متفرق مضامین

حج بیت اللہ کی اہمیت و برکات

حج کی ادائیگی کے لیے مخصوص احکامات ہیں اور اصطلاح شریعت میں حج کے ماہ ذوالحجہ میں بیت اللہ جانے اور وہاں خاص احکام اور مناسک کی تعمیل کرتے ہوئے اس فریضہ کو ادا کرنا ہے

(اظہر احمد۔ناروے)

سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی کتاب چشمہ معرفت میں فرماتے ہیں۔ “عبادت دو قسم کی ہے۔ (۱) ایک تذلل اور انکسار۔(۲) دوسری محبت اور ایثار۔تذلل اور انکسار کے لئے اس نماز کا حکم ہوا جو جسمانی رنگ میں انسان کے ہر ایک عضو کو خشوع اور خضوع کی حالت میں ڈالتی ہے یہاں تک کہ دلی سجدہ کے مقابل پر اس نماز میں جسم کا بھی سجدہ رکھا گیاتاجسم اور روح دونوں اس عبادت میں شامل ہوں۔… ایسا ہی عبادت کی دوسری قسم میں بھی جو محبت اور ایثار ہےانہیں تاثیرات کا جسم اور روح میں عوض معاوضہ ہے۔محبت کے عالم میں انسانی روح ہر وقت اپنے محبوب کے گرد گھومتی ہےاور اس کے آستانہ کو بوسہ دیتی ہے۔ایسا ہی خانہ کعبہ جسمانی طور پر محبان صادق کے لئے ایک نمونہ دیا گیا ہے اور خدا نے فرمایا کہ دیکھو یہ میرا گھر ہے اور یہ حجر اسود میرے آستانہ کا پتھر ہے اورایسا حکم اس لئے دیا کہ تاانسان جسمانی طور پر اپنے ولولہ عشق اورمحبت کو ظاہر کرے سو حج کرنے والے حج کے مقام میں جسمانی طور پر اس گھر کے گرد گھومتے ہیں ایسی صورتیں بنا کر کہ گویاخدا کی محبت میں دیوانہ اور مست ہیں۔زینت دور کر دیتے ہیں سر منڈوا دیتے ہیں اور مجذوبوں کی شکل بنا کر اس کے گھر کے گرد عاشقانہ طواف کرتے ہیں اور اس پتھر کو خدا کے آستانہ کا پتھر تصورکر کے بوسہ دیتے ہیں اور یہ جسمانی ولولہ روحانی تپش اور محبت کو پیدا کردیتا ہےاور جسم اس گھر کے گرد طواف کرتا ہےاورسنگ آستانہ کو چومتاہے اور روح اس وقت محبوب حقیقی کے گرد طواف کرتا ہےاوراس کے روحانی آستانہ کو چومتاہےاور اس طریق میں کوئی شرک نہیںایک دوست ایک دوست جانی کا خط پاکربھی اس کو چومتا ہےکوئی مسلمان خانہ کعبہ کی پرستش نہیں کرتااورنہ حجر اسود سے مرادیں مانگتا ہےبلکہ صرف خدا کاقراردادہ ایک جسمانی نمونہ سمجھا جاتا ہےوبس۔جس طرح ہم زمین پر سجدہ کرتے ہیں مگر وہ سجدہ زمین کے لئے نہیں ایسا ہی ہم حجر اسود کو بوسہ دیتے ہیں مگر وہ بوسہ اس پتھر کے لئے نہیں پتھر تو پتھر ہےجو نہ کسی کو نفع دے سکتا ہے نہ نقصان مگر اس محبوب کے ہاتھ کا ہےجس نے اس کواپنے آستانہ کا نمونہ ٹھرایا۔(چشمۂ معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۹۹ تا ۱۰۱)

امام الزمان سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کایہ حکمت و معرفت سے لبریز اور روح پرور اقتباس حج اور عمرہ کی سعادت پانے والوں کے لیے نہ صرف اپنی عبادات کو ثمر دار بنانے کا باعث ہے بلکہ اس سارے سفر میں ان کے اندر ایسی ولولہ انگیز ایمانی قوت اور روحانی مقناطیسی کشش پیدا کرسکتا ہےجس کا ادراک مسیحی انفاس ہی کر سکتے ہیں۔امر واقعہ یہ ہے کہ عمرہ اورمناسک حج کی ادائیگی کا حقیقی عرفان یہی ہے جسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نہایت مختصر مگر فصیح و بلیغ اندازمیں بطور نچوڑ اور خلاصہ پیش کیا ہے۔

یہ مضمون تو اگرچہ حج کی برکات سے تعلق رکھتا ہے لیکن یہ اس وقت تک ناتمام رہے گا جب تک اس میں بیت اللہ کی عظمت اور تاریخی اہمیت کا ذکر نہ کیا جائے جس کے ساتھ مناسک حج کی بجا آوری وابستہ ہے۔

اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے:اِنَّ اَوَّلَ بَیۡتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِیۡ بِبَکَّۃَ مُبٰرَکًا وَّہُدًی لِّلۡعٰلَمِیۡنَ۔ فِیۡہِ اٰیٰتٌۢ بَیِّنٰتٌ مَّقَامُ اِبۡرٰہِیۡمَ ۬ۚ وَمَنۡ دَخَلَہٗ کَانَ اٰمِنًا ؕ وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الۡبَیۡتِ مَنِ اسۡتَطَاعَ اِلَیۡہِ سَبِیۡلًا۔(آل عمران: ۹۷ ,۹۸) ترجمہ : سب سے پہلا گھر جو تمام لوگوں کے فائدہ کےلیے بنایا گیا تھا وہ ہے۔ جو مکہ میں ہے۔ وہ تمام جہانوں کے لیے برکت والا مقام اور موجب ہدایت ہے۔اس میں کئی روشن نشانات ہیں۔وہ ابراہیم کی قیام گاہ ہے اور جو اس میں داخل ہو وہ امن میں آ جاتا ہے۔اور اللہ نے لوگوں پر فرض کیا ہے کہ وہ اس گھر کا حج کریں یعنی جو بھی اس تک جانے کی توفیق پائے۔

یہاں بیت اللہ کی تاریخ سے متعلق پہلی بات یہ بتائی ہے کہ سب سے پہلا معبد جو اللہ کے حکم سے تمام بنی نوع انسان کے فائدہ کے لیے بنایا گیا ہے وہ بیت اللہ ہے جو مکہ مکرمہ میں ہے۔ دوسرے یہ ذکر کیاہے کہ یہ آدم کے زمانے سے چلا آتا ہے۔خواہ وہ کوئی آدم ہو کیونکہ یہاں کسی آدم کے زمانےکی تخصیص نہیں کی گئی۔پھرایک اَور مقام پر قرآن کریم اسے بَیۡتِ الۡعَتِیۡقِ (الحج : ۳۰)یعنی قدیم گھر کہہ کر اسی طرف اشارہ کرتا ہےکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس گھر کو نہیں بنایا بلکہ وہ پہلے سے بنا ہوا تھا ۔حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام نے اس گھر کو پہلے سے موجود نشانوں پر تعمیر کیا۔اس مضمون کی مزید تائید قرآن کریم کی آیت : وَاِذۡ یَرۡفَعُ اِبۡرٰہٖمُ الۡقَوَاعِدَ مِنَ الۡبَیۡتِ وَاِسۡمٰعِیۡلُ۔(البقرہ: ۱۲۸)سے بھی ہوتی ہے جس میں اس خاص گھر کی بنیادوں کو بلند کرنے کا ذکرکیا گیا ہے۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس نکتہ پر روشنی ڈالتے ہوئے فرماتے ہیں: “یہاں اللہ تعالیٰ نے یضع القواعد نہیں فرمایا بلکہ یرفع القواعد فرمایا ہے۔اگر بنیاد رکھنے کا ذکر ہوتا تو وضع کا لفظ استعمال کیا جاتا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بیت اللہ پہلے سے موجود تھا مگراس کی عمارت منہدم ہو چکی تھی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نےاللہ تعالیٰ کےحکم کےماتحت اس کی بنیادوں کو بلند کیا۔(تفسیر کبیر جلد دوم صفحہ ۴۶۵، ایڈیشن ۲۰۲۳ء)

قرآن کریم کی بعض اَور آیات سے بھی اس مضمون کی تصدیق ہوتی ہے۔چنانچہ خانہ کعبہ کی تعمیر کے وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حضور جو دعائیں کیں اس کے بعض الفاظ بھی اسی امر کی گواہی دیتے ہیں کہ یہ گھر پہلے سے موجود تھا۔ فرمایا: رَبَّنَاۤ اِنِّیۡۤ اَسۡکَنۡتُ مِنۡ ذُرِّیَّتِیۡ بِوَادٍ غَیۡرِ ذِیۡ زَرۡعٍ عِنۡدَ بَیۡتِکَ الۡمُحَرَّمِ۔ (ابراہیم: ۳۸) حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی اس دعا میں عِنۡدَ بَیۡتِکَ الۡمُحَرَّم کے الفاظ استعمال کرتے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ جگہ ان کو الہاما ًبتائی گئی تھی اور خبر دی گئی کہ یہ پہلا گھر ہے جو خدا کے لیے تعمیر ہوا۔ ان آیات کریمہ سے یہ بات خوب واضح ہو جاتی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اس کے بانی نہیں بلکہ انہوں نے صرف اس کی عمارت کی تجدید کی تھی اور اسے اس کی اصلی بنیادوں پر کھڑا کیا تھا۔

بیت اللہ کے قدیم ہونے سے متعلق حضرت مصلح موعودؓ حضرت محی الدین ابن عربیؒ کا ایک کشف بیان کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں: “وہ لکھتے ہیں کہ میں نے ایک دفعہ کشفی حالت میں دیکھا کہ میں بیت اللہ کا طواف کر رہا ہوں اور میرے ساتھ کچھ اَور لوگ بھی ہیں جو بیت اللہ کا طواف کر رہے ہیں مگر وہ کچھ اجنبی قسم کے لوگ ہیں جن کو میں پہچانتا نہیں۔پھرانہوں نے دو شعر پڑھے جن میں سے ایک تو مجھے بھول گیا مگر دوسرا یاد رہا۔ وہ شعر جو مجھے یاد رہا وہ یہ تھا کہ

لَقَدْ طَفْنَا کَمَا طَفّتُمْ سِنِیْنَا

بِھٰذَا الْبَیْتِ طُرًا اَجْمَعِیْنَا

یعنی ہم بھی اس مقدس گھر کا سالہا سال اسی طرح طواف کرتے رہے ہیں جس طرح آج تم طواف کررہے ہو۔ وہ فرماتے ہیں کہ مجھےاس پر بڑا تعجب ہوا پھران میں سے ایک شخص نے مجھےاپنا نام بتایا مگر وہ نام بھی ایسا تھا جو میرے لیے بالکل غیر معروف تھا۔ اس کے بعد وہ شخص مجھ سے کہنے لگا کہ میں تمہارے باپ دادوں میں سے ہوں۔ میں نے پوچھا کہ آپ کو وفات پائے کتنا عرصہ گزر چکا ہے اس نے کہا کہ چالیس ہزار سال سے زیادہ عرصہ گزر رہا ہے۔ میں نے کہا زمانہ آدم پر تو اتنا عرصہ نہیں گزرا ۔اس نے کہاکہ تم کس آدم کا ذکر کرتے ہو کیا اس آدم کا جو تمہارے قریب ترین زمانہ میں ہوا ہے یا کسی اَور آدم کا۔ وہ کہتے ہیں اس پر معا ًمجھےآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث یاد آگئی کہ اللہ تعالیٰ نے ایک لاکھ آدم پیدا کیے ہیں۔ اور میں نے سمجھا کہ میرے یہ جداکبر بھی انہیں میں سے کسی ایک آدم سے تعلق رکھنے والے ہوں گے۔ (فتوحات مکیہ جلد۳)

حضرت محی الدین صاحب ؒابن عربی کا یہ کشف بھی بتا رہا ہے کہ بیت اللہ نہایت قدیم زمانہ سے دنیا کا مرکز اور لوگوں کی ہدایت کا ایک ذریعہ بنا رہا ہے اور اسی طرح یہ دنیا بھی لاکھوں سال سے چلی آ رہی ہے۔ چنانچہ آج سے ہزارہا سال قبل بھی لوگ اس مقدس گھر کا اسی طرح طواف کرتے رہے ہیں جس طرح آج ہم بیت اللہ کا طواف کرتے ہیں۔یہی حقیقت قرآن کریم نے بیان فرمائی ہے کہ یہ البیت العتیقہے جو زمانہ قدیم سے خدا تعالیٰ کے انوار و برکات کا تجلی گاہ رہا ہے اور قیامت تک دنیا کو ایک مرکز پر متحد رکھنے کا ذریعہ بنا رہے گا۔(تفسیر کبیر جلد ۸ صفحہ ۱۶۲۔۱۶۳ ایڈیشن ۲۰۲۳ء)

اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیت اللہ کو مَثَابَۃً لِّلنَّاس قرار دیا ہے یعنی اس کے ساتھ لوگوں کی قلبی محبت و عقیدت، اس کی زیارت سے مشرف ہونے ، روحانی لذت پانے اور وفور عشق کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے: وَاِذۡ جَعَلۡنَا الۡبَیۡتَ مَثَابَۃً لِّلنَّاسِ وَاَمۡنًا (البقرہ:۱۲۶)ترجمہ: اور جب ہم نے اپنے گھر کو لوگوں کے بار بار اکٹھے ہونے کی اورامن کی جگہ بنایا۔

عربی زبان کی فصاحت و بلاغت کا کمال ہے کہ اس کے ایک لفظ میں کئی مفہوم پوشیدہ ہوتے ہیں۔عربی میں لفظ مثابۃ کے دو معنی ہیں۔۱۔ بار بار لوٹنے کی جگہ۔ یعنی جو بھی بیت اللہ کی زیارت کر کے واپس جاتا ہے اسے ایک ایسی روحانی لذت اور جذب وکشش عطا ہوتی ہے کہ وہ دوبارہ اور بار بار وہاں جانا چاہتا ہے۔ گویا ایک دفعہ زیارت کے بعد بیت اللہ کے ساتھ اسےایسی وابستگی عطا ہو جاتی ہے کہ وہ کبھی سیر نہیں ہوتااور پھراس کی طرف لوٹنا چاہتا ہے۔ یہی کیفیت اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں آنحضرت صلی اللہ علیہ کی بیان فرمائی ہے چنانچہ فرمایا: اِنَّ الَّذِیۡ فَرَضَ عَلَیۡکَ الۡقُرۡاٰنَ لَرَآدُّکَ اِلٰی مَعَادٍ۔(القصص:۸۶)ترجمہ: یقیناً وہ جس نے تجھ پر قرآن فرض کیا ہے تجھے ضرور ایک واپس آنے کی جگہ کی طرف واپس لے آئیے گا۔ اس فطرتی اور طبعی کشش کا اصل راز درحقیقت حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بیت اللہ کی تعمیر نَو کے وقت خلوصِ نیت سے مانگی گئی ان دعاؤں میں پوشیدہ ہے جو آپؑ نے بڑی گریہ و زاری کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور کیں۔ عرض کیا:فَاجۡعَلۡ اَفۡئِدَۃً مِّنَ النَّاسِ تَہۡوِیۡۤ اِلَیۡہِمۡ (ابراہیم :۳۸)کہ اے ہمارے ربّ ! تُو لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف مائیل کر دے۔ پس یہ ابراہیمی دعاؤں کا معجزہ ہے کہ دنیا کے ہر کونے سے لوگ کشاں کشاں توحید کے اس عظیم الشان روحانی مرکز کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں۔اور بالآخر یہ گھر آج ساری دنیا کے لیے مرجع خلائق بن چکا ہے۔ مثابۃ کے دوسرے معنی “مکانا یکتب فیہ الثواب”وہ مقام جہاں لوگوں کے لیے ثواب اور اجر کے احکام جاری ہوتے اور لکھے جاتے ہیں۔ اس صورت میں مراد یہ ہے کہ بیت اللہ کی زیارت ایک للّہی سفر ہے اور جب یہ سفر خالص نیک نیتی اور رضائےباری کے حصول کی خاطر اختیار کیا جائے تو اس کا اس قدر ثواب اور اجر حاصل ہوتا ہے جو کہیں اور نہیں مل سکتا۔

قرآن کریم میں بیت اللہ کے نام

قرآن کریم نے خانہ کعبہ کے حسب ذیل متعدد نام بھی بیان فرمائے ہیں جو مختلف پہلوؤں سے اس کے تقدس ، عظمت شان اس کی تاریخی اہمیت و فضیلت اور قومی وملی مرکزیت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ بیتی، البیت، البیت العتیق، کعبۃ البیت الحرام، المسجد الحرام، معاد، مثابۃ للناس و امنا، قیاما للناس۔ البیت المعمور۔

حج کی فرضیت کا حکم

جب حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام بیت اللہ کی از سر نو تعمیر کر چکے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا: وَاَذِّنۡ فِی النَّاسِ بِالۡحَجِّ یَاۡتُوۡکَ رِجَالًا وَّعَلٰی کُلِّ ضَامِرٍ یَّاۡتِیۡنَ مِنۡ کُلِّ فَجٍّ عَمِیۡقٍ۔ لِّیَشۡہَدُوۡا مَنَافِعَ لَہُمۡ وَیَذۡکُرُوا اسۡمَ اللّٰہِ فِیۡۤ اَیَّامٍ مَّعۡلُوۡمٰتٍ عَلٰی مَا رَزَقَہُمۡ مِّنۡۢ بَہِیۡمَۃِ الۡاَنۡعَامِ ۚ فَکُلُوۡا مِنۡہَا وَاَطۡعِمُوا الۡبَآئیِسَ الۡفَقِیۡرَ۔ ثُمَّ لۡیَقۡضُوۡا تَفَثَہُمۡ وَلۡیُوۡفُوۡا نُذُوۡرَہُمۡ وَلۡیَطَّوَّفُوۡا بِالۡبَیۡتِ الۡعَتِیۡقِ۔ (الحج: ۲۸تا۳۰) ترجمہ: اور لوگوں میں حج کااعلان کر دے وہ تیرے پاس پاپیادہ آئیں گے۔اور ہر ایسی سواری پر بھی جو لمبے سفر کی تھکان سے دبلی ہو گئی ہوں وہ (سواریاں اور چیزیں) ہر گہرے اور دور کے رستوں پر آئیں گی۔تاکہ وہ وہاں پر اپنے فوائد کا مشاہدہ کر سکیں اور چند معروف دنوں میں اللہ کے نام کا ذکر (بلند)کریں اس (احسان )پر کہ اس نے مویشی چوپایوں کے ذریعہ انہیں رزق عطا کیا ہے۔پس ان میں سے (خود )بھی کھاؤ اور محتاج ناداروں کو بھی کھلاؤ۔ پھرچاہیے کہ وہ اپنی(بدیوں کی)میل کو دور کریں اور اپنی منتوں کو پوراکریں اور اس قدیم گھر کا طواف کریں۔(ترجمہ حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ)

ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑکو یہ کہہ دیا تھا کہ یہ حکم صرف تیرے لیے نہیں بلکہ تمام بنی نوع انسان کے لیے ہے۔اسی حکم کے ذریعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے یہ تاکید کی ہے کہ آپ تمام بنی نوع انسان کو حج کی غرض سے خانہ کعبہ آنے کے لیے دعوت عام دیں جس کے نتیجے میں لوگ دور دور سے پیدل بھی اورمختلف سواریوں کے ذریعہ تیرے پاس آئیں تاکہ وہ دینی و دنیوی منافع حاصل کریں۔نیز اپنی ظاہری و جسمانی صفائی کے علاوہ اپنی برائیوں کوالوداع کہتے ہوئے روحانی پاکیزگی کے اعلی مقام کو حاصل کرسکیں۔

حج۔ ارکان اسلام کا بنیادی رکن

حج اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ایک اہم رکن ہے جو انسان کے تکمیل ایمان کا باعث ہے۔ یہ سفر بےشمار روحانی اسرار و رموز اور علم ومعرفت کے بے بہا خزانے اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔یہ ایسا للّہی سفر ہے جو دینی و دنیوی برکات آسمانی کے نزول کے ذریعہ زائر کی زندگی کو بدل دیتا ہے مشکلات اور مصائب کو زائل کر دیتا ہے۔

لفظ حج اور عمرہ کے معنی

حج کے اصل معنی ارادہ اور قصد کے ہیں۔ عمرہ اعتمر سے نکلا ہے جس کے معنی ’’قصدہ وزارہ‘‘ کے ہیں یعنی کسی مقدس مقام پر جانے کا قصد کرنا اور اس کی زیارت کرنا۔عمرہ کے لیے کوئی خاص وقت مقرر نہیں۔دوران سال کسی وقت بھی اداکیا جا سکتا ہے۔ یہ بیت اللہ کے طواف اور سعی بین الصفا والمروہ کا نام ہے۔ لیکن حج کی ادائیگی کے لیے مخصوص احکامات ہیں اور اصطلاح شریعت میں حج کے ماہ ذوالحجہ میں بیت اللہ جانے اور وہاں خاص احکام اور مناسک کی تعمیل کرتے ہوئے اس فریضہ کو ادا کرنا ہے۔

ارکان حج

حج کے تین بنیادی رکن ہیں: ۱۔ احرام یعنی نیت باندھنا۔ ۲۔وقوف عرفہ یعنی ۹؍ذوالحجہ کو عرفات کے میدان میں ٹھہرنا خواہ تھوڑی دیر کے لیے ہی سہی۔اگر عرفات نہیں پہنچا تو اس کا حج نہ ہو گا پھراسے اگلے سال دوبارہ حج کرنا ہو گا۔۳۔ طواف زیارت جسے طواف افاضہ بھی کہتے ہیں یعنی وہ طواف جو وقوف عرفہ کے بعد ۱۰؍ذوالحجہ یا اس کے بعد کی تاریخوں میں کیا جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں صفا اور مروہ کو شعائراللہ قرار دیتے ہوئے ان دونوں عبادتوں کا اکٹھا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: فَمَنۡ حَجَّ الۡبَیۡتَ اَوِ اعۡتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡہِ اَنۡ یَّطَّوَّفَ بِہِمَا (البقرہ :۱۵۹) پس جو کوئی بھی اس بیت کا حج کرے یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ ان دونوں کا طواف کرے۔

حج فرض ہونے کی شرائط

مسلمان ہو۔ عاقل ہو۔ بالغ ہو۔ گھر کے اخراجات کے علاوہ مناسب زاد راہ پاس ہو۔ سفر کے مصارف کے لیے وافر رقم موجود ہو۔ تندرست اور سفر کے قابل ہو۔راستہ پُرامن ہو اور مکہ جانے کے لیے کوئی روک نہ ہو۔

اشہر الحج ۔ حج کے مہینے

۱۔ شوّال ۲۔ ذی قعدہ ۳۔ ذوالحجہ۔ ان مہینوں کو اشہر الحج اس لیے کہا جاتا ہے کہ ان میں حج کی تیاری ، اخلاق کی درستگی، حج کے جملہ احکام کی تعمیل کی تیاری، احرام وغیرہ سب شامل ہیں۔

حج کا قمری مہینوں سے تعلق

حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: حج کا فریضہ قمری مہینہ میں ادا کیا جاتا ہے یہ عبادت سارے سال میں چکر لگاتی رہتی ہے اور مختلف طبائع کے لوگ اور گرم سرد ممالک کے رہنے والے اپنی اپنی طبیعت اور اپنے اپنے حالات کے مطابق اس میں حصہ لے سکتے ہیں۔اگر حج کسی شمسی مہینہ میں مقرر کر دیا جاتا تو لازماً وہ ہر سال ایک ہی مہینہ میں ہوتا اور کئی لوگوں کےلئے حج کا فریضہ ادا کرنا ناممکن ہو جاتا۔ مگر اب حج کی عبادت سارے سال میں چکر لگاتی رہتی ہے اور ہر شخص اپنے اپنے حالات کے مطابق بیت اللہ کا سفر کر کے حج کی برکات سے مستفیض ہو سکتا ہے۔(تفسیر کبیر جلد۳ صفحہ ۲۲۳، ایڈیشن ۲۰۲۳ء)

حج کی فرضیت اور احادیث

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے خطاب کیا اور فرمایا: اے لوگو ! اللہ نے تم پر حج فرض کیا ہے پس حج کرو۔ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہؐ! کیا ہر سال ؟ آپؐ خاموش رہے یہاں تک کہ اس نے تین مرتبہ یہ سوال کیا ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر مَیں ہاں کہہ دیتا تو یہ فرض ہو جاتا اور تم اس کی طاقت نہ رکھتے۔(مسلم حدیث نمبر ۲۳۶۶)

حج کی برکات اور احادیث رسولؐ

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کی متعدد برکات بیان فرمائی ہیں۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا؟ عملوں میں سے کون سا عمل افضل ہے ؟ آپؐ نے فرمایا: اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا۔ پوچھا گیا پھر اس کے بعد کون سا ؟ فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔پوچھا گیا پھر کون سا ؟ فرمایا حج مبرور ۔یعنی وہ حج جو سراسر نیکی اور اطاعت شعاری پر مبنی ہو۔ (بخاری كتاب الحج ، باب فَضْلِ الْحَجِّ الْمَبْرُورِ ،حدیث نمبر ۱۵۱۹)

حضرت ابو ھریرہ ؓسے مروی ہے کہ مَیں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے اللہ کےلیے حج کیا اور پھرشہوانی بات نہ کی اور نہ احکام الٰہی کی نافرمانی کی تو وہ ایسا(پاک ہو کر)لوٹے گا جیسا اس دن پاک تھا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا۔(بخاری کتاب الحج ، باب فَضْلِ الْحَجِّ الْمَبْرُورِ حدیث نمبر ۱۵۲۱)

حج اور عمرےکی فضیلت اور برکات کے متعلق حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتےہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ایک عمرہ دوسرے عمرہ تک ان دونوں کے درمیان کے لیے کفارہ ہو جاتا ہے۔ اور حج مبرور یعنی نیکی پر مشتمل حج کا اجر سوائے جنت کے اور کوئی نہیں۔(مسلم حدیث نمبر ۲۳۸۹)

فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوۡقَ ۙ وَلَا جِدَالَ کے متعلق حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یہاں رفث، فسوق اور جدال تین گناہوں کے چھوڑنے کا ذکر کیا گیا ہے۔ رفث مرد عورت کے مخصوص تعلقات کو کہتے ہیں۔ لیکن اس کے علاوہ بدکلامی کرنا، گالیاں دینا، گندی باتیں کرنا، قصے سنانا، لغو اور بیہودہ باتیں کرنا جسے پنجابی میں گپیں مارنا کہتے ہیں۔ یہ تمام امور بھی رفث میں ہی شامل ہیں۔ اور فسوق وہ گناہ ہیں جو خدا تعالیٰ کی ذات سے تعلق رکھتے ہیں جن میں انسان اس کی اطاعت اور فرماں برداری سے باہر نکل جاتا ہے۔ آخر میں جدال کا ذکر کیا ہے جو تعلقات باہمی کو توڑنے والی چیز ہے ان تین الفاظ کے ذریعہ درحقیقت اللہ تعالیٰ نے تین اصلاحوں کی طرف توجہ دلائی ہے۔ فرمایا۔ ۱۔اپنی ذاتی اصلاح کرواور اپنے دل کو ہر قسم کے گندے اور ناپاک میلانات سے پاک رکھو۔ ۲۔اللہ تعالیٰ سے اپنا مخلصانہ تعلق رکھو۔ ۳۔انسانوں سے تعلقات محبت کو استوار رکھو۔ گویا یہ صرف تین بدیاں ہی نہیں جن سے روکا گیا ہےبلکہ تین قسم کی بدیاں ہیں جن سے باہر کوئی بدی نہیں رہتی۔ کیونکہ بدی یا تو اپنے نفس سے تعلق رکھتی ہے یا خداتعالیٰ سے تعلق رکھتی ہے۔ اور یا پھرمخلوق سے تعلق رکھتی ہے۔ اورروحانیت کی ترقی کے لئے ضروری ہے کہ انسان اپنی ذاتی اصلاح کے بعد حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی میں بھی سرگرم رہے۔(تفسیر کبیر جلد۳ صفحہ۲۵۲، ایڈیشن ۲۰۲۳ء)

یوم عرفہ ۹؍ذوالحجہ کی فضیلت کے متعلق حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی دن جس میں اللہ تعالیٰ کثرت سے بندوں کو آگ سے آزاد کرتا ہےعرفہ کے دن سے بڑھ کر نہیں ۔اس روز یقیناً وہ بہت قریب آ جاتا ہے پھران بندوں پر فرشتوں کے پاس اظہار فخر کرتا ہے اور فرماتا ہےان لوگوں نے کیا خوب ارادے کیےتھے۔ (مسلم حدیث نمبر ۲۳۸۸)

حضرت عمرو بن العاصؓ اپنے اسلام قبول کرنے کا واقعہ یوں بیان کرتے ہیںکہ جب اللہ نے اسلام میرے دل میں ڈال دیاتو میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیااور کہا کہ اپنا دایاں ہاتھ بڑھائیے کہ میں آپ کی بیعت کروں۔ آپؐ نے اپنا دایاں ہاتھ بڑھایا تو کہتے ہیں کہ میں نے اپنا ہاتھ واپس کھینچ لیا۔ آپؐ نے فرمایا: اے عمرو تمہیں کیا ہوا ؟کہتے ہیں میں نے کہا: ایک شرط طے کرنا چاہتا ہوں۔ فرمایا: تم کیا شرط کرنا چاہتے ہو؟میں نے کہا یہ کہ مجھےبخش دیا جائے۔ فرمایا:کیا تم نہیں جانتےکہ اسلام پہلے کی تمام عمارت کو گرا دیتا ہے اور ہجرت بھی اپنے سے پہلے تمام عمارت کو گرا دیتی ہے اور حج بھی اپنے سے پہلےتمام عمارت کو گرا دیتاہے۔یعنی گذشتہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔(مسلم حدیث ۱۲۱)

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حج کا اسی صورت میں فائدہ ہو سکتا ہےجب انسان اپنے دل میں خدا تعالیٰ کا خوف رکھےاور اخلاص اور محبت کے ساتھ اس فریضہ کو ادا کرےاگر وہ اخلاص کے ساتھ حج کےلئے جاتا ہے تو وہ ایمانوں کے ڈھیر لے کر واپس آتا اوراگر وہ اخلاص کے بغیر جاتا ہے تو وہ اپنے پہلے ایمان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔(تفسیر کبیر جلد ۸صفحہ ۱۵۹، ایڈیشن ۲۰۲۳ء)

یہاں ضروری معلوم ہوتا ہے کہ مختصر طور پہ احرام باندھنے نیز مقامات حج کے نام اور ان کی حکمت بھی بتا دی جائے۔ ۱۔احرام باندھنا۔ اس میں کفن کی طرح دو چادریں ایک خاص بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ انسان کو یوم الحشر کا اندازہ ہوسکے اور یہ نظارہ مناسک حج میں جہاں لاکھوں لوگ جمع ہوتے ہیں، تو حشر کا نقشہ انسان کی آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے۔۲۔ منییہ لفظ امنیہ سے نکلا ہےجس کے معنی آرزو اور مقصد کے ہیں۔یہ اس طرف اشارہ کرتاہےکہ لوگ اس جگہ محض خدا کو ملنے اور شیطان سے کامل نفرت اورعلیحدگی کا اظہار کرنے کے لیے جاتےہیں۔یہ وہ مقام ہے جہاں حضرت ابراہیمؑ، حضرت ہاجرہؑ اور اسماعیلؑ  کوچھوڑ کر جارہے تھےتب حضرت ہاجرہ گھبرائی ہوئی تھیں تو آپ نے پوچھا ہمیں یہاں اکیلے کیوں چھوڑ کر جا رہے ہیں توآپ نے جواب دیا اللہ کے حکم سے۔ تب حضرت ہاجرہ نےکہا: اذا لا یضیعنا (بخاری کتاب الانبیاء) تب ہمیں خدا کبھی ضائع نہیں کرے گا۔اس جگہ شیطان ہمیشہ کے لیے مار دیا گیا یہی وجہ ہے کہ یہاں شیطان کو کنکر مارے جاتے ہیں۔ ۳۔عرفات تجلیات اور انوار الہیہ کے نزول کا مقام ہے۔ اس میں یہ اشارہ ہے کہ اب ہمیں خدا تعالیٰ کی معرفت اور پہچان ہو گئی ہے اورہم اس سے مل گئے ہیں۔۴۔ مزدلفہ۔ وہ مقام ہے جہاں آپ سے وعدہ کیا گیا کہ اس قربانی کے بدلے تجھےبہت بلند مقام اور اعلی درجات عطا کیے جائیں گے۔ ۵۔ قربانی یا ذبیحہ اس طرف توجہ دلاتا ہے کہ انسان اپنے آپ کو ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربان کرنے کے لیے تیار رکھے۔۶۔رمی جمار یعنی شیطان کو سات سات کنکریاں مارنا اور پھرسات مرتبہ ہی طواف کاعدد روحانی مدارج کی تکمیل کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ۷۔ حجر اسود کو بوسہ دینا اس امر کا اظہار ہے کہ میں جس کو بوسہ دے رہا ہوں اسے اپنے آپ سے جدا رکھنا پسند نہیں کرتا بلکہ چاہتا ہوں کہ وہ میرے جسم کا حصہ بن جائے۔الغرض حج ایک عظیم الشان عبادت ہے جو ایک سچے مومن کے لیے ہزاروں برکات اور انوار کا موجب بنتی ہے۔ (تفسیر کبیر جلد ۳ صفحہ ۲۷۰، ایڈیشن ۲۰۲۳)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاخطبہ حجۃ الوداع انسانیت کے لیے ابدی راہنمائی

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاخطبہ حجۃ الوداع کا جو آپؐ نے ۹؍ذوالحجہ سن دس ہجری میدان عرفات میں ارشاد فرمایا۔ یہ خطبہ انسانیت کے لیے ایک عالمی منشور کی حیثیت رکھتاہے۔

احادیث میں آتا ہےکہ نبیﷺ کریم بطن الوادی میں آئے اور لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا: ’’تمہارا خون اور تمہارا مال ایک دوسرے پر اسی طرح ہے جس طرح تمہارے آج کے دن کی، رواں مہینے کی اور موجودہ شہر کی حرمت ہے۔ سن لو! جاہلیت کی ہر چیز میرے پاؤں تلے روند دی گئی۔ جاہلیت کے خون بھی ختم کردیے گئے اور ہمارے خون میں سب سے پہلا خون جسے میں ختم کررہا ہوں وہ ربیعہ بن حارث کے بیٹے کا خون ہے۔ یہ بچہ بنو سعد میں دودھ پی رہا تھا کہ انہی ایام میں قبیلہ ہزیل نے اسے قتل کردیا اور جاہلیت کا سود ختم کردیا گیا، اور ہمارے سود میں سے پہلا سود جسے میں ختم کررہا ہوں وہ عباس بن عبدالمطلب کا سود ہے۔ اب یہ سارا کا سارا سود ختم ہے۔

ہاں! عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو، کیونکہ تم نے انہیں اللہ کی امانت کے ساتھ لیا ہے اور اللہ کے کلمے کے ذریعے حلال کیا ہے۔ ان پر تمہارا حق یہ ہے کہ وہ تمہارے بستر پر کسی ایسے شخص کو نہ آنے دیں جو تمہیں گوارا نہیں۔ اگر وہ ایسا کریں تو تم انہیں مار سکتے ہو لیکن سخت مار نہ مارنا، اور تم پر ان کا حق یہ ہے کہ تم انہیں معروف کے ساتھ کھلاؤ اور پہناؤ اور میں تم میں ایسی چیز چھوڑے جارہا ہوں کہ اگر تم نے اسے مضبوطی سے پکڑے رکھا تو اس کے بعد ہرگز گمراہ نہ ہوگے اور وہ ہے اللہ کی کتاب اور تم سے میرے متعلق پوچھا جانے والا ہے تو تم لوگ کیا کہو گے؟ صحابہؓ نے کہا: ہم شہادت دیتے ہیں کہ آپؐ نے تبلیغ کردی، پیغام پہنچا دیا اور خیرخواہی کا حق ادا کردیا۔

یہ سن کر آپﷺ نے انگشت شہادت کو آسمان کی طرف اٹھایا اور لوگوں کی طرف جھکاتے ہوئے تین بار فرمایا: اے اللہ گواہ رہ۔‘‘(صحیح مسلم ۲۹۴۱, سنن ابی داود ۱۹۰۲, سنن ابن ماجہ ۱۸۵)

یہاں خلاصۃً چند برکات حج بیان کردیتاہوں اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان پر عمل کرنے اور ان سے متمتع ہونے کی توفیق بخشے۔ ۱۔حج شرک سے بیزاری اور توحید خالص کے قیام کا ذریعہ ہے۔ ۲۔ ذکر الٰہی اور درود شریف کا بکثرت ذکر کرنے کےمواقع نصیب ہوتے ہیں۔۳۔حج زندگی کے ہر شعبہ میں مساوات کا درس دیتا ہے۔۴۔برائیوں کے قلع قمع کر نے کا عہد کرنے اور ایک نئی زندگی بخشتاہے۔ ۵۔حج تقویٰ اور خشیت اللہ کے حصول کا ذریعہ ہے۔ ۶۔حج عالمی مرکزیت کی روح پیدا کرتا ہے۔ ۷۔ باہمی اخوت و محبت میں ترقی کا باعث ہے۔ ۸۔حج دنیا کے مختلف کونوں سے متفرق لوگوں کو اکٹھا کرنے کا مرکز ہے۔ ۹۔حج اسلام کے عالگیر مذہب ہونے کی علامت ہے جو دنیا کی اقوام کو وحدت کے سلسلہ میں منسلک کرتا ہے۔ ۱۰۔ حج سچے اخلاص، صبر ورضا اور حلم و وفاسکھانے کا اہم ذریعہ ہے۔۱۱۔ حج قبو لیت دعا کے یقین کو مستحکم کرتا ہے جہاں لاکھوں لوگ ہوں اور مل کر دعا کریں تو ضرور قبول ہوتی ہے۔۱۲۔حج قناعت کا درس دیتا ہے۔ ۱۳۔اللہ تعالیٰ کی خاطر غیر معمولی قربانیوں کا جذبہ پیداکرتا ہے۔ ۱۴۔حج ایمانی تازگی اور لطافت کا باعث بنتا ہے۔۱۵۔مختلف اقوام سے تعلقات باہمی کا ذریعہ ہے۔۱۶۔ بیت اللہ کی حفاظت اور اس کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ ۱۷۔ شعائیر اللہ کی عظمت کا احساس مزید ترقی کرتا ہے۔ ۱۸۔حج سےکثرت استغفار کی توفیق ملتی ہے۔ ۱۹۔حج اسلامی ممالک کی اقتصادی بنیادوں کو مضبوط بنانے کا ذریعہ ہے۔ ۲۰۔ یہ امت مسلمہ کے استحکام کا باعث ہے۔ ۲۱۔ حج غیر معمولی روحانی اجر وثواب کا باعث ہے۔ ۲۲۔حج کے ذریعہ ایک دوسرے کی خوبیاں اپنانے کی توفیق ملتی ہے۔ ۲۳۔حج یہ سبق دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربانیاں پیش کرنے والے کبھی ضائع نہیں ہوتے۔خداتعالیٰ ان کا حامی اور متکفل ہو جاتا ہے۔ فریضہ حج کی ادائیگی کےمتعلق حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:“اگر خدا تعالیٰ نے توفیق دی ہو تو جلدی حج کر لینا چاہیے۔‘‘ (تفسیر کبیر، جلد ۸ صفحہ ۱۵۷، ایڈیشن ۲۰۲۳)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام حج کا فلسفہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اصل بات یہ ہےکہ سالک کا آخری مرحلہ یہ ہے کہ وہ انقطاع نفس کر کے تعشق باللہ اور محبتِ الٰہی میں غرق ہوجائے۔عاشق اور محب جو سچاہوتا ہے وہ اپنی جان اور اپنا دل قربان کردیتاہے اوربیت اللہ کا طواف اس قربانی کے واسطے ایک ظاہری نشان ہے۔جیسا کہ ایک بیت اللہ نیچے زمین پر ہے ایسا ہی ایک آسمان پر بھی ہے جب تک آدمی اس کا طواف نہ کرے اس کا طواف بھی نہیں ہوتا،اس کا طواف کرنے والا تو تمام کپڑے اتار کر ایک کپڑا بدن پر رکھ لیتا ہے لیکن اس کا طواف کرنے والا بالکل نزع ثیاب کرکے خدا کے واسطےننگا ہو جاتاہے۔طواف عشاق الٰہی کی ایک نشانی ہے عاشق اس کے گرد گھومتے ہیں گویا ان کی اپنی مرضی باقی نہیں رہی وہ اس کے گردا گرد قربان ہو رہے ہیں۔ (ماخوذ از ملفوظات جلد نہم صفحہ ۳۱، ایڈیشن ۲۰۲۲ء)

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: فلسفہ قربانی

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button