متفرق

صنعت وتجارت

ارشاد حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: ’’امیر اسلامی ممالک جو ہیں ان کو اپنے غریب ملکوں کے بارے میں سوچنا چاہئے کہ ان کی ترقی کس طرح کی جائے اور پھر ہی یہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق صحیح حق ادا کرنا ہو گا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ فَاٰتِ ذَا الۡقُرۡبٰی حَقَّہٗ وَالۡمِسۡکِیۡنَ وَابۡنَ‌ السَّبِیۡلِ اور ’اٰتِ‘ کا جو اللہ تعالیٰ نے لفظ فرمایا (الف ت سے) اس کے لفظ میں اعزاز کے ساتھ چیز دینا شامل ہے اور پھر حق کا لفظ استعمال کر کے مزید اس کو کھول دیا کہ اعزاز کے ساتھ ان کی خدمت کرنا تمہارا فرض ہے۔یہ عطا نہیں ہے، یہ بخشش نہیں ہے، یہ خیر نہیں ہے جو تم دوسرے کو ڈال رہے ہو۔بلکہ جوزائد رقم ہے اس میں سے ان کو دینا تم پر فرض ہے۔

پس اسلامی ممالک اگر اپنے غریب مسلمان ملکوں کی بہتری کا سوچتے ، اپنے تیل کے پیسے سے ان کی ترقی کی طرف توجہ دیتے ، بجائے لالچ میں آکر اپنا مال مغربی ملکوں کے بینکوں کو دینے کے اور ان سے سود لینے کے تو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرتے اور پھر فلاح پانے والوں میں ہوتے۔‘‘(خطبہ جمعہ فرمودہ ۳۱؍اکتوبر ۲۰۰۸ء، مطبوعہ خطبات مسرور جلد ۶ صفحہ ۴۴۸)(مرسلہ: وکالت صنعت و تجارت)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button