حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

جلسہ سالانہ: مہمان نوازی اور ہماری ذمہ داریاں

(انتخاب از خطبہ جمعہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ ۱۴؍اگست۲۰۱۵ء)

اللہ تعالیٰ کے فضل سے اگلے جمعہ سے جماعت احمدیہ برطانیہ کا جلسہ سالانہ شروع ہو رہا ہے انشاء اللہ۔ جلسے کی تیاری کے لئے چند ہفتوں سے رضا کار کارکنان حدیقۃ المہدی جا رہے ہیں اور گزشتہ ہفتے عشرے سے تو خدام الاحمدیہ اور باقی کارکنان بھرپور طور پر کام کر رہے ہیں۔ جنگل میں جلسے کے انعقاد کے لئے تمام انتظامات کرنا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ لیکن ہمارے ملک کے مختلف حصوں سے آنے والے، برطانیہ کے مختلف حصوں سے آنے والے خدام اور رضاکار ایسی مہارت سے یہ کام کرتے ہیں کہ جس کی مثال دنیا میں کہیں اور نظر نہیں آتی اور کسی بھی تنظیم میں ہم یہ نہیں دیکھ سکتے۔ پس یہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ جذبہ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں آنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے نوجوانوں اور کام کرنے والوں میں پیدا کیا ہے۔ بارش ہو یا دھوپ ہو یہ نوجوان ان باتوں سے بے پرواہ ہو کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے جاری کردہ اس جلسے کے لئے ہر وقت بے نفس ہو کر کام کر رہے ہیں اور تیاری کر رہے ہیں اور پھر جلسے کے دنوں میں مزید ہزاروں کارکنان مہمانوں کی خدمت اور جلسے کے نظام کو احسن رنگ میں چلانے کے لئے اپنی خدمات پیش کرتے ہوئے آ جائیں گے اور پھر اس کے بعد اس کام کو سمیٹنے کے لئے اور سارے سامان کو محفوظ کرنے کے لئے بھی کافی عرصہ کام کرنا پڑتا ہے۔ ان کام کرنے والوں میں انشاء اللہ مرد بھی ہیں، عورتیں بھی ہیں، لڑکے بھی ہیں، لڑکیاں بھی ہیں۔ بچے اور بوڑھے بھی ہیں جو آئیں گے یا کر رہے ہیں۔ پس یہ غیر معمولی جذبہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مہمانوں کی خدمت کا ہے جو ہمیں آج سوائے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی قائم کردہ جماعت کے اور کہیں نظر نہیں آتا۔ ان مغربی ممالک میں جہاں دنیا کمانا اور دنیاوی باتوں میں پڑنا ہر ایک کی عموماً اِلَّا مَاشَائَ اللہ اوّلین ترجیح ہے وہاں احمدی نوجوان عاجزی سے رضاکارانہ خدمت کر رہے ہوتے ہیں۔ پس ہمارا فرض ہے کہ ہم مسلسل ان کارکنان کے لئے دعائیں کرتے رہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو جہاں احسن رنگ میں خدمت کی توفیق دیتا رہے وہاں ان کو ہمیشہ ہر شر اور پریشانی اور تکلیف سے محفوظ رکھے۔

اب میں حسب روایت اور یہ ضروری بھی ہے مہمان نوازی کے حوالے سے کارکنان کے لئے کچھ باتیں کہوں گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ تمام کارکنان جیسا کہ میں نے کہا اپنی تمام تر کوشش اور توجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مہمانوں کی خدمت کرتے ہیں لیکن بعض نئے شامل ہونے والے اور وہ بچے جو پہلی دفعہ اپنی خدمات پیش کر رہے ہیں نیز پرانے کارکنان جو ہیں ان کو یاددہانی کے طور پر بھی ضروری ہے کہ مہمان نوازی سے متعلق اسلامی تعلیم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ اور آپ کے غلام صادق کے اپنے عمل اور آپ کی نصائح کو بھی ہم سامنے رکھیں اور دہراتے رہیں تا کہ مہمان نوازی کے بہتر سے بہتر معیار ہم قائم کر سکیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں مہمان نوازی کی اہمیت بتاتے ہوئے قرآن کریم میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مہمانوں کا ذکر فرماتا ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس مہمان آئے تو پہلا اور فوری ردّ عمل خوش آمدید کہنے اور سلامتی کی دعاؤں کے بعد جو انہوں نے دکھایا وہ یہ تھا کہ ان کے لئے فوری طور پر کھانا تیار کروایا۔ اور پھر حضرت لوط کے مہمانوں کے لئے جو اُن کی فکر تھی اس کا ذکر ہے کہ میری قوم کے لوگ انہیں تکلیف نہ دیں اور مہمانوں کی حفاظت کی فکر آپ کو دامنگیر ہوئی۔ پس مہمان کی تکلیف کی فکر رہنی چاہئے اور مہمان کی تکلیف میزبان کی رسوائی کا باعث بھی بنتی ہے۔ یہ بھی اس سے سبق ملتا ہے۔

پس یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ مہمان کی تکلیف کوئی ایسی معمولی چیز نہیں جس سے صرفِ نظر کیا جائے۔ جس سے بلکہ کسی بھی رنگ میں مہمان کو کوئی تکلیف پہنچے تو یہ میزبان کے لئے شرمندگی اور رسوائی کا باعث ہے۔ اسلام نے اس لئے اکرام ضیف کی بہت تلقین کی ہے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جو غیر معمولی خوبیاں حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو نظر آئیں اور جن کا ذکر حضرت خدیجہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی وحی کے بعد آپ کی گھبراہٹ دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا اور عرض کیا کہ ان خوبیوں کے حامل کو خدا تعالیٰ ضائع نہیں کر سکتا۔ ان میں سے ایک خوبی یہ بھی بیان کی کہ خدا تعالیٰ کس طرح آپ کو ضائع کر سکتا ہے (جبکہ) آپ میں تو مہمان نوازی کا وصف بھی انتہا کو پہنچا ہوا ہے۔ (صحیح البخاری کتاب بدء الوحی باب کیف کان بدء الوحی الی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم حدیث نمبر3) اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ایک دو، پانچ دس، نہیں سینکڑوں بلکہ اس سے بھی زیادہ مثالیں ہیں ایسے واقعات ہیں جو آپ کے اکرام ضیف اور مہمان نوازی کے اعلیٰ ترین معیاروں کو چھو رہے ہیں اور پھر اپنے صحابہ اور اپنی امت کوبھی آپ نے یہ اسلوب سکھائے۔ صحابہ کے بھی ایسے واقعات ہیں جن کو پڑھ کر حیرت ہوتی ہے کہ کس طرح غیر معمولی قربانی کر کے وہ مہمان نوازی کرتے تھے اور پھر اللہ تعالیٰ بھی ان کی مہمان نوازی میں کس طرح برکت ڈالتا تھا اور سراہتا تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا طریق تھا کہ جب زیادہ مہمان آتے تو ہر ایک کو کچھ مہمان تقسیم کر دیتے اور اپنے حصے کے مہمان بھی رکھتے اور پھر خود ان کی مہمان نوازی بھی فرماتے۔ ایسے ہی ایک موقع پر جب آپ نے مہمانوں کو تقسیم کر دیا تو جب زیادہ مہمان آ گئے تو اپنے حصے کے مہمان بھی رکھے۔ ایک صحابی عبداللہ بن طُخفۃ کہتے ہیں کہ ایک موقع پر میں ان مہمانوں میں سے تھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حصے میں آئے۔ آپ ہمیں اپنے ساتھ اپنے گھر لے گئے اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا کہ گھر میں کچھ کھانے کو ہے۔ انہوں نے عرض کیا کہ کچھ تھوڑا سا حریر ہے جو میں نے آپ کے لئے رکھا ہوا تھا۔ اس دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے بھی تھے۔ یہ تھوڑا سا کھانا آپ کی افطاری کے لئے تھا۔ بہرحال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد پر حضرت عائشہؓ وہ برتن میں ڈال کر لائیں۔ آپ نے اس میں سے تھوڑا سا لیا شاید ایک آدھ گھونٹ لیا یا لقمہ کھایا اور مہمانوں کو کہا کہ بسم اللہ پڑھ کر کھائیں۔ چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ ہم اسے اس طرح کھا رہے تھے کہ اسے دیکھ نہیں رہے تھے اور سب سیر ہو گئے۔ پھر آپ نے پوچھا پینے کو کچھ ہے تو وہ پینے کے لئے کچھ مشروب لائیں۔ آپ نے اس میں سے تھوڑا سا پیا اور پھر فرمایا کہ بسم اللہ کر کے پئیں۔ پھر ہم نے اسے پیا اور اسی طرح پیا کہ اسے دیکھ نہیں رہے تھے اور پھر ہم اچھی طرح سیر ہو گئے۔ (مسند احمد بن حنبل جلد7 صفحہ795،794 حدیث طُخفۃ الغفاری حدیث نمبر24015عالم الکتب بیروت 1998ء)

…ایک روایت میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے پڑوسی کی عزت کرے۔ اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے مہمان کا احترام کرے۔ (المعجم الکبیر للطبرانی جلد 5 صفحہ233باب الزای عبد الرحمن بن ابی عمرۃ، عن زید بن خالد حدیث نمبر5187دار احیاء التراث العربی2002ء)

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: جلسہ سالانہ کے حوالے سے چند اہم نصائح

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button