایک خاص پہچان بن جاتی ہے۔یوفریزیا کی تکلیفیں شام کے وقت اور گرمی سے اور روشنی سے بڑھ جاتی ہیں۔ (صفحہ۳۷۷)
فیرم میٹیلیکم Ferrum metallicum
(لوہا)
خون بہنے کا رحجان ہوتا ہے جس میں پتلا اور پانی ملا ہوا کچلہوا سا خون بہتا ہے۔خون کے لوتھڑے بھی بنتے ہیں۔اس کے خون کے لوتھڑے سرخی مائل ہی ہوتے ہیں اگرچہ اکثر زہر جو خون جماتے ہیں ان کےلوتھڑے سیاہی مائل ہوتے ہیں۔ان علامتوں کے علاج بالمثل کے لیے جو ہومیوپیتھک دوا بنائی جاتی ہے اسے فیرم میٹیلیکم کہتے ہیں جسے مختصراً فیرم میٹ بھی کہہ د یا جاتا ہے۔(صفحہ۳۷۹)
فیرم میٹ کی ایک علامت یہ ہے کہ جسم کے تمام اعضا ء کمزوری کا شکار ہوجاتے ہیں۔یہ کوئی ایسی کمزوری نہیں ہوتی جو دائمی ہو اور ہر وقت محسوس ہو بلکہ تھوڑے کام سے جلد تھکاوٹ ہوجاتی ہے۔ایسڈ فاس میں ہروقت جسم نڈھال رہتا ہےلیکن فیرم میٹ میں تھوڑے سے کام سے ایک دم طاقت ختم ہوجاتی ہےجیسے ٹارچ میں پرانا سیل ہو تو وہ ایک شعلہ دکھا کر یکدم بجھ جاتا ہے۔مریض جب تک حرکت نہ کرے اسے اپنی کمزوری کا احساس نہیں ہوتا۔خواہ مریض آہستہ ہی چلے، کچھ دیر چلتے رہنے سے کمزوری ضرور محسوس ہوتی ہےلیکن اگر مریض بغیر حرکت کے لیٹا یا بیٹھا رہے تو اس سے بھی اس کو تکلیف پہنچتی ہےکیونکہ مسلسل حرکت نہ کرنےسے جسم کی خوابیدہ دردیں جاگ اٹھتی ہیں۔اگر مریض کچھ دیر تیز چلے تو دونوں تکلیفیں بیک وقت ظاہر ہوتی ہیں۔کمزوری بھی نمایاں ہوجاتی ہےاور دردیں بھی۔ محض حرکت سے ہی نہیں کچھ دیر مسلسل بولنے سے بھی کمزوری کا احساس ہونے لگتا ہے۔(صفحہ۳۷۹-۳۸۰)
باوجود اس کے کہ مریض میں خون کی نمایاں کمی پائی جاتی ہے مگر چہرے پر معمولی جذباتی ہیجان سے بھی خون کی چمک دکھائی دیتی ہے جس کو ہومیوپیتھ فالس پلیتھورا (False Plethera) یعنی خون کا جعلی عکس کہتے ہیں۔ مریض کے دونوں کلے تمتمانے لگتے ہیں اور عورتوں میں خصوصاً یہ تمتماہٹ اچانک شرما جانے سے پیدا ہونے والی تمتماہٹ سے ملتی ہے۔ حیض بعض دفعہ بہت لمبے چلتے ہیں صرف ایک دو دن تھوڑا سا رکے اور پھر جاری ہو گئے لیکن اس قسم کے حیض میں پورا خون نہیں نکلتا بلکہ پھیکا پھیکا زردی مائل خون جاری رہتا ہے اور بعض دفعہ رحم کی جھلی کے کچھ ٹکڑے بھی کٹ کٹ کر حیض کے ساتھ باہر نکلتے ہیں لیکن عجیب بات یہ ہے کہ چہرے پر وہی پر خون ہونے کی جھوٹی علامتیں نظر آتی ہیں۔ ایسی عورتیں اندام نہانی کے حساس ہو جانے کی وجہ سے عموماً اسقاط حمل کی بیماری کا شکار ہوتی ہیں۔ اسی طرح اندام نہانی سے رحم کے اندرونی حصوں کا کچھ باہر نکل آنا بھی بعید نہیں۔(صفحہ۳۸۰)
فیرم میٹ کی چائنا سے اس پہلو سے مشابہت ہے کہ یہ سرخ ذرّات کو کم کرتی ہے۔ جو دوا بھی خون کے سرخ ذرات کو کم کرے اس کی چائنا سے مشابہت ضرور ہو گی۔ چہرہ بغیر خون کے دباؤ کے تمتما جاتا ہے اور چہرہ پر باری باری سرخی اور زردی آتی ہے۔ اس طرح بخار چڑھتے ہوئے سردی کا احساس بھی نمایاں طور پر پایا جا تا ہے۔ (صفحہ۳۸۰)
(نوٹ ان مضامین میں ہو میو پیتھی کے حوالے سے عمومی معلومات دی جاتی ہیں۔قارئین اپنے مخصوص حالات کے پیش نظر کوئی دوائی لینے سے قبل اپنے معالج سے ضرورمشورہ کرلیں۔)
مزید پڑھیں: ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل(عمومی علامات کے متعلق نمبر ۲۰)(قسط ۱۴۵)



