نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنے کی ضرورت
پھر بچوں کو بھی میں کہتا ہوں کہ اپنے دوست سوچ سمجھ کر بناؤ۔ یہ نہ سمجھو کہ والدین تمہارے دشمن ہیں یا کسی سے روک رہے ہیں بلکہ سولہ سترہ سال کی عمر ایسی ہوتی ہے کہ خود ہوش کرنی چاہئے، دیکھنا چاہئے کہ ہمارے جو دوست ہیں بگاڑنے والے تو نہیں، اللہ تعالیٰ سے دور لے جانے والے تو نہیں ہیں۔ کیونکہ جو اللہ تعالیٰ سے دور لے جانے والے ہیں وہ تمہارے خیر خواہ نہیں ہوسکتے۔ تمہارے ہمدرد نہیں ہو سکتے، تمہارے سچے دوست نہیں ہو سکتے۔ اور ایک احمدی بچے کو تو کیونکہ صادقوں کی صحبت سے فائدہ اٹھانا ہے اس لئے یاد رکھیں کہ یہ گروہ شیطان کاگروہ ہے صادقوں کا گروہ نہیں اس لئے ایسے لوگوں میں بیٹھ کے اپنی بدنامی کا باعث نہ بنیں، ایسے بچوں یا نوجوانوں سے دوستی لگا کے اپنے خاندان کی بدنامی کا باعث نہ بنیں اور ہمیشہ نظام سے تعلق رکھیں۔ نظام جو بھی آپ کو سمجھاتا ہے آپ کی بہتری اور بھلائی کیلئے سمجھاتا ہے۔ نمازوں کی طرف توجہ دیں۔ قرآن پڑھنے کی طرف توجہ دیں اللہ تعالیٰ ہمارے ہر بچے کو ہر شیطانی حملے سے بچائے۔
حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ:’’ آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ نیک ساتھی اور برے ساتھی کی مثال ان دوشخصوں کی طرح ہے جن میں سے ایک کستوری اٹھائے ہوئے ہو اور دوسرا بھٹی جھونکنے والا ہو۔ کستوری اٹھانے والا تجھے مفت خوشبو دے گا یا توُ اس سے خرید لے گا۔ ورنہ کم ازکم تو اس کی خوشبو اور مہک سونگھ ہی لے گا۔ اور بھٹی جھونکنے والا یا تیرے کپڑوں کو جلادے گا یا اس کا بدبودار دھواں تجھے تنگ کرے گا‘‘۔ (مسلم کتاب البر والصلۃ۔ باب استحباب مجالسۃ الصالحین)
تو اللہ تعالیٰ ہم سب کو کستوری کی خوشبو بانٹنے والا بنائے اور ہمارے اندر وہ پاک تبدیلیاں پیدا ہوں جو نہ صرف ہمیں فائدہ پہنچا رہی ہوں بلکہ لوگ بھی ہم سے فائد ہ اٹھا رہے ہوں۔ پس اس کے لئے بہت مجاہدے کی ضرورت ہے۔ اپنی نسلوں کو بچانے کیلئے بھی بہت توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق دے۔
(خطبہ جمعہ ۱۱؍جون ۲۰۰۴ء، خطبات مسرور جلد ۲ صفحہ ۳۹۷ تا ۳۹۸)
مزید پڑھیں: حالات ِجنگ میں پاکیزہ اسوۂ رسول ﷺاور جامع تعلیمات ِاسلامیہ



