خطبہ جمعہ بطرز سوال و جواب

خطبہ جمعہ بطرز سوال و جواب

(خطبہ جمعہ فرمودہ ۲۹؍نومبر۲۰۲۴ء بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے) یوکے)

سوال نمبر۱: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے خطبہ کے عنوان کی بابت کیابیان فرمایا؟

جواب:فرمایا: صلح حدیبیہ کے واقعہ کا ذکرہو رہا ہے۔ اس کی مزید تفصیل بیان کروں گا۔

سوال نمبر۲:حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نےقریش کےشہ سواروں کوگرفتارکرنےاورحضرت عثمانؓ کی رہائی کی بابت کیابیان فرمایا؟

جواب: فرمایا: اس بارے میں ذکر ملتا ہے کہ رسول اللہﷺ نے اپنے صحابہ ؓکو رات کے وقت پہرے کا حکم دیا ہوا تھا۔ روزانہ پہرہ ہوتا تھا۔ تین آدمی باری باری پہرہ دیا کرتے تھے۔ جن میں حضرت اَوس بن خَولیؓ، عَبَّاد بن بِشرؓ اور محمد بن مَسْلَمَہؓ تھے۔ ایک رات حضرت محمد بن مَسْلَمَہؓ رسول اللہﷺ کے پہرے پر مامور تھے تو قریش نے مِکْرَزْ بن حَفْص کی نگرانی میں پچاس آدمیوں کو بھیجا اور ان کو حکم دیا کہ وہ نبی کریمﷺ کے ارد گرد چکر لگائیں اس امید پر کہ مسلمانوں میں سے کسی کو قتل کر دیں یا اچانک ان کو کوئی نقصان پہنچائیں۔ حضرت محمد بن مسلمہؓ نے ان کو پکڑ لیا اور رسول اللہﷺ کے پاس لے آئے۔ مکرز بھاگ گیا اور اس نے اپنے ساتھیوں کو خبر دار کیا۔ یہ بھی ذکر ملتا ہے کہ مسلمانوں میں سے چند آدمی رسول اللہﷺ کی اجازت کے ساتھ مکہ میں داخل ہوئے تھے جن میں کُرْز بن جابر فِہْرِی، عبداللہ بن سُہَیل، عبداللہ بن حُذَافَہ سَہْمِی، ابورُوم بن عُمَیر عَبْدَرِی، عَیَّاش بن اَبِی رَبِیعہ، ہِشَام بن عاص، ابُو حاطِب بن عَمْرو، عُمَیر بن وَہْب، حَاطِب بن ابی بَلْتَعَہ اور عبداللہ بن اُمَیَّہ شامل تھے۔ یہ حضرت عثمان ؓ کی امان میں مکہ میں داخل ہوئے تھے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ چھپ کر داخل ہوئے تھے۔ جب ان مسلمانوں کی خبر قریش کو ہوئی تو قریش نے ان کو پکڑ لیا اور قریش کو اپنے ساتھیوں کی گرفتاری کی خبر بھی مل گئی تھی جن کو حضرت محمد بن مسلمہ ؓنے روک لیا تھا۔ جب قریش کو خبر ملی کہ ان کے پچاس آدمی مسلمانوں کے قیدی ہو گئے ہیں۔ پھر قریش کا ایک اَور مسلح دستہ نبی کریمﷺ اور آپؐ کے اصحابؓ کی طرف آیا اور مسلمانوں پر حملہ کر دیا۔ وہ تیر اور پتھر پھینکنے لگے۔ مشرکین کے بارہ شہ سواروں کو مسلمانوں نے گرفتار کر لیا اور مسلمانوں میں سے حضرت اِبنِ زُنَیمؓ شہید ہو گئے۔ قریش نے ان کو تیر مار کر قتل کر دیا تھا۔پھر قریش نے ایک جماعت آنحضرتﷺ کے پاس بھیجی جن میں سُہَیل بن عمرو بھی تھا۔ آنحضرتﷺ نے جیسے ہی دُور سے اس کو دیکھا تو صحابہؓ سے فرمایا کہ سُہیل کے ذریعہ تمہارا معاملہ سَہل یعنی آسان ہو گیا۔اس وقت سُہَیل نے رسول اللہﷺ کے پاس پہنچ کر کہا کہ آپ کے ساتھیوں یعنی عثمان اور دوسرے دس صحابہ کو قید کرنے اور ہمارے کچھ لوگوں کے آپ سے مقابلہ کرنے کا جو معاملہ ہے اس میں ہمارا کوئی ذی رائے آدمی شریک نہیں ہے۔ ہمیں جب اس بات کا پتہ چلا تو ہمیں بہت ناگواری ہوئی۔ ہمیں اس کے بارے میں کچھ خبر نہیں ہے۔ وہ ہم میں سے اوباش لوگوں کا کام تھا۔ اس لیے ہمارے جو آدمی آپ نے دونوں مرتبہ میں پکڑے ہیں انہیں ہمارے پاس واپس بھیج دیجیے۔ آپؐ نے فرمایا:میں ان کو اس وقت تک نہیں بھیجوں گا جب تک تم میرے ساتھیوں کو نہیں چھوڑو گے۔اس پر ان سب لوگوں نے کہا اچھا ہم انہیں چھوڑ دیتے ہیں۔ اس پر قریش نے حضرت عثمانؓ اور باقی دس صحابہؓ کو واپس بھیج دیا۔ اس وقت آنحضرتﷺ نے بھی ان کے آدمیوںکو چھوڑ دیا۔

سوال نمبر۳: حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے حدیبیہ میں معاہدہ کی تحریر کی بابت حضرت مرزابشیراحمدصاحبؓ کاکیامؤقف بیان فرمایا؟

جواب: فرمایا: حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ؓنے اس طرح لکھا ہےکہ ’’جب سُہَیل بن عمرو آنحضرتﷺ کے سامنے آیا تو آپؐ نے اسے دیکھتے ہی فرمایا: یہ سُہَیل آتا ہے۔ اب خدا نے چاہا تومعاملہ سہل ہو جائے گا۔‘‘آسان ہو جائے گا۔ ’’بہرحال سُہَیل آیا اور آتے ہی آنحضرتﷺ سے کہنے لگا کہ آؤ جی (اب لمبی بحث جانے دو) ہم معاہدہ کے لیے تیار ہیں۔ آنحضرتﷺ نے فرمایا ہم بھی تیار ہیں۔ اوراس ارشاد کے ساتھ ہی آپؐ نے اپنے سیکرٹری (حضرت علیؓ) کوبلوا لیا۔ (اور چونکہ شرائط پر ایک عمومی بحث پہلے ہو چکی تھی اور تفاصیل نے ساتھ ساتھ طے پانا تھا) اس لیے کاتب کے آتے ہی آنحضرتﷺ نے فرمایا لکھو‘‘ حضرت علی ؓکو فرمایا کہ لکھو۔ خود آپؐ نے لکھوانا شروع کیا۔ ’’’’بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم‘‘‘‘سے شروع کیا۔ ’’سُہَیل صلح کے لیے توتیار تھا مگر قریش کے حقوق کی حفاظت اور اہل مکہ کے اکرام کے لیے بھی بہت چوکس رہنا چاہتا تھا۔ فوراً بولا یہ رحمٰن کا لفظ کیسا ہے ہم اسے نہیں جانتے۔ جس طرح عرب لوگ ہمیشہ سے لکھتے آئے ہیں اس طرح لکھو یعنی بِاِسْمِکَ اَللّٰھُمّ ۔‘‘ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم نہیں لکھنا بلکہ بِاِسْمِکَ اَللّٰھُمَّ لکھو۔ ’’دوسری طرف مسلمانوں کے لیے بھی قومی عزت اور مذہبی غیرت کا سوال تھا وہ بھی اس تبدیلی پر فوراً چونک پڑے اور کہنے لگے ہم تو ضرور بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم ہی لکھیں گے مگر آنحضرتﷺ نے یہ کہہ کر مسلمانوں کو خاموش کرا دیا کہ نہیں نہیں اس میں کوئی حرج نہیں۔ جس طرح سُہَیل کہتاہے اسی طرح لکھ لو۔ چنانچہ بِاِسْمِکَ اَللّٰھُمَّ کے الفاظ لکھے گئے۔ اس کے بعد آنحضرتﷺ نے فرمایا لکھو ‘‘یہ وہ معاہدہ ہے جو محمدرسول اللہ (ﷺ)نے کیا ہے۔’’ سُہَیل نے پھرٹوکا کہ یہ رسول اللہ کا لفظ ہم نہیں لکھنے دیں گے۔ اگر ہم یہ بات مان لیں کہ آپ خدا کے رسول ہیں توپھر تو یہ سارا جھگڑا ہی ختم ہوجاتا ہے اور ہمیں آپ کو روکنے اور آپ کا مقابلہ کرنے کا کوئی حق نہیں رہتا۔ بس جس طرح ہمارے ہاں طریق ہے صرف یہ الفاظ لکھو کہ محمد بن عبداللہ نے یہ معاہدہ کیا ہے۔ آنحضرتﷺ نے فرمایا ’’آپ لوگ مانیں نہ مانیں میں خدا کا رسول تو ہوں ‘‘ مگر چونکہ میں محمد بن عبداللہ بھی ہوں اس لیے چلو یہی سہی۔‘‘اس طرح لکھ لو۔ ’’لکھو کہ محمدؐ بن عبداللہ نے یہ معاہدہ کیا ہے۔‘‘مگر اس اثنا میں آپ کے کاتب حضرت علیؓ معاہدہ کی تحریر میں ’’محمد رسول اللہ‘‘کے الفاظ لکھ چکے تھے۔ آپؐ نے حضرت علیؓ سے فرمایا: محمدؐ رسول اللہ کے الفاظ مٹا دو اور ان کی جگہ محمد بن عبداللہ کے الفاظ لکھ دو۔ مگر اس وقت جوش کا عالم تھا حضرت علیؓ نے غیرت میں آکر عرض کیا ’’یارسول اللہؐ! میں تو آپ کے نام کے ساتھ سے رسول اللہ کے الفاظ کبھی نہیں مٹاؤں گا۔‘‘آپؐ نے ان کی ازخود رفتہ حالت کو دیکھ کر فرمایا: اچھا تم نہیں مٹاتے تو مجھے دو میں خود مٹا دیتا ہوں۔ پھر آپؐ نے معاہدہ کا کاغذ (یا جو کچھ بھی وہ تھا) ہاتھ میں لے کر اور حضرت علیؓ سے ان الفاظ کی جگہ پوچھ کر رسول اللہ کے الفاظ اپنے ہاتھ سے کاٹ دیے اور ان کی جگہ ابن عبداللہ کے الفا ظ لکھ دیے۔’’اس کے بعد آپؐ نے لکھوایا کہ ‘‘معاہدہ یہ ہے کہ اہل مکہ ہمیں بیت اللہ کے طواف سے نہیں روکیں گے۔’’سُہَیل فوراً بولا ‘‘خدا کی قسم! اس سال تو یہ ہرگز نہیں ہو سکے گا ورنہ عربوں میں ہماری ناک کٹ جائے گی۔ ہاں اگلے سال آپ لوگ آکر طواف کرسکتے ہیں۔’’آپؐ نے فرمایا اچھا یہی لکھو۔ پھر سُہَیل نے اپنی طرف سے لکھایا کہ یہ بھی شرط ہوگی کہ اہل مکہ میں سے کوئی شخص مسلمانوں کے ساتھ جا کر شامل نہیں ہو سکے گا خواہ وہ مسلمان ہو۔ اور اگر ایسا کوئی شخص مسلمانوں کی طرف جائے گا تواسے واپس لوٹا دیا جائے گا۔ صحابہ نے اس پر شورمچایا کہ سبحان اللہ! یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ایک شخص مسلمان ہو کر آئے اورہم اسے لوٹا دیں۔‘‘

سوال نمبر۴: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے حدیبیہ میں معاہدہ کےدوران اچانک حضرت ابوجندلؓ کے آنے اور اس پرحضرت عمرفاروقؓ کےردِّ عمل کی بابت کیابیان فرمایا؟

جواب: فرمایا: یہ معاہدہ لکھوایا جا رہا تھا۔اسی دوران اچانک حضرت اَبُوجَنْدَلؓ بن سُہَیل آ گئے۔ان کے پاؤں میں زنجیریں تھیں۔وہ مکہ مکرمہ کے نشیبی علاقے سے نکلے اور خود کو مسلمانوں کے سامنے پھینک دیا۔ سُہَیل جو معاہدہ لکھوا رہا تھا اس کے بیٹے تھے اور مسلمان ہو گئے تھے۔ ان کے باپ سُہَیل نے ان کو زنجیروں میں باندھ کر قید رکھا ہوا تھا اور وہ قید خانے سے نکل کر عام راستے سے بچتے ہوئے پہاڑوں پر سے ہوتے ہوئے حدیبیہ آ گئے تھے۔ مسلمان انہیں خوش آمدید کہنے لگے اور مبارکباد دینے لگے۔ جب حضرت اَبُوجَنْدَلؓ کے باپ سُہَیل نے انہیں دیکھا تو ان کی طرف کھڑا ہوا اور ان کے چہرے پر کانٹے دار ٹہنی ماری اور گریبان سے پکڑ لیا۔ پھر کہنے لگا اے محمد! (ﷺ)یہ پہلا معاملہ ہے جس کے بارے مَیں نے آپ کے ساتھ معاہدہ کیا ہے۔ اب تم اس کو واپس کر دو تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: ابھی تک صلح نامہ مکمل نہیں ہوا تو سُہَیل نے کہا اللہ کی قسم !تب میں کسی چیز پر بھی آپ سے صلح نہیں کروں گا۔ پھر آپؐ نے کہا آپ اس کو میرے لیے چھوڑ دیجئے۔ آنحضرتﷺ نے سفارش کی کہ اچھا میرے لیے چھوڑ دو اس کو۔ سُہَیل نے کہا میں اس کو کسی صورت چھوڑنے والا نہیں ہوں۔ آپؐ نے کہا نہیں تم اسے چھوڑ دو۔ دوبارہ کہا۔ سُہَیل نے کہا میں ہرگز ایسا نہیں کروں گا۔ مِکرِز بن حفص اور حُویطِب بن عبدالعزّٰی جو اس کے ساتھ تھے انہوں نے کہا کہ ہم نے اس کو آپ کے لیے چھوڑ دیا ہے۔ دونوں نے حضرت اَبُوجَنْدَل ؓکو پکڑ کر ایک خیمہ میں داخل کر دیا اور اس کو اجازت دے دی لیکن اس کے باپ سُہَیل نے انکار کر دیا۔ حضرت اَبُوجَنْدَلؓ نے کہا اے مسلمانوں کے گروہ !کیا اب مجھے مشرکین کی طرف لوٹا دیا جائے گاحالانکہ میں مسلمان ہو کر آیا ہوں۔ تم ان مصیبتوں کو نہیں دیکھتے جو مجھے پیش آئی ہیں اور مجھے سخت عذاب دیا جاتا تھا۔ رسول اللہﷺ نے آواز بلند کر کے فرمایا اے ابو جندل! صبر کر اورثواب کی امید رکھ۔ بیشک اللہ تعالیٰ تیرے لیے اور تیرے کمزور ساتھیوں کے لیے کشادگی اور نجات کا راستہ پیدا کر دے گا۔ ہم نے قوم کے ساتھ صلح کا معاہدہ کیا ہے اور ہم نے ان کو اور انہوں نے ہم کو عہد دیا ہے اور ہم دھوکانہیں کرتے۔اس موقع پرحضرت عمر ؓکے جوش و خروش کا ذکربھی ملتا ہے۔ لکھا ہے کہ مسلمانوں نے ان شرائط کو ناپسند کیا اور غضبناک ہو گئے۔ سُہَیل نے ان شرائط کے علاوہ سے صلح کا انکار کر دیا۔ جب انہوں نے صلح طے کر لی تو صرف لکھنا باقی تھا کہ عمر بن خطابؓ رسول اللہﷺ کی طرف آئے اور کہا یا رسول اللہ !کیا ہم حق پر نہیں ہیں اور وہ کافر باطل پر نہیں ہیں؟ آپؐ نے فرمایا کیوں نہیں! تو انہوں نےکہا کہ کیا ہمارے مقتول جنت میں نہیں اور ان کے مقتول آگ میں نہیں؟ آپؐ نے فرمایا کیوں نہیں!تو حضرت عمر ؓنے کہا کہ ہم حدیبیہ کے دن جو صلح کر رہے ہیں تو اپنے دین سے متعلق ایسی ذلت کیوں برداشت کریں۔ کیا ہم یہاں سے یونہی لوٹ جائیں یہاں تک کہ اللہ ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ نہ کر دے۔ بغیر لڑے چلے جائیں بغیر حق لیے چلے جائیں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا :مَیں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں اور میں اس کی نافرمانی نہیں کرتا اور وہ مجھے ہرگز ضائع نہیں کرے گا۔ اور وہ میری مدد کرنے والا ہے۔ تو عمر بن خطاب نے کہا کیا آپ نے ہم کو نہیں بتایا تھا کہ ہم بیت اللہ میں عنقریب آئیں گے اور بیت اللہ کا طواف کریں گے؟ تو آپؐ نے فرمایا کیوں نہیں! کیا میں نے تمہیں یہ بتایا تھا کہ تم اس سال آؤ گے؟ حضرت عمرؓ نے کہانہیں۔پھر فرمایا:بیشک تم بیت اللہ آ ؤ گے اور اس کا طواف کرو گے۔ پھر حضرت عمرؓ غصہ کی حالت میں حضرت ابوبکر ؓکی طرف گئے اور صبرنہیں کیا۔ کہنے لگے اے ابوبکر! کیا یہ اللہ کے نبی حق پر نہیں ہیں؟ حضرت ابوبکرؓ نے کہا کیوں نہیں! پھر حضرت عمر ؓنے کہا کیا وہ باطل پر اور ہم حق پر نہیں ہیں؟ کیا ہمارے مقتولین جنت میں اور ان کے مقتولین جہنم میں نہیں جائیں گے؟ حضرت ابوبکرؓ نے کہا کیوں نہیں! اس پر حضرت عمر ؓنے کہا: پھر کیوں ہم اپنے دین میں کمزوری اختیار کریں اور ہم اس حال میں واپس لوٹ جائیں کہ اللہ نے ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ نہیں کیا تو حضرت ابوبکرؓ نے کہا کہ وہ اللہ کے رسولؐ ہیں اور اپنے ربّ کی نافرمانی نہیں کرتے ۔اور اللہ آپﷺ کی مدد کرنے والا ہے۔ پھر حضرت عمرؓ کو کہا کہ پس تُو اپنے آپ کو آنحضرتﷺ کی اطاعت کے ساتھ مرتے دم تک منسلک رکھ۔ اللہ کی قسم !وہ حق پر ہیں اور ایک روایت میں ہے کہ کہا وہ اللہ کے رسولؐ ہیں۔ پھر حضرت عمر ؓنے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ بیشک محمدﷺ اللہ کے رسولؐ ہیں۔پھر کہا کیا وہ ہم سے بیان نہیں کرتے تھے کہ عنقریب ہم بیت اللہ آئیں گے اور اس کا طواف کریں گے؟ حضرت ابوبکرؓ نے جواب دیا کیوں نہیں!کیا آپﷺ نے تمہیں یہ خبر دی تھی کہ اسی سال طواف کرو۔ حضرت عمر ؓنے کہا نہیں۔ تو حضرت ابوبکر نے کہا کہ تو تم ضرور بیت اللہ جاؤ گے اور اس کا طواف کرو گے۔ بہرحال حضرت عمرؓ پر یہ شرائط بہت گراں گزریں۔

مزید پڑھیں: الفضل ڈائجسٹ

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button