خطبہ جمعہ بطرز سوال و جواب
(خطبہ جمعہ فرمودہ ۲۲؍نومبر۲۰۲۴ء بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے) یوکے)
سوال نمبر۱: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے خطبہ کے عنوان کی بابت کیابیان فرمایا؟
جواب:فرمایا: حدیبیہ کے بارہ میں بیان ہو رہا ہے۔
سوال نمبر۲: حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے حدیبیہ میں بُدیل بن ورقاءخزاعی اور آنحضرتﷺکےمابین مکالمہ اورقریش کےردعمل کی بابت کیابیان فرمایا؟
جواب: فرمایا: حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے یوں بیان کیا ہے کہ ’’آنحضرت ﷺ نے حدیبیہ کی وادی میں پہنچ کر اس وادی کے چشمہ کے پاس قیام کیا۔ جب صحابہ اس جگہ ڈیرے ڈال چکے تو قبیلہ خُزَاعہ کا ایک نامور رئیس بُدَیل بن وَرْقَاء نامی جو قریب ہی کے علاقہ میں آباد تھا اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ آنحضرت ﷺ کی ملاقات کے لیے آیا اور اس نے آپؐ سے عرض کیا کہ مکہ کے رؤساء جنگ کے لیے تیار کھڑے ہیں اور وہ کبھی بھی آپ کو مکہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ آپؐ نے فرمایا: ہم تو جنگ کی غرض سے نہیں آئے بلکہ صرف عمرہ کی نیت سے آئے ہیں اور افسوس ہے کہ باوجود اس کے کہ قریش مکہ کو جنگ کی آگ نے جلا جلا کر خاک کر رکھا ہے مگر پھر بھی یہ لوگ باز نہیں آتے اورمَیں تو ان لوگوں کے ساتھ اس سمجھوتہ کے لیے بھی تیار ہوں کہ وہ میرے خلاف جنگ بند کرکے مجھے دوسرے لوگوں کے لیے آزاد چھوڑ دیں۔ لیکن اگر انہوں نے میری اس تجویز کو بھی ردّ کر دیا اور بہر صورت جنگ کی آگ کوبھڑکائے رکھا تو مجھے بھی اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ پھر مَیں بھی اس مقابلہ سے اس وقت تک پیچھے نہیں ہٹوں گا کہ یا تو میری جان اس رستہ میں قربان ہو جائے اور یا خدا مجھے فتح عطا کرے۔‘‘اگر میں ان کے مقابلہ میں آکر مٹ گیا تو قصہ ختم ہوا لیکن اگرخدا نے مجھے فتح عطا کی اور میرے لائے ہوئے دین کو غلبہ حاصل ہو گیا تو پھر مکہ والوں کو بھی ایمان لے آنے میں کوئی تامل نہیں ہونا چاہیے۔ بُدَیل بن وَرْقَاء پر آپؐ کی اس مخلصانہ اور دردمندانہ تقریر کا بہت اثر ہوا اور اس نے آپ سے عرض کیا کہ آپ مجھے کچھ مہلت دیں کہ میں مکہ جاکر آپ کا پیغام پہنچاؤں اور مصالحت کی کوشش کروں۔ آپ نے اجازت دی اور بُدَیل اپنے قبیلہ کے چند آدمیوں کو اپنے ساتھ لے کر مکہ کی طرف روانہ ہو گیا۔ جب بُدَیل بن وَرْقَاء مکہ میں پہنچا تو اس نے قریش کو جمع کرکے ان سے کہا کہ میں اس شخص یعنی محمدرسول اللہﷺ …کے پاس سے آرہا ہوں اور میرے سامنے اس نے ایک تجویز پیش کی ہے اگر آپ اجازت دیں تو میں اس کا ذکر کروں۔ اس پر قریش کے جوشیلے اور غیر ذمہ وار لوگ کہنے لگے کہ ہم اس شخص کی کوئی بات سننے کے لیے تیار نہیں۔’’یعنی آنحضرتﷺ کی کوئی بات سننے کے لیے تیار نہیں ہیں ‘‘مگر اہل الرائے اور ثقہ لوگوں نے کہا ہاں ہاں جو تجویز بھی ہے وہ ہمیں بتاؤ۔ چنانچہ بُدَیل نے آنحضرتﷺ کی بیان کردہ تجویز کا اعادہ کیا۔ اس پر ایک شخص عُرْوَہ بن مسعود نامی جو قبیلہ ثقیف کا ایک بہت بااثر رئیس تھا اور اس وقت مکہ میں موجود تھا کھڑا ہو گیا اور قدیم عربی انداز میں قریش سے کہنے لگا۔ ’’اے لوگو! کیا میں تمہارے باپ کی جگہ نہیں ہوں؟‘‘ ان لوگوں نے کہا ’’ہاں‘‘۔ پھر اس نے کہا ’’کیا آپ لوگ میرے بیٹوں کی طرح نہیں ہیں ؟‘‘ انہوں نے کہا ’’ہاں‘‘۔ ہم بھی بیٹوں کی طرح ہیں۔ ’’پھر عُرْوَہ نے کہا ‘‘کیا تمہیں مجھ پر کسی قسم کی بے اعتمادی ہے؟’’ قریش نے کہا ‘‘ہرگز نہیں ’’ اس نے کہا ‘‘تو پھر میری یہ رائے ہے کہ اس شخص (محمد ﷺ) نے آپ کے سامنے ایک عمدہ بات پیش کی ہے۔ آپ کو چاہیے کہ اس تجویز کوقبول کر لیں اور مجھے اجازت دیں کہ میں آپ کی طرف سے محمد (ﷺ) کے پاس جاکر مزید گفتگو کروں۔’’قریش نے کہا ‘‘بےشک آپ جائیں اور گفتگو کریں ‘‘۔
سوال نمبر۳:حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے عروہ بن مسعودکےآنحضرتﷺکےساتھ مکالمہ کی بابت کیابیان فرمایا؟
جواب: فرمایا:اس کی تفصیل میں لکھا ہے کہ عُرْوَہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا اے محمد ﷺ !میں نے کَعْب بن لُؤَیّ اور عامر بن لُؤَیّ کو حدیبیہ کے پانیوں پر چھوڑا ہے ان کے ساتھ دودھ دینے والی اونٹنیاں ہیں۔ … اور انہوں نے چیتے کی کھالیں پہن رکھی ہیں یعنی ان کافروں نے چیتے کی کھالیں پہن رکھی ہیں، جنگ کے لیے تیار ہیں اور وہ قسم کھا چکے ہیں کہ وہ بیت اللہ اور آپ کے درمیان راستہ نہیں چھوڑیں گے یہاں تک کہ آپ ان کو ہلاک کر دیں۔ یعنی آنحضرت ﷺ ان کو ہلاک کر دیں۔ وہ کہنے لگا کہ بیشک آپ اور جن کے ساتھ آپ جنگ کریں گے دو امور میں سے ایک امر طے ہے۔ آنحضرت ﷺ کو کہنے لگا کہ یا تو آپ اپنی قوم کو ہلاک کر دیں گے اور آج تک یہ نہیں سنا گیا کہ کسی آدمی نے اپنی قوم کو ہلاک کیا ہو اور اپنے گھر والوں کو ہلاک کیا ہو۔ یا وہ لوگ جو آپ کے ساتھ ہیں وہ آپ کو رسوا کر دیں گے۔ یعنی اس نے اس طرح بھی ڈرانے کی کوشش کی کہ یہ لوگ تو بزدل لوگ ہیں جو آپ کے ساتھ ہیں۔ کہنے لگاکہ اللہ کی قَسم !مجھے جو مختلف چہرے آپ کے ساتھ نظر آ رہے ہیں، صحابہ پر بڑی بدظنی کی اس نے۔ کہتا ہے کہ مجھے جو چہرے نظر آ رہے ہیں وہ صرف بھاگنے والے ہی ہیں اور ایک روایت میں ہے کہ ان لوگوں میں سے وہ لوگ ہیں جن کے چہرے کو میں نہیں پہچانتا اور نہ ہی ان کے نسب کو اور اخلاق کو۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہ بھاگ جائیں گے اور آپ کو چھوڑ دیں گے اور ایک روایت میں ہے کہ گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ اگر آپ نے قریش سے جنگ کی تو یہ آپ کو قریش کے حوالے کر دیں گے۔ اس طرح اس نے آنحضرت ﷺ کو متاثر کرنے کی، ڈرانے کی کوشش کی۔ اور وہ آپ کو قیدی بنا لیں گے تو پھر اس سے زیادہ کون سی چیز سخت ہو گی؟ توحضرت ابوبکر ؓ جو رسول اللہ ﷺ کے پیچھے بیٹھے تھے وہ غصےہو گئے اور کہنے لگے اپنے بت لات کو چومتے پھرو یعنی اس کی پوجا کرو۔ یہ باتیں ہم سے نہ کرو تم۔ کیا ہم آپ ﷺ کو چھوڑ جائیں گے؟تو عُرْوَہ نے کہا یہ کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ یہ ابوبکر ہیں۔ تو عُرْوَہ نے کہا اللہ کی قسم !اگر مجھ پر تیرا ایک احسان نہ ہوتا تو میں اس کا ضرور جواب دیتا۔…پھر عُرْوَہ رسول اللہ ﷺ سے باتیں کرنے لگا اور جب بات کرتا تو رسول اللہ ﷺ کی داڑھی کو ہاتھ لگاتا۔ حضرت مُغِیرہ بن شُعْبَہؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس تلوار لے کر کھڑے تھے اور اپنے سر پر خَود پہن رکھا تھا۔ عُروہ بات کرنے کے لیے آگے بڑھا۔ پھر عُرْوَہ نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا تاکہ آپ کی داڑھی مبارک کو ہاتھ لگائے تو حضرت مُغِیرہؓ نے اپنی تلوار کے کونے سے اس کو ہٹا دیا اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ کی داڑھی سے اپنے ہاتھ کو روکو قبل اس کے کہ تلوار تم تک پہنچے کیونکہ کسی مشرک کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ آپؐ کی داڑھی کو چھوئے۔ عُروہ نے اپنا سر اٹھایا اور کہا یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا مُغِیرہ بن شُعْبَہ۔ ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ تمہارا بھتیجا مغیرہ بن شعبہ ہے۔ اس نے کہا اے بدعہد۔ عُرْوَہ مغیرہ بن شعبہ کو کہنے لگا کہ کیا مَیں نے تیری بدعہدی کی اصلاح کی کوشش نہیں کی تھی ۔۔۔ پھر عُرْوَہ نبی ﷺ کے صحابہ کو غور سے دیکھنے لگا۔ جب بھی رسول اللہ ﷺ تھوکتے تو صحابہ اس کو ہاتھ پر لے لیتے اور پھر اس کو اپنے چہرے اور سینے پر ملتے۔ جب آپؐ صحابہ کو کسی چیز کا حکم دیتے تو صحابہ فوری طور پر اس کو بجا لاتے۔ جب آپ وضو کرتے تو صحابہ وضو کے پانی کو حاصل کرنے کے لیے ٹوٹ پڑتے۔ کسی بال کو بھی نیچے گرنے نہیں دیتے تھے بلکہ اس کو حاصل کر لیتے اور آپ ﷺ کے سامنے اپنی آواز کو نیچا رکھتے اور آپؐ کی تعظیم کی وجہ سے آپؐ کو ترچھی نگاہوں سے نہیں دیکھتے تھے، نظر اٹھا کےنہیں دیکھتے تھے۔ جب عُروہ رسول اللہ ﷺ سے باتیں کرنے سے فارغ ہوا تو آپؐ نے عُرْوَہ سے بھی وہی بات کہی جو بُدَیل بن وَرْقَاء سے کہی تھی اور ایک مدت تک صلح کی تجویز پیش کی۔پھر عُرْوَہ قریش کے پاس آیا اور کہنے لگااے میرے لوگو!میں سفارت کے لیے بادشاہوں کے درباروں میں،قیصر و کسریٰ اور نجاشی کے دربار میں گیا ہوں۔ اللہ کی قَسم !میں نے کبھی کوئی ایسا بادشاہ نہیں دیکھا جس کی ایسی اطاعت کی جائے جیسی محمد ﷺ کی اطاعت گزاری اس کے صحابہؓ میں ہوتی ہے۔کہاں تو وہ آیا تھا آنحضرت ﷺ کو کافروں سے ڈرانے کے لیے اور کہاں جب یہ نظارے دیکھے تو متاثر ہو کر گیا اور یہی بات پھر اس نے جا کے ان کافروں کو بھی بتائی۔ کہنے لگا کہ اللہ کی قسم!میں نے کوئی ایسا بادشاہ نہیں دیکھا جس کے اصحاب اس کی اتنی عزت کرتے ہوں جتنی محمد ﷺ کے اصحاب محمد ﷺ کی تعظیم کرتے ہیں۔ اللہ کی قسم !ان جیسا کوئی بادشاہ نہیں۔ جب وہ تھوکتے ہیں تو ان کے ساتھی اس کو اپنے ہاتھ پر لے لیتے ہیں پھر اس کو اپنے مونہوں، سینے پر مل لیتے ہیں اور پھر جب وہ حکم کرتے ہیں تو اس کو بجا لانے میں جلدی کرتے ہیں۔ جب وہ وضو کرتے ہیں تو وضو کے پانی کو لینے کے لیے اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں اور آپ کے بالوں کو نیچے نہیں گرنے دیتے بلکہ محفوظ کر لیتے ہیں۔ آپ کے سامنے اس کے ساتھی آہستہ آواز سے کلام کرتے ہیں اور تعظیم کی وجہ سے آپ کی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھتے اور کوئی آدمی بھی اجازت کے بغیر بات نہیں کرتا۔ جب وہ اجازت دیتے ہیں یعنی آنحضرت ﷺ کی اجازت ہوتی ہے تو پھر صحابہ بات کرتے ہیں اور اگر اجازت نہ دیں تو ہر ایک خاموش رہتا ہے۔ کہنے لگا کہ اس نے تم پر ایک بھلائی کی بات پیش کی ہے یعنی آنحضرت ﷺ نے ایک بھلائی کی بات پیش کی ہے لہٰذا اسے قبول کر لو۔ کہنے لگا کہ بیشک میں نے اپنی قوم کو محتاط کر دیا ہے اور تم خوب جان لو کہ اگر تم نے اس کے ساتھ تلوار کا ارادہ کر لیا تو وہ بھی تلوار کو تمہارے خلاف استعمال کریں گے اور جب تم ان کے صاحب کو روک دو گے یعنی آنحضرت ﷺ کو روک دو گے تو میں نے اس قوم کو دیکھا ہے وہ اس بات کی بالکل پروا نہیں کریں گے کہ ان کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔ اللہ کی قسم !میں نے اس کے ساتھ ایسی عورتیں بھی دیکھی ہیں جو اس کو ہمارے سپرد نہیں کریں گی۔ اے میری قوم! اپنی رائے کو بدل لو اور اس کے پاس جاؤ اور تم وہ چیز قبول کر لو جو وہ تمہارے سامنے رکھتے ہیں۔ یعنی آنحضرت ﷺ نے جو صلح کی پیشکش کی ہے یا عمرے کی بات کی ہے اس کو مان لو۔ کہنے لگا کہ میں تمہارا خیر خواہ ہوں۔ اس کے ساتھ مجھے یہ خوف بھی ہے کہ تمہاری مدد اس شخص کے خلاف نہیں کی جائے گی جو بیت اللہ کی زیارت کے لیے آیا ہے۔ اس کے پاس قربانی کے جانور ہیں جن کو وہ ذبح کریں گے اور پھر لَوٹ جائیں گے۔ اس پر قریش نے کہا اے ابو یَعفُور! یعنی عُرْوَہ کو کہا۔ یہ بات نہ کرو۔ کیا تیرے علاوہ کسی اَور شخص نے بھی یہ بات کی ہے۔ اس کے برعکس ہم اس کو اس سال واپس بھیج دیں گے اور وہ آئندہ سال آئیں گے۔ تو عُروہ کہنے لگا کہ تم کو سخت مصیبت اٹھانا پڑے گی۔ پھر عُرْوَہ اور اس کے ساتھی طائف کی طرف چلے گئے۔
سوال نمبر ۴: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے حلیس بن علقمہ کنانی کےآنحضرتﷺکےساتھ مکالمہ کی بابت کیابیان فرمایا؟
جواب: فرمایا: حُلَیْسَ بِن عَلْقَمَہ کِنَانی جو اَحَابِیْش کا سردار تھا۔ احابیش قریش کے حلیف قبائل تھے اور انہوں نے حبشی نامی پہاڑی کے دامن میں حلف لیا تھا اس لیے ان کو احابیش کہتے ہیں۔ اس نے کہا مجھے آنحضرت ﷺ کے پاس جانے دو تو قریش نے کہا جاؤ۔ جب اس نے رسول اللہ ﷺ کو بلندی سے دیکھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ فلاں شخص ہے جو ایسے قبیلے سے تعلق رکھتا ہے جو قربانی کے جانوروں کا احترام کرتے ہیں اور صحابہ کو فرمایا کہ اس کو دکھانے کے لیے قربانی کے جانور آگے گزارو۔ تو انہوں نے جانوروں کو آگے بھیج دیا۔ جب اس نے وادی کے کنارے ان جانوروں کو دیکھا جن کی گردن میں ہار تھے جن کے زیادہ عرصہ رہنے کی وجہ سے یعنی ہاروں کے زیادہ عرصہ گردن میں رہنے کی وجہ سے ان کی گردن کے بال جھڑ چکے تھے۔ وہ جانور بار بار آوازیں نکال رہے تھے۔ صحابہ نے تلبیہ کہتے ہوئے ان کا استقبال کیا اور وہ آدھا مہینہ سےیہاں مقیم تھے۔ انہوں نے خوشبو نہیں لگائی ہوئی تھی یعنی صحابہ نے کوئی خوشبو نہیں لگائی ہوئی تھی اور ان کے بال بھی پراگندہ تھے۔ جب اس نے یہ دیکھا تو اس نے کہا کہ سبحان اللہ! ان لوگوں کے لیے مناسب نہیں کہ وہ بیت اللہ سے روکے جائیں۔ فوراً اس کا دل نرم ہو گیا۔ کہنے لگا کہ اللہ تعالیٰ نے اس بات کی اجازت نہیں دی کہ لَخْم، جُذَام، کِنْدَہ اور حِمْیَر قبائل تو حج کریں اور عبدالمطلب کے بیٹے کو روکا جائے۔ یہ مناسب نہیں ہے کہ قریش ان کو بیت اللہ سے روکیں۔ رب کعبہ کی قسم !قریش ہلاک ہو جائیں گے۔ بیشک یہ لوگ عمرہ کرنے کے لیے آئے ہیں۔ اس نے مسلمانوں کی حمایت میں یہ بات کہی۔ یہ باتیں سن کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ اللہ کی قَسم !اے بَنُو کِنَانَہ کے بھائی !بالکل ایسی ہی بات ہے۔ آپ نے اس کو یہ جواب دیا۔ وہ اس قدر متاثر ہوا کہ قریش کی طرف جا کر کہنے لگا کہ میں نے ایسی چیز دیکھی ہے جس کی وجہ سے مسلمانوں کو روکنا جائز نہیں ہے۔ میں نے جانوروں کو دیکھا ہے۔ گلے میں ہاروں کی وجہ سے ان کے بال جھڑ چکے ہیں اور وہ ہار ان کی گردنوں میں کافی دیر سے پڑے ہوئے ہیں۔ لوگوں کے سر پراگندہ ہو چکے ہیں اور یہ سب اس لیے ہے کہ وہ بیت اللہ کا طواف کرسکیں اور اللہ کی قسم !ہم نے اس بات پر تم سے معاہدہ نہیں کیا تھا۔ اس نے کافروں کو کہا کہ ہم نے تم سے اس بات پر معاہدہ نہیں کیا تھا اور نہ ہی ہم نے تم سے اس بات پر عقد کیا ہے کہ تم ہر اس شخص کو روکو گے جو اس بیت اللہ کی حرمت اور تعظیم کو قائم کرنے والا ہو گا اور اس کا حق ادا کرنے والا ہے۔ اور وہ قربانی کے جانور لے کر انہیں ان کے مقام تک لے جانا چاہتا ہے اورقَسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ تم ان کے راستے کو کعبہ تک جانے کے لیے خالی کر دو ورنہ میں اپنے لوگوں کو لے کر تمہارا ساتھ چھوڑ کر چلا جاؤں گا۔اس نے کہا ان کو جانے کی، عمرہ کرنے کی اجازت دو۔ قریش نے کہا کہ اے حُلَیْس!تم خاموش رہو تا کہ ہم اپنی مرضی کی شرائط ان سے منوا لیں۔ اور ایک روایت میں ہے کہ قریش نے کہا کہ تُو بیٹھ جا، تُو اَعرابی یعنی دیہاتی ہے تجھے کچھ پتہ نہیں ہے۔ تُو نے محمد ﷺ سے جو کچھ سنا ہے اور دیکھا ہے وہ مکرو فریب ہے نعوذ باللہ۔
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ…کیا تم عقل نہیں کروگے؟



