متفرق شعراء
اے کاش وہ ہستی لوٹ آئے جو جان ہے میرے ربوہ کی

اک خاص انوکھی خوشبو ہےاک شان ہے میرے ربوہ کی
مخلوق سے پیار محبت ہی پہچان ہے میرے ربوہ کی
یہ بستی خدا کی بستی ہے بنیاد دعا پر ہے اس کی
سبحان اللہ، سبحان اللہ گردان ہے میرے ربوہ کی
ٹکڑا یہ زمیں کا وہ ہے جسے خلفائے مسیح نے برکت دی
یہ برکتوں والی مٹی بھی ذی شان ہے میرے ربوہ کی
اس شہرِ حسین کا حسن سبھی اک شہزادے کے دم سے ہے
اے کاش وہ ہستی لوٹ آئے جو جان ہے میرے ربوہ کی
یہ پھول یہ سبزہ اور شجر یہ گھر گلیاں یہ راہ گزر
ہر منظر دیدہ زیب اس کا کیا آن ہے میرے ربوہ کی
کبھی راس نہ آیا دشمن کو ٹکراؤ اللہ والوں سے
مولا کے پیار کی نظریں خود نگران ہیں میرے ربوہ کی
(امۃ الباری ناصر۔ امریکہ۔دار الضیافت ربوہ سے)
مزید پڑھیں: ’’صداقت کے نشاں کیا پوچھتے ہو‘‘




