حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

شرائطِ بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں

لاٹری جائز نہیں

حضرت منشی برکت علی خاں صاحبؓ صحابی حضرت اقدسؑ شملہ میں ملازم تھے۔ احمدی ہونے سے پہلے انہوں نے ایک لاٹری ڈالی ہوئی تھی وہ لاٹری نکلی تو ساڑھے سات ہزار کی رقم ان کے حصے میں آئی۔ (اس زمانہ میں)۔ انہوں نے حضورؑ سے پوچھا تو حضور نے اسے جؤا قرار دیا اور فرمایا اپنی ذات میں ایک پیسہ بھی خرچ نہ کریں۔ حضرت منشی صاحب نے وہ ساری رقم غرباء اور مساکین میں تقسیم کردی۔ (تلخیص از اصحاب احمد۔ جلد۳۔ صفحہ۳۳۔ مطبوعہ ۱۹۵۷ء)

تو یہی آج کل یہاں یورپ میں روا ج ہے، مغرب میں رواج ہے لاٹری کا کہ جو لوگ لاٹری ڈالتے ہیں اوران کی رقمیں نکلتی ہیں وہ قطعاً ان کے لئے جائز نہیں بلکہ حرام ہیں۔ اسی طرح جس طرح جوئے کی رقم حرام ہے۔ اول تو لینی نہیں چاہئے اوراگر غلطی سے نکل بھی آئی ہے تو پھر اپنے پر استعمال نہیں ہوسکتی۔

ایک واقعہ یہیںآپ کے ملک انگلستان کا محترم بشیر آرچرڈ صاحب کاہے جنہوں نے احمدیت قبول کرنے کے بعد اپنے اندر جو تبدیلیاں پیدا کیں اور اس کے بعداپنی زندگی وقف کی۔ ۱۹۴۴ء میں احمدی ہوئے تھے اور قادیان میں کچھ عرصہ دینی تعلیم حاصل کی اور جیساکہ مَیں نے کہا ہے اپنی زندگی وقف کردی۔ اور اس کے بعد ان کی زندگی میں ایک عظیم انقلاب برپا ہوا۔ عبادات الٰہی اور دعاؤں میں بے انتہا شغف پیدا ہوگیا۔ ان کے قادیان کے پہلے دورہ کا سب سے پہلا ثمرہ ترک شراب نوشی تھا۔ شراب بہت پیا کرتے تھے۔ فوری طورپر انہوں نے پہلے شراب ترک کی۔ انہوں نے جوئے اور شراب نوشی سے توبہ کرلی اور ان دونوں چیزوں سے ہمیشہ کے لئے کنارہ کشی اختیار کی، ہمیشہ کے لئے چھوڑ دیا۔ (تلخیص از الفضل۔ ۱۰؍جنوری۱۹۷۸ء ۔ عظیم زندگی۔ صفحہ۳)

شراب کی ممانعت

اس زمانہ میں بھی، آج کل بھی چند سال پہلے بعض احمدی یہاں بھی،جرمنی وغیرہ میں بھی اور دوسرے ملکوں میں بھی ایسے کاروبار جن میں ریسٹورنٹ میں، ہوٹلوں میں جہاں شراب کا کاروبار ہوتا تھا۔ حدیث کے مطابق شراب کشیدکرنے والا، شراب پلانے والا، شراب بیچنے والا، رکھنے والا، ہر قسم کے لوگوں کو کہاگیا کہ یہ جہنمی ہیں اس لئے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے اعلان فرمایا تھاکہ جو بھی احمدی اس کاروبار میں ملوث ہیں ان کو فوری طورپر یہ کاروبار ترک کردینا چاہئے ورنہ ان کے خلاف سخت نوٹس لیا جائے گا۔ تو خود ہی حضور ؒ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑی بھاری تعداد نے اس کاروبارکو ترک کردیا۔ اوربعضوں کو توخداتعالیٰ نے فوراً بہت بہتر کاروبار عطا کئے اور بعضوں کو ابتلا میں بھی ڈالا۔ اور وہ لمبے عرصہ تک کاروبار سے محروم رہے۔ لیکن وہ پختگی کے ساتھ اپنے فیصلے پر قائم رہے اور پھر انہوں نے اس گندے کاروبار میں ہاتھ ڈالنے کی کوشش نہیں کی۔

قرآن کریم سے محبت

امرتسر کے ایک غیراز جماعت میاں محمد اسلم صاحب مارچ ۱۹۱۳ء میں قادیان تشریف لائے تھے۔ وہ حضرت خلیفہ اولؓ کے بارہ میں لکھتے ہیں کہ ’’مولوی نورالدین صاحب نے جو بوجہ مرزا صاحب کے خلیفہ ہونے کے اس وقت احمدی جماعت کے مسلّمہ پیشوا ہیں۔ جہاں تک مَیں نے دو دن ان کی مجالس وعظ و درس قرآن شریف میں رہ کر ان کے کام کے متعلق غورکیاہے مجھے وہ نہایت پاکیزہ اور محض خالصتاً للہ کے اصول پر نظرآیا۔ کیونکہ مولوی صاحب کاطرز عمل قطعاً ریاء و منافقت سے پاک ہے اور ان کے آئینۂ دل میں صداقت اسلام کاایک زبردست جوش ہے جو معرفت توحید کے شفاف چشمے کی وضع میں قرآن مجید کی آیتوں کی تفسیر کے ذریعے ہروقت ان کے بے ریاء سینے سے ابل ابل کر تشنگان معرفت توحید کو فیضیاب کررہاہے۔ اگرحقیقی اسلام قرآن مجید ہے تو قرآن مجید کی صادقانہ محبت جیسی کہ مولوی صاحب موصوف میں مَیں نے دیکھی ہے اور کسی شخص میں نہیں دیکھی۔ یہ نہیںکہ تقلیداً ایسا کرنے پر مجبورہیں۔ نہیں بلکہ وہ ایک زبردست فیلسوف انسان ہے اور نہایت ہی زبردست فلسفیانہ تنقید کے ذریعہ قرآن مجید کی محبت میں گرفتار ہوگیا ہے۔ کیونکہ جس قسم کی زبردست فلسفیانہ تفسیر قرآ ن مجید کی مَیں نے ان کے درس قرآن مجید کے موقعہ پر سنی ہے غالباً دنیامیں چند آدمی ایسا کرنے کی اہلیت اس وقت رکھتے ہوں گے۔ ‘‘(بدر۔ ۱۳؍مارچ ۱۹۱۳ء۔ حیات نور۔ صفحہ ۶۱۱-۶۱۲)

پھر ایک وصیت ہے جو حضرت ڈاکٹر عبدالستار شاہ صاحبؓ نے اپنی اولاد کو کی۔ فرمایا: قرآن شریف کو اپنا تم دستور العمل بنائو اور اتباع سنت کی پیروی اور سلسلہ عالیہ احمدیہ کی ترقی اور اشاعت اسلام میں ہمہ تن مصروف رہو اور اپنی آئندہ نسلوں کو بھی انہی امور کی پابندی کے لئے تیار رکھو۔ (حضرت ڈاکٹر سیّدعبدالستار شاہ صاحب۔ صفحہ ۱۹۳)

یہ نصیحت تو ہر ا حمدی کو ہر وقت پیش نظر رکھنی چاہئے۔

(شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں صفحہ ۲۳۱تا۲۳۳)

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: جنت کی نعماء… سب تمثیلی کلام ہے

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button