متفرق شعراء
لنگر خانہ، دار الضیافت پر

خلافت کے فیضان کا یہ ثمر ہے
جو خدمت کے میدان میں معتبر ہے
یہاں قوم و ملت کی تفریق کیا ہے
مروّت کی جیسے یہاں انتہا ہے
یہاں نرم لہجوں کی برسات سی ہے
ہر اک سمت اخلاق کی چاندنی ہے
یہاں دست شفقت ملے ہر قدم پر
کرم جیسے مسکائے اہل کرم پر
یہاں خادموں کی ادا دلنشیں ہے
کہ گویا وفا خود سراپا یہیں ہے
کسی کی تھکن کا مداوا یہی ہے
کسی کی دعا کا تقاضا یہی ہے
نہ جائے یہاں سے کوئی بھوکا پیاسا
ملے چین و راحت اسے اپنے گھر کا
یہاں آنے والے یہ کہتے ہیں اکثر
محبت کا پایا ہے ہم نے سمندر
دعاؤں سے معمور رہتی ہیں راہیں
خلوص و وفا سے مہکتی ہیں چاہیں
یہاں آ کے ہر دل کو آرام آئے
مسافر کو جیسے کوئی شام آئے
یہ خدمت خدا کی رضا کا وسیلہ
یہی نیک لوگوں کا روشن قبیلہ
ہمیشہ رہے فیض اس کا یہ جاری
رہے اس پہ زاہدؔ سدا فضل باری
(سید طاہر احمد زاہد)
مزید پڑھیں: سر پہ دائم خلافت کا سایہ رہے




