تنزانیہ کے تین دلچسپ واقعات
تھانے لائے جانے کے بعد تھانیدار صاحب نے ہمارا لٹریچر بھی دیکھا۔ چند کتب کے بارے میں کہاکہ کیایہ مجھے مل سکتی ہیں؟ ہم نے بتایا ضرور مل سکتی ہیں،یہی تو ہم فروخت کررہے تھے۔ انہوں نے ان کتب کی نقد قیمت ادا کرکے خرید لیں۔ ہمیں بڑی خوشی ہوئی۔باہر رہ کر چند منٹ میں ہم اتنی قیمت کی کتب فروخت نہیں کرسکتے تھے اور نہ ہی تھانیدار صاحب تک پیغام حق پہنچا سکتے تھے
۱۹۷۰ء کی دہائی کے آخری چند سال کی بات ہے، دارالسلام، تنزانیہ، میں ایک دوست محمد سالم کُنگُو لِیلو صاحب نے اگر چہ بیعت تو نہ کی تھی مگر با شرح چندہ دیتے، جماعت احمدیہ کے عقائد کو درست سمجھتے، خلافتِ احمدیہ سے محبت رکھتے، اپنے آپ کو احمدی کہتے اور بڑی باقا عدگی سے احمد یہ مسجد میں ہمارے ساتھ نمازیں ادا کرتے تھے۔ روزانہ مغرب کی نماز میں آتے، نماز کے بعدعشاء تک مسجد میں ہی رہتے جیسا کہ باقی نمازیوں کا طریق تھا۔در س سنتے، عشاء کی نماز کے بعد گھر جاتے۔نمازمغرب کے لیے جب وضو کرنےجاتے، تو وہاں اپنی کلائی کی گھڑی اتار کر رکھ دیتے اور وضو کر کےمسجدمیں نماز کے لیے آجا تے، گھڑی اٹھانا بھول جاتے۔نمازعشاء کے لیے وضو کا وقت ہوتا تو انہیں یاد آتا کہ گھڑی تو مغرب کی نماز کے لیے وضوکر تے وقت وہیں رہ گئی تھی۔ ان کی بیعت کا واقعہ خاکسار نے اپنے ایک گذشتہ مضمون میں بیان کیاہے۔
اس وقت یہ عرض کرنا مقصود ہے کہ جس دن انہوں نے بیعت کی، اُس دن بھی مغرب کی نماز کے لیے وضو کرنے کی خاطرگھڑی اتار کروہاں رکھی اور وضوکر کے آگئے۔ عشاء کے لیے جب وضوکر نے گئے تو گھڑی وہاں موجود نہ تھی۔ سخت رنجیدہ خاطر ہوئے،اور عاجزسے کہنے لگے کہ میری گھڑی چوری ہوگئی ہے۔اور کہا یہ گھڑی بہت قیمتی تھی اور آج یہ میں پہلی دفعہ لے کر آیا تھا۔ اور دبے الفاظ میں خادم مسجد کے بارے میں شک کا اظہارکیا۔ عاجز نے انہیں کہا: مسٹر کُنگُو لِیلورک جاؤ۔کہو: اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔اس طرح آپ کو گمشدہ گھڑی مل جائے گی یا اللہ تعالیٰ اس کا نعم البدل عطا کر دےگا۔انہوں نےفوراً کہہ دیا: اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ خاکسارنے انہیں کہاکہ خادم مسجدبہت نیک شخص ہےاوربڑا دیندار ہے اس پر ایساشک کرنا ہرگزدرست نہیں۔ اگر ضرورہی بدظنی کرنی ہے، تو آج ایک اجنبی نوجوان بھی ہماری مسجد میں آیا تھا اس پر کیوں شک نہیں ہوسکتا؟ وہ اس وقت آیا تھا جب نماز کھڑی ہورہی تھی۔ وہ وضو کے لیے گیا، اس نے سنتیں بھی بعد میں ادا نہ کیں اور فوراً مسجد سے چلا گیا۔ جو دوست اس وقت مسجد میں موجود تھے، عاجزنے ان سے درخواست کی کہ دعا کریں، ان کی گھڑی مل جائے۔
خاکسار کو اس واقعہ سے شدید صدمہ ہوا، اور خیال آیا کہ اِس سے اُس مخلص دوست کو ٹھوکر نہ لگ جائے۔ عاجز بہت بے چین تھا۔رات کی تنہائیوں میں صلوٰۃ اللیل میں بڑے درد اور الحاح سے اللہ کے حضور دعا کی کہ یا اللہ! اس دوست کی گھڑی مل جائے، کہیں اسے ٹھوکر نہ لگ جائے۔ بالعموم کسی چیز کے گم ہو جانے پرعاجز اس طرح دعا کیا کرتا ہے کہ اےخدا! تُوحاضر اور غائب کو خوب جانتا ہے۔ تُو اس وقت دیکھ رہا ہےکہ وہ چیز کس جگہ پڑی ہے، اور تُو اس پر قادر ہےکہ اُسے مجھ تک پہنچا دے یا مجھے اس کے پاس لے جائے۔بہت دفعہ وہ چیز مل جاتی ہے۔عاجزکو یاد نہیں کہ اس موقع پر اس طرح دعا کی تھی یا نہیں۔مگر بہت ہی توجہ اور خشوع سے اللہ کے حضور محض اس وجہ سے دعا کی کہ ایک مخلص دوست کی ٹھوکر کا باعث گھڑی کا گم جانا نہ بن جائے۔
یہ جمعرات کی رات تھی، صبح جمعہ کا مبارک دن تھا۔ نماز جمعہ میں حسب دستور مسجد نمازیوں سے بھری ہوئی تھی، خاکسارکا معمول تھا کہ نمازجمعہ پڑھانے کے بعد سنتوں کی ادائیگی کے لیےاپنی رہائش گاہ پر آجاتا جو صرف چند فٹ کے فاصلے پر تھی۔ اب جب جمعہ کی نماز کے بعد خاکسار مسجد سے باہر آیا تو ایک نوجوان لپک کر میرے پاس آیا۔ اور ایک گھڑی یہ کہہ کر مجھے تھما دی کے یہ مَیں کل یہاں سے لے گیا تھا،اور فوراً جانے لگا۔ خاکسار نے اسے روک لیا۔ لیکن وہ چلے جانے کے لیے بے تاب تھا۔ عاجز نے اس سے پوچھاتم کیا کام کرتے ہو۔کہنے لگا sina kazi، یعنی میں بے کارہوں کوئی کام نہیں ملتا۔ عاجز نےاسے بیس شلنگ کا نوٹ دیا، مگر اس نے لینے سے انکار کردیا۔ وہ وہاں سے چلا جانا چاہتا تھا۔خاکسارنے اسے کہا کہ مَیں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ یہ لے لو۔اس پر اس نے وہ بیس شلنگ لے لیے اور وہاں سے فوری طور پر چلا گیا۔
عاجز وہ گھڑی لے کر واپس مسجد میں گیا۔لوگ وہیں تھے خاکسار نے اونچی آواز سے کہا :مسٹر کُنگُو لِیلو!یہ لو اپنی گھڑی۔ تفصیل بعد میں بتاؤں گا۔ بعد میں تفصیل معلوم کرکے لوگ شدید حیران ہوئےکہ ایک نوجوان بے کار گھڑی چراتا ہے، اور اگلے دن واپس کرنے آجاتا ہے۔ عاجزکا خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری دعائیں سنیں اور اس نوجوان کو خواب وغیرہ میں شدید انذار کیا جس کی وجہ سے وہ گھڑی واپس کرنے پر مجبور ہوگیا۔ واللہ اعلم بالصواب۔
۲۔ ۱۹۷۰ءہی کی دہائی کے نصف ثانی کی بات ہے۔عاجزنے دارالسلام میں یہ تحریک کی کہ ہر اتوار کو دوست یوم التبلیغ منایا کریں۔ یہ تحریک بہت مفید اور کامیاب رہی۔ہر اتوار کو جو دوست آسکتے، صبح ناشتے کے قریباً دو گھنٹےبعد آجاتے۔ اور گروپس کی صورت میں لٹریچر لے کر شہر کے مختلف حصوں میں تبلیغ اور تقسیم وفروخت لٹریچر کے لیے نکل جاتے۔ عصر کے قریب واپس آتے۔ ان احباب میں ہر طبقے کے دوست شامل ہوتے، بعض بینک مینیجر، سرکاری ملازمین اور دیگر نوجوان بڑے شوق سے حصہ لیتے۔ہر گروپ کو معین حصہ شہر کا دیا جاتا۔ہرگروپ کے لیڈر کو جو لٹریچر دیا جاتا اس کا اندراج ایک فارم میں ہوتا کہ فلاں فلاں کتاب کے اتنے نسخے ہیں اور ان کی قیمت درج ہوتی۔ کچھ مفت تقسیم کرنے کے لیے پمفلٹس بھی ہوتے جن کا اندراج نہ کیا جاتا۔ واپسی پر ہر گروپ، اُسی فارم کے مطابق بقیہ کتب اور رقم واپس کرتا اور تمام گروپس کی رقم کی مجموعی رسید جاری کی جاتی۔واپسی پر تمام گروپس کی موسم کے مطابق تواضع کی جاتی۔دوپہر کا کھانا دوست اپنے ساتھ لے جاتے یا بعض اپنے طور پراس وقت خرید لیتے۔
اُن دنوں ہمارے سواحیلی ترجمۃ القرآن کا سٹاک ختم ہوگیا تھا۔ چند نسخے باقی تھے،اس لیے ہر گروپ کو صرف ایک نسخہ قرآن کریم کا دیا جاتا اور ہدایت ہوتی کہ یہ صرف تبلیغ کے لیے ہے،آیات دکھانے کے لیے ہے،لوگوں کو جو دیکھنا چاہے دِکھانے کے لیے ہے،اسے ہرگز فروخت نہیں کرنا۔جو خریدنا چاہیں انہیں بتائیں کہ ہمارا سٹاک ختم ہے،نیا ایڈیشن شائع ہونے والا ہے، پھر آپ جس قدر نسخے چاہیں خرید سکیں گے۔ غیر احمدیوں کی طرف سے بھی قرآن کریم کا سواحیلی ترجمہ ۱۹۶۹ءسے چھپ چکا تھا لیکن ہمارا ترجمۃ القرآن لوگ زیادہ پسند کرتے تھے۔
تمام گروپس کے لیڈر اپنی کارروائی کی رپورٹ مغرب کی نماز کے بعد سے عشاء کی نماز تک زبانی احباب کے سامنے باری باری بیان کرتے،جو بہت دلچسپ ہوتی۔اس طرح بعض دوسرے دوستوں میں بھی اس پروگرام میں شمولیت کی تحریک ہوتی۔
ایک یوم تبلیغ کے موقع پر جب گروپس واپس آئے،تو ایک گروپ کے لیڈر کہنے لگے کہ معذرت کے ساتھ عرض ہےکہ سواحیلی ترجمہ قرآن کریم کا نسخہ جو آپ نے دیا تھا کہ فروخت نہیں کرنا،مَیں نے فروخت تو نہیں کیا لیکن میرے پاس موجود نہیں۔کہنے لگے ایک نوجوان نے قرآن کا ترجمہ طلب کیا۔ مَیں نے اسے دکھایا اور کہا کہ دیکھ لو،مگریہ فروخت کرنے کے لیے نہیں کیونکہ اس کا سٹاک ختم ہے۔نیا ایڈیشن چھپنے والا ہے، پھر آپ خرید سکیں گے۔اس نے کہا کہ اس کا ہدیہ کیا ہے۔کہا ۷۵؍شلنگ، مگر اس وقت یہ قابل فروخت نہیں۔ اس نے اس کی ورق گردانی شروع کی۔پھر اچانک ۱۰۰؍شلنگ کا نوٹ پھینک کر قرآن لے کر رفو چکرہوگیا اور بھیڑ میں غائب ہوگیا۔ عاجزنے سن کر کہا کہ یہ ہمارے ترجمۃ القرآن کے پسندیدہ ہونے کی ناقابل تردید علامت ہے۔الحمدللہ۔
۳۔ ایک یوم التبلیغ کے موقع پر عاجزکو اطلاع ملی کہ Kariakoo کےعلاقے میں جانے والے گروپ کو پولیس نے پکڑ کر تھانے پہنچا دیا ہے۔ خاکسار فوری طور پر دو تین عہدےداروں کو لےکر چل پڑا، ان دنوں مشنوں میں گاڑیاں نہیں ہوتی تھیں۔ پیدل ہی جاتے تھے۔ ہم وہاں پہنچے۔ تھانیدار نے تپاک سے استقبال کیا، اور پوچھا کیا کام ہے؟ بتایا کہ ہمارے مشن کے چند لوگوں کوپبلک میں تبلیغ کرنے کی وجہ سے پولیس نے پکڑ لیا ہے۔حالانکہ پبلک میں تبلیغ کرنے کی اجازت ہے۔ تھانیدار نے کہا تبلیغ کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لیے پکڑا ہے کہ لوگوں کے ہجوم کی وجہ سے ٹریفک رک گئی تھی۔ تھانیدار صاحب متبسم تھے۔کہنے لگے میں تو بہت خوش ہوا ہوں کہ ان سے مجھے کچھ عمدہ کتب مل گئی ہیں جو میں غور سے پڑھوں گا۔ یہ تھانیدار صاحب عیسائی تھے۔کہنے لگے یہ سب آزاد ہیں، انہیں بلایا اور کہا کہ آپ انہیں لے جائیں، ان کا کوئی جرم نہیں۔
خاکسار انہیں لے کر باہر آیا اورتفصیل پو چھی۔ انہوں نے بتایا کہ ہم اور سامعین سب فٹ پاتھ پرتھے، سڑک پر ٹریفک رواں دواں تھی، ٹریفک کو کوئی رکاوٹ نہ تھی۔ انہوں نے بتایا تھانہ لائے جانے کے بعد تھانیدار صاحب نے ہمارا لٹریچر بھی دیکھا۔ چند کتب کے بارے میں کہاکہ کیایہ مجھے مل سکتی ہیں؟ ہم نے بتایا ضرور مل سکتی ہیں،یہی تو ہم فروخت کررہے تھے۔ انہوں نے ان کتب کی نقد قیمت ادا کرکے خرید لیں۔ ہمیں بڑی خوشی ہوئی۔باہر رہ کر چند منٹ میں ہم اتنی قیمت کی کتب فروخت نہیں کرسکتے تھے اور نہ ہی تھانیدار صاحب تک پیغام حق پہنچا سکتے تھے۔وہ بالکل پریشان نہ تھے بلکہ خوشی سے نہال ہورہے تھے۔الحمد للہ علیٰ ذالک۔
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: یہود کو دوبارہ فلسطین میں آباد کرنے کا نظریہ پہلے کس نے پیش کیا تھا؟



