خطبہ جمعہ

خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 22؍مئی 2026ء

’’مومن کی یہ شرط ہے کہ اس میں تکبر نہ ہو بلکہ انکسار ،عاجزی، فروتنی اس میں پائی جائے اور یہ خدا کے ماموروں کا خاصہ ہوتا ہے۔ ان میں حد درجہ کی فروتنی اور انکسار ہوتا ہے اور سب سے بڑھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ وصف تھا‘‘(حضرت مسیح موعودؑ)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہمیشہ خداتعالیٰ کی ذات تھی اور صرف اس کی برتری دنیا کو دکھانا چاہتے تھے

آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے کو اللہ تعالیٰ نے ضروری قرار دیا ہے اور قبولیت دعا کے لیے ضروری قرار دیا ہے لیکن عاجزی کی انتہا ہے کہ آپؐ اپنے ایک مرید کو فرما رہے ہیں کہ میرے لیے دعا کرنا

کسی کام کے کرنے میں بھی آپؐ عار نہیں سمجھتے تھے اور چھوٹے سے چھوٹا کام بھی آپؐ خود کر کے دوسروں کو دکھاتے تھے بلکہ سکھاتے تھے

جب کوئی شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آتا تو آپؐ اس سے مصافحہ فرماتے ۔آپؐ اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے نہ کھینچتے یہاں تک کہ وہ شخص خود اپنا ہاتھ کھینچ لیتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا چہرہ مبارک اس کے چہرے سے نہ موڑتے یہاں تک کہ وہ شخص خود منہ موڑ لیتا۔ اور آپؐ کو کبھی نہیں دیکھا گیا کہ اپنے ہم نشین کے سامنے گھٹنے بڑھائے ہوئے ہوں

آپؐ کے نزدیک سب سے افضل وہ ہوتا جو سب سے زیادہ خیر خواہی میں بڑھا ہوا ہوتا۔ اورآپؐ کے نزدیک درجے میں سب سے بڑا وہ ہوتا جو دوسروں سے ہمدردی اور معاونت میں سب سے اچھا ہوتا

آپؐ کی مجلس علم اور حیا اور صبر اور امانت کی مجلس ہوتی۔ نہ اس میں آوازیں بلند ہوتیں۔نہ قابل احترام چیزوں کی بے حرمتی ہوتی ۔نہ کسی کی کمزوریوں کو بیان کیا جاتا۔ سب آپس میں برابر ہوتے اور تقویٰ کے سبب وہ ایک دوسرے پر فضیلت رکھتے۔ ایک دوسرے سے انکساری سے پیش آتے ۔ بڑے کی عزّت کرتے اور چھوٹے پر رحم کرتے اور ضرورت مند کو ترجیح دیتے اور اجنبی کا خیال رکھتے

’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہزاروں شاعر آتے اور آپ کی تعریف میں شعر کہتے تھے مگر لعنتی ہے وہ دل جو خیال کرتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کی تعریفوں سے پھولتے تھے۔ وہ ان کو مُردہ کیڑے کی طر ح خیال کرتے تھے۔ مدح وہی ہوتی ہے جوخدا آسمان سے کرے۔ یہ لوگ محبتِ ذاتی میں غرق ہوتے ہیں۔ ان کو دنیا کی مدح و ثنا کی پروا نہیں ہو تی۔تو یہ مقام ایسا ہو تا ہے کہ خدا آسمان اور عرش سے ان کی تعریف اور مدح کرتا ہے۔‘‘(حضرت مسیح موعودؑ)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے سب کے لیے کھلے تھے ۔نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کوئی دربان کھڑا ہوتا تھا ۔نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے صبح شام بڑے بڑے برتنوں میں کھانے پیش کیے جاتے تھے ۔یعنی اعلیٰ قسم کے کھانے کوئی نہیں پیش ہوتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو بھی ملاقات کرنا چاہتا وہ آسانی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مل سکتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر بیٹھتے اپنا کھانا بھی زمین پر رکھتے۔ سادہ اور موٹے کپڑے پہنتے۔ گدھے پر سوار ہوتے۔ لوگوں کو اپنی سواری کے پیچھے بٹھاتے اور کھانے کے بعد اپنی انگلیاں چاٹ لیاکرتے تھے یعنی صاف کر لیتے تھے

مجھے دنیا سے کیا تعلق ہے۔ مَیں صرف ایک سوار کی طرح ہوں جو ایک درخت کے نیچے سائے میں ٹھہرا پھر روانہ ہو جاتا ہے اور اسے چھوڑ دیتا ہے۔(حدیث نبویﷺ)

مسجد میں صفائی جھاڑ پونچھ کے کام کو بھی آپؐ نے کبھی عار نہیں سمجھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں آنے والی گرد و غبار کو ایک چھڑی سے صاف کیا کرتے تھے

یقیناً اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی کی ہے کہ تم لوگ عاجزی اختیار کرو یہاں تک کہ کوئی کسی پر زیادتی نہ کرے اور نہ ہی کوئی کسی پر فخر کرے(حدیث نبویﷺ)

’’عاجزی اختیار کرنی چاہئے۔ عاجزی کا سیکھنا مشکل نہیں ہے۔ اس کا سیکھنا ہی کیا ہے انسان تو خود ہی عاجز ہے اور وہ عاجزی کے لیے ہی پیدا کیا گیا ہے ۔ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ …’’کہ میں نے جن و انس کو پیدا نہیں کیا مگر اس لیے کہ وہ میری عبادت کریں۔‘‘ تکبر وغیرہ سب بناوٹی چیزیں ہیں اگر وہ اس بناوٹ کو اتار دے تو پھر اس کی فطرت میں عاجزی ہی نظر آوے گی۔‘‘(حضرت مسیح موعودؑ)

عاجزی و انکساری کے حوالے سے آنحضورﷺ کے اخلاقِ فاضلہ کا دل آویز تذکرہ

مکرم ملک داؤد محمود صاحب ابن محمد اسحاق صاحب وہاڑی حال کراچی کا ذکر خیر اور نماز جنازہ غائب

خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 22؍مئی 2026ء بمطابق 22؍ہجرت1405 ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے)،یوکے

(خطبہ جمعہ کا یہ متن ادارہ الفضل اپنی ذمہ داری پر شائع کر رہا ہے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾

اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾

اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ﴿۷﴾

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے پہلو عجز و انکسار کا ذکر ہو رہا تھا۔ آج بھی وہی ذکر ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عاجزی کا کیا معیار تھا۔ چھوٹی چھوٹی باتوں کی مثالیں دے کر آپؐ اس کا اظہار فرمایا کرتے تھے ۔چنانچہ حضرت یحیی بن ابی کثیرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مَیں اسی طرح کھاتا ہوں جیسے ایک غلام کھاتا ہےاور اسی طرح بیٹھتا ہوں جیسے ایک غلام بیٹھتا ہے کیونکہ مَیں بھی تو ایک بندہ ہی ہوں۔

(الجامع لشعب الایمان للبیہقی جزء 8 صفحہ 116 روایت نمبر 5572 مکتبۃ الرشد ریاض 2003ء)

یعنی

سرداروں اور رئیسوں والا تکبر اور خود بینی، نمائش میرے اندر نہیں ہے۔

اسی طرح ایک روایت ہے۔ حضرت انسؓ سے یہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی تھی جس کا نام عضباء تھا اور وہ ایسی تیز تھی کہ اس سے آگے کوئی اونٹ نہیں نکل سکتا تھا۔ ایک بدوی اپنے ایک جوان اونٹ پر سوار آیا اور مقابلے میں وہ اونٹ عضباء سے آگے نکل گیا تو مسلمانوں کو سخت ناگوار گزرا کہ عضباء پیچھے رہ گئی ہے اور تم آگے نکل گئے ہو یا نکل رہی بھی تھی تو روک لیتے کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی تھی۔بہرحال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اس رویّے پر فرمایا کہ اللہ کا حق ہے کہ جس چیز کو دنیا میں اٹھاتا ہے اس کو نیچا بھی دکھاتا ہے۔

(صحیح البخاری کتاب الرقاق باب التواضع حدیث نمبر 6501)

اس میں ایسی غصہ والی بات کوئی نہیں۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کرتا ہی ہے ۔ اوپر جاتی ہیں چیزیں تو نیچے بھی آتی ہیں۔ عام لوگ تو ایسی بات پر حسد میں آ جاتے ہیں لیکن

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہمیشہ خداتعالیٰ کی ذات تھی اور صرف اس کی برتری دنیا کو دکھانا چاہتے تھے۔

کس عاجزی سے آپؐ فرماتے ہیں کہ اس میں غصہ والی کیا بات ہے؟ کوئی ضرورت نہیں۔ اس سے تو اللہ تعالیٰ کی برتری ظاہر ہو رہی ہے۔

پھر عاجزی کی ایک اَور مثال حضرت عمرؓ بیان فرماتے ہیں کہ مَیں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عمرے کی اجازت چاہی۔ آپؐ نے اجازت مرحمت فرمائی اور فرمایا:اے میرے بھائی! اپنی دعا میں مجھے نہ بھولنا۔

حضرت عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ایک ایسی بات فرمائی تھی کہ اس کے بدلے مجھے پوری دنیا بھی مل جاتی تو بھی مجھے خوشی نہ ہوتی۔

(سنن ابوداؤد کتا ب الوتر باب الدعاء روایت 1498 )

آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے کو اللہ تعالیٰ نے ضروری قرار دیا ہے اور قبولیت دعا کے لیے ضروری قرار دیا ہے لیکن عاجزی کی انتہا ہے کہ آپؐ اپنے ایک مرید کو فرما رہے ہیں کہ میرے لیے دعا کرنا۔ کسی کام کے کرنے میں بھی آپؐ عار نہیں سمجھتے تھے اور چھوٹے سے چھوٹا کام بھی آپؐ خود کر کے دوسروں کو دکھاتے تھے بلکہ سکھاتے تھے۔

چنانچہ ایک روایت ہے ۔حضرت ابوسعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک لڑکے کے پاس سے ہوا۔ ایک بکری کی کھال وہ اتار رہا تھا تو آپؐ نے اسے پرے کیا اور فرمایا :پیچھے ہٹو تا کہ مَیں تمہیں صحیح طریقہ دکھاؤں کیونکہ مجھے نہیں لگتا کہ تم کھال اتارنے میں مہارت رکھتے ہو۔ چنانچہ آپؐ نے اپنا ہاتھ کھال اور گوشت کے درمیان داخل کیا اور اسے اندر تک لے گئے یہاں تک کہ وہ بغل تک چھپ گیا۔ پھر آپؐ نے فرمایا :یوں کرو۔ اے لڑکے! اس طرح کھال اتارو۔ آپؐ نے اس کا سارا کام بھی کیا اور اس کو سکھایا بھی۔

(سنن ابو داؤد کتاب الطہارۃ باب الوضوء من مس اللحم…حدیث نمبر 185 )

پھر اسی طرح

عاجزی سے دوسروں کے کام کرنے

کی ایک اَور روایت ہے۔ حضرت خبابؓ کی بیٹی سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بکری دودھ دوہنے کے لیے یا بکری کا دودھ دوہنا تھا تو لے کر آئی۔ آپؐ نے اسے باندھا اور اس کا دودھ دوہا۔ آپؐ نے فرمایا :میرے پاس تم اپنا بڑا برتن لے کر آؤ۔ وہ برتن لے کے آئی تھی۔ آپؐ نے فرمایا :نہیں! اس سے بڑا برتن لاؤ۔ سو مَیں ایک بڑا برتن لائی تو آپؐ نے اس میں دودھ دوہا یہاں تک کہ وہ بھر گیا۔ پھر آپؐ نے فرمایا: خود بھی پیو اور اپنے پڑوسیوں کو بھی پلاؤ۔

(مسند ابي داؤد الطيالسي جلد 3 صفحہ 239-240 حدیث نمبر1768دار هجر – مصر1999ء)

یقینا ًآپ کو خیال ہو گا کہ آپؐ کی دعا کی برکت سے اس میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے تو آپؐ نے ان کو فرمایا کہ اپنی یہ برکت جو ہے یہ دوسروں کو بھی دو اور بکری سے دوگنا دودھ اس وقت دوہا گیا۔

سلام کرنے اور مجلس میں بیٹھنے کے بارے میں بھی آپؐ کی عاجزانہ حالت اور اعلیٰ اخلاق کی مثال ملتی ہے۔

چنانچہ روایت ہے۔ حضرت انس بن مالکؓ نے بیان کیا

جب کوئی شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آتا تو آپؐ اس سے مصافحہ فرماتے۔ آپؐ اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے نہ کھینچتے یہاں تک کہ وہ شخص خود اپنا ہاتھ کھینچ لیتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا چہرہ مبارک اس کے چہرے سے نہ موڑتے یہاں تک کہ وہ شخص خود منہ موڑ لیتا۔اور آپؐ کو کبھی نہیں دیکھا گیا کہ اپنے ہم نشین کے سامنے گھٹنے بڑھائے ہوئے ہوں۔

(جامع الترمذی کتاب صفۃ القیامۃ و الرقائق باب 46، حدیث نمبر 2490)

ایک روایت ہے ۔حضرت اَبُو مُثَنّٰی اَمْلُوْکِیؓ سے روایت ہے۔ انہوں نے یہ کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے انبیاء علیہم السلام لاٹھی کے سہارے چلتے تھے اور اس پر ٹیک لگاتے تھے ۔

(سبل الھدیٰ و الرشاد جلد 7 صفحہ32 دارالکتب العلمیۃ)

اور

یہ لاٹھی اس لیے نہیں تھی کہ کوئی رعب ڈالنا ہے یا کوئی بڑائی ظاہر کرنی ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی اور انکساری کے طور پر ہوتا تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عاجزی تو سب سے بڑھ کر تھی۔

پھر

عاجزی کی نصیحت بھی بڑے پُر حکمت انداز میں آپؐ فرماتے ہیں ۔

چنانچہ روایت ہے۔اِبنِ حَزْن بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اونٹ والوں اور بکری والوں میں فخر و مباہات کا مقابلہ ہوا ۔ اونٹ والے جو مالک تھے جن کے پاس زیادہ اونٹ تھے وہ کہتے تھے کہ ہم تمہارے سے زیادہ بڑے ہیں اور ہماری مال کی وسعت زیادہ ہے۔ بکریوں والے کہتے تھے ہم زیادہ ہیں۔ جب یہ مقابلہ ہو رہا تھا، بحث ہو رہی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں گئے اور آپؐ نے فرمایا:موسیٰ نبی بنا کر بھیجے گئے اور وہ بکریاں چراتے تھے۔اور داؤد نبی بنا کر بھیجے گئے اور وہ بکریاں چراتے تھے ۔اور مَیں بھی نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں اور مَیں بھی اپنے اہل کی بکریاں اَجْیَادمقام پر چرایا کرتا تھا۔

(السنن الکبریٰ للنسائی کتاب التفسیر سورۃ طٰہٰ حدیث نمبر 11262 جلد10 صفحہ 171-172 موسسۃ الرسلۃ بیروت 2001ء )

فخر کرنے والوں کو بھی نصیحت فرما دی اور جن پر اپنا فخر ظاہر کیا جا رہا تھا ،بکریوں والوں کو چھوٹا سمجھا رہا تھا تو آپؐ نے ان کی بھی دلجوئی فرما دی۔

اَجْیَادکا ذکر جو آپؐ نے فرمایا ہے یہ اَجْیَادمکے میں صفا کے قریب ایک مقام ہے ۔اس مقام کو جَیَاد بھی کہا جاتا ہے۔

(معجم البلدان جلد 01 صفحہ 130)

آپؐ میں کوئی فخر نہیں تھا۔ غریبوں سے بھی آپ عاجزی سے ملتے۔ ان کی دلجوئی فرماتے تھے۔

چنانچہ روایت ہے۔ حضرت انس بن مالکؓ سے یہ روایت ہے کہ بادیہ نشینوں میں یعنی گاؤں کے رہنے والے جو تھے ان میں ایک آدمی تھا جن کا نام زاہر ؓتھا۔ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دیہات کی سوغاتیں ساتھ لایا کرتا تھا ۔وہاں کی جو مختلف چیزیں ہوتی ہیں دیہات کی لاتا تھا اور جب وہ جانے لگتے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کو کافی مال و متاع دے کر روانہ فرماتے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ زاہر ہمارے بادیہ نشین یعنی گاؤں میںرہنے والے دوست ہیں اور ہم ان کے شہری دوست ہیں۔ ایک دن ایسا ہوا کہ زاہرؓ بازار میں اپنا کچھ سامان فروخت کر رہے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور پیچھے سے انہیں اپنے سینے سے لگا لیا۔ حضرت زاہرؓ حضور کو دیکھ نہیں پا رہے تھے ۔انہوں نے پوچھا کون ہے؟ مجھے چھوڑ دو ۔لیکن جب انہوں نے مڑ کر دیکھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچان لیا تو اپنی کمر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ مبارک سے ملنے لگے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کہنا شروع کر دیا کہ کون اس غلام کو خریدے گا؟ حضرت زاہرؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہؐ! تب تو آپؐ مجھے ایک گھاٹے کا سودا پائیں گے۔ مجھے کس نے خریدنا ہے؟ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے نزدیک تم گھاٹے کا سودا نہیں ہو۔ یا فرمایا کہ اللہ کے حضور تم بہت قیمتی ہو۔

(صحیح ابن حبان کتاب الحظر والاباحۃ باب المزاح والضحک حدیث نمبر 5790 صفحہ1543 دارالمعرفہ2004ء)

اسی واقعہ کا ایک خطبے میں ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ نے اس طرح بیان فرمایا ہے کہ

’’ حضور کے ایک صحابی تھے جو کسی پیدائشی نقص کی وجہ سے نہایت ہی بد شکل تھے‘‘ یعنی زیادہ اچھی شکل نہیں تھی’’ اور نہایت درجہ غریب بھی۔ جسم اور کپڑے خاک آلود تھے ۔اسی حالت میں پسینہ سے لبریز وہ بازار میں کسی کی کوئی چیز بیچ رہے تھے ۔مگر اس صحابی میں کوئی چیز تھی جس کی حضور کے دل میں قیمت تھی۔‘‘ آپؐ بہت قدر فرماتے تھے’’ اسی حالت میں جبکہ خود انہیں اپنے آپ سے گھن آ رہی تھی‘‘وہ اپنے آپ کو سمجھتے تھے کہ میں پسینے میں لتھڑا ہوا ہوں۔ مٹی میرے پر پڑی ہوئی ہے اور خود بھی شاید گھبراتے ہوں گے۔’’ حضور‘‘ اس وقت ان کے ’’پیچھے سے تشریف لائے اور جس طرح بچوں سے کھیلتے ہیں اپنے ہاتھوں سے ان کی آنکھیں بند کر لیں۔ انہوں نے ٹٹول کر معلوم کر لیا کہ یہ حضور کے ہی ہاتھ ہیں کیونکہ حضور کے جسم پر بال بالکل ہی نہ تھے یا بہت کم تھے اور جسم بھی نہایت درجہ ملائم تھا۔ اس پر وہ بھی محبت سے اپنا جسم حضور کے جسم سے رگڑنے لگے جس سے حضور کا جسم اور کپڑے بھی میلے ہونے لگے مگر حضور نے ذرّا بھر برا نہ منایا۔ حضور نے ان پر ہاتھ رکھا اور فرمایا یہ میرا غلام ہے کوئی ہے جو اسے خریدے؟ اس پر ان کا دل بھر آیا۔‘‘ یعنی ان صحابی کا’’ اور حضور سے کہا میرے آقا یہ تو ایک بے نفع اور بے قیمت چیز ہے اسے کون خریدے گا؟حضور نے فرمایا ہرگز نہیں۔ اللہ کے نزدیک اس کی بہت قیمت ہے۔‘‘

(خطبات محمود جلد 3 صفحہ 663)

حضرت حسن بن علیؓ

آپؐ کے اعلیٰ اخلاق اور لوگوں سے عاجزی اور اخلاق سے ملنے اور آپؐ کی وجاہت کا نقشہ

کھینچتے ہوئے ایک جگہ فرماتے ہیں کہ مَیں نے اپنے ماموں ہِند بن اَبِی ہالَہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ مبارک پوچھا اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ خوب بیان کرتے تھے اور مَیں چاہتا تھا کہ وہ میرے سامنے اس کا کچھ تذکرہ کریں۔ اس پر انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بارعب اور وجیہ شکل و صورت کے تھے۔ آپؐ کا چہرہ مبارک یوں چمکتا تھا جیسے چودھویں رات کا چاند۔ پھر انہوں نے یہ مکمل حدیث بیان کی۔ ساری تفصیل کھینچی۔ حضرت حسنؓ کہتے ہیں: مَیں نے یہ روایت، وہ ساری معلومات جو انہوں نے مجھے دی تھیں حضرت حسینؓ سے ایک عرصہ تک چھپائے رکھی۔ اور پھر ان سے جو بیان کی تو یہ معلوم ہوا کہ وہ اس بارے میں مجھ پر سبقت لے جا چکے ہیں اور مجھ سے پہلے ہی ان سے وہ کچھ پوچھ چکے ہیں جو مَیں نے ان سے پوچھا تھا بلکہ یہ بھی معلوم ہوا کہ وہ اپنے والد سے بھی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں آنے اور جانے اور آپؐ کی شکل و صورت کے بارے میں دریافت کر چکے ہیں اور کوئی بات بھی باقی نہیں چھوڑی۔ حضرت امام حسینؓ فرماتے ہیں مَیں نے اپنے والد سے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں داخل ہونے کے بارے میں پوچھا۔

پہلی باتیں تو باہر کی تھیں۔ گھر کی باتیں جوحضرت علیؓ سے پوچھیں۔تو انہوں نے فرمایا کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر تشریف لاتے تو گھر کے اوقات کو تین حصوں میں تقسیم فرماتے۔ ایک حصہ اللہ جلّ شانہ کے لیے وقف فرماتے ۔ایک حصہ اپنے اہل کے لیے ۔اور ایک حصہ خود اپنے لیے۔ پھر اپنے حصے کو بھی اپنے اور لوگوں کے درمیان بانٹ لیتے ہیں اور اس میں خاص صحابہؓ کے ذریعہ عام لوگوں تک دین کی باتیں پہنچاتے اور ان سے کوئی بات بچا نہ رکھتے اور آپؐ کی سیرت میں اُمّت کے حصے کی تقسیم کا طریقہ کار یہ تھا کہ ملاقات کے لیے اجازت دینے میں اُمت کے اہل ِفضل لوگوں کو ترجیح دیتے اور دین میں فضیلت کے لحاظ سے ان کی تقسیم ہوتی تھی ۔ان میں سے بعض کو ایک حاجت ہوتی بعض کو دو اور بعض کو کئی حاجتیں ہوتیں ۔آپؐ ان کی حاجت روائی میں ان کے ساتھ مصروف رہتے اور ان کے سوالات پر انہیں ایسے کاموں میں مصروف کرتے جو ان کی اور اُمّت کی اصلاح کریں اور ایسی باتوں سے آگاہ کرتے جو ان کے لیے مفید ہوتیں اور فرماتے :

جو تم میں سے حاضر ہیں وہ غیر حاضروں تک یہ باتیں پہنچائیں ۔اور مجھ تک اس شخص کی حاجت پہنچاؤ جو اپنی حاجت پہنچا نہیں سکتا کیونکہ جو کسی ایسے شخص کی حاجت حاکم تک پہنچائے جسے وہ خود پہنچانے کی استطاعت نہیں رکھتا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے ثبات قدم بخشے گا۔

پس

اس میں ان عہدیداروں کے لیے بھی سبق ہے جو مختلف جگہوں پہ مقرر کیے گئے ہیں کہ وہ مرکز کو ضرورتمندوں کی باتیں پہنچایا کریں۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایسی باتوں کا تذکرہ ہوتا اور ان کے سوا کسی سے کوئی بات قبول نہ فرماتے۔ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس طالب بن کر آتے اور بغیر کچھ حاصل کیے واپس نہ جاتے اور خیر کی طرف ہدایت کرنے والے بن کر نکلتے۔

وہ یعنی حضرت امام حسینؓ کہتے ہیں پھر مَیں نے اپنے والد سے

آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر سے باہر نکلنے کے بارے میں پوچھا

کہ اس دوران کیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم با مقصد بات کے سوا کلام نہ فرماتے ۔آپؐ صحابہؓ  کی تالیف قلب فرماتے اور انہیں متنفر نہ کرتے۔ ہر قوم کے معزز فرد کی عزّت کرتے اور اسے ان پر والی بنا دیتے۔ لوگوں کو ہوشیار کرتے اور ان سے محتاط رہتے بغیر اس کے ان سے آپؐ کی خندہ پیشانی اور خوش خلقی میں کوئی فرق آئے۔ یعنی کسی کے بارے میں اگر کوئی شک ہوتا تو وہ ہوشیار بھی کرتے لیکن اس طرح نہیں کہ اس سے آپؐ کا کوئی رویّہ بدل جائے بلکہ آپؐ ہر شخص سے خوش اخلاقی سے پیش آتے۔ ہاں! احتیاط کا جہاں تقاضاہے وہاں پر لوگوں سے، ملنے والوں سے احتیاط بھی کرتے۔بعض ایسے لوگ مشکوک بھی ہوتے ہیں۔ آپؐ اپنے صحابہؓ پر نظر رکھتے اور لوگوں سے لوگوں کے احوال دریافت فرماتے۔ اچھی بات کی تعریف کرتے ہیں اور اسے تقویت دیتے اور بری بات کی برائی بیان کرتے اور اس کا زور توڑتے۔ آپؐ ہر امر میں میانہ رو تھے۔ تضاد سے پاک تھے۔ آپؐ غافل نہ ہوتے مبادا لوگ غافل ہو جائیں یا تھک جائیں۔ آپؐ ہر صورتحال کے لیےتیار رہتے۔ آپؐ نہ حق سے پیچھے رہتےنہ اس حق سے آگے بڑھتے۔ جو حق ہے اتنا ہی آپؐ کام کرتے۔ لوگوں میں سے آپؐ کے قریب وہ ہوتے جو سب سے بہترین ہوتے۔

آپؐ کے نزدیک سب سے افضل وہ ہوتا جو سب سے زیادہ خیر خواہی میں بڑھا ہوا ہوتا۔ اور آپؐ کے نزدیک درجے میں سب سے بڑا وہ ہوتا جو دوسروں سے ہمدردی اور معاونت میں سب سے اچھا ہوتا۔

درجے میں سب سے بڑا وہ ہے جو لوگوں سے ہمدردی کرتا ہے اور ان کی مدد کرنے والا ہے۔ وہ جو درجے میں سب سے زیادہ ہوتا وہ آپؐ کے قریب ہوتا اور اس کو آپؐ پسند کرتے۔

حضرت امام حسینؓ  کہتے ہیں: پھر مَیں نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا :آپؐ اٹھتے بیٹھتے ذکر الٰہی کرتے اور جب کسی قوم کے پاس جاتے تو جہاں مجلس ختم ہوتی وہیں تشریف رکھتے اور یہی ارشاد فرماتے۔ آپؐ ہر ہم نشین کو اس کا حق دیتے ۔کوئی یہ گمان نہ کرتا کہ کوئی دوسرا اس سے زیادہ معزز ہے۔ جو آپؐ کے پاس بیٹھتا اور حضورؐ کے پاس اپنی کوئی ضرورت بیان کرتا تو آپؐ سب کے ساتھ اس کے ساتھ رہتے یہاں تک کہ وہ خود اٹھ کر چلا جاتا اور جو آپؐ سے اپنی حاجت طلب کرتا آپؐ اسے بغیر دیے یا نرمی سے بات کے بغیر واپس نہ کرتے۔ حاجت کے لیے آتا تو کچھ دیتے یا اگر نہیں دے سکتے تو بڑی نرمی سے جواب دیتے تھے۔ آپؐ کی خندہ پیشانی ،سخاوت اور اس حسن خلق سب کے لیے تھی۔ آپؐ ان کے لیے باپ ہو گئے تھے۔ حقوق کے لحاظ سے آپؐ کے نزدیک سب برابر تھے۔

آپؐ کی مجلس علم اور حیا اور صبر اور امانت کی مجلس ہوتی۔ نہ اس میں آوازیں بلند ہوتیں۔نہ قابل احترام چیزوں کی بے حرمتی ہوتی ۔نہ کسی کی کمزوریوں کو بیان کیا جاتا۔ سب آپس میں برابر ہوتے اور تقویٰ کے سبب وہ ایک دوسرے پر فضیلت رکھتے۔

اب ایک دوسرے کی کمزوریاں بیان کی جاتی ہیں۔نہیں! آپؐ کی مجلس میں ایسا کبھی نہیں ہوا۔

ایک دوسرے سے انکساری سے پیش آتے ۔بڑے کی عزّت کرتے اور چھوٹے پر رحم کرتے اور ضرورت مند کو ترجیح دیتے اور اجنبی کا خیال رکھتے۔

یہ نہیں کہ کوئی اجنبی آیا تو اس کو توجہ نہ دو۔ اس کا بھی خیال رکھتے۔

(شمائل النبیﷺ باب ما جاء فی تواضع رسول اللہﷺ روایت 321 صفحہ 137 تا 140 شائع کردہ نور فاؤنڈیشن)

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :’’خدا کی رضا میں فانی لوگ نہیں چاہتے کہ ان کو کوئی درجہ اور امامت دی جاوے۔ وہ ان درجات کی نسبت گوشہ نشینی اور تنہاعبادت کے مزے لینے کو زیادہ پسند کرتے ہیں مگران کوخداتعالیٰ کَشَاں کَشَاں خلق کی بہتری کے لیے ظاہر کرتا اور مبعوث فرماتا ہے۔ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی تو غارمیں ہی رہا کرتے تھے اور نہیں چاہتے تھے کہ ان کا کسی کو پتہ بھی ہو آخر خدا نے ان کو باہر نکا لا اور دنیا کی ہدایت کا بار ان کے سپردکیا۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہزاروں شاعر آتے اور آپ کی تعریف میں شعر کہتے تھے مگر لعنتی ہے وہ دل جو خیال کرتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کی تعریفوں سے پھولتے تھے‘‘

یعنی وہ خوش ہوتے تھے۔

’’ وہ ان کو مُردہ کیڑے کی طر ح خیال کرتے تھے۔ مدح وہی ہوتی ہے جوخدا آسمان سے کرے۔ یہ لوگ محبتِ ذاتی میں غرق ہوتے ہیں۔ ان کو دنیا کی مدح و ثنا کی پروا نہیں ہو تی۔تو یہ مقام ایسا ہو تا ہے کہ خدا آسمان اور عرش سے ان کی تعریف اور مدح کرتا ہے۔‘‘

(ملفوظات جلد 4 صفحہ 338 – 339 ایڈیشن 2022ء)

پھر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:

’’کوئی شخص عیسائی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ۔حضرت نے اس کی بہت تواضع خاطرداری کی ۔وہ بہت بھوکا تھا ۔حضرت نے اس کو خوب کھلایا کہ اس کا پیٹ بہت بھر گیا۔ رات کو اپنی رضائی عنایت فرمائی۔جب وہ سو گیا تو اس کو بہت زور سے دست آیا کہ وہ روک نہ سکا اور رضائی میں ہی کر دیا۔ جب صبح ہوئی تو اس نے سوچا کہ میری حالت کو دیکھ کر کراہت کریں گے۔ شرم کے مارے وہ نکل کر چلا گیا۔ جب لوگوں نے دیکھا تو حضرت سے عرض کی کہ جو نصرانی عیسائی تھا وہ رضائی کو خراب کر گیا ہے۔ اس میں دست پھرا ہوا ہے۔ حضرت نے فرمایا کہ وہ مجھے دو تاکہ میں صاف کروں۔ لوگوں نے عرض کیا کہ حضرت آپ کیوں تکلیف اٹھاتے ہیں ۔ہم جو حاضر ہیں ہم صاف کر دیں گے۔ حضرت نے فرمایا کہ وہ میرا مہمان تھا اس لیے میرا ہی کام ہے اور اٹھ کر پانی منگا کر خود ہی صاف کرنے لگے۔‘‘نہایت عاجزی سے مہمان کا جو گند تھا اس کو صاف کیا۔’’ وہ عیسائی جب کہ ایک کوس نکل گیا تواس کو یاد آیا کہ اس کے پاس جو سونے کی صلیب تھی وہ چارپائی پر بھول آیا ہوں۔ اس لیےوہ واپس آیا تو دیکھا کہ حضرت اس کے پاخانہ کو رضائی پر سے خود صاف کر رہے ہیں۔ اس کو ندامت آئی اور کہا کہ اگر میرے پاس یہ ہوتی تو میں کبھی اس کو نہ دھوتا۔ اس سے معلوم ہوا‘‘ اس نے سوچا کہ اس سے معلوم ہوا’’ کہ ایسا شخص کہ جس میں اتنی بے نفسی ہے ‘‘اتنی عاجزی ہے اور ’’وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ پھر وہ مسلمان ہو گیا‘‘ آپؐ کے اس عمل کو دیکھ کے۔

(ملفوظات جلد 5 صفحہ 205-206 ایڈیشن 2022ء)

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوجو پہلی وحی ہوئی اس وقت بھی آپؐ کی عاجزی اور انکساری کا ہی اظہار ہوتا ہے۔

حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ غار حرا کے واقعہ کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ’’سب سے پہلی وحی غار حرا میں نازل ہوئی تھی جب جبرائیل رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نظر آیا اور اس نے کہا اِقْرَاْ یعنی پڑھ۔ اس کے جواب میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مَا اَنَا بِقَارِئٍ۔ مَیں پڑھنا نہیں جانتا۔ مطلب یہ تھا کہ یہ بوجھ مجھ پر نہ ڈالا جائے کیونکہ اس وقت آپ کے سامنے کوئی کتاب تو نہیں رکھی گئی تھی جسے آپ نے پڑھنا تھا بلکہ جو کچھ جبرائیل بتاتا وہ آپ کو زبانی کہنا تھا اور یہ آپ کہہ سکتے تھے مگر آپ نے انکسار کا اظہار کیا لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کام کے لیے آپ ہی کو چنا تھا اس لیے بار بار کہا کہ پڑھو۔ آخر تیسری بار کہنے پر آپ نے پڑھا‘‘ اور پھر فرشتے نے وہ آیت پڑھائی’’… اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ۔‘‘ والی۔

(فضائل القرآن نمبر2،انوار العلوم جلد11صفحہ109)

اس طرح اس واقعے کے بارے میں ایک اَور جگہ حضرت مصلح موعودؓ نے یوں لکھا ہے تفسیر میں تفسیر کبیر میں سورت کوثر کی تفسیر میں غالباًکہ

’’جب آپ پر وحی نازل ہوئی تو آپ نے غیر معمولی انکسار کا ثبوت دیا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ دوسرے لوگوں کو اگر کوئی الہام ہوتا ہے یا کوئی خواب آجاتی ہے تو وہ بے تحاشہ دوسرے کی طرف دوڑ پڑتے ہیں اور اسے بتاتے ہیں کہ ہمیں یہ الہام ہوا ہے، یہ خواب آئی ہے ۔مگر آپ کے پاس جبریل آتا ہے اور وہ کہتا ہے اِقْرَاْ پڑھ۔ تو آپ فرماتے ہیں مَا اَنَا بِقَارِئٍ۔مَیں تو پڑھنا نہیں جانتا۔ تین دفعہ آپ نے یہی کہا۔مگر جب آپ نے دیکھا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اس بات پر اصرار ہو رہا ہے تو پھر آپ نے حکم کی تعمیل کی اور ایسی جرأت سے کی کہ آپ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرح یہ نہیں کہا کہ میرے ربّ مجھے کوئی اَور ساتھی دے بلکہ آپؐ نے اکیلے ہی اس بوجھ کو اٹھا لیا اور مدد کے لیے کوئی ساتھی نہیں مانگا۔ ‘‘

(تفسیر کبیر جلد15صفحہ138-139 ایڈیشن2023ء)

حضرت مصلح موعود ؓپھر فرماتے ہیں کہ’’ آپ کے انکسار کی ایک اَور مثال یہ ہے کہ ایک دن ایک انصاری بیمار ہوگئے۔ آپ اس کی تیمارداری کے لئے تشریف لے گئے۔ واپسی پر اس انصاری نے آپ کو سواری کے لئے ایک گھوڑا دیا اور اپنے بیٹے سے کہا کہ تم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جاؤ۔ شاید آپ کو اور آدمی تلاش کرنے میں دقت ہو۔‘‘ یعنی کوئی اَور ساتھی سفر کرنے کے لیے نہ ملے ’’اور آتی دفعہ گھوڑا واپس لے آنا۔ تھوڑی دیر کے بعد ان کا بیٹا واپس آگیا۔ باپ نے بیٹے سے دریافت کیا کہ میں نے تو تمہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھیجا تھا تا راستہ میں حفاظت بھی ہو جائے اور گھوڑا بھی نہ بدکے اور تم واپس آگئے ہو۔ بیٹے نے جواب دیا میں مجبور تھا۔ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے گئے تو آپ نے مجھ سے فرمایا: تم بھی میرے پیچھے بیٹھ جاؤ۔ میں نے کہا یا رسول اللہ مجھ سے اتنی بے ادبی نہیں ہو سکتی۔ آپ نے فرمایا: پھر مجھ سے بھی برداشت نہیں ہوسکتا کہ تم پیدل چلو اور میں گھوڑے پر سوار ہوں۔ یا تو تم بھی میرے ساتھ گھوڑے پر سوار ہو جاؤ اور یا پھر واپس چلے جاؤ۔ چنانچہ ‘‘کہتے ہیں یعنی اس بیٹے نے کہا ’’میں واپس آ گیا ‘‘اسی کو بہتر سمجھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اکیلےگھوڑے پہ چلے گئے۔

(تفسیر کبیر جلد 15 صفحہ 157 ایڈیشن 2023ء)

ایک روایت ہے ۔حضرت عبداللہؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک چٹائی پر سوئے۔ آپؐ اٹھے تو آپؐ کے پہلو پر اس کا نشان تھا ۔آپ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اگر ہم آپؐ کے لیے ایک بستر بنائیں۔ آپ کے لیے ہم ایک نرم بستر بنا دیتے ہیں۔آپؐ نے فرمایا :

مجھے دنیا سے کیا تعلق ہے۔ مَیں صرف ایک سوار کی طرح ہوں جو ایک درخت کے نیچے سائے میں ٹھہرا پھر روانہ ہو جاتا ہے اور اسے چھوڑ دیتا ہے۔

(جامع الترمذی کتاب الزھد حدیث نمبر 2377)

صحیح بخاری میں حضرت عمرؓ  کی ایک روایت ہے۔فرماتے ہیں کہ مَیں ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپؐ اپنے بالا خانے میں تشریف فرما تھے اور اس وقت آپؐ ایک بوریے پر تھے۔ آپؐ کے اور اس بوریے کے درمیان کوئی چیز نہ تھی اور آپؐ کے سر کے نیچے چمڑے کا ایک تکیہ تھا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی اور آپؐ کے پاؤں کے پاس کیکر کے پتوں کا ڈھیر لگا تھا اور آپؐ کے سر کے قریب کچے چمڑے لٹک رہے تھے اور میں نے آپؐ کے پہلو میں اس بوریا کا نشان بھی دیکھا۔ جو میٹ بچھا ہوا تھا یا صف تھی جو بھی تھی (اس کا نشان تھا) اور یہ دیکھ کر کہتے ہیں مَیں رو پڑا۔ آپؐ نے پوچھا :تمہیں کیا بات رلا رہی ہے؟ مَیں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !کسریٰ اور قیصر آسائش میں ہوں جس میں کہ وہ ہیں اور آپؐ تو اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ آپؐ نے فرمایا :

کیا تم اس بات سے خوش نہیں کہ ان کے لیے دنیا ہو اور ہمارے لیے آخرت۔

(صحیح البخاری کتاب تفسیر القرآن باب تبتغي مرضاة أزواجك حدیث نمبر 4913 مترجم جلد 12 صفحہ 264و 267 شائع کردہ نظارت اشاعت)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس واقعہ کو بھی بیان کرتے ہوئے اس طرح فرماتے ہیں کہ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تمتّع دنیاوی کا یہ حال تھا کہ ایک بار حضرت عمرؓ  آپؐ سے ملنے گئے۔ ایک لڑکا بھیج کر اجازت چاہی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک کھجور کی چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے۔جب حضرت عمر ؓاندر آئے تو آپؐ اٹھ کر بیٹھ گئے۔ حضرت عمرؓ نے دیکھا کہ مکان سب خالی پڑا ہے اور کوئی زینت کا سامان اس میں نہیں ہے۔ ایک کھونٹی پر تلوار لٹک رہی ہے یا وہ چٹائی ہے جس پر آپؐ لیٹے ہوئے تھے اور جس کے نشان اسی طرح آپؐ کی پشت مبارک پر بنے ہوئے تھے۔ حضرت عمرؓ ان کو دیکھ کر رو پڑے۔ آپؐ نے پوچھا اے عمر !تجھ کو کس چیز نے رلایا؟عمر ؓنے عرض کی کہ کسریٰ اور قیصر تو تنعم کے اسباب رکھیں اور آپؐ جو خدا کے رسول اور دو جہان کے بادشاہ ہیں اس حال میں رہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

اے عمرؓ ! مجھے دنیا سے کیا غرض۔ میں تو اس مسافر کی طرح گذارہ کرتا ہوں جو اونٹ پر سوار منزلِ مقصود کو جاتا ہو۔ ریگستان کا راستہ ہو اور گرمی کی سخت شدت کی وجہ سے کوئی درخت دیکھ کر اس کے سایہ میں سستا لے اور جونہی کہ ذرا پسینہ خشک ہوا ہو وہ پھر چل پڑے۔‘‘

(ملفوظات جلد 6 صفحہ 228۔229،ایڈیشن 2022ء)

بد اخلاق لوگوں سے بھی آپؐ ہمیشہ نرمی اور عاجزی کے اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ فرماتے تھے۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر اپنا حق طلب کیا اور سخت لہجہ اختیار کیا۔ صحابہ کرامؓ اس پر ناراض ہوئے مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :چھوڑ دو کیونکہ حق والے کے پاس اپنی بات کہنے کا حق ہے۔ کیونکہ اس کا حق مَیں نے بہرحال دینا ہے۔ بات کہنے کاحق رکھتا ہے اور اس کے لیے ایک اونٹ خرید کر اسے دے دو۔ جو قرض لینے آیا تھا اس کو ایک اونٹ خرید کے دے دو۔ صحابہؓ نے کہا ہمیں اس کے برابر اونٹ نہیں ملا۔ جو قرض ہے اس سے زیادہ قیمتی اونٹ مل رہے ہیں۔ صرف اس سے بہتر مل رہے ہیں تو آپؐ نے فرمایا: وہی اسے خرید کے دے دو کیونکہ

تم میں سب سے اچھا وہ ہے جو قرض کی ادائیگی میں سب سے بہتر ہے۔

(مشکاۃ المصابیح کتاب البیوع باب الافلاس و الانظار الفصل الاول روایت 2906 جلد1 صفحہ537 مکتبہ دارالکتب العلمیۃ بیروت)

اب یہاں جو بعض جھگڑے ہوتے ہیں ۔اصل قرض جو دینا ہوتا ہے وہ بھی نہیں دے رہے ہوتے اور اس سے لڑ جھگڑ رہے ہوتے ہیں کہ اس میں بھی کمی کرو۔ اگر یہ چیزیں ہمیں سمجھ آجائیں تو بہت سارے جھگڑے ہمارے ختم ہو جائیں۔

اسی طرح آپؐ کی عاجزی کا ایک واقعہ یوں ملتا ہے۔ فتح مکہ کے وقت جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد حرام میں داخل ہوئے تو حضرت ابوبکرؓ اپنے والد کو لے کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اے ابوبکر !تم اس بوڑھے عمر رسیدہ شخص کو گھر ہی رہنے دیتے۔ مَیں خود ان کے پاس آجاتا۔ اس پر حضرت ابوبکرؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہؐ! یہ اس بات کے زیادہ مستحق ہیں کہ آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوتے نہ یہ کہ آپؐ ان کے پاس تشریف لاتے۔ حضرت ابوبکرؓ نے انہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بٹھایا توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نےان کے سینے پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا کہ اسلام لے آئیں آپ سلامتی میں آجائیں گے ۔چنانچہ ابو قحافہ نے اسلام قبول کر لیا۔

(الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ جلد4 صفحہ375 مکتبہ دارالکتب العلمیۃ 1995ء)

اسی طرح

گھر میں معمولی زندگی گزارنے

کے بارے میں جو روایت ہے ۔حضرت حسنؓ سے یہ روایت ہے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے سب کے لیے کھلے تھے ۔نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کوئی دربان کھڑا ہوتا تھا ۔نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے صبح شام بڑے بڑے برتنوں میں کھانے پیش کیے جاتے تھے ۔یعنی اعلیٰ قسم کے کھانے کوئی نہیں پیش ہوتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو بھی ملاقات کرنا چاہتا وہ آسانی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مل سکتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر بیٹھتے اپنا کھانا بھی زمین پر رکھتے۔ سادہ اور موٹے کپڑے پہنتے۔ گدھے پر سوار ہوتے لوگوں کو اپنی سواری کے پیچھے بٹھاتے اور کھانے کے بعد اپنی انگلیاں چاٹ لیاکرتے تھے ۔یعنی صاف کر لیتے تھے۔

(السنن الكبرىٰ للبیھقی جلد 10 صفحہ 171 حدیث نمبر 20838 مکتبہ الرشد)

انگلیاں چاٹنے کے بارے میں بھی بخاری میں یہ ایک حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ کھانے کے بعد ہاتھ صاف کرنے سے پہلے یعنی دھونے سے پہلے اپنی انگلیاں چاٹ لینی چاہئیں۔

(صحیح البخاری کتاب الاطمعۃ باب لعق الاصابع و مصھا…حدیث نمبر5456)

چنانچہ انگلیاں چاٹنے کے بارے میں بخاری کی شرح میں حضرت زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحبؓ نے لکھا ہے۔ یہ ان کا ایک نوٹ ہے کہ

’’حضرت سید( ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحبؓ) فرماتے ہیں :’’یہ بات تمام حکماء کے تجربہ میں آئی ہوئی ہے اور تمام طبیبوں کا اس پر اتفاق ہے کہ انسان کے ہاتھ کی انگلیوں میں ایک خاص لَمْس کی طاقت ہے ۔مثلاً ہم اگر کسی کپڑے کی ملائمت کو دیکھنا چاہیں تو سوائے ہاتھ کی انگلیوں کے اس کی ملائمت کا اندازہ نہیں کر سکتے حالانکہ تمام جسم میں مَسّ یا لَمْس کی طاقت پائی جاتی ہے لیکن ہاتھ کے سوا مثلاً پیر سے اگر ملائمت کا اندازہ لگانا ہو تو ہم پورے کامیاب نہ ہو سکیں گے۔ ہاں ایک خاص برقی اثر ہے جو صرف ہاتھ بلکہ انگلیوں تک ہی محدود ہے اور ہاتھ کی انگلیوں سے آنکھ کا جو ایک توجہ کا آلہ ہے خاص تعلق ہے ۔اسی لیے توجہ کرنے والے عامل بھی معمول‘‘ یعنی جس پر توجہ کا عمل کر رہے ہوتے ہیں اس’’کی انگلیوں کی طرف آنکھ زیادہ لڑاتے ہیں اور اس طرح سے معمول کے اوپر انگلیوں کے ذریعہ اپنی آنکھ کی تاثیرات’’ مسمریزم جو کر رہے ہوتے ہیں ان کے ہاتھوں کی طرف زیادہ توجہ ہوتی ہے۔ ‘‘خاطر خواہ طور پر ڈال سکتے ہیں اور اپنے مقصد میں کامیاب ہوتے ہیں۔ اسی طرح جو ادویہ ہاتھ سے بنائی جاویں وہ زیادہ فائدہ دیتی ہیں۔‘‘ اب تو آج کل اس زمانے میں ہر چیز مشینوں سے ہی تیار ہوتی ہے لیکن اس زمانے میں ڈاکٹر بھی، طبیب بھی یہی کہا کرتے تھے۔ ڈاکٹر اسماعیل صاحبؓ  تو بڑے پڑھے لکھے سرجن بھی تھے،ڈاکٹر بھی تھے۔ بہرحال انہوں نے کہا ہے۔ فائدہ دیتی ہے ’’بہ نسبت ان دوائیوں کے جو مشین کے ذریعہ سے تیار کی جا ویں… پس اسی اصول کے ماتحت کھانا کھانے کے وقت جب انسان انگلیوں سے لقمہ اٹھاوے گا تو اس کی آنکھ ہر دفعہ لقمہ لیتے وقت انگلیوں کے سروں پر پڑے گی اور انگلیاں ہی ہوں گی۔ پس جب انسان کھانے کے بعد پانی سے دھونے یا کپڑےسے پونچھنےکے بغیر انگلیوں کو چاٹ لے گا تو صاف ظاہر ہے کہ وہ اثر انسان کے معدہ میں بہ وساطت اس چکنائی کے جو انگلیوں سے چپکی ہوئی تھی پہنچے گا اور معدہ کے فعل یعنی ہضم میں تقویت دے گا اور اس طرح کھانا جلدی ہضم ہو گا۔ ‘‘یہ اس وقت ڈاکٹروں کا، حکیموں کا نظریہ تھا۔ آج تو پتہ نہیں ڈاکٹر اس کے خلاف ہوں گے لیکن بہرحال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کھانے کے بعد جو ہاتھ پر لگا ہوتا ہے اس کو چاٹ لینے میں فائدہ ہی ہے۔

بخاری کی روایت میں ہے کہ’’فَلَا یَمْسَحْ یَدَہُ حَتّٰی یَلْعَقَھَا أَوْ یُلْعِقَھَا۔ اپنا ہاتھ نہ پونچھے جب تک کہ ان کو چاٹ نہ لے یا فرمایا ان کو چٹا نہ دے۔شارحین نے کسی سے چٹوانے کے متعلق لکھا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنے خادم سے یا اپنے بیٹے سے یا اس شخص سے جس کو انگلیوں کے چاٹنے سے گھن نہ آئے چٹوائے۔ ‘‘اب جس نے کھانا کھانا ہے اس کو ضرورت کیا ہے خود بھی تو چاٹ سکتا ہے۔ تو شرح لکھنے والے بعض دفعہ کہیں کے کہیں پہنچ جاتے ہیںبہرحال ’’مگر یہ بات نامناسب اور شرف انسانی کے برعکس نظر آتی ہے‘‘ کہ کسی اَور کو کہا جائے کہ تم میری انگلیاں چاٹو۔’’ اس کا ایک مطلب یہ ہے ‘‘بہرحال ہو سکتا ہے ’’کہ انسان کھانا کھانے کے بعد اپنی انگلیاں خود بھی چاٹ کر صاف کرے اور اپنے زیر کفالت اور زیر تربیت افراد کو بھی یہ بات بتائے کہ وہ اپنی اپنی انگلیاں چاٹ کر صاف کرلیں تاکہ ان طبی فوائد و دیگر مقاصد کو حاصل کرنے والے بنیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد میں پنہاں ہیں۔‘‘

(صحیح البخاری مترجم جلد 13 صفحہ 398 تا 400کتاب الاطعمۃ، باب لعق الاصابع و مصھا …، اسلام انٹرنیشنل پبلیکیشنزلمیٹڈ)

مسجد میں صفائی جھاڑ پونچھ کے کام کو بھی آپؐ نے کبھی عار نہیں سمجھا۔

چنانچہ حضرت یعقوب بن زیدؓ سے روایت ہے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں آنے والی گرد و غبار کو ایک چھڑی سے صاف کیا کرتے تھے ۔

اس سے یہی مراد ہو سکتی ہے کہ چھڑی کے آگے کوئی کپڑا وغیرہ لگا کر اس سےجھاڑپونچھ کرتے تھے۔

(المصنف لابن ابی شیبہ جلد 2 صفحہ 321حدیث نمبر4044 الفاروق الحدیثیۃ للطباعۃ والنشر 2008ء)

حضرت ابو ہریرہؓ نے بیان کیا جبرائیلؑ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان کی طرف دیکھا تو ایک فرشتہ اترتا ہوا نظر آیا۔ جبرائیلؑ نے کہا یہ وہ فرشتہ ہے جو اپنی پیدائش کے دن سے لے کر اس گھڑی سے پہلے کبھی نازل نہیں ہوا۔ جب وہ فرشتہ نازل ہوا تو اس نے کہا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! آپ کے ربّ نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے ۔اللہ تعالیٰ کہتا ہے کیا وہ آپ کو بادشاہ نبی بنائے یا بندہ رسول۔ جبرائیل نے کہا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! اپنے ربّ کے لیے تواضع اختیار کیجئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بلکہ بندہ رسول بنا کر مبعوث کرے۔

(مسند احمد بن حنبل جلد 3 صفحہ 13 مسند ابی ہریرہؓ حدیث نمبر 7160عالم الکتب 1998ء)

یہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی فطرت تھی۔ جبرائیل نہ بھی کہتے تو آپؐ نے یہی کہنا تھا اور اسی بات کی آپؐ نے ہمیشہ تلقین کی ہے اور اپنے ماننے والوں کو بھی بتایا ہے کہ مَیں تو ایک بشر رسول ہوں۔ بہرحال اس روایت کا جو مطلب ہے وہ یہی ہے کہ اگر وہ موقع پیش آیا تو عاجزی سے آپؐ نے یہی کہا کہ میں بادشاہ رسول نہیں بننا چاہتا۔ میں تو اللہ کابندہ عاجز انسان اور اس کا رسول بننا چاہتا ہوں اور یہی ہمارے کلمہ میں ذکر ہے۔

ایک حقیقی مسلمان کو کس طرح عاجز ہونا چاہیے۔ ایک روایت میں ہے۔ حضرت عِیَاضْ بن حِمَارؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

یقیناً اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی کی ہے کہ تم لوگ عاجزی اختیار کرو یہاں تک کہ کوئی کسی پر زیادتی نہ کرے اور نہ ہی کوئی کسی پر فخر کرے۔

(سنن ابو داؤد کتاب الادب باب فی التواضع حدیث نمبر 4895 )

آپؐ کے غلام صادق حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام ہمیں نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’عاجزی اختیار کرنی چاہئے۔ عاجزی کا سیکھنا مشکل نہیں ہے اس کا سیکھنا ہی کیا ہے انسان تو خود ہی عاجز ہے اور وہ عاجزی کے لیے ہی پیدا کیا گیا ہے ۔ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ …’’کہ میں نے جن و انس کو پیدا نہیں کیا مگر اس لیے کہ وہ میری عبادت کریں۔‘‘ تکبر وغیرہ سب بناوٹی چیزیں ہیں۔ اگر وہ اس بناوٹ کو اتار دے تو پھر اس کی فطرت میں عاجزی ہی نظر آوے گی۔‘‘

(ملفوظات جلد 5 صفحہ 38 ایڈیشن2022ء)

ہمیں نصیحت کرتے ہوئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام عجز کو بیان کرتے ہوئے ایک جگہ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: ’’اللہ تعالیٰ بہت رحیم و کریم ہے ۔وہ ہر طرح انسان کی پرورش فرماتا اور اس پر رحم کرتا ہے اور اسی رحم کی وجہ سے وہ اپنے ماموروں اور مرسلوں کو بھیجتا ہے تا وہ اہل دنیا کو گناہ آلود زندگی سے نجات دیں ۔مگر تکبر بہت خطرناک بیماری ہے جس انسان میں یہ پیدا ہو جاوے اس کے لیے روحانی موت ہے۔ مَیں یقیناًجانتا ہوں کہ یہ بیماری قتل سے بھی بڑھ کر ہے۔ متکبر شیطان کا بھائی ہو جاتا ہے۔ اس لیے کہ تکبر ہی نے شیطان کو ذلیل و خوار کیا۔ اس لیے

مومن کی یہ شرط ہے کہ اس میں تکبر نہ ہو بلکہ انکسار ،عاجزی، فروتنی اس میں پائی جائے اور یہ خدا کے ماموروں کا خاصہ ہوتا ہے۔ ان میں حد درجہ کی فروتنی اور انکسار ہوتا ہے اور سب سے بڑھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ وصف تھا۔

آپ کے ایک خادم سے پوچھا گیا کہ تیرے ساتھ آپؐ کا کیا معاملہ ہے؟ اس نے کہا کہ سچ تو یہ ہے کہ مجھ سے زیادہ وہ میری خدمت کرتے ہیں۔ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ۔

یہ ہے نمونہ اعلیٰ اخلاق اور فروتنی کا اور یہ بات بھی سچ ہے کہ زیادہ تر عزیزوں میں خدام ہوتے ہیں جو ہر وقت گرد و پیش حاضر رہتے ہیں۔ اس لیے اگر کسی کے انکسار و فروتنی اور تحمل و برداشت کا نمونہ دیکھنا ہو تو ان سے معلوم ہو سکتا ہے۔ بعض مرد یا عورتیں ایسی ہوتی ہیں کہ خدمت گار سے ذرا کوئی کام بگڑا ۔مثلاً چائے میں نقص ہوا تو جھٹ گالیاں دینی شروع کر دیں یا تازیانہ لے کر مارنا شروع کر دیا۔ اور ذرا شوربے میں نمک زیادہ ہو گیا بس بیچارے خدمت گاروں پر آفت آ ئی۔

دوسرے غرباء کے ساتھ معاملہ تب پڑتا ہے کہ وہ فاقہ مست ہوتے ہیں اور خشک روٹی پر گذارا کر لیتے ہیں مگر یہ باوجود علم ہونے کے بھی ان کی پروا نہیں کرتے۔ وہ ان کوامتحان میں ڈالتے ہیں جب بصورت سائل آتے ہیں۔‘‘ جب غریب سوال کرنے کے لیے امیر کے پاس آتا ہے تو وہ ابتلا میں ڈال رہا ہوتا ہے۔ اصل نیکی تو اس وقت ہے کہ ان کی حاجات پوری کرو۔ ’’خدا تعالیٰ تو ذرّہ ذرّہ کا خالق ہے۔ کوئی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ یہ غریبوں کے ساتھ ہی معاملہ کر کے سمجھا جاتا ہے کہ کس قدر نا خدا ترسی یا خدا ترسی سے حصہ لیتا ہے یا لے گا۔‘‘

(ملفوظات جلد7 صفحہ312-313،ایڈیشن2022ء)

خدا ترسی کتنی ہے؟ یہ غریبوں کے معاملے سے پتہ لگتا ہے ۔امیروں سے اچھے سلوک کرنے سے پتہ نہیں لگتا۔

اللہ تعالیٰ ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم اور آپ کی سنت پر چلتے ہوئے عاجزی کی راہوں کو اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

نماز کے بعد مَیں

ایک جنازہ غائب

بھی پڑھاؤں گا جو

مکرم ملک داؤد محمود صاحب ابن محمد اسحاق صاحب وہاڑی حال کراچی

کا ہے۔ گذشتہ دنوں ان کی وفات ہو گئی تھی ۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصی تھے۔ ان کے دادا محمد دین صاحب گاؤں بڑھتاں والا ضلع سیالکوٹ کے رہنے والے تھے۔ 1914ء میں انہوں نے حضرت خلیفة المسیح الثانیؓ کے ہاتھ پربیعت کی۔ ملک داؤد صاحب کو مقامی سطح پر صدر جماعت اور سیکرٹری مال اور انصاراللہ میں بھی خدمت کی توفیق ملی۔

پسماندگان میں تین بیٹیاں اور چار بیٹے ہیں۔ ایک بیٹے ان کے محمد اکمل صاحب مربی سلسلہ ہیں جو گیمبیا میں ہیں اور وہاں خدمت کی توفیق پا رہے ہیں ۔اور میدان عمل میں ہونے کی وجہ سے اپنے والد کے جنازے میں شامل نہیں ہو سکے۔ یہی بیٹے اکمل صاحب جو مربی ہیں وہ لکھتےہیں کہ والد صاحب بہت خوش مزاج، ہنس مکھ اور زندہ دل انسان تھے۔ تبلیغ کا بڑا شوق تھا اور ہمیشہ جب بھی اپنی زمینوں پر سندھ میں جاتے تو وہاں جا کے بھی تبلیغ کے بہانے ڈھونڈتے۔ لوگوں کو تبلیغ کرتے۔ جب تک پاکستان میں سختی کا قانون پاس نہیں ہو گیا اس وقت تک اپنے ساتھ پمفلٹ بھی رکھتے تھے اور ہمیشہ تبلیغ بھی کیا کرتے تھے اور اس کی وجہ سے لوگوں کو اپنے زیر اثر بھی کیا۔ بڑے مہمان نواز تھے اور جو بھی مہمان آتا، مرکزی مہمان بھی ہوتے یا کوئی بھی مہمان ہوتا اس کی مہمان نوازی کرتے۔ جب تک نماز سینٹر نہیں بن گیا اپنے گھر میں نماز سینٹر بنایا ہوا تھا اور وہاں باجماعت نمازوں کا اہتمام ہوتا تھا۔ فجر کی نماز کے بعد کہتے ہیں بڑی اونچی آواز میں تلاوت قرآن کریم بھی کیا کرتے تھے ۔اور ان کے ایک سینٹر میں ہی دوسری جماعتوں سے بھی لوگ جمعہ پڑھنے آیا کرتے تھے ۔اور پھر جب اپنے کھیتوں میں زمینوں پہ جاتے تھے تو کہا کرتے تھے میں اپنے کھیتوں میں جا کر اس کے ہر کونے پر نفل ادا کرتا ہوں اور اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ میری فصل میں برکت ڈال دیتا ہے اور دوسروں سے دوگنی فصل ہو جاتی ہے۔ اسی طرح آپ نے وہاں اپنے گاؤں میں جو گھر بنایا تھا وہ اپنے بچوں کو کہا کہ مَیں چاہتا ہوں کہ میں سارا مستقل جماعت کو دے دوں اور جماعت کا سینٹر بن جائے۔ اور پھر انہوں نے دے بھی دیا۔ بہر حال مہمان نوازی کا بڑا نمایاں وصف تھا اور لوگوں کی خدمت کرنا اور جماعت سے کامل اطاعت اور خطبات سننا یہ ان کا خاص وصف تھا۔ اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت کا سلوک فرمائے۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 15؍مئی 2026ء

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button