متفرق مضامین

مسافر کا درخت: فطرت کا خاموش راہنما

اگر آپ کسی گھنے ٹروپیکل جنگل میں سفر کر رہے ہوں اور اچانک ایک ایسا پودا دیکھیں جس کے پتے ایک بڑے پنکھے کی طرح آسمان کی طرف پھیلے ہوں، تو یہ منظر یقیناً آپ کو حیران کر دے گا۔ اسے دیکھ کر آپ کو لگے کہ شاید یہ کوئی ہاتھ والا پنکھا ہے یا اس کے پتوں کی بناوٹ سے آپ یہ خیال کریں کہ یہ کیلے کے پودے کی کوئی قسم ہے ۔ لیکن ایسا بالکل بھی نہیں۔

یہی انوکھا پودا ’’مسافر کا درخت‘‘ (The traveler’s tree) کہلاتا ہے، جو نہ صرف اپنی خوبصورتی بلکہ اپنی دلچسپ خصوصیات کی وجہ سے بھی مشہور ہے۔ بعض اوقات یہ مسافروں کے لیے سمت کا اشارہ بھی بن جاتا ہے، گویا فطرت خود راہنمائی کر رہی ہو۔

مسافر کا درخت، جسے سائنسی طور پر Ravenala madagascariensis کہا جاتا ہے، ایک نہایت منفرد اور دلکش پودا ہے جو مڈغاسکر (Madagascar) سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ درخت درحقیقت روایتی معنوں میں درخت نہیں بلکہ ایک بڑا پودا ہے جو خاندان Strelitziaceae سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کے پنکھے کی شکل میں پھیلے ہوئے بڑے بڑے پتے ہیں، جو اسے دوسرے پودوں سے بالکل مختلف بناتے ہیں۔

اگر جنگل میں کوئی شخص کھو جائےتو یہ اس کی راہنمائی کرتا ہے۔ اس پودے کی بناوٹ بہت خاص ہوتی ہے۔ اس کے پتے ایک سیدھی قطار میں اگتے ہیں اور خوبصورت پنکھے کی شکل بناتے ہیں۔ عام طور پر یہ پتے مشرق سے مغرب کی سمت میں ترتیب پاتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ شمال اور جنوب کی طرف رخ کرتے ہیں۔ اسی خاصیت کی وجہ سے پرانے زمانے میں مسافر اس پودے کو راستہ معلوم کرنے کے لیے استعمال کرتے تھے اور اسی وجہ سے اسے مسافر کا درخت‘‘ (The traveler’s tree) کہا جاتا ہے۔

یہ پودا عام طور پر ۷ سے ۱۰ میٹر تک اونچا ہو سکتا ہے۔ اس کا تنا دراصل لکڑی کا نہیں ہوتا بلکہ پتوں کے نچلے حصوں سے بنا ہوتا ہے جو ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مضبوط ہونے کے باوجود روایتی درختوں کی طرح سخت نہیں ہوتا۔ اس کے باوجود یہ تیز ہوا اور بارش کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اس پودے کی ایک اور دلچسپ خصوصیت اس میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ہے۔ اس کے پتوں کی جڑوں میں بارش کا پانی جمع ہو جاتا ہے اور بعض اوقات ایک پتے میں کافی مقدار میں پانی محفوظ ہو سکتا ہے۔ اگرچہ لوگ سمجھتے تھے کہ مسافر اس پانی کو پی سکتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ ہمیشہ صاف نہیں ہوتا کیونکہ اس میں کیڑے اور مٹی شامل ہو سکتی ہیں۔

ماحولیاتی لحاظ سے بھی یہ پودا بہت اہم ہے۔ اس کے بڑے پتے مختلف جانوروں اور کیڑوں کو سایہ اور پناہ فراہم کرتے ہیں۔ اس کے پھول سفید رنگ کے ہوتے ہیں اور ان میں میٹھا رس ہوتا ہے، جو خاص طور پر لیمور (Lemur) کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے جو مڈغاسکر کے بندر کی قسم کا ایک دودھ پلانے والا شب رو جانور ہے۔ جب یہ جانور ان پھولوں سے رس پیتے ہیں تو نادانستہ طور پر پولن کو ایک پھول سے دوسرے پھول تک منتقل کرتے ہیں، جس سے پودے کی افزائش میں مدد ملتی ہے۔

اس کے بیج بھی بہت خوبصورت ہوتے ہیں۔ ان کے اوپر نیلے رنگ کی ایک تہ ہوتی ہے جو ان کو پرندوں کے لیے نمایاں بناتی ہے۔ پرندے ان بیجوں کو کھاتے ہیں اور پھر مختلف جگہوں پر پھیلا دیتے ہیں، جس سے نئے پودے اُگتے ہیں۔

ثقافتی طور پر بھی مسافر کا درخت بہت اہمیت رکھتا ہے۔ مڈغاسکر میں لوگ اس کے پتوں کو چھت بنانے کے لیے استعمال کرتے ہیں اور اس کے دوسرے حصے مختلف گھریلو امور میں کام آتے ہیں۔ اسی لیے بعض لوگ اسے ’’زندگی کا درخت‘‘(tree of life) بھی کہتے ہیں کیونکہ یہ انسانوں کے لیے کئی طرح سے فائدہ مند ہے۔

دنیا کے مختلف حصوں میں بھی اسے سجاوٹی پودے کے طور پر اُگایا جاتا ہے۔ اس کی خوبصورت شکل کی وجہ سے یہ باغات اور پارکوں میں خاص توجہ حاصل کرتا ہے اور لوگ اسے ایک غیر معمولی اور خوبصورت پودے کے طور پر پسند کرتے ہیں۔

مسافر کا درخت نہ صرف اپنی منفرد شکل کی وجہ سے اہم ہے بلکہ اپنی ماحولیاتی اور ثقافتی اہمیت کی وجہ سے بھی ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ یہ ہمیں عملی طور پر بتاتا ہے کہ ایک پودا کس طرح ماحول، جانوروں اور انسانوں کے ساتھ جڑا ہوتا ہے۔

(ابو الفارس محمود)

مزید پڑھیں: دریائے حمزہ۔ زیرِ زمین بہنے والا دنیا سے پوشیدہ دریا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button