الفضل ڈائجسٹ

الفضل ڈائجسٹ

(محمود احمد ملک)

اس کالم میں ان اخبارات و رسائل سے اہم و دلچسپ مضامین کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے جو دنیا کے کسی بھی حصے میں جماعت احمدیہ یا ذیلی تنظیموں کے زیرانتظام شائع کیے جاتے ہیں۔

خوشاب ضلع شاہپور کے اصحابِ احمدؑ

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ ۵ و ۶؍جون ۲۰۱۴ء میں مکرم رانا عبدالرزاق خان صاحب کے قلم سے خوشاب ضلع شاہپور کے اصحاب احمدؑ کے مختصر حالات شامل اشاعت ہیں۔

٭… خوشاب شہر کے پہلے احمدی حضرت حافظ مولوی فضل الدین خان صاحبؓ (آف آہیرانوالہ) تھے۔ ۱۹۰۶ء میں آپؓ نے وصیت کی تو اپنی عمر ۷۰ سال لکھی۔ گویا آپؓ قریباً ۱۸۳۶ء میں پیدا ہوئے۔ آپؓ نے ۱۸۹۵ء میں قادیان جاکر حضرت مسیح موعودؑ کی دستی بیعت کی سعادت حاصل کی۔ حضور علیہ السلام نے اپنی کتاب ’’انجام آتھم‘‘ میں آپؓ کا نام اپنے ۳۱۳؍اصحاب کی فہرست میں ۲۶۲ویں نمبر پر درج کیا ہے۔ اسی طرح ’’تحفۂ قیصریہ‘‘ میں ڈائمنڈ جوبلی جلسہ کے لیے چندہ دینے والوں کے نام لکھے ہیں جن میں آپؓ کا نام ۲۴۳ویں نمبر پر ہے۔ آپؓ کے تقویٰ اور صالحیت کا اثر تھا کہ آپؓ کے احمدیت قبول کرنے کے بعد آپؓ کے بہت سے مقتدی اور علاقے کے معزّزین بیعت کرکے احمدیت کی آغوش میں آگئے۔

حضرت مولوی فضل الدین صاحبؓ جب آہیرانوالی مسجد (خوشاب) کے امام تھے تو ایک دفعہ اپنے گھر میں محلّے کی عورتوں کو نماز باجماعت کروائی۔ اس پر غیراحمدی مولویوں نے شور مچایا کہ عورتیں نماز باجماعت ادا نہیں کرسکتیں۔ تب آپؓ نے حدیث نکال کردی جس کے بعد سے خوشاب میں غیراحمدی عورتیں بھی مساجد میں جمعہ ادا کرتی ہیں۔

اخبار ’’بدر‘‘ ۲۴؍ستمبر۱۹۰۸ء میں حضرت مولوی صاحبؓ کی وفات کی خبر شائع ہوئی تو اسے سُن کر حضرت خلیفۃالمسیح الاوّلؓ نے فرمایا کہ ان کا جنازہ جمعہ کے دن پڑھا جاوے، بڑے مخلص اور دلیر مخلص تھے۔ اللہ مغفرت کرے۔

حضرت مولوی صاحبؓ نے اپنی جا ئیداد کے پانچویں حصے کی وصیت کی ہو ئی تھی۔ ۱۹۰۸ء میں آپؓ نے یکصد روپے حصہ جا ئیداد کے طور پر ادا کیے۔ آپؓ کی قبر خوشاب میں ہے لیکن بہشتی مقبرہ قادیان میں کتبہ لگا ہوا ہے۔

٭… حضرت میاں جیون صاحبؓ بھی حضرت مولوی فضل الدین صاحبؓ کے مقتدی تھے۔ اُن کے احمدی ہونے کے بعد آپؓ نے بھی بذریعہ خط بیعت کرلی اور پھر قادیان جانے کا ارادہ کیا تو چونکہ آپؓ کی اُس وقت گیارہ بیٹیاں تھیں اور بیٹا کوئی نہیں تھا اس لیے مخالفین نے کہنا شروع کردیا کہ یہ بیٹا مانگنے قادیان جارہا ہے۔ اس پر آپؓ رُک گئے۔ پھر کچھ عرصے بعد اللہ تعالیٰ نے آپؓ کو جب بیٹا (میاں اللہ دتہ) عطا فرمادیا تو اس کے بعد ۱۹۰۲ء میں آپؓ نے قادیان جاکر دستی بیعت کا شرف بھی حاصل کرلیا۔ آپؓ موصی بھی تھے۔ خوشاب میں مدفون ہیں جبکہ کتبہ بہشتی مقبرہ قادیان میں لگا ہوا ہے۔ آپؓ کے بیٹے میاں اللہ دتہ صاحب کا بیان ہے کہ میری والدہ (اہلیہ حضرت میاں جیون صاحبؓ) نے احمدیت قبول نہیں کی تھی۔ بدقسمتی سے وہ طاعون کا شکار ہوکر فوت ہوگئیں جبکہ گھر کے باقی افراد کو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے محفوظ رکھا۔

٭…مکرم اللہ دتہ صاحب کی روایت ہے کہ خوشاب کے ہی ایک اَور بزرگ شخصیت حضرت میاں فضل دین صاحبؓ نے ۱۹۰۲ء میں اخبار میں حضرت مسیح موعودؑ کے دعویٰ کے بارے میں پڑھا تو فوراً قادیان کا رُخ کیا۔ آپؓ عالم فاضل تھے اور حدیث کے مطابق مہدی کی نشانیاں دیکھ چکے تھے۔ چنانچہ حضرت مسیح موعودؑ کا چہرۂ مبارک دیکھتے ہی بیعت کرلی۔ الحکم ۲۴؍جولائی ۱۹۰۲ء میں شائع ہونے والی بیعت کنندگان کی فہرست میں آپؓ کا نام بھی شامل ہے۔

٭… مکرم میاں اللہ دتہ صاحب کا بیان ہے کہ حضرت مستری امیرالدین صاحبؓ ولد چراغ دین صاحب نے بھی ابتدا میں ہی چند اشخاص کے ساتھ قادیان جاکر بیعت کی تھی۔ آپؓ کو تبلیغ کا بہت جوش تھا۔ بازار میں کھڑے ہوکر دعوت الی اللہ کرتے رہتے حتّٰی کہ دیہاڑی بھی ضائع کر بیٹھتے تھے۔

٭… مکرم میاں اللہ دتہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضرت مولوی فضل الدین صاحبؓ کے ذریعے اُن کی ایک حافظ قرآن شاگرد حضرت حافظہ بی بی صاحبہؓ نے بھی بذریعہ خط حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کرلی تھی۔ وہ نابینا تھیں۔ حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ کے زمانے میں وہ خاکسار کے ہمراہ قادیان گئی تھیں۔

٭…مکرم مولوی حبیب شاہ صاحب نے حضرت مولوی فضل الدین صاحبؓ کے ہمراہ قادیان جاکر احمدیت قبول کی تھی۔ حضرت مسیح موعودؑ نے ’’انجام آتھم‘‘ میں ۳۱۳؍اصحاب کی فہرست میں اُن کا نام ۵۶ویں نمبر پر درج فرمایا ہے۔ مکرم حافظ عبدالکریم خان صاحب کے مطابق بعد میں مولوی حبیب شاہ صاحب احمدیت سے منحرف ہوگئے تھے۔ اسی طرح مکرم میاں اللہ دتہ صاحب کا بیان ہے کہ مولوی حبیب شاہ صاحب نے مرتد ہوکر بھی احمدیت کی مخالفت نہیں کی تھی۔ وہ ۱۹۲۹ء میں فوت ہوگئے تو اُن کے بیٹے مجید شاہ نے احمدیت کی شدید مخالفت کی۔ اُس کی موت جسم میں گندا پانی پڑنے کی وجہ سے بہت ذلّت کی حالت میں ہوئی۔

٭… مکرم اللہ دتہ صاحب مزید بیان کرتے ہیں کہ حضرت مولوی فضل الدین صاحبؓ کے ساتھ اُن کے ایک بھانجے حضرت غلام رسول صاحبؓ ولد محمد دین صاحب پٹھان بھی احمدی ہوئے تھے جو حضرت مولوی صاحبؓ کی وفات کے بعد مسجد آہیرانوالی کے امام بنے اور آخری عمر میں خوشاب کمیٹی کے چونگی محرر بھی رہے۔ اُن کی اور اُن کی اہلیہ محترمہ فتح بی بی صاحبہ کی بیعت کا ذکر اخبار ’’الحکم‘‘ ۳۱؍جولائی ۱۹۰۲ء میں موجود ہے۔ ان کے ہاں کوئی اولاد نہ تھی۔

٭…حضرت میاں محمدالدین صاحبؓ ولد چراغ دین صاحب نے بھی ۱۸۹۵ء کے بعد حضرت مولوی فضل الدین صاحبؓ کے ہمراہ قادیان جاکر بیعت کی سعادت حاصل کی تھی۔ پیشے کے لحاظ سے آپؓ رنگریز تھے۔ آپؓ نے وصیت بھی کی۔ آپؓ خوشاب میں مدفون ہیں اور یادگاری کتبہ بہشتی مقبرہ قادیان میں بھی نصب ہے۔ آپؓ کی اہلیہ محترمہ پناہ بی بی صاحبہ بھی احمدی تھیں۔

٭…حضرت میاں اکمل الدین صاحبؓ ایک بہت بڑے عالم تھے۔ آپؓ، آپؓ کی اہلیہ بھاگ بھری صاحبہؓ اور بیٹی حافظہ بی بی کی بیعت کا ذکر اخبار ’’الحکم‘‘ ۲۴؍جولائی ۱۹۰۲ء میں آیا ہے۔ اسی اخبار میں ایک اَور شخص کرم دین کے احمدی ہونے کا بھی ذکر ہے جس کے ساتھ بعدازاں حافظہ بی بی کی شادی ہوئی لیکن کچھ عرصے بعد یہ دونوں مُرتد ہوگئے۔ ان کے ہاں کوئی اولاد نہ تھی۔

مکرم اللہ دتہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضرت میاں اکمل الدین صاحبؓ محلّہ بوبیاں میں گوگیوں کا کام کرتے تھے۔ جب وہ احمدی ہوگئے تو لوگوں نے کام دینا چھوڑ دیا۔ ایک روز میرے والد حضرت میاں جیون صاحبؓ مجھے کہنے لگے کہ میاں اکمل الدین کا کاروبار اُن کے احمدی ہونے پر ختم ہوگیا ہے، چلو ہم اُن کی مدد کریں۔ پھر ہم دونوں اُن کے ہاں چلے گئے۔ وہ ضعیف العمر تھے اور اُس وقت باہر گلی میں بیٹھے ہوئے تھے۔ والد صاحب نے پوچھا کہ کسی چیز کی ضرورت تو نہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ اب خدا کا فضل ہے، کسی چیز کی ضرورت نہیں، اب زیادہ لطف اور مزا آتا ہے۔

٭…حضرت ملک عمر خطاب صاحبؓ (صدر جماعت شاہپور) بیان کرتے ہیں کہ خاکسار نے بالغ ہونے پر حضرت مسیح موعودؑ کے دعویٰ کو سنا تو ۱۹۰۵ء میں قادیان پہنچا۔ تب وہ چھوٹی سی ایک بستی تھی اور کچی دیواروں کا مہمان خانہ تھا۔ حضرت حکیم نورالدین اعظمؓ چند طالب علموں کو درس دے رہے تھے۔ ان حالات کو دیکھنے کے باوجود دل حضورؑ کی صداقت پر شاہد تھا۔ مَیں نے ایک عریضہ لکھ کر حضورؑ کی خدمت میں بھیجا کہ بیعت کرنی ہے اور آج ہی واپس جانا ہے۔ حضورؑ نے تحریر فرمایا کہ ابھی ایک بجے اذان ہوگی، مَیں مسجد مبارک میں آجاؤں گا۔ ابھی خاکسار اکیلا مہمان خانہ میں بیٹھا تھا کہ دو سکھ دوڑتے ہوئے آئے اور گھبراکر کہنے لگے کہ حجام کو جلدی بلوادیں، کیس (لمبے بال) کٹواکر بیعت کرنی ہے۔ اُن کی گھبراہٹ کی نسبت خاکسار نے دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ ہم دونوں بھائی ہیں اور قریب ہی کے ایک گاؤں کے رہنے والے ہیں۔ ہم فوج میں ملازم ہیں۔ باپ کی بیماری کا سُن کا گھر آئے تو وہ سخت تکلیف میں تھے۔ ہماری سکھ قوم کے ایک بزرگ نے ہمارے باپ کو کہا کہ کلمہ پڑھ تاکہ تمہاری جان بحق ہو۔ ہمارے باپ نے ایسا ہی کیا اور وہ جاں بحق ہوگیا۔ اس کا ہم پر بہت اثر ہوا اور ہم نے سوچا کہ بجائے اخیر وقت کے، پہلے ہی کلمہ پڑھ لینا چاہیے۔ جب آج ہم نے مرزا صاحب کے دعویٰ کی نسبت گھر کی عورتوں کو بتایا تو انہوں نے شور مچادیا، اس پر لوگ اکٹھے ہوگئے اور اب کئی سکھ ڈانگ سوٹا لے کر ہمارے تعاقب میں آرہے ہیں۔

خاکسار نے اُن کی طرف سے ایک عریضہ لکھ کر پھر خدمت اقدس میں بھجوادیا تو حضورؑ کا پہلے والا جواب ہی آیا۔

اسی اثناء میں اذان ہوگئی تو خاکسار مع اُن دونوں کے مسجد مبارک پہنچا۔ چھوٹی سی مسجد بھری ہوئی تھی، واقفیت کسی سے نہ تھی۔ جوتیوں میں حیران کھڑا تھا کہ معاً حضرت صاحبؑ نے محراب والا دروازہ کھولا۔ لوگ کھڑے ہوگئے تو خاکسار لوگوں کی ٹانگوں میں سے گزرتا ہوا حضورؑ کے آگے جاکھڑا ہوا۔ جب حضورؑ بیٹھ گئے تو خاکسار بھی حضورؑ کے آگے بیٹھ گیا۔ حضورؑ کے پوچھنے پر عرض کیا کہ بیعت کے لیے آیا ہوں اور عریضہ خاکسار نے ہی بھیجا تھا۔ مولوی صاحبؓ نے بھی بعض دیگر لوگوں کے لیے جو خاکسار سے پہلے وہاں بیٹھے تھے، بیعت کرنے کو عرض کی تو حضورؑ نے خاکسار کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ہاتھ پر رکھ لیا اور فرمایا کہ اس بچے پر ہاتھ رکھو۔ چنانچہ سب نے خاکسار کی پشت پر ہاتھ رکھ لیا اور اس طرح بیعت ہوئی۔ پھر حضورؑ نے دعا کروائی اور پھر نماز ہوئی۔

٭…حضرت ملک زیاد صاحبؓ ولد کمال مجوکہ صاحب نے ۱۹۰۱ء میں قادیان جانے کا ارادہ کیا اور پیدل سفر کرکے لاہور پہنچے۔ یہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعودؑ لاہور میں ہی ٹھہرے ہوئے ہیں۔ چنانچہ پوچھتے پچھاتے حضورؑ کی قیام گاہ پر پہنچے اور موقع ملنے پر حضورؑ کی خدمت میں سلام عرض کرکے بیعت کی خواہش ظاہر کی۔ حضورؑ اُس وقت بعض مولویوں کے ساتھ گفتگو فرما رہے تھے۔ حضورؑ نے پوچھا کہ میرے ساتھ اَور بھی آدمی بیٹھے ہوئے ہیں، آپ نے کیسے پہچان لیا کہ مَیں ہی مسیح موعود ہوں۔ ملک زیاد صاحب نے کہا کہ اگر مجھے شناخت کرنے کی طاقت نہ ہوتی تو مَیں یہاں کیا لینے آتا! اس پر حضورؑ نے وہاں موجود مولویوں کو مخاطب کرکے فرمایا: ان آنکھوں سے مجھے دیکھو جن آنکھوں سے اس نے مجھے دیکھا ہے۔ (بدقسمتی سے حضرت ملک زیاد صاحبؓ کی اولاد بعد میں مُرتد ہوگئی۔)

٭…حضرت مولوی غلام حیدر صاحبؓ کی پیدائش قریباً ۱۸۴۰ء کی ہے۔ آپؓ کے والد ماجد سخی محمد صاحب ایک عابدوزاہد اور مستجاب الدعوات بزرگ تھے۔ اس خاندان میں کئی صاحبِ کرامات اولیاء آتے رہے۔ والد کی وفات کے وقت آپؓ کی عمر صرف چودہ سال تھی اور آپ اپنے چچا میاں محمد صاحب کے ساتھ کھیتی باڑی اور جانور چرانے کا مشغلہ کرتے تھے۔ چونکہ تحصیل علم کا شوق تھا اس لیے اہل حدیث کے ایک عالم مولوی فضل دین صاحب سے فارسی اور عربی کی تعلیم لینی شروع کی۔ جب گھر والوں نے اصرار کیا کہ تمہارے پڑھائی شروع کرنے کی وجہ سے گھر کے کام نہیں ہوپاتے تو آپ نے علم کا حصول ترک کرنے کی بجائے لاہور کا رُخ کیا اور نیلاگنبد میں درس نظامی کی درسگاہ میں حدیث و تفسیر کی تکمیل کی۔ آپ وہاں مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے ہم درس بھی تھے۔ پھر ہندوستان کے چوٹی کے عالمِ حدیث مولانا سیّد نذیر حسین دہلوی سے بھی تحصیل علم کی۔ دہلی میں آپ کا دوستانہ تعلق ہم وطن ہونے کی بِنا پر حضرت مولوی نورالدین صاحبؓ سے ہوگیا۔ دہلی سے واپس آکر آپ مجوکہ میں اصلاح خلق اور درسِ توحید میں مشغول ہوگئے۔ یہاں قبرپرستی، پیرپرستی اور تعویذگنڈے کا بہت رواج تھا۔

آپ رؤساء کے بچوں کو فارسی بھی پڑھاتے تھے جس سے حق الخدمت ملتا۔ نیز پانچ ایکڑ زمین تھی چنانچہ گزارہ چلتا رہا۔ نواب ریاست بہاولپور محمد صادق صاحب کے دربار میں بھی وعظ کرتے تھے۔ نواب صاحب آپ کو پچاس روپے ماہوار پیش کیا کرتے تھے۔ انہوں نے بہاولپور میں دو مربع اراضی کی پیشکش بھی کی جو آپ نے قبول نہ کی۔ کیونکہ آپ آمد و رفت کی تکالیف کے باوجود ملک بھر میں مختلف مقامات کے اصلاحی دورے کرتے رہتے تھے۔ آپ کا حضرت خواجہ غلام فرید صاحب آف چاچڑاں شریف سے قلبی محبت کا تعلق تھا۔ حضرت خواجہ صاحب آپ کی آمد اور روانگی کے موقع پر خود ریلوے سٹیشن تک جایا کرتے تھے۔ ۱۸۹۷ء میں آپ نے حضرت مسیح موعودؑ کی کتاب ’’سراج منیر‘‘ اُن کے پاس ہی پڑھی جس میں حضرت پیر صاحب موصوف کے تین مکتوبات بھی درج تھے۔ کتاب پڑھ کر آپ وفات مسیحؑ کے قائل ہوگئے اور حضرت پیر صاحب کے سامنے بھی حضرت مسیح موعودؑ کی صداقت کا اقرار کیا۔ پھر وہاں سے براستہ منٹگمری اور لاہور، قادیان پہنچے اور حضرت مولوی نورالدین صاحبؓ کے ذریعے حضرت اقدسؑ کی خدمت میں حاضر ہوکر بیعت لینے کے لیے عرض کیا۔ حضورؑ نے فرمایا کہ آپ تین دن یہاں رہیں اور اختلافی مسائل اور میری کتب میں غور کرکے پھر بیعت کے لیے ہاتھ بڑھائیں۔ چنانچہ آپؓ حضرت مولوی صاحبؓ کے مہمان بن گئے۔ کھانا حضرت مولوی صاحبؓ کے گھر سے آتا۔ ایک روز گوشت آیا تو بعد میں آپ نے کسی کی چھپری سے خلال کرنے کے لیے ایک تنکا توڑا۔ حضرت مولوی صاحبؓ نے فرمایا کہ یہ تنکا اسی چھپری میں ڈال دیں، یہ بھی چوری ہے اور تقویٰ کی باریک راہوں کے خلاف ہے۔ پھر مولوی صاحبؓ نے آپ کو لوہے کی ایک اندیلی دی اور فرمایا کہ اسے اپنی جیب میں رکھ لیں اور دانت صاف کرلیا کریں۔ اس واقعہ کو یاد کرکے حضرت مولوی غلام حیدر صاحبؓ رو دیتے اور لوگوں کو بتاتے تھے کہ حضرت اقدسؑ کے بیعت کنندگان کی کیا کیفیت ہوگئی تھی۔ جب آپؓ بیعت کرکے اپنے وطن پہنچے تو جتنے اہل حدیث اور موحدین کی جماعت آپؓ سے عقیدت رکھتی تھی، انہوں نے تحریری بیعت کرلی۔

حضرت مولوی صاحبؓ تقریر میں شہرت رکھتے تھے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ۱۹۰۶ء میں آپؓ کی وفات ہوچکی تھی لیکن ۱۹۱۳ء کی سول نافرمانی کی تحریک کے دوران سرکاری طور پر آپؓ کی تقاریر پر پابندی لگانے کا نوٹس جاری کیا گیا۔ اس نوٹس کے ہمراہ سپاہیوں کے مجوکہ پہنچنے پر وہاں کے رئیس نے انہیں یقین دہانی کروائی کہ مولوی صاحب تو کئی سال پہلے وفات پاچکے ہیں۔

۱۸۹۵ء میں آپ کا ایک مشہور مناظرہ ہوا جس میں آپ نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے معراج کو قرآن و حدیث سے روحانی ثابت کیا جبکہ دوسرا فریق جسمانی معراج کا قائل تھا۔ اُن کے پاس صرف علماء کے حوالے تھے جو آپ کی طرف سے پیش کیے جانے والے قرآن و حدیث کے حوالوں کے مقابلے میں قبول نہ ہوئے اور آپ کو فاتح قرار دیا گیا۔

حضرت مولوی غلام حیدر صاحبؓ کی شادی محترمہ عائشہ بی بی صاحبہ سے ہوئی تھی جن سے تین بیٹے اور دو بیٹیاں پیدا ہوئے۔

آپؓ کے بڑے بیٹے حضرت مولوی غلام رسول صاحبؓ قریباً ۱۸۷۸ء میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے بھی مختلف مقامات پر جاکر جیّد علماء سے عربی، فارسی اور حدیث کے علوم حاصل کیے۔ اُن دنوں حضرت مسیح موعودؑ کے دعویٰ کا ذکر سنتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ اگر واقعی وہ امام مہدی ہیں تو چاند اور سورج گرہن کا نشان ظاہر ہوگا۔ جب ۱۸۹۴ء میں نشان خسوف و کسوف ظاہر ہوگیا تو علماء نےشرارتاً کہنا شروع کیا کہ یہ تو حدیث ہی ضعیف ہے۔ لیکن اُنہی دنوں حافظ محمد صاحب آف لکھوکے جنہوں نے اپنی پنجابی تفسیر ’’احوال الآخرۃ‘‘ میں مذکورہ حدیث کا ترجمہ درج کیا تھا وہ ایک آپریشن کے لیے لاہور میو ہسپتال میں داخل ہوئے تو مولوی غلام رسول صاحب بھی دیگر علماء کے ہمراہ اُن کی خدمت میں حاضر ہوتے۔ آپ فرماتے ہیں کہ مولوی محمد صاحب کا قد قدرے بلند، رنگ سرخ اور بڑھاپا انتہا پر تھا۔ جب ملاقاتیوں نے اُن سے مذکورہ حدیث کے حوالے سے اصرار کیا تو انہوں نے کہا کہ دعا کرو مَیں جلد صحت یاب ہوجاؤں، پھر حتمی فیصلہ کرکے بتاؤں گا لیکن مَیں نے اپنے لڑکے کو بار بار نصیحت کی ہے کہ وہ مرزا صاحب کی مخالفت ترک کردے لیکن وہ حد سے بڑھ گیا ہے۔ بہرحال مولوی صاحب آپریشن کے معاً بعد وفات پاگئے۔ اُس وقت مولویوں کی شرارتوں کا میرے دل پر یہ اثر ہوا کہ یہ لوگ سراسر دروغ پر قائم ہیں۔

لاہور سے تحصیل علم کے بعد آپ نے امرتسر جاکر مولوی عبدالجبار غزنوی سے بخاری پڑھی۔ مولوی ثناءاللہ صاحب بھی اُن دنوں وہاں زیرتعلیم تھے۔ ۱۸۹۸ء میں ایک اَور طالبعلم کے ہمراہ آپ امرتسر سے قادیان گئے اور چند دن وہاں قیام کرنے کے بعد دونوں نے بیعت کرلی۔

آپؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ سے یہ الفاظ مَیں نے سنے: خداتعالیٰ محمد اسماعیل بخاری پر ہزاروں رحمتیں بھیجے کہ جس نے بخاری کی کتاب میں میرا یعنی آنے والے مسیح کا حلیہ اور عیسیٰ بن مریم کا حلیہ جُدا جُدا بیان فرمایا۔ اگر وہ یہ دونوں الگ الگ بیان نہ کرتے تو محدّثین مجھے کب مانتے۔

آپؓ مزید بیان فرماتے ہیں کہ ہم نے قادیان میں حضرت مولوی نورالدین صاحبؓ سے طب پڑھانے کے لیے عرض کیا تو آپؓ نے فرمایا کہ آپ کافی پڑھ چکے ہیں، یہ زمانہ جہاد فی سبیل اللہ کا ہے، اپنے گاؤں جاکر احمدیت کی تبلیغ کریں، دین کے لیے قرآن مقدّم ہے، علوم شرعیہ کے لیے بخاری کافی ہے۔ پھر طب کی بعض کتب بیان کیں کہ یہ کافی ہیں، واپس جاکر طب بھی کریں اور تبلیغ بھی کریں۔ چنانچہ آپؓ واپس گھر آگئے۔ یہاں پہنچ کر آپؓ کو علم ہوا کہ آپؓ کے والد حضرت غلام حیدر صاحبؓ تو ایک سال قبل ہی بیعت کرچکے ہیں۔ بہرحال آپؓ نے مقامی طور پر تبلیغ و تربیت کا کام شروع کیا تو مخالفت بھی شروع ہوگئی۔ ۱۹۰۴ء میں حضرت غلام حیدر صاحب ؓ مستقل وطن واپس آگئے لیکن اس کے بعد وہ بیمار ہی رہے اور ۱۹۰۶ء میں اُن کی وفات ہوگئی۔

اپنے والد کی وفات کے وقت آپؓ ایک نامور سادات خاندان کے بچوں کے اتالیق مقرر تھے۔ لیکن اس کے بعد آپؓ نے یہ ملازمت چھوڑ دی اور اپنی مقامی جماعت کی تنظیم اور تربیت کی ذمہ داری سنبھال لی۔ آپؓ مدتوں سیکرٹری مال، امام الصلوٰۃ اور مربی کے فرائض سرانجام دیتے رہے۔ گزارہ طب کی آمد پر تھا۔ کبھی بڑے احمدی زمیندار آپؓ کی مالی خدمت کردیتے تھے جو آپؓ پر بوجھ بنتی تھی۔ چنانچہ ایک بار آپؓ نے حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ سے اس بارے میں عرض کیا تو حضورؓ نے پوچھا کہ کیا آپ نے دینی خدمت کے عوض اُن کے ساتھ معاوضہ مقرر کیا ہوا ہے؟ آپؓ نے عرض کی: نہیں اور نہ کبھی اس کا مطالبہ کیا ہے۔ اس پر حضورؓ نے فرمایا کہ پھر یہ مال خدا بھجواتا ہے اور آپ کے لیے تحفہ ہے۔ یہ تحفہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی قبول فرمالیا کرتے تھے اس لیے آپ بھی شرح صدر سے لے لیا کریں۔

حضرت مولوی غلام رسول صاحبؓ ایک جیّد عالم تھے۔ آپؓ کے پاس علماء اور شاگردوں کا جم غفیر رہتا۔ سارے مہمان مسجد میں قیام کرتے اور اہل دیہہ اُن کے کھانے وغیرہ کا انتظام بلالحاظ فرقہ و مذہب کرتے بلکہ ضرورت کا لباس بھی مہیا کرتے۔ لوگ کثرت سے آپؓ کے پاس امانات رکھواتے اور اکثر معاملات میں آپؓ کے فتوے پر عمل کرتے۔ باہمی جھگڑوں کا تصفیہ آپؓ سے کرواتے۔

آپؓ کم گو، باحیا اور متوکّل علی اللہ تھے۔ رازداری سے محتاجوں کی حاجت روائی کرتے۔ سارے گاؤں کا فی سبیل اللہ علاج کرتے اور غرباء کا خاص خیال رکھتے۔

حضرت مولوی صاحبؓ کو بطور عربی ٹیچر ملازمت کی پیشکش بھی ہوئی لیکن اس خیال سے آپؓ نے اسے قبول نہ کیا کہ مجوکہ میں جماعت دُور افتادہ ہونے کے باعث تعلیم و تربیت کی محتاج ہے جس کا کوئی اَور خاطرخواہ انتظام نہیں ہوسکتا۔

۱۹۰۰ء میں آپؓ کی شادی اپنے چچا کی بیٹی محترمہ سردار بی بی صاحبہ سے ہوئی۔ آپؓ کی وجہ سے اُن کا سارا کنبہ بھی احمدی ہوگیا۔ آپ کے ہاں دو بیٹے اور دو بیٹیاں پیدا ہوئے۔ اپنے بیٹے مولوی عبدالرحمٰن صاحب کو مولوی فاضل کروایا اور پھر نصیحت کی کہ وہ گاؤں میں رہ کر دین کی خدمت کریں۔ مکرم حافظ مظفر احمد صاحب (ابن مکرم عبدالمنان صاحب) حضرت مولوی غلام رسول صاحبؓ کے پوتے ہیں۔

ایک بار محمد یار پرنا صاحب کی خواہش پر حضرت مولوی غلام رسول صاحبؓ اُن کے گھر تشریف لے گئے۔ انہوں نے اور اُن کی بیوی نے کہا کہ ہماری عمر تو اب اولاد سے قریباً تجاوز کرنے والی ہے، آپؓ نے ہمیں بتایا تھا کہ پیروں فقیروں اور قبروں سے امداد طلب کرنا شرک ہے تو اب آپؓ ہمارے لیے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں نیک صالح لمبی عمر والا فرزند عطا فرمائے۔ آپؓ نے اُسی وقت ہاتھ اٹھاکر دعا کی اور پھر فرمایا کہ توحید کی برکت سے اللہ تعالیٰ ایک سال تک فرزند عطا کرے گا۔ چنانچہ ایک سال میں اللہ تعالیٰ نے اُن کو بیٹے سے نوازا۔ اس پر انہوں نے شکرانے کے طور پر ایک گائے حضرت مولوی صاحبؓ کی خدمت میں پیش کی۔

………٭………٭………٭………

مزید پڑھیں: مسافر کا درخت: فطرت کا خاموش راہنما

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button