افریقہ (رپورٹس)

جماعت احمدیہ آئیوری کوسٹ کی سالانہ نیشنل مجلس شوریٰ ۲۰۲۶ء

محض اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے جماعت احمدیہ آئیوری کوسٹ کو مورخہ ۱۶و۱۷؍مئی ۲۰۲۶ء بروز ہفتہ و اتوار ملک کے معاشی دارالحکومت آبیدجان میں واقع احمدیہ مرکز ’’مہدی آباد‘‘ میں اپنی سالانہ دو روزہ نیشنل مجلس شوریٰ کے انعقاد کی توفیق ملی۔

شوریٰ کے لیے نمائندگان بروز ہفتہ نماز ظہر تک مہدی آباد پہنچ گئے۔ پہلے دن کی کارروائی کا باقاعدہ آغاز سہ پہر تین بجے مکرم عبدالقیوم پاشا صاحب امیر و مبلغ انچارج آئیوری کوسٹ کی زیر صدارت تلاوت قرآن کریم و ترجمہ اور عہدنامہ برائے عہدیداران کے ساتھ ہوا۔ بعد ازاں مکرم امیر صاحب نے اپنی تقریر میں نظام شوریٰ کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ مکرم کیےما عمر صاحب جنرل سیکرٹری نے گذشتہ شوریٰ کی تجاویز پر عملدرآمد کی سالانہ رپورٹ پیش کی۔ پھر مکرم وترا یحییٰ صاحب نیشنل سیکرٹری مال نے مالی سال ۲۰۲۶ء– ۲۰۲۷ء کا بجٹ پیش کیا۔ اس موقع پر گذشتہ سال کے تعمیراتی منصوبوں کی رپورٹ سکرین کے ذریعے پیش کی گئی اور آئندہ سال کے مجوزہ منصوبوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔ سوال و جواب کے بعد مالی بجٹ کو حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں برائے منظوری پیش کیے جانے پر اتفاق کیا گیا۔ اس کے ساتھ نئے مالی سال کے لیے منظور شدہ تین تجاویز پیش کی گئیں اور ان کے لیے کمیٹیوں کا انتخاب عمل میں آیا۔ مختصر وقفہ کے بعد شام ساڑھے پانچ بجے تمام شاملین نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا نیشنل پیس سمپوزیم یوکے سے براہ راست خطاب سنا۔ اس کے بعد نماز مغرب و عشاء باجماعت ادا کی گئیں۔

عشائیہ کے بعد سب کمیٹیوں کے اجلاس ہوئے جن میں ذیلی تجاویز پر غور کیا گیا اور قابل عمل امور کا انتخاب کیا گیا۔

دوسرے دن کی کارروائی کا آغاز بھی مکرم امیر صاحب کی زیر صدارت صبح ساڑھے آٹھ بجے تلاوت قرآن کریم و ترجمہ سے ہوا۔ پہلی تجویز شوریٰ بعنوان: ’’اپنے خاندانوں میں احمدیت یعنی حقیقی اسلام کی محبت و عقیدت کو کیسے پروان چڑھایا جائے؟‘‘ کمیٹی کے صدر مکرم داکیساگا ہارون صاحب نے پیش کی جس پر بحث کے بعد معمولی ترامیم کے ساتھ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں برائے منظوری پیش کیے جانے پر اتفاق کیا گیا۔

دوسری تجویز بعنوان: ’’ذاتی طور پر جماعتی علم کو وسیع کرنا اور تبلیغی سرگرمیوں میں زیادہ سے زیادہ کس طرح مشغول ہوا جائے‘‘ مکرم کریم جوارا صاحب صدر کمیٹی اور مکرم سلا سلیمان صاحب سیکرٹری کمیٹی نے پیش کی جسے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں برائے منظوری پیش کیے جانے پر اتفاق کیا گیا۔

تیسری تجویز بعنوان: ’’ممبران جماعت کو مکمل طریق نماز سکھانے کے لیے کس طرح راہنمائی کی جا سکتی ہے؟‘‘ مکرم کونے داؤد صاحب نائب امیر جماعت کی صدارت میں پیش کی گئی جس پر ذیلی تجاویز کے ساتھ غور و خوض کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں برائے منظوری پیش کیے جانے پر اتفاق کیا گیا۔

آخر میں مکرم امیر صاحب نے اپنی اختتامی تقریر میں شاملین کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی۔ بعدازاں اختتامی دعا کروائی گئی۔ نماز ظہر و عصر کے بعد تمام شاملین کی کھانے سے تواضع کی گئی۔

امسال اللہ تعالیٰ کے فضل سے نیشنل عاملہ، سینٹرل مبلغین کرام، نمائندگان مجلس انصاراللہ، خدام الاحمدیہ اور لجنہ اماءاللہ سمیت مجموعی طور پر ۱۵۵؍افراد نے شوریٰ میں شرکت کی سعادت پائی۔

اللہ تعالیٰ تمام شاملین کو اپنی ذمہ داریاں کماحقہٗ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور شوریٰ کی تجاویز پر عمل کرتے ہوئے سب کو روحانی ترقی نصیب ہو۔ آمین

(رپورٹ: عبدالنور۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل)

مزید پڑھیں: مجلس انصاراللہ جرمنی کی ماہ مارچ ۲۰۲۶ء میں بعض مساعی

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button