حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

شرائطِ بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں

(بیان فرمودہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز)

(تسلسل کے لیے دیکھیں الفضل انٹرنیشنل ۱۷؍جون ۲۰۲۶ء)

دین کو دنیا پر مقدم رکھنا …

قربانی کا اعلیٰ معیار

پھر حکیم فضل دین صاحب کانمونہ ہمدردی ٔاسلام کے بارہ میں ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ’’حبی فی اللہ حکیم فضل دین صاحب بھیروی۔ حکیم صاحب اخویم مولوی حکیم نور دین صاحب کے دوستوں میں سے اور ا ن کے رنگ اخلاق سے رنگین اور بہت بااخلاص آدمی ہیں۔ مَیں جانتاہوں کہ ان کو اللہ اور رسول سے سچی محبت ہے اور اسی وجہ سے وہ اس عاجز کو خادم دین دیکھ کر حُبّ لِلّٰہ کی شرط کو بجا لارہے ہیں۔ معلوم ہوتاہے کہ انہیں دین اسلام کی حقانیت کے پھیلانے میں اُسی عشق کا وافر حصہ ملاہے جو تقسیم ازلی سے میرے پیارے بھائی مولوی حکیم نور دین صاحب کو دیا گیاہے۔ وہ اس سلسلہ کے دینی اخراجات کو بنظر غور دیکھ کر ہمیشہ اس فکر میں رہتے ہیں کہ چندہ کی صورت پرکوئی ان کا احسن انتظام ہو جائے‘‘۔ (ازالہ اوہام۔ صفحہ ۷۸۱۔ روحانی خزائن۔ جلد ۳۔ صفحہ ۵۲۲)

جب۱۹۲۳ء میں کارزار شدھی گرم کیا گیا تو احمدی ’’مربیان‘‘ کا یہ حال تھا کہ وہ تیز چلچلاتی دھوپ میں کئی کئی میل روزانہ پیدل سفر کرتے۔ بعض اوقات کھانا توکیاپانی بھی نہیں ملتا تھا۔ اکثر اوقات کچا پکا باسی کھانا کھاتے یا بھنے ہوئے چنے کھا لیتے اور پانی پی کر گزارہ کرتے۔ بعض اوقات ستو رکھے ہوئے ہوتے تھے۔ اور انہیں پر گزارہ کرتے۔ صوفی عبدالقدیر صاحب نیازبی اے نے ضلع مین پوری اور متھرا کا دورہ کر کے قریباً چالیس دیہات کا چکر لگایا اور سولہ میل روزانہ کی اوسط سے پیدل سفر کرتے رہے۔ (تاریخ احمدیت۔ جلد نمبر ۴۔ صفحہ۳۴۳۔ مطبوعہ ۱۹۶۴ء)

امریکہ میں ایک صاحب احمدی ہوئے جو بہت بڑے موسیقار تھے اور اپنے وقت میں اس تیزی کے ساتھ میوزک میں ترقی کر رہے تھے کہ بہت جلد انہوں نے امریکہ کی سطح پر شہرت حاصل کرلی اور ان کے متعلق ماہرین کا خیال تھا کہ یہ ایسے عظیم الشان میوزیشن بنیں گے کہ گویا ان کو یاد کیا جائے گا کہ یہ اپنے زمانے کے بہت بڑے میوزیشن تھے۔ احمدی ہوئے تو نہ میوزک کی پرواہ کی۔ نہ میوزک کے ذریعے آنے والی دولت کی طرف لالچ کی نظر سے دیکھا۔ سب کچھ یک قلم منقطع کردیا۔ اور اب وہ درویشانہ زندگی گزارتے ہیں اور باقاعدگی کے ساتھ نماز تہجد ادا کرتے ہیں۔ آنحضرتﷺ کا نام لیتے ہی ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے ہیں۔ (ماہنامہ خالد۔ جنوری ۱۹۸۸ء۔ صفحہ۴۰)

حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ فرماتے ہیں(اپنی خلافت سے پہلے کاواقعہ لکھتے ہیں کہ) :’’مَیں یہاں کس لئے آیاہوں۔ دیکھو بھیرہ میں میرا مکان پختہ ہے اور یہاں مَیں نے کچے مکان بنوالئے اور ہر طرح کی آسائش مجھے یہاںسے زیادہ وہاں مل سکتی تھی مگر مَیں نے دیکھا کہ مَیں بیمار ہوں اور بہت بیمار ہوں ، محتاج ہوں اور بہت محتاج ہوں ، لاچار ہوں اور بہت ہی لاچار ہوں۔ پس مَیں اپنے ان دکھوں کے دورہونے کے لئے یہاں ہوں۔ اگر کوئی شخص قادیان اس لئے آتاہے کہ وہ میرا نمونہ دیکھے یا یہاں آ کر یا کچھ عرصہ رہ کر یہاں کے لوگوں کی شکایتیں کرے تو یہ اس کی غلطی ہے اور اس کی نظر دھوکہ کھاتی ہے کہ وہ بیماروں کو تندرست خیال کر کے ان کا امتحان لیتاہے۔ یہاں کی دوستی اور تعلقات ، یہاں کا آنا اور یہاں سے جانا اور یہاں کی بودوباش سب کچھ لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ کے ماتحت ہونی چاہئے۔ ورنہ اگر روٹیوں اور چارپائیوں وغیرہ کے لئے آتے ہو تو بابا تم میں سے اکثر کے گھر میں یہاں سے اچھی روٹیاں وغیرہ موجود ہیں پھر یہاں آنے کی ضرورت کیا ؟۔ تم اس اقرار کے قائل ٹھیک ٹھیک اسی وقت ہو سکتے ہو جب تمہارے سب کام خدا کے لئے ہوں‘‘۔ (خطبہ جمعہ۔ فرمودہ ۲۲؍جنوری ۱۹۰۴ء۔ خطبات نور۔ صفحہ ۱۶۰۔ طبع جدید)

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید کے بارہ میں کہ ’’اس بزرگ مرحوم میں نہایت قابل رشک یہ صفت تھی کہ درحقیقت وہ دین کو دنیا پرمقدم رکھتاتھا۔ اور درحقیقت ان راستبازوں میں سے تھا جو خدا سے ڈرکر اپنے تقویٰ اور اطاعت الٰہی کو انتہا تک پہنچاتے ہیں۔ اور خدا کے خوش کرنے کے لئے اور اس کی رضا حاصل کرنے کے لئے اپنی جان اور عزت اور مال کو ایک ناکارہ خس و خاشاک کی طرح اپنے ہاتھ سے چھوڑ دینے کو تیار ہوتے ہیں۔ اس کی ایمانی قوت اس قدر بڑھی ہوئی تھی کہ اگر مَیں اس کو ایک بڑے سے بڑے پہاڑ سے تشبیہ دوں تو مَیں ڈرتاہوں کہ میری تشبیہ ناقص نہ ہو۔ اکثر لوگ باوجود …بیعت کے اور باوجود میرے دعوے کی تصدیق کے پھر بھی دنیا کو دین پر مقدم رکھنے کے زہریلے تخم سے بکلی نجات نہیں پاتے بلکہ کچھ ملونی ان میں باقی رہ جاتی ہے۔ اور ایک پوشیدہ بخل خواہ وہ جان کے متعلق ہو خواہ آبرو کے متعلق اور خواہ مال کے اور خواہ اخلاقی حالتوں کے متعلق ان کے نامکمل نفسوں میںپایا جاتاہے۔ اسی وجہ سے ان کی نسبت ہمیشہ میری یہ حالت رہتی ہے کہ مَیں ہمیشہ کسی خدمت دینی کے پیش کرنے کے وقت ڈرتارہتاہوں کہ ان کو ابتلا پیش نہ آوے۔ اور اس خدمت کو اپنے پر ایک بوجھ سمجھ کراپنی بیعت کو الوداع نہ کہہ دیں۔ لیکن مَیں کن الفاظ سے اس بزرگ مرحوم کی تعریف کروں جس نے اپنے مال اور آبرو اور جان کو میری پیروی میں یوں پھینک دیا کہ جس طرح کوئی ردّی چیز پھینک دی جاتی ہے۔ اکثر لوگوں کو مَیں دیکھتاہوں کہ ان کا اوّل اور آخر برابر نہیں ہوتا اور ادنیٰ سی ٹھوکر یا شیطانی وسوسہ یا بدصحبت سے وہ گر جاتے ہیں۔ مگر اس جوانمرد مرحوم کی استقامت کی تفصیل مَیں کن الفاظ میں بیان کروںکہ وہ نور یقین میں دم بدم ترقی کرتا گیا‘‘۔ (تذکرۃ الشہادتین۔ صفحہ۸۔ روحانی خزائن۔ جلد۲۰۔ صفحہ ۱۰)

پھر آپؑ نے فرمایا:’’ شہید مرحوم نے مر کر میری جماعت کو ایک نمونہ دیا ہے اور در حقیقت میری جماعت ایک بڑے نمونہ کی محتاج تھی۔ اب تک ان میں ایسے بھی پائے جاتے ہیں کہ جو شخص ان میں سے ادنیٰ خدمت بجا لاتا ہے وہ خیال کرتا ہے کہ اس نے بڑا کام کیا ہے۔ اور قریب ہے کہ وہ میرے پر احسان رکھے۔ حالانکہ خدا کا اس پر احسان ہے کہ اس خدمت کے لئے اس نے اس کو توفیق دی- بعض ایسے ہیں کہ پورے زور اور پورے صدق سے اس طرف نہیں آئے۔ اور جس قوت ایمان اور انتہا درجہ کے صدق و صفا کا وہ دعویٰ کرتے ہیں آخر تک اس پر قائم نہیں رہ سکتے۔ اور دنیا کی محبت کے لئے دین کو کھو دیتے ہیں اور کسی ادنیٰ امتحان کی بھی برداشت نہیں کر سکتے۔ خدا کے سلسلے میں بھی داخل ہو کر ان کی دنیا داری کم نہیں ہوتی۔ لیکن خدا تعالیٰ کا ہزار ہزار شکر ہے کہ ایسے بھی ہیں کہ وہ سچے دل سے ایمان لائے اور سچے دل سے اس طرف کو اختیار کیا۔ اور اس راہ کے لئے ہر ایک دکھ اٹھانے کے لئے طیار ہیں۔ لیکن جس نمونہ کو اس جواںمرد نے ظاہر کر دیا، اب تک وہ قوتیں اس جماعت کی مخفی ہیں۔ خدا سب کو وہ ایمان سکھاوے اور وہ استقامت بخشے جس کا اس شہید مرحوم نے نمونہ پیش کیا ہے۔ یہ دنیوی زندگی جو شیطانی حملوں کیساتھ ملی ہوئی ہے کامل انسان بننے سے روکتی ہے۔ اور اس سلسلہ میں بہت داخل ہوں گے مگر افسوس کہ تھوڑے ہیں کہ یہ نمونہ دکھائیں گے۔ ‘‘(تذکرۃ الشہادتین۔ روحانی خزائن۔ جلد۲۰۔ صفحہ ۵۷-۵۸)

(شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں صفحہ ۲۴۵تا۲۴۹)

مزید پڑھیں: محبت الٰہی کے معیار

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button