آنحضرتﷺ کی غلامی میں حضرت اقدس مسیح موعودؑ کی عاجزی اور انکساری کے واقعات نیز اپنی جماعت کو عجز و انکسار اختیار کرنے کی نصیحت۔ خلاصہ خطبہ جمعہ ۲۹؍مئی ۲۰۲۶ء
٭…آپؑ کی عاجزی کو دیکھتے ہوئے خود اللہ تعالیٰ نے اس کی سند آپؑ کو عطا فرمائی۔۱۸؍مارچ ۱۹۰۷ء کو آپؑ کو الہام ہوا کہ تیری عاجزانہ راہیں اُس کو پسند آئیں
٭… مَیں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میری طبیعت اور فطرت میں ہی یہ بات نہیں کہ مَیں اپنے آپ کو کسی تعریف کا خواہش مند پاؤں، اور اپنی عظمت کے اظہار سے خوش ہوں۔ مَیں ہمیشہ انکسار اور گمنامی کی زندگی پسند کرتا رہا لیکن یہ میرے اختیار اور طاقت سے باہر تھا کہ خدا تعالیٰ نے خود مجھے باہر نکالا اور جس قدر میری تعریف اور بزرگی کا اظہار اُس نے اپنے کلام میں جو مجھ پر نازل کیا گیا ہے کیا ہے۔ یہ ساری تعریف اور بزرگی آنحضرتﷺکی ہی ہے(حضرت مسیح موعودؑ)
٭… عاجزی اختیار کرنی چاہیے، عاجزی کا سیکھنا مشکل نہیں ہے، اس کا سیکھنا ہی کیا ہے۔ انسان تو خود ہی عاجز ہے اور وہ عاجزی کے لیے ہی پیدا کیا گیا ہے(حضرت مسیح موعودؑ)
٭… آپؑ کا ہر قول و فعل عاجزی کے اظہار سے بھرا ہوا تھا ۔ صرف ایک جستجو تھی اور وہ یہ کہ خدا تعالیٰ کی رضا حاصل ہو، اس کی وحدانیت کو دنیا میں پھیلایاجائے۔ ہمیں بھی حضورؑ نے یہی نصیحت فرمائی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان باتوں پر عمل کی توفیق عطا فرمائے
خلاصہ خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ ۲۹؍مئی ۲۰۲۶ء بمطابق ۲۹؍ہجرت ۱۴۰۵؍ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد،ٹلفورڈ(سرے)، یوکے
اميرالمومنين حضرت خليفةالمسيح الخامس ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے مورخہ ۲۹؍مئی ۲۰۲۶ء کو مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ، يوکے ميں خطبہ جمعہ ارشاد فرمايا جو مسلم ٹيلي وژن احمديہ کے توسّط سے پوري دنيا ميں نشرکيا گيا۔ جمعہ کي اذان دينےکي سعادت مکرم دانیال تصوّر صاحب (مربی سلسلہ)کے حصے ميں آئي۔
تشہد،تعوذ اورسورة الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
آنحضرتﷺ کی غلامی میں حضرت اقدس مسیح موعودؑ کی عاجزی اور انکسار ی کے واقعات اور اپنی جماعت کو عاجزی و انکسار ی اختیار کرنے کی نصیحت کے متعلق آج کچھ بیان کروں گا۔
آپؑ کی عاجزی کو دیکھتے ہوئے خود اللہ تعالیٰ نے اس کی سند آپؑ کو عطا فرمائی۔۱۸؍مارچ ۱۹۰۷ء کو آپؑ کو الہام ہوا کہ
تیری عاجزانہ راہیں اُس کو پسند آئیں۔
حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ اس عاجز پر ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ خاکسار اپنی غربت اور انکسار اور توکّل اور ایثاراور آیات اور انوار کی رُو سے مسیح کی پہلی زندگی کا نمونہ ہے۔
ایک دفعہ ایک شخص نے حضرت (مسیح موعودؑ) کی خدمت میں عرض کی کہ حضور ؑنے حقیقة الوحی کے لکھنے اور پروفوں کے بار بار پڑھنے میں بہت تکلیف اٹھائی ہے اور اس لیے حضورؑ کی طبیعت بھی خراب ہوتی رہی ہے۔ اس لیے اب چند دن حضورؑ بالکل آرام فرمائیں۔ حضورؑ نے جواب دیا ہماری محنت ہی کیا ہے ، ہمیں تو شرم آتی ہے جب صحابہ رضوان اللہ علیہم کی محنتوں کی طرف نگاہ کرتے ہیں کہ کس طرح خوشی کے ساتھ اُن لوگوں نے خدا کی راہ میں اپنے سر بھی کٹوا دیے۔
ایک جگہ آپؑ فرماتےہیں کہ کم فہم لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ مَیں اپنے مدارج کو حد سے بڑھاتا ہوں۔
مَیں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میری طبیعت اور فطرت میں ہی یہ بات نہیں کہ مَیں اپنے آپ کو کسی تعریف کا خواہش مند پاؤں، اور اپنی عظمت کے اظہار سے خوش ہوں۔ مَیں ہمیشہ انکسار اور گمنامی کی زندگی پسند کرتا رہا لیکن یہ میرے اختیار اور طاقت سے باہر تھا کہ خدا تعالیٰ نے خود مجھے باہر نکالا اور جس قدر میری تعریف اور بزرگی کا اظہار اُس نے اپنے کلام میں جو مجھ پر نازل کیا گیا ہے کیا ہے۔ یہ ساری تعریف اور بزرگی آنحضرتﷺکی ہی ہے۔
ایک آسٹریلین نَو مسلم محمد عبدالحق صاحب کو آپؑ نے فرمایا کہ ہمارے اصولوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہم سادہ زندگی بسر کرتے ہیں۔ وہ تمام تکلّفات جوکہ آج کل یورپ نے لوازمِ زندگی بنا رکھے ہیں اُن سے ہماری مجلس پاک ہے، رسم و عادت کے ہم پابند نہیں…کھانے پینے اور نشست و برخاست میں ہم سادہ زندگی کو پسند کرتے ہیں۔
ایک جگہ آپؑ فرماتے ہیں:
عاجزی اختیار کرنی چاہیے، عاجزی کا سیکھنا مشکل نہیں ہے، اس کا سیکھنا ہی کیا ہے۔ انسان تو خود ہی عاجز ہے اور وہ عاجزی کے لیے ہی پیدا کیا گیا ہے۔
فرمایا:مبارک وہ لوگ جو اپنے تئیں سب سےزیادہ ذلیل اور چھوٹا سمجھتے ہیں اور شرم سے بات کرتے ہیں…اور زمین پر غریبی سے چلتے ہیں۔ سو مَیں باربار کہتا ہوں کہ ایسے ہی لوگ ہیں جن کے لیے نجات تیار کی گئی ہے۔
حضورِانور نے فرمایا کہ بعض لوگوں کو جلسے کے دنوں میں آگے کرسیوں پر بیٹھنے کی خواہش ہوتی ہے یا گرین ایریا وغیرہ میں بیٹھنے کی خواہش کی جاتی ہے۔ قریب ہوکر خلیفہ وقت کی بات سننے کےلیے تو یہ خواہش ٹھیک ہے مگر بعض دفعہ اس میں انائیں بھی شامل ہوجاتی ہیں۔یہ نہیں ہونی چاہئیں۔ کیونکہ اس سے انتظام کرنے والوں کے لیے مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔ حضورؑ فرماتے ہیں کہ
انسان کو چاہیے کہ جب کہیں جاوے تو سب سے نیچی جگہ اپنے لیے تجویز کرے۔ اور اگر وہ کسی اور جگہ کے لائق ہوگا تو میزبان خود اسے بلاکر جگہ دے دے گا۔
فرمایا: کوئی شخص محبتِ الٰہی اور رضائے الٰہی کو حاصل نہیں کرسکتا جب تک دو صفتیں اس میں پیدا نہ ہوجائیں۔ اوّل تکبر کو توڑنا …دوسرا یہ کہ پہلے تمام تعلقات اس کے ٹوٹ جائیں …جو موجبِ گندگی اور للّہی نا رضامندی کے تھے وہ تمام ٹوٹ جائیں۔
فرمایا :
جو بیعت کے ساتھ نفسانیت رکھتا ہے اُسے ہرگز فیض حاصل نہیں ہوتا۔ جس قدر نرمی تم اختیار کرو گے اور جس قدر فروتنی اور تواضع تم کرو گے اللہ تعالیٰ اسی قدر تم سے خوش ہوگا۔
فرمایا :متکبر خدا کے تخت پر بیٹھنا چاہتا ہے۔ پس اس قبیح خصلت سے ہمیشہ پناہ مانگو۔ خداتعالیٰ کے خواہ تمام وعدے تمہارے ساتھ ہوں مگر تم جب بھی فروتنی کرو کیونکہ فروتنی کرنے والا ہی خداکا محبوب ہوتا ہے۔
ایک دفعہ حضورؑ سے دریافت کیا گیا کہ حضور!حدیث میں آتا ہے کہ سب نبیوں نے بکریاں چَرائی ہیں۔ کیا کبھی حضورؑ نے بھی چَرائی ہیں؟ حضورؑ نے فرمایا کہ ہاں! مَیں ایک دفعہ باہر کھیتوں میں گیا وہاں ایک شخص بکریاں چرا رہا تھا۔ اس نے کہا مَیں ایک کام جاتا ہوں آپ ذرا میری بکریوں کا خیال رکھیں۔ مگر وہ ایسا گیا کہ شام کو واپس آیا اوراس کے آنے تک ہمیں اس کی بکریاں چَرانی پڑیں۔
حضرت مسیح موعودؑ کو گھر کا کوئی کام کرنے سے کبھی کوئی عار نہ تھی۔ چارپائیاں خود بچھا لیتے، فرش کرلیتے۔ بسترا کرلیا کرتے۔ جس طرح کا کھانا بھی ہوتا آپؑ کھا لیا کرتے تھے۔ آپؑ نے کبھی تُو کہہ کر بات نہیں کی، ہمیشہ ’جی‘ کہہ کر بات کرتے۔ آپؑ میں تکبّر نام کا بھی نہ تھا۔
مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب جب نئے نئے دہلی سے علم حاصل کرکے آئے تو اُس زمانے میں حضورؑ کے ساتھ اُن کا ایک مباحثہ ہوا جس میں حضورؑ نے مولوی صاحب سے ابتداءًاُن کے عقائد کی بابت سوال کیا۔ جب مولوی صاحب نے اپنے عقائد بتائے تو حضورؑ نے فرمایا کہ مَیں آپ کے عقائد میں کوئی قابلِ اعتراض بات نہیں پاتا لہٰذا آپ سے بحث کی کوئی ضرورت نہ ہے۔ جو لوگ حضورؑکو لے کر گئے تھے وہ بہت پریشان ہوئے کہ اس طرح تو ہمیں شرمندگی اٹھانی پڑے گی۔ مگر حضورؑ نے جھوٹی عزّت کی کوئی پرواہ نہیں کی۔ حضورؑ نے خود فرمایا ہے کہ مولوی صاحب کے عقائد سُن کر ،چونکہ اُن میں کوئی قابلِ اعتراض بات نہ تھی، اس لیے خاص اللہ کے لیے بحث کو ترک کیا گیا۔ اُس رات اللہ تعالیٰ نے الہاماً فرمایا:
تیرا خدا تیرے اس فعل سے راضی ہوا اور وہ تجھے بہت برکت دے گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔
آپؑ نے مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب کو لکھے گئے ایک خط میں اپنی نہایت عاجزی کا اظہار فرمایا ہے۔ آپؑ نے لکھا کہ یہ عاجز ایک اُمّی اور جاہل آدمی ہے، نہ عبادت ہے نہ ریاضت ہے۔ نہ علم ہے نہ لیاقت ہے۔ غرض کچھ بھی چیز نہیں۔ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک امر تھا، اور قطعی و یقینی تھا جو اس عاجز نے پہنچا دیا، ماننا نہ ماننا اپنی اپنی رائے اور سمجھ پر موقوف ہے۔
جب حضورؑ نے مثیلِ مسیح ہونے کا دعویٰ کیا تو مولوی محمد حسین بٹالوی نے سخت مخالفت کی۔ بڑے ناشائستہ خطوط لکھے۔اپنے رسالے اشاعة السنہ میں بھی آپؑ کے لیے خلافِ تہذیب الفاظ استعمال کرنا شروع کردیے۔ اس سب کے باوجود حضورؑ نے حلم، تحمل اور عجز و انکسار کا نہایت اعلیٰ نمونہ دکھایا۔
ایک خط میں حضورؑ نے مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب کو لکھا کہ مجھے فتح و شکست سے کچھ تعلق نہیں بلکہ عبودیت و اطاعت ِحکم سے غرض ہے۔ مَیں جانتا ہوں کہ اس خلاف میں (مولوی صاحب کی) نیت بخیر ہوگی لیکن میرے نزدیک بہتر ہے کہ آپ اوّل مجھ سے بات چیت کرکے اور میری کتابوں کو یعنی رسالہ ثلاثہ فتح اسلام، توضیح مرام اور ازالہ اوہام کو دیکھ کر کچھ تحریر کریں۔ مجھے اس سے کوئی غم اور رنج نہیں کہ آپ جیسے دوست مخالفت پر آمادہ ہوں۔ یہ مخالفتِ رائے بھی حق کے لیے ہوگی۔
ایک اَور خط میں آپؑ نے مولوی صاحب کو لکھا کہ میرے خیال میں اخلاق کے تمام حصول میں سے جس قدرخدا تعالیٰ تواضع اور فروتنی اور انکسار اور ہر ایک ایسے تذلّل کو جو منافی نخوت ہے پسند کرتا ہے ایسا کوئی شعبہ اس کو خُلق کا پسند نہیں۔
حضورانور نے فرمایا کہ
آپؑ کا ہر قول و فعل عاجزی کے اظہار سے بھرا ہوا تھا ۔ صرف ایک جستجو تھی اور وہ یہ کہ خدا تعالیٰ کی رضا حاصل ہو، اس کی وحدانیت کو دنیا میں پھیلایاجائے۔ہمیں بھی حضورؑ نے یہی نصیحت فرمائی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان باتوں پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔
٭…٭…٭
