حالاتِ حاضرہ

خبرنامہ (اہم عالمی خبروں کا خلاصہ)

٭… امریکہ اور ایران نے ایک دوسرے پر ’’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘‘ کی خلاف ورزی کے الزامات لگائے ہیں۔معاملہ اس وقت شروع ہوا جب اقوام متحدہ نے آبنائے ہُرمُز میں پھنسے ملاحوں کو نکالنے کا آپریشن امریکی فوج کی نگرانی میں شروع کیا۔ پہلے مرحلے میں ۱۱۰۰؍ ملاحوں اور ۲۷؍بحری جہازوں کو آبنائے ہُرمُز میں عمان کے ساحل کی طرف سے نکال لیا۔یہ جہاز چونکہ ایران کی اجازت کے بغیر نکالے جارہے تھے، اس لیے خلیج عمان سے گزرنے والے ایک جہاز پر پروجکیٹائل فائر کیے جانے کا ایک واقعہ گذشتہ روز پیش آیا، جس میں جہاز کو نقصان پہنچا۔ امریکہ نے الزام لگایا کہ یہ حملہ چار ڈرونز کے ذریعے ایران نے کیا تھا۔ اس الزام کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے احمقانہ حملہ قرار دیا اور ایک صحافی کے سوال پر کہا کہ آپ کو امریکی ردعمل کا جلد پتہ چل جائے گا۔اس بیان کے کچھ دیر بعد امریکہ نے ایران کے ساحلی علاقوں پر حملہ کیا۔ امریکی فوجی سنٹرل کمانڈ سینٹکام کے مطابق امریکی لڑاکا طیاروں نے ایران کے میزائل اور ڈرون ذخیروں پر فضائی حملے کیے۔پاسداران انقلاب نے ایک بیان میں کہا کہ ایرانی جزیرے سِرک پر امریکی فضائی حملے ناکام بنا دیے گئے ہیں۔اس کے بعد ہفتے کی صبح ڈرونز کے ذریعے ایک بڑا حملہ بحرین پر کیا گیا۔ بحرینی وزارت خارجہ کے مطابق یہ حملے ایران نے کیے ہیں۔ ان کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔پاس داران انقلاب نے کہا کہ ایران نے امریکی فضائی حملوں کے جواب میں خطے میں کئی امریکی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے ۔ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ خطے کے ملکوں کو چاہیے کہ وہ اپنی سرزمین ایران پر حملوں کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔ہفتے کے دن برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ آبنائے ہُرمُز میں اس کے ایک تجارتی بحری جہاز کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس سے جہاز کو نقصان پہنچا، تاہم عملہ مکمل محفوظ ہے۔پاسداران انقلاب کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ ایران پر حملے کر کے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی شق نمبر ۵ کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔یہ شق نہ صرف آبنائے ہُرمُز سے جہازوں کی بحفاظت آمدورفت کو یقینی بناتی ہے بلکہ ایران کو عمان کے ساتھ مل کر آبنائے کے انتظام کا طریقہ کار طے کرنے کا حق بھی دیتی ہے۔

٭… ایران نے امریکہ اور خلیج تعاون کونسل کے مشترکہ اعلامیے کو اشتعال انگیز قرار دے دیا اور خلیجی ممالک سے علاقائی پالیسی پر ازسرِ نو غور کا مطالبہ کردیا۔ایرانی وزرت خارجہ نے جاری بیان میں کہا کہ امریکی فوج کی مشرقِ وسطیٰ میں موجودگی علاقائی ممالک کے لیے بوجھ ہے، امریکہ کا خلیجی ممالک کی سیکیورٹی کے عزم کا دعویٰ بے معنی ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ خلیجی ممالک اپنی سرزمین مستقبل میں ایران کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں۔ایرانی وزرت خارجہ نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدوروفت عمان کے ساتھ جنگ بندی یادداشت کے مطابق ہوگی۔امریکہ اور خلیج تعاون کونسل کے وزارتی اجلاس میں ہرمز میں بلارکاوٹ نقل و حرکت ناگزیر قرار دی گئی تھی۔ امریکہ نے خلیجی ممالک کے تحفظ کا عزم بھی کیا تھا۔ اسی طرح ایرانی میزائل پروگرام سے نمٹنا ضروری قرار دیا گیا تھا۔

٭… بحرین نے ایرانی ڈرون حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشیدگی میں کمی کے درمیان حملے جاری رکھ کر امن کی کوششوں کو نقصان پہنچانے کا ذمے دار ایران ہے۔بحرینی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق حکومت نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ملک کی سلامتی اور خودمختاری پر کسی بھی قسم کے حملے کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔بحرینی سرکاری میڈیا کے مطابق بحرین اپنے دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق رکھتا ہے۔

٭… جاپان نے اپنے مقبول ’بزنس مینیجر ویزے‘ کے قوانین میں بڑی تبدیلیاں کرتے ہوئے کم از کم سرمایہ کاری کی شرط چھ گنا بڑھا دی ہے، جس کے بعد اس ویزے کے لیے درخواستوں میں حیران کُن طور پر ۹۶؍ فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔بزنس مینیجر ویزے کو طویل عرصے سے جاپان میں رہائش حاصل کرنے کے نسبتاً آسان راستے کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ماضی میں صرف پچاس لاکھ ین (تقریباً ۳۳؍ہزار امریکی ڈالرز) کی سرمایہ کاری کے ذریعے غیر ملکی شہری جاپان میں کاروبار قائم کر کے رہائش کا حق حاصل کر سکتے تھے، جس کے باعث خصوصاً چین سے بڑی تعداد میں درخواستیں موصول ہو رہی تھیں۔جاپانی حکومت نے اکتوبر ۲۰۲۵ء سے اس ویزے کے لیے کم از کم سرمایہ کاری کی شرط بڑھا کر تین کروڑ ین (تقریباً دو لاکھ امریکی ڈالرز) کر دی ہے۔اس کے علاوہ درخواست گزاروں کے لیے کئی نئی شرائط بھی عائد کی گئی ہیں، جن میں کم از کم ایک جاپانی شہری کو کل وقتی ملازمت فراہم کرنا، تین سالہ انتظامی تجربہ یا متعلقہ شعبے میں ماسٹر ڈگری، جاپانی زبان میں JLPT N2 سطح کی مہارت، تصدیق شدہ کاروباری منصوبہ اور باقاعدہ دفتر کا قیام شامل ہیں۔

٭… وینزویلا میں تباہ کن زلزلے سے ہلاکتیں ۱۴۳۰؍ہوگئی ہیں جبکہ ۳۲۰۰؍سے زائد افراد زخمی ہیں۔ وینزویلا میں آفٹر شاکس کا سلسلہ جاری ہے، جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔دوسری جانب وینزویلا میں زلزلے کے بعد امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔وینزویلا کی قومی اسمبلی کے صدر خورخے روڈریگیز نے ایک بیان میں بتایا کہ وینزویلا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد ۱۴۳۰؍ہوگئی، ۳۲۳۸؍زخمی جبکہ ۳۱۴۲؍افراد بے گھر ہوئے ہیں۔امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق اموات کی تعداد دس ہزار سے زیادہ ہونے کا خدشہ ہے۔

٭…٭…٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button