جماعت احمدیہ برطانیہ، کینیڈا اور بیلجیم کی مجالس شوریٰ سے سیدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکا بصیرت افروز (آن لائن)خطاب فرمودہ مورخہ 24؍مئی 2025ء
’’ میں ان دوستوں کو جو مجلس شوریٰ میں شمولیت کے لیے آئے ہیں نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے اندر خشیت اللہ پیدا کریں لسانی اور لفّاظی نہ یہاں کام آ سکتی ہے اورنہ اگلے جہان میں۔ جو چیز ہمیں دنیا میں فوقیت دے سکتی ہے اور آخرت میں سرخرو کر سکتی ہے وہ یہی ہے کہ رَبُّنَا اللّٰہ یعنی ہم کہیں کہ ہمارا ربّ اللہ ہے۔ اگر یہ چیز ہم میں موجود نہ ہو، اگر رَبَّنَاۤ اِنَّنَا سَمِعۡنَا مُنَادِیًا یُّنَادِیۡ لِلۡاِیۡمَانِ اَنۡ اٰمِنُوۡا بِرَبِّکُمۡ فَاٰمَنَّا (آل عمران :194)والی بات ہم میں موجود نہ ہو، تو غور کر لو دنیا کی دوسری طاقتوں اور قوتوں اور قوموں کے مقابلہ میں ہماری ہستی ہی کیا ہے۔ ایک پَشَّہ کے پَر کے برابر بھی نہیں ‘‘ (حضرت مصلح موعودؓ)
عہدیداروں کو بھی، نمائندگان شوریٰ کو بھی یاد رکھنا چاہیے کہ دل میں خداتعالیٰ کی خشیت پیدا کریں اور جب یہ پیدا ہو جائے گی تو پھر انشاءاللہ ایک انقلاب عظیم ہو گا جو اللہ تعالیٰ جماعت احمدیہ کے ذریعہ سے پیدا کرے گا اور جسے دنیا دیکھے گی۔ اگر یہ بات آپ کی سمجھ میں آجائے اور اس کو آپ اچھی طرح سمجھ لیں اور اس شوریٰ میں اس بات کا خیال رکھیں تو پھر آپ نے ایک کامیاب شوریٰ منعقد کر لی ہے
ہمیشہ یاد رکھیں کہ ہر کام کی بنیاد تقویٰ پر ہونی چاہیے۔ اگر یہ ہو گا تو تبھی ہم کامیابی سے اپنے معاملات طے کر سکیں گے ورنہ ہمارا جو مقصد ہے وہ پورا نہیں ہو سکتا
شوریٰ کے ممبران کے لیے جو مقصد ہے وہ رضائے الٰہی ،اللہ تعالیٰ کی رضا ہے۔ اگر یہ مقصد سامنے رکھیں گے تو پھر ہی ہم لوگ کامیاب ہو سکتے ہیں اور پھر ہی ہم ایمانداری سے اور انصاف سے اپنی آرا پیش کر سکتے ہیں
ہمارے لیے نہایت ضروری ہے کہ ہم اپنے تمام کاموں میں خدا تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کو مدنظر رکھیں اور اپنے نفس کو درمیان سے مٹا دیں۔ پس اگر یہ بات ہر شوریٰ ممبر اپنے سامنے رکھے بلکہ ہر عہدیدار اپنے سامنے رکھے تو ہماری جماعت کے اندر ایک عظیم نظام قائم ہو سکتا ہے۔ اس کی مثال کہیں اَور نہیں مل سکتی
آپ لوگ جو یہاں بیٹھے ہوئے ہیں اس بات پر غور کریں اور سوچیں کہ کیا وہ قربانی جو آپ جماعت کے لیے کر رہے ہیں یا عبادات جو آپ کر رہے ہیں یا جو بھی کام آپ کررہے ہیں وہ خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے کر رہے ہیں کہ نہیں۔ جو عہدیدار یا نمائندگان ہیں اور اپنی آراء یہاں پیش کریں گے یا وہ عہدیدار ہیں جو سارا سال اپنی خدمات جماعت کے لیے پیش کرتے ہیں، ان کو یہ سوچنا چاہیے کہ کیا وہ خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے یہ کر رہے ہیں یا صرف اس لیے کہ عہدہ مل گیا اور اب جماعت میں ان کی کچھ حیثیت بن گئی ہے تو اس لیے وہ کام کریں۔ اگر یہ بات ہے تو پھر ایسے عہدے کا کوئی فائدہ نہیں اور ایسی نمائندگی کا بھی کوئی فائدہ نہیں
یہی ایک سبق ہے جو ہر عہدے دار کو اور ہر نمائندے کو لینا چاہیے کہ میری رائے اور میرا کام صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہونا چاہیے اور جب یہ ہو گا تب ہی میں صحیح رنگ میں اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنے والا بنوں گا۔ تب ہی میرے کاموں میں برکت ملے گی۔ اگر دکھاوے کا کام ہے یا اپنی انانیت کو تسکین پہنچانے کے لیے کام ہو رہا ہے تو پھر اس کا ثواب نہیں ملتا۔ ثواب اسی وقت ملتا ہے جب انسان اپنے نفس کو مٹائے اور ہر کام خدا تعالیٰ کی خاطر کرے
جب تک ہمارے دل کے اندر مندر میں مَیں کا بت یا انانیت کا بت ہے ہم خدا تعالیٰ کی توحید قائم نہیں کر سکتے۔ انا کو توڑ کر کام کریں گے تو پھر دیکھیں کیسی برکت پڑتی ہے اور جماعت میں وہ برکت کے نظارے پھر نظر بھی آئیں گے اور یہی وہ لوگ ہیں جو پھر خلافت کے لیے بھی دست و بازو بنتے ہیں اور خلافت کے مددگار بھی بنتے ہیں
اگر کسی کو بھی یہ خیال آتا ہے کہ مَیں نے اپنی کسی قابلیت کی وجہ سے یہ کام کیا ہے تو اس میں تکبر پیدا ہو جائے گا ۔اور جب تکبر پیدا ہو جائے پھر اللہ تعالیٰ کا فضل نہیں آتا
سچی اور حقیقی کامیابی کا گر یہی ہے کہ خدا تعالیٰ کے آگے گر جاؤ۔ اپنی کمزوریوں اور کوتاہیوں کا اس کے سامنے اقرار کرو ورنہ جو دل میں یہ سمجھتا ہے کہ میں بھی کچھ کر سکتا ہوں مگر لوگوں کے سامنے کہتا ہے کہ میں کیا اور میری طاقت کیا ہے وہ منافق ہے وہ جھوٹا ہے
حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ کے ارشادات کی روشنی میں ممبران مجلس شوریٰ اور عہدیداران کو زرّیں نصائح
جماعت احمدیہ برطانیہ، کینیڈا اور بیلجیم کی مجالس شوریٰ سے سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکا بصیرت افروز (آن لائن)خطاب فرمودہ مورخہ 24؍مئی 2025ءبروز ہفتہ بمقام ایم ٹی اے انٹرنیشنل سٹوڈیوزاسلام آباد، ٹلفورڈ، یوکے
(خطاب کا یہ متن ادارہ الفضل اپنی ذمہ داری پر شائع کر رہا ہے)
أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ- بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾
[خطاب کا پہلا حصہ حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے انگریزی زبان میں ارشاد فرمایا۔ اس کے بعد حضور انور نے فرمایا:]
جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ بیلجیم وغیرہ اور بعض دوسری جگہوں پہ بھی، پاکستان میں بھی،ہندوستان میں بھی، اردو بولنے والے علاقوں میں بھی، آجکل انتخابات ہو رہے ہیں ۔اس لیے پہلے میرا خیال تھا کہ اردو میںخلاصہ بیان کردوں لیکن میرا خیال ہے خلاصے سے کچھ زیادہ ہو جائے گا۔ یہاں بیٹھے ہوئے بعض لوگوں کو بھی صحیح طرح سمجھ نہیں آتی ۔
سو ان کے لیے بیان کر دوں کہ اللہ تعالیٰ کرے کہ آپ لوگ شوریٰ کے جو مقاصد ہیں ان کو پورا کرنے والے ہوں اورانصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے اور تقویٰ کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے اپنی آراء پیش کریں۔ اس سال شوریٰ میں انتخاب بھی ہونے ہیں ۔کوشش یہ کرنی چاہیے کہ ایسے لوگوں کو منتخب کیا جائے جو واقعی اس عہدے کے حق دار ہوں اور یہ نہیں کہ کسی کی واقفیت یا ذاتی تعلق کی وجہ سے منتخب کیے جائیں۔

ہمیشہ یاد رکھیں کہ ہر کام کی بنیاد تقویٰ پر ہونی چاہیے۔ اگر یہ ہو گا تو تبھی ہم کامیابی سے اپنے معاملات طے کر سکیں گے۔ ورنہ ہمارا جو مقصد ہے وہ پورا نہیں ہو سکتا۔
حضرت مصلح موعودؓ نے شوریٰ کو قائم فرمایا۔
آپؓ نے مختلف وقتوں میں نصائح فرمائیں اور اس کا مجموعہ بھی شائع ہو چکا ہے۔ ان کو بھی پڑھنا چاہیے جن کو اردو پڑھنی آتی ہے جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا۔
اس وقت اسی کو سامنے رکھتے ہوئے بعض باتیں میں پیش کروں گا۔
شوریٰ کے ممبران کے لیے جو مقصد ہے وہ رضائے الٰہی،اللہ تعالیٰ کی رضا ہے۔ اگر یہ مقصد سامنے رکھیں گے تو پھر ہی ہم لوگ کامیاب ہو سکتے ہیں اور پھر ہی ہم ایمانداری سے اور انصاف سے اپنی آرا پیش کر سکتے ہیں۔
اپنی آرا پیش کرتے ہوئے یا کسی عہدہ کے لیے نام تجویز کرتے ہوئے رشتے داروں عزیزوں کو سامنے نہ رکھیں۔ اپنی امنگوں اور آرزوؤں کو سامنے نہ رکھیں۔ اپنے ارادوں کو سامنے نہ رکھیں بلکہ ہر چیز اللہ تعالیٰ کی خاطر ہو۔ ہم میں سے بہت سارے ایسے ہیں جنہوں نے ان چیزوں کو احمدیت قبول کرنے کے لیے قربان کیا ہے تا کہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہو۔ پس اگر باوجود اس کے کہ ہم نے مختلف پہلوؤں سے خدا تعالیٰ کی رضا کے لیے قربانیاں کی ہیں، اپنی غفلت سے خدا کی رضا کو کھو دیا اور دنیا کو ناراض کر کے اپنے مولیٰ کو بھی راضی نہ کرسکیں تو ہم دونوں طرف سے کھوئے گئے اور ہم سے زیادہ بدقسمت روئے زمین پر اَور کوئی نہیں ہو سکتا۔ پس
ہمارے لیے نہایت ضروری ہے کہ ہم اپنے تمام کاموں میں خدا تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کو مدنظر رکھیں اور اپنے نفس کو درمیان سے مٹا دیں۔ پس اگر یہ بات ہر شوریٰ ممبر اپنے سامنے رکھے بلکہ ہر عہدیدار اپنے سامنے رکھے تو ہماری جماعت کے اندر ایک عظیم نظام قائم ہو سکتا ہے۔ اس کی مثال کہیں اَور نہیں مل سکتی۔
اسی سلسلہ میں حضرت مصلح موعودؓ نے ایک جگہ فرمایا کہ
خدا تعالیٰ کا ملنا معمولی بات نہیں ہے۔ اس لیے ایسی قربانی کی ضرورت ہے جس کی نظیر اَور قربانیوں میں نہ ہو۔
دنیا میں بہت سی قربانیاں کی جاتی ہیں ا ور ایسی ایسی قربانیاں کی جاتی ہیں جن کی تفصیلات معلوم کر کے ایک حساس دل کانپ جاتا ہے اور ایک شعور رکھنے والے انسان کے جسم پر لرزہ طاری ہو جاتا ہے اور اس کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ۔وہ سب قربانیاں اس لیے کی جاتی ہیں کہ انسان نفس کی بڑائی اور عزت حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اس قسم کی قربانیاں ہمیں نفع نہیں دے سکتیں کیونکہ اس کی غرض یہ نہیں ہوتی کہ خدا مل جائے بلکہ یہ ہوتی ہے کہ نفس کو عزت حاصل ہو جائے۔ مگر
ہم جس غرض کے لیے کھڑے ہوئے ہیں وہ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کریں۔ اس لیے ہماری قربانی اس چیز کی ہونی چاہیے جو دنیا نہیں کرتی۔ کیونکہ جو قربانیاں دنیا کرتی ہے وہ ہمیں نفع نہیں دے سکتیں اور جس مقصد کے لیے ہم کھڑے ہوئے ہیں وہ نہیں پا سکتے۔
اگر جان کی قربانی سے خدا مل جاتا تو بہت لوگ ہیں جو جان کی قربانی کرتے ہیں مگر خدا تعالیٰ کو پانے سے محروم رہ جاتے ہیں۔ اگر مال کی قربانی سے خدا مل جاتا تو بہت سارے لوگ ہیں جو مال کی قربانی کرتے ہیں مگر خدا کو پانے سے محروم رہتے ہیں۔ اگر عزت کی قربانی سے خدا مل جاتا تو بہت سے لوگ ایسے ہیں جو عزت کو قربان کرتے ہیں مگر خدا کے پانے سے محروم رہتے ہیں۔ اگر جائیداد کی قربانی سے خدا مل جاتا تو بہت سے ایسے ہیں جو جائیداد کی قربانی کرتے ہیں مگر خدا سے اتنے ہی دور ہیں جتنا ابلیس دور ہے۔ اگر وقت کی قربانی سے یا علم کی قربانی سے یا وطن کی قربانی سے خدا مل جاتا تو بہت سے ایسے ہیں جو قربانیاں کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی درگاہ سے دور رہتے ہیں۔ پس یقینا ًیہ قربانیاں کافی نہیں۔ یہ ضمنی قربانیاں ہیں۔ پس

آپ لوگ جو یہاں بیٹھے ہوئے ہیں اس بات پر غور کریں اور سوچیں کہ کیا وہ قربانی جو آپ جماعت کے لیے کر رہے ہیں یا عبادات جو آپ کر رہے ہیں یا جو بھی کام آپ کررہے ہیں وہ خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے کر رہے ہیں کہ نہیں۔ جو عہدیدار یا نمائندگان ہیں اور اپنی آراء یہاں پیش کریں گے یا وہ عہدیدار ہیں جو سارا سال اپنی خدمات جماعت کے لیے پیش کرتے ہیں، ان کو یہ سوچنا چاہیے کہ کیا وہ خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے یہ کر رہے ہیں یا صرف اس لیے کہ عہدہ مل گیا اور اب جماعت میں ان کی کچھ حیثیت بن گئی ہے تو اس لیے وہ کام کریں۔ اگر یہ بات ہے تو پھر ایسے عہدے کا کوئی فائدہ نہیں اور ایسی نمائندگی کا بھی کوئی فائدہ نہیں۔
حقیقی قربانی بالکل مختلف چیز ہے ۔وہ جان سے، یا وطن سے، یا مال سے، یا خیالات سے، یا ارادوں سے، عزت سے ،وقت سے ،علم سے بھی زیادہ عزیز ہے ۔وہ کیا ہے؟ وہ انسان کی انانیت ہے وہ اس کا ’’مَیں‘‘ ہونے کا خیال ہے کہ مَیں بھی کوئی ہستی ہوں۔ وہ اپنے وجود کا احساس ہے جس کے لیے وہ اپنی جان، اپنے مال، اپنی عزت، اپنے وطن ،اپنے علم ،اپنے وقت غرض ہر چیز کو قربان کر دیتا ہے۔ جس وقت یہ خیال کرتا ہے کہ میرے وجود کا احساس اور میری علیحدہ ہستی خطرے میں ہے وہ اس وقت کسی چیز کی پرواہ نہیں کرتا۔قوم کی خاطر ،ملک کی خاطر، عزت کی خاطر ،آبرو کی خاطر ،وطن کی خاطر قربانیاں کرنے والے بظاہر قوم و ملک، عزت و آبرو ،وطن کی خاطر قربانیاں کرتے ہوئے نظر آتے ہیں مگر دراصل جن چیزوں کے لیے وہ قربانیاں کرتے ہیں ان کی انانیت ہے، وہ ان کا ’’مَیں‘‘ ہونا ہے۔ وہ قربانیاں چونکہ ان کی رائے اور ان کی مرضی کے مطابق ہوتی ہیں اس لیے کرتے ہیں ۔مگر خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ جس چیز کی قربانی میرے حاصل کرنے کے لیے کرنی چاہیے وہ مرضی کی قربانی نہیں ہے ۔خدا کو پانے کے لیے مال کی، جان کی ،ارادوں کی، علم کی ،وقت کی قربانی کافی نہیں ہے۔

خدا تعالیٰ اس احساس کی قربانی چاہتا ہے کہ مَیں ہوں ۔یعنی اپنی اَنا کو قربان کرنا ہو گا۔ یہ احساس کی قربانی اصل چیز ہے۔ جب تک کوئی انسان اس مَیں کو نہیں مٹا دیتا اس وقت تک خدا اسے قبول نہیں کرتا کیونکہ وہ مشرک ہوتا ہے ۔
ایسا انسان باوجود لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کا نعرہ لگانے کے اپنے آپ کو ایک الگ وجود تصور کرتا ہے۔ جب وہ کہتا ہے کہ میں لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کا قائل ہوں تو وہ خود اپنے اس دعوے کو ردّ کرتا ہے کیونکہ اگر مَیں ہے تو پھر وہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ نہیں کہہ سکتا۔ اگر اللہ تعالیٰ کسی چیز کی قربانی کا مطالبہ کرتا ہے تو ’’مَیں‘‘ کی قربانی کا مطالبہ کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ تم اپنے نفس کو مٹا دو۔تمہاری مرضی نہ ہو بلکہ میری مرضی ہو ۔یعنی اللہ کی مرضی ہو۔ صرف میں رہوں اور میرا کوئی شریک نہ ہو۔ لاشریک صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ اس کے لیے اپنے نفس کو بھی مٹانا پڑے گا۔
آپؓ نے ایک مثال بھی دی ۔ایک جنگ کے موقع پر ایک شخص تھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں آپؐ کے ساتھ جنگ کر رہا تھا اور وہ دشمن پر ایسے ایسے حملے کرتا تھا کہ لوگ واہ واہ کر جاتے تھے لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دیکھ کر فرمایا کہ یہ دوزخی ہے حالانکہ وہ اسلام کی طر ف سے لڑ رہا تھا لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں! یہ دوزخی ہے ۔لوگ بڑی حیرت سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھنے لگے کہ یہ تو اتنی جرأت سے لڑائی کر رہا ہے۔ یہ کیوں دوزخی ہے؟ بہرحال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سن کر ایک صحابیؓ نے سوچا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بات غلط نہیں ہو سکتی ،اس میں ضرور کوئی راز کی بات ہے جو ہمیں سمجھ نہیں آ رہی۔ اس نے اس شخص کا پیچھا کرنا شروع کر دیا کہ دیکھوں یہ کیا کرتا ہے۔ جب وہ پیچھا کر رہا تھا تو اس نے دیکھا کہ وہ شخص لڑتے لڑتے بہت زیادہ زخمی ہو گیا اور اتنا زخمی ہو گیا کہ اسے تکلیف ہونے لگی۔ اس تکلیف کو وہ برداشت نہیں کر سکا اس لیے اپنا نیزہ گاڑھا اور اپنے آپ کو اس پر گرایا اور اس طرح خود کشی کر لی اور مر گیا اور پھر جب وہ مر رہا تھا تو لوگوں نے اس سے پوچھا۔ اس نے کہا کہ میں اسلام کے لیے نہیں لڑرہاتھا بلکہ ان لوگوں سے پرانی عداوت تھی اس لیے لڑا تھا۔ اسلام میں کیونکہ خود کشی کرنے والا خدا پر بدظنی کرتا ہے اس لیے خدا تعالیٰ کی رحمت سے محروم رہتا ہے اور اس طرح یہ واقعہ بھی ہو گیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سچی ثابت ہوئی اور وہ خود کشی کی وجہ سے اس شہادت کے رتبے کو نہیں پا سکا جو اسلام کی خاطر لڑائی کے لیے تھا، جو اللہ تعالیٰ کی خاطر لڑائی کے لیے تھا۔
(ماخوذ از خطاباتِ شوریٰ جلد اوّل صفحہ 214 تا216مجلس مشاورت 1927ء)
پس
یہی ایک سبق ہے جو ہر عہدے دار کو اور ہر نمائندے کو لینا چاہیے کہ میری رائے اور میرا کام صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہونا چاہیے اور جب یہ ہو گا تب ہی میں صحیح رنگ میں اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنے والا بنوں گا۔ تب ہی میرے کاموں میں برکت ملے گی۔ اگر دکھاوے کا کام ہے یا اپنی انانیت کو تسکین پہنچانے کے لیے کام ہو رہا ہے تو پھر اس کا ثواب نہیں ملتا۔ ثواب اسی وقت ملتا ہے جب انسان اپنے نفس کو مٹائے اور ہر کام خدا تعالیٰ کی خاطر کرے۔
پس جو عہدے دار ہیں ان کو چاہیے کہ اس بات کو یاد رکھیں اور اپنے نفس کو مٹانے کی کوشش کریں۔ بہت سارے ایسے ہیں جو اس وقت عہدے دار ہیں ان میں سے بعض شاید دوبارہ بھی اپنی جماعتوں میں بعض مرکزی سطح پر عہدیدار منتخب ہو جائیں گے۔ جہاں بھی ہیں جو عہدیدار منتخب ہوں گے ان میں سے بہت سارے اب بھی عہدیدار ہیں اور بعض دوبارہ منتخب ہوں گے ،
وہ سوچیں !کہ گذشتہ سالوں میں جو تین سال گزرے ہیں آپ نے خدا تعالیٰ کے لیے خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے کتنے کام کیے تھے اور اپنی مَیں کی تسکین کے لیے کتنے کام کیے تھے۔ اگر اپنی انا کی اور مَیں کی تسکین کے لیے کام کیے تھے تو ان کا کوئی ثواب نہیں اور اس میں برکت بھی نہیں پڑتی۔
پس اس سال جیسا کہ میں نے کہا عہدیداروں کے انتخاب کا بھی سال ہے۔جو نئے منتخب ہوں گے یا ہوئے ہیں یا ہو رہے ہیں ان سب کو یاد رکھنا چاہیے کہ اگر آپ کی منظوریاں ہو جاتی ہیں تو پھر آپ نے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے کام کرنا ہے نہ کہ لوگوں کو دکھانے کے لیے یا یہ بتانے کے لیے کہ دیکھو !میرے اندر یہ قابلیت تھی تو میں نے تبلیغ کا کام کر دیا ۔میرے اندر یہ قابلیت تھی تو میں نے مال کا کام کر دیا ۔اتنے لوگوں سے اتنا چندہ وصول کر لیا ۔میرے اندر یہ قابلیت تھی تو میں نے امور عامہ کے شعبہ میں اتنے مسائل کو حل کر دیا۔ میرے اندر یہ قابلیت تھی تو میں نے تربیت کا ایسا ماحول پیدا کر دیا کہ لوگوں کی اصلاح ہو جائے۔ اگر یہ بات ہے تو اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ اگر یہ خیال ہو کہ میں نے جو کچھ کیا ہے اللہ تعالیٰ کے فضل سے کیا اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے کیا اور اس کے فضلوں کے بغیر کچھ بھی ممکن نہیں تھا اور حقیقت میں دل سے یہ آواز نکل رہی ہو تبھی یہ قربانی اور یہ کام ہے جس میں اللہ تعالیٰ برکت عطا فرماتا ہے اور پھر اس برکت سے آئندہ ایسے پھل لگیں گے جو یقیناً جماعت کی ترقی کے لیے مفید ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کی نظر میں آپ کے مقام کو بلند کرنے کے لیے بھی مفید ہوں گے ورنہ اگر انانیت ہے تو بجائے نفع کے نقصان والا سودا ہے۔
پس ہر شعبہ کا جو آدمی ہے اس کو یاد رکھنا چاہیے کہ ہمارا اصل مقصد جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ آپ کی بعثت کا مقصد بندوں کو خدا تعالیٰ کے قریب لانا اور خدا تعالیٰ کی توحید کو قائم کرنا ہے لیکن ہمارے دل میں انانیت ہے اور مَیں کا بت موجود ہے تو پھر ہم نے خدا تعالیٰ کی توحید کیا قائم کرنی ہے؟ کیا کوئی مندر کا پجاری توحید قائم کر سکتا ہے؟ اگر ہمارے نفسوں میں مَیں باقی ہے تو ہم بھی کچھ نہیں کر سکیں گے۔ پس
جب تک ہمارے دل کے اندر مندر میں مَیں کا بت یا انانیت کا بت ہے ہم خدا تعالیٰ کی توحید قائم نہیں کر سکتے۔ انا کو توڑ کر کام کریں گے تو پھر دیکھیں کیسی برکت پڑتی ہے اور جماعت میں وہ برکت کے نظارے پھر نظر بھی آئیں گے اور یہی وہ لوگ ہیں جو پھر خلافت کے لیے بھی دست و بازو بنتے ہیں اور خلافت کے مددگار بھی بنتے ہیں۔
عہد کریں کہ ہم اپنی زندگی میں جو بھی خدمت ہمارے سپرد کی جائے گی، جو بھی کام سپرد کیے جائیں گے چاہے وہ عہدیدار کی حیثیت سے یا نائب عہدیدار کی حیثیت سے یا کسی بھی حیثیت سے ہوں، اس کو چلانے کے لیے ہر طرح تیار ہیں۔ ہمارے سپرد جو خدا تعالیٰ نے کیا ہے یا جماعت کی طرف سے یا خلیفہ وقت کی طرف سے جو کام بھی سپرد کیا جائے گا اس کو یہی سمجھنا ہے کہ یہ خدا تعالیٰ کا کام ہے اور خدا تعالیٰ کی خاطر ہم نے کرنا ہے۔
پس جب یہ سوچ رکھیں گے تو پھر ہماری کامیابی ہے اور
یہ عہد کریں کہ میں اس طرح خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے ہر قربانی کے لیے تیار ہوں نہ کہ اپنی انانیت کو قائم کرنے کے لیے۔
حضرت مصلح موعودؓ نے نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ
مَیں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ ان امور کو مدّنظر رکھتے ہوئے کام کریں اور خوب اچھی طرح سمجھ لیں کہ اپنے آپ کو مٹانے کے بغیر کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی۔
پہلے تو ضروری ہے کہ جتنا اہم مطالبہ کیا جاتا ہے اسےپورا کریں ۔ (ماخوذاز خطاباتِ شوریٰ جلد اوّل صفحہ 228-229مجلس مشاورت 1927ء) یا جو بھی قواعد کی رو سے بلکہ اس سے بڑھ کر بھی ہمیں کام کرنا پڑے گا اور ہمیں اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے قربانی کرنی پڑے گی، ہم کریں گے اور جب اس طرح کام ہو گا تو پھر ایک غیر معمولی برکت ہمارے کاموں میں پڑے گی جس کی کوئی مثال نہیں ہوتی۔
اسی طرح عہدیداروں کو بھی اور یہاں سب مشورہ دینے والوں کو بھی ایک بات یہ بھی یاد رکھنی چاہیے کہ
تکبر اور خودی بہت بڑی برائی ہے۔ اس سے بچنے کی ہمیں کوشش کرنی چاہیے۔
اور اللہ تعالیٰ کے فضل اور نعمتیں جو ہم پر ہیں ان کو دیکھ کر ہم میں تکبر نہیں آنا چاہیے۔ سیکرٹری مال کے دل میں اگر یہ خیال آتا ہے کہ میرے کسی علم کی وجہ سے میں نے یہ بجٹ پورا کر لیا ہے ۔یا میں نے پہلے جو مثالیں دی ہیں، سیکرٹری تبلیغ کے دل میں خیال آتا ہے یا کسی بھی سیکرٹری کے دل میں خیال آتا ہے یا کسی بھی عہدیدار کے دل میں خیال آتا ہے تو
اگر کسی کو بھی یہ خیال آتا ہے کہ مَیں نے اپنی کسی قابلیت کی وجہ سے یہ کام کیا ہے تو اس میں تکبر پیدا ہو جائے گا ۔اور جب تکبر پیدا ہو جائے تو پھر اللہ تعالیٰ کا فضل نہیں آتا
جیسا کہ پہلے بھی بیان ہو چکا ہے۔ حضرت مصلح موعودؓ نے ہمیں نصیحت کرتے ہوئے ایک جگہ فرمایا کہ
سچی اور حقیقی کامیابی کا گُر یہی ہے کہ خدا تعالیٰ کے آگے گر جاؤ۔ اپنی کمزوریوں اور کوتاہیوں کا اس کے سامنے اقرار کرو ورنہ جو دل میں یہ سمجھتا ہے کہ میں بھی کچھ کر سکتا ہوں مگر لوگوں کے سامنے کہتا ہے کہ میں کیا اور میری طاقت کیا ہے وہ منافق ہے وہ جھوٹا ہے۔
بعض لوگ ایسے ہیں جو بظاہر تو یہی کہتے ہیں کہ میری حیثیت کیا ہے بس اللہ کا فضل ہے، میں نے کام کیا بس ہو گیا لیکن ان کے دل میں وہ مقام نہیں جو ایک اللہ تعالیٰ کے آگے جھکنے والے کا ہونا چاہیے۔
اصل میں تو منکسر المزاج وہ ہے جو دل میں بھی اقرار کرتا ہے کہ وہ کچھ نہیں کرتا نہ کہ وہ جو صرف زبان سے کہتا ہے اور دل میں سمجھتا ہے کہ میں یہ کر سکتا ہوں وہ کر سکتا ہوں۔ جب ہم خالی الذہن ہو کر سوچیں گے کہ ہم میں کوئی لیاقت اور قابلیت ہے یا نہیں۔ اس وقت دل یہ کہے کہ میرے اندر کوئی قابلیت نہیں تب وہ برکات حاصل ہوں گی جن کی وجہ سے کامیابی حاصل ہوتی ہے۔
(ماخوذ از خطاباتِ شوریٰ جلد اوّل صفحہ 269-270مجلس مشاورت 1927ء)
تب اللہ تعالیٰ کا فضل انسان کو پہنچے گا اور جب یہ ہوگا تو تبھی اپنے لیے ان فیصلوں پر عمل کر سکیں گے جو شوریٰ میں آپ نے فیصلے کیے ہیں یا کریں گے اور اس کو اللہ تعالیٰ کی خاطر بجا لانے کی کوشش کریں گے۔ اور جب اللہ تعالیٰ کی خاطر بجا لانے کی کوشش کریں گے تو پھر اس میں برکت پڑے گی۔ یہ نہیں کہ یہاں تو فیصلے آپ کر لیں اور بڑی پُرجوش تقریریں بھی کر لیں۔عموماً شوریٰ میں یہی ہوتا ہے کہ نمائندگان شوریٰ میںبڑی پُرزور تقریریں کرتے ہیں۔ عہدیدار بھی اظہار خیال کرتے ہیں لیکن شوریٰ کے بعد وہ بھول جاتے ہیں کہ انہوں نے کیا کام کرنے تھے۔
پس اصل برکت اسی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے آگے جھکتے ہوئے ، اپنی انانیت کو ختم کرتے ہوئے، اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے ،اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہوئے ان فیصلوں پر عمل درآمد کروانے کی کوشش کریں۔
اگر آپ جائزہ لیں اور گذشتہ تین سالوں کی شوریٰ کی رپورٹوں کا جائزہ لیں اور دیکھیں کہ کیا فیصلے ہوئے تھے تو آپ کو خود پتہ لگ جائے گا کہ ان تین سالوں میں آپ نے جو کچھ حاصل کرنا تھا وہ نہیں کر سکے۔ اور اگر دس سے پندرہ سال کا جائزہ لیں تو پھر آپ کو پتہ لگے گا کہ بہت ساری باتیں ہیں جو آپ بھول بھی چکے ہیں، جو آپ نے کرنے کا عہد کیا تھا لیکن نہیں کر سکے۔
پس پرانی باتوں کو بھی یاد رکھیں، پرانے فیصلوں کو بھی دہرائیں اور نئے فیصلے جو آج آپ کر رہے ہیں ان کو بھی اپنے سامنے رکھیں اور یہ عہد کریں کہ ہم نے اب ان کو اپنے سامنے رکھتے ہوئے عمل کرنا ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے عمل کرنا ہے نہ کہ کسی دکھاوے کے لیے اور حقیقت میں ایک وہ مومن بننا ہے جس کی شان یہ ہے کہ وہ جو کام بھی کرتا ہے وہ خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے کرتا ہے۔
پس بعض دفعہ لوگ کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے پاس وسائل نہیں، ہمارے وسائل بہت کم ہیں جس کی وجہ سے ہمارے یہ کام نہیں ہو سکے۔
ارادوں میں بلندی ہو ،پستی نہ ہو اور مصمّم ارادے ہوں اور یہ کام کرنے کی لگن ہو اور اللہ تعالیٰ سے تعلق اور دعا کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگی جائے اور پھر محنت کے ساتھ اپنی ٹیم کے ساتھ کام کروایا جائے تو ہر عہدیدار ایک ایسا انقلابی کام کر سکتا ہے جس کے بہترین نتائج پیدا ہو سکتے ہیں اور تبھی آپ لوگ خلافت کے سلطان نصیر بن سکتے ہیں۔
پس ان باتوں کو یاد رکھیں کہ
صرف زبانی دعووں سے سلطان نصیر نہیں بنا جاتا بلکہ اس کے لیے آپ کو خدا تعالیٰ سے تعلق بھی پیدا کرنا پڑے گا اور اپنی انانیت کو مٹاتے ہوئے خالص طور پر اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر کام کرنا ہو گا اور اس کے لیے پوری محنت اور لگن سے کام لینا ہو گا۔ اپنے ساتھیوں کو ساتھ لے کر چلنا پڑے گا تا کہ ایک پوری ٹیم اس کام میں ملوث ہو جائے اور پھر اس کے بہترین نتائج پیدا ہوں گے۔
اور جب یہ ہو گا تبھی آپ مشاورت کے فیصلوں پر صحیح طرح عمل کرنے والے بھی ہو سکیں گے۔ ہمیشہ یاد رکھیں کہ
مشاورت کے دوران آپ نے مشاورت کے وقار کو قائم رکھنا ہے۔
یہاں پر صرف بحث برائے بحث نہ کریں بلکہ یہ دیکھیں کہ اس کی ضرورت بھی ہے کہ نہیں۔ اگر ضرورت ہو تو اپنی رائے دیں اور اگر انیس بیس کے فرق سے آپ کی رائے پہلے بیان ہو چکی ہے تو اس کو دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہاں بھی وہی بات آ جاتی ہے کہ آپ نے اپنی انانیت کو مارنا ہے۔ پس
ایک عہدیدار کو ،ایک شوریٰ کے ممبر کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ خدا تعالیٰ کی خشیت اس کے دل میں ہو اور اس کے ماتحت اس نے فیصلے کرنے ہیں اور جب یہ ہوگا تو تبھی آپ اس مقام تک پہنچ سکیں گے جو اس مجلس کا ایک تقدس اور مقام ہے۔
ورنہ یہاں شوریٰ میں بیٹھ کر آپ ایک دنیاوی نمائندے کی حیثیت سے اپنے کام سرانجام دے رہے ہوں گے نہ کہ ایک روحانی اور دینی جماعت کے نمائندے کی حیثیت سے۔ اس لیے حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا تھا کہ
’’ میں ان دوستوں کو جو مجلس شوریٰ میں شمولیت کے لیے آئے ہیں نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے اندر خشیت اللہ پیدا کریں لسانی اور لفاظی نہ یہاں کام آ سکتی ہے اورنہ اگلے جہان میں۔
جو چیز ہمیں دنیا میں فوقیت دے سکتی ہے اور آخرت میں سرخرو کر سکتی ہےوہ یہی ہے کہ رَبُّنَا اللّٰہیعنی ہم کہیں کہ ہمارا ربّ، اللہ ہے۔ اگر یہ چیز ہم میں موجود نہ ہو، اگر رَبَّنَاۤ اِنَّنَا سَمِعۡنَا مُنَادِیًا یُّنَادِیۡ لِلۡاِیۡمَانِ اَنۡ اٰمِنُوۡا بِرَبِّکُمۡ فَاٰمَنَّا (آل عمران :194)والی بات ہم میں موجود نہ ہو، تو غور کر لو دنیا کی دوسری طاقتوں اور قوتوں اور قوموں کے مقابلہ میں ہماری ہستی ہی کیا ہے۔ ایک پشہ کے پر کے برابر بھی نہیں ‘‘
دنیا کے مقابلے میں ایک پرندے کے پر کے برابر بھی ہماری ہستی نہیں۔ لیکن یہ جو آیت میں نے پڑھی ہے کہ اے ہمارے ربّ!ہم نے یقیناً ایک ایسے پکارنے والے کی آواز سنی ہے جو ایمان دینے کے لیے بلاتا ہے اور کہتا ہے کہ اپنے ربّ پر ایمان لاؤ۔ پس ہم ایمان لے آئے ہیں۔ اس پر غور کرو کہ دنیا کی طاقتوں کے مقابلے میں ہماری ہستی ہی کیا ہے تو تبھی ہم کامیاب ہو سکتے ہیں کہ اپنے ایمان کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کریں۔ اپنے کاموں کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کریں اور’’یہی اورصرف یہی چیز ہے جس پر ہم فخر کرسکتے ہیں ‘‘کہ ہم نے مانا۔ ہم نے اللہ تعالیٰ کی بات کو سنا اور منادی کرنے والے کی آواز کو سنا اور اس پر ایمان لائے اور اس کے کام کو آگے بڑھانے کے لیے ہم نے اپنے آپ کو پیش کیا۔ اگر یہ چیز ہے تو پھر ہم اس پر فخر کر سکتے ہیں اور ’’یہی چیز جوہمارےقلوب پر غالب آنی چاہیے۔ ہمارے غور پر خدا تعالیٰ کی خشیت حاکم ہو ،ہمارے فکر پر خدا تعالیٰ کا خوف حاکم ہو۔ ہماری زبان پر خدا تعالیٰ کا خوف حاکم ہو۔ ہمارے دل پر خداتعالیٰ کا خوف حاکم ہو ۔ ہمارے مشوروں پر خدا تعالیٰ کا خوف غالب ہو۔ ہمارے فیصلوں پر خداتعالیٰ کا خوف غالب ہو۔ وہی چیز جس کی وجہ سے ہم دنیا میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں اسی کی قدر و منزلت ہمارے دلوں پر غالب ہو۔‘‘
(خطاباتِ شوریٰ جلد اوّل صفحہ 222-223مجلس مشاورت 1927ء)
پس جب یہ ہو گا تو تبھی ہم کامیاب ہوں گے اور
امید ہے کہ جو نمائندگان یہاں بیٹھے ہوئے ہیں اپنے مشوروں میں کسی قسم کی نفسانیت کو دخل انداز نہیں ہونے دیں گے اور خالصتاً للہ کام کریں گے۔
جب یہ ہو گا تو انشاء اللہ تعالیٰ آپ لوگ وہ انقلاب پیدا کر سکتے ہیں جس کے پیدا کرنے کے لیے آپ لوگوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کو مانا تھا اور جس کے پیدا کرنے کے لیے آپ لوگوں کو جماعت کے افراد نے نمائندہ بنا کر شوریٰ میں بھیجا ہے۔پس
عہدیداروں کو بھی، نمائندگانِ شوریٰ کو بھی یاد رکھنا چاہیے کہ دل میں خدا تعالیٰ کی خشیت پیدا کریں اور جب یہ پیدا ہو جائے گی تو پھر انشاء اللہ ایک انقلاب عظیم ہو گا جو اللہ تعالیٰ جماعت احمدیہ کے ذریعہ سے پیدا کرے گا اور جسے دنیا دیکھے گی۔ اگر یہ بات آپ کی سمجھ میں آ جائے اور اس کو آپ اچھی طرح سمجھ لیں اور اس شوریٰ میں اس بات کا خیال رکھیں تو پھر آپ نے ایک کامیاب شوریٰ منعقد کر لی ہے۔
اللہ تعالیٰ کرے کہ آپ اس کو سمجھنے والے بھی ہوں اور اس مقصد کو حاصل کرنے والے بھی ہوں۔ آمین۔ اب دعا کر لیں۔
٭…٭…٭
(نوٹ: اس خطاب کے ابتدائی انگریزی حصے کا خلاصہ ملاحظہ کریں روزنامہ الفضل انٹرنیشنل ۳۱؍مئی ۲۰۲۵ء صفحہ ۲،۱)
٭…٭…٭




