شرائطِ بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں
مخلصین کی اولادوں کا فرض
یہ تو چند نمونے تھے جو مَیں نے پیش کئے، حضرت اقدس مسیح موعودؑ کی اس پیاری جماعت میں ایسے ہزاروں لاکھوں نمونے بکھرے پڑے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے وقت میں لاکھوں کا ذکر کیا اب تو اور بھی بہت بڑھ چکے ہیں جنہوں نے اپنے اخلاص اور اپنی قربانیوں کے بڑے اعلیٰ معیار قائم کئے ہیں۔ بہت سے ایسے ہیں جن کے وفا ، اخلاص، تعلق، محبت ، اطاعت کے واقعات سامنے نہیں آئے۔ یہ لوگ خاموشی سے آئے اورمحبت و تعلق وفا اور اطاعت کی مثالیں رقم کرتے ہوئے خاموشی سے چلے گئے۔ ایسے مخلصین کی اولادوں کوچاہئے کہ اپنے ایسے بزرگوں کے واقعات قلمبندکریں اورجماعت کے پاس محفوظ کروائیںاور اپنے خاندانوں میں بھی ان روایتوں کو جار ی کریں اوراپنی نسلوں کوبھی بتاتے رہیں کہ ہمارے بزرگوں نے یہ مثالیں قائم کی ہیں اور ان کو ہم نے جار ی رکھناہے۔ جہاں ہم ان بزرگوں پر رشک کرتے ہیں کہ کس طرح وہ قربانیاں کرکے اما م الزمان کی دعائوں کے وارث ہوئے وہاں یہ بھی یاد رکھیں کہ آج بھی ان دعائوں کو سمیٹنے کے مواقع موجود ہیں۔ آئیں اور ان وفائوں ،اخلاص، اطاعت، تعلق اور محبت کی مثالیں قائم کرتے چلے جائیںاور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنتے چلے جائیں۔ یادرکھیں جب تک یہ مثالیں قائم ہو تی رہیں گی زمینی مخالفتیں ہمارا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتیں۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اس فقرہ کوہمیشہ یاد رکھیں کہ : ’’زمین تمہارا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتی اگر تمہارا آسمان سے پختہ تعلق ہے‘‘
غیروں کا اعتراف
ان تبدیلیوں کو غیروں نے بھی دیکھا اور ان کا اعتراف کیا اوراتنی واضح اورکھلی تبدیلیاں تھیں کہ وہ مجبور تھے کہ اعتراف کرتے۔ اور یہ مان لیاکہ زمانہ کے امام کومان کر احمدیوں میں بہت ساری تبدیلیاں پیدا ہوئی ہیں لیکن ان کا رویّہ وہی ہے کہ مَیں نہ مانوں کی رٹ لگی رہتی ہے۔ بہر حال اس اعتراف کے چند نمونے مَیں پیش کرتاہوں۔
علامہ اقبال نے لکھاکہ ’’پنجاب میں اسلامی سیرت کا ٹھیٹھ نمونہ اس جماعت کی شکل میں ظاہر ہؤا ہے جسے فرقہ قادیانی کہتے ہیں‘‘۔ (قومی زندگی اور ملت بیضاء پر ایک عمرانی نظر۔ صفحہ ۸۴۔ شائع کردہ آئینہ آدم۔ چوک مینار، انارکلی لاہور۔ مطبوعہ ۱۹۷۰ء۔ بار اوّل)
علامہ نیاز فتح پوری نے حضرت مسیح موعودؑ کے متعلق لکھا: ’’اس میں کلام نہیں کہ انہوںنے یقیناً اخلاقِ اسلامی کو دوبارہ زندہ کیااور ایک ایسی جماعت پیدا کر کے دکھادی جس کی زندگی کو ہم یقینا ًاسوۂ نبیؐ کا پر تو کہہ سکتے ہیں‘‘۔ (ملاحظات نیاز فتح پوری۔ صفحہ ۲۹۔ مرتّبہ محمد اجمل شاہد ایم۔ اے۔ مطبوعہ ۱۹۶۸ء)
پھرایڈیٹر صاحب اخبار سٹیٹسمین دہلی نے لکھا : ’’قادیا ن کے مقدس شہر میں ایک ہندوستانی پیغمبر پیدا ہؤا جس نے اپنے گردو پیش کو نیکی اور بلند اخلاق سے بھردیا۔ یہ اچھی صفات اس کے لاکھوں ماننے والوں کی زندگی میں بھی منعکس ہیں‘‘۔ (سٹیٹسمین دہلی۔ ۱۲؍ فروری۱۹۴۹ء)
عبدالرحیم اشرف آزادجماعت احمدیہ کے اندر پیدا ہونے والے انقلاب کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’ ہزاروں اشخاص ایسے ہیں جنہوں نے اس نئے مذہب کی خاطر اپنی برادریوں سے علیحدگی اختیار کی۔ دنیاوی نقصانات برداشت کئے اور جان و مال کی قربانیاں پیش کیں…ہم کھلے دل سے اعتراف کرتے ہیں کہ قادیانی عوام کی ایک معقول تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو اخلاص کے ساتھ اسے حقیقت سمجھ کر اس کے لئے مال و جان اور دنیاوی وسائل و علائق کی قربانی پیش کرتی ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے بعض افراد نے کابل میں سزائے موت کو لبیک کہا۔ بیرون ملک دور دراز علاقوں میں غربت و افلاس کی زندگی اختیار کی‘‘۔ (ہفت روزہ المنبر لائلپور۔ ۲؍مارچ۱۹۵۲ء۔ صفحہ ۱۰)
اس کے باوجود ان لوگوں کی بدنصیبی ہے کہ ماننے کی توفیق نہیں ملی۔ الحمدللہ کہ ان کے اس اعتراف نے ہمارے ایمانوں کو مضبوط کیا۔ اللہ تعالیٰ ہمارے ایمان اوریقین میں مزید اضافہ کرتا چلاجائے۔ اور عہدبیعت کی ہر شرط کو خوشی سے اور اپنے اوپر فرض سمجھتے ہوئے پورا کرنے والے ہوں اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے وارث بنیں۔ (خطبہ جمعہ۔ ارشاد فرمودہ ۱۷؍ اکتوبر۲۰۰۳ء بمطابق ۱۷؍اخاء ۱۳۸۲ہجری شمسی۔ بمقام مسجد فضل لندن)
(شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں صفحہ ۲۷۵تا۲۷۸)
مزید پڑھیں: روز مرہ معاملات میں بھی توکّل علی اللہ کی ضرورت ہے




