حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

جلسہ سالانہ ۲۰۲۵ء کے کامیاب انعقاد پراللہ تعالیٰ اور کارکنان کا شکریہ

(انتخاب از خطبہ جمعہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ یکم اگست ۲۰۲۵ء)

گذشتہ اتوار کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے جلسہ سالانہ یوکے اپنے اختتام کو پہنچا تھا۔ یہ تین دن بڑی برکتوں والے اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو دکھانے والے دن تھے۔ اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے کہ اس نے ہمیں ان تین دنوں میں اپنے بےشمار فضلوں سے نوازا اور جلسے کو ہر لحاظ سے بابرکت فرمایا اور جلسہ بخیر و خوبی اختتام کو پہنچا۔

اللہ تعالیٰ کے فضل سے موسم بھی اچھا رہا اور تمام پروگرام بڑی خوش اسلوبی سے اختتام پذیر ہوئے۔ جلسے کی بنیادی کارروائی یعنی تقریروں اور دیگر پروگراموں کے علاوہ تبلیغی اور معلوماتی لحاظ سے مختلف شعبہ جات نے نمائشوں کی جو ترتیب دی ہوئی تھی اس کا بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے غیروں پر بہت اچھا اثر ہوا اور اکثر لوگوں کو، احمدیوں کو بھی اپنی معلومات میں مزید اضافہ کی توفیق ملی۔ اسی طرح ایم ٹی اے نے بھی جلسہ کی کارروائی کے درمیانی وقفوں میں مختلف معلوماتی پروگرام دکھائے اور معلومات دیں جن کا لوگوں پر بہت اچھا اثر ہوا۔ دوسرے ممالک میں بیٹھے ہوئے احمدیوں نے بھی اسے بڑا پسند کیا کہ ہمیںبھی بہت سی نئی باتیں پتہ لگیں اور اسی طرح

ایم ٹی اے نے اس دفعہ جیسا کہ میں نے پہلے بھی جلسے کے آخری دن اعلان کیا تھا کہ دنیا کے تقریباً چھپن ممالک میں ایک سو انیس مراکز کے ساتھ جلسہ کو جوڑا۔ اس رابطے کے ذریعہ دونوں طرف سے لوگ ایک دوسرے کو دیکھ سکتے تھے ہم یہاں سے انہیں دیکھ سکتے تھے اور وہ وہاں سے براہ راست ہمیں دیکھ رہے تھے۔ محض ٹی وی کی نشریات نہیں تھیں جو وہ سن رہے تھے بلکہ براہ راست رابطہ بھی تھا جس کا بہت گہرا اور اچھا اثر ہوا۔ اس اثر کو صرف یہاں موجود لوگوں نے ہی محسوس نہیں کیا۔ یہاں بھی لوگوں نے اس کو بڑا پسند کیا بلکہ مختلف ممالک میں بیٹھے جلسہ سننے والوں کے جذبات اور احساسات بھی یہی تھے کہ گویا وہ جلسہ گاہ کی مارکی میں بیٹھے جلسہ سن رہے ہیں۔ ہزاروں میل دور بیٹھے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے اس ذریعہ سے انہیں یوں جلسہ سننے کی توفیق عطا فرمائی کہ وہ خود کو وہیں حاضر محسوس کر رہے تھے۔ پس یہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضلوں میں سے ایک بہت بڑا فضل ہے جو اس نے جماعت احمدیہ پر فرمایا ہےکہ ان نئی ایجادات کے ذریعہ تمام دنیا کے احمدیوں کو اکٹھا کردیا ہے۔ اُمّت واحدہ بننے کا یہ نظارہ دنیا میں اَور کہیں نظر نہیں آتا۔

اس دفعہ عمومی طور پر انتظامات بھی گذشتہ سالوں کی نسبت بہت بہتر تھے اور اکثر نے اس کا اظہار کیا ہے۔ یہاں شامل ہونے والوں نے بھی اور ٹی وی پر مختلف ممالک میں پروگرام دیکھنے والوں نے بھی یہ کہا ہے۔ ایک خاص ماحول تھا اور یہ سب اللہ تعالیٰ کا ایک خاص فضل ہے جو ہر ایک کو غیر معمولی طور پر محسوس ہو رہا تھا کہ جلسہ پر اللہ تعالیٰ کی خاص برکات نازل ہو رہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم اس کے شکرگزار بندے بنو اور جب تم شکر گزاری کرو گے تو میں تمہیں اپنے فضلوں سے اور زیادہ نوازوں گا اور زیادہ فضل تم پر برساؤں گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتاہے لَىِٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِيْدَنَّكُمْ (ابراہیم:8) کہ اگر تم شکر ادا کرو گے، شکرگزار بنو گے تو میں تمہیں اَور بھی زیادہ دوں گا۔ پس اللہ تعالیٰ کے فضلوں کامزید وارث بننے کے لیے شکرگزاری کی ضرورت ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے بارے میں یہ فرمایا کہ اِنَّ اللّٰہَ شَاكِـرٌ عَلِــيْمٌ (البقرۃ:159) کہ یقیناً اللہ تعالیٰ بہت قدر دان اور جاننے والا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کے لیے شکر کا لفظ استعمال ہوتا ہے تو وہ قدردانی کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ شکرگزاروں کی قدر کرتا ہے اور اس قدر کے نتیجہ میں پھر اللہ تعالیٰ ان کو اَور نوازتا چلا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ تو مالک ہے اس نے بندوں کا شکریہ تو ادا نہیں کرنا بلکہ اس کا قدر کرنا ہی اس شکرگزاری کی قدر کرنا ہے جو بندے کر رہے ہیں۔ پس وہ علم بھی رکھتا ہے اور اسے پتہ ہے کہ کون حقیقی شکرگزار ہے۔ اگر شکرگزاری حقیقی ہو گی تو وہ مزید نوازتا چلا جائے گا۔ یہ صرف باتیں نہیں ہونی چاہئیں بلکہ شکرگزاری کا ایک جذبہ ہونا چاہیے اور یہ جذبہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے جماعت میں بہت پیدا کیا ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ اسے بڑھاتا چلا جائے۔

یہاں یہ بات بھی سب شامل ہونے والوں کو یاد رکھنی چاہیے کہ جہاں وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں وہاں کام کرنے والے کارکنان کا بھی شکریہ ادا کریں۔ اس بات کا شکر کریں کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نےکام کرنے والوں کے کاموں میں آسانیاں پیدا کیں۔ ان کی مشکلات کو دُور کیا، ان کے ہر کام میں بہتری پیدا کرنے کی اور انہیں زیادہ سے زیادہ لوگوں کی خدمت کرنے کی توفیق دی اور اس طرح شاملین کے لیے سہولت کے زیادہ سامان میسر ہوئے، بہتر سامان میسر ہوئے۔

اس سال اللہ تعالیٰ کے فضل سے جیسا کہ پہلے میں نے گذشتہ جلسہ کے آخری دن بتایا تھا کہ چھیالیس ہزار سے اوپر حاضری تھی بلکہ لجنہ کی بعد کی جو رپورٹ ہے اس کے اندازے کےمطابق ان کی گنتی صحیح طرح شمار نہیں ہوئی اور انہوں نے بعد میں اپنی گنتی کی جو رپورٹ بھیجی ہے اس کو شامل کیا جائے تو مردوں اور عورتوں کو ملا کر کل تعداد پچاس ہزار بن جاتی ہے کیونکہ وہ کہتی ہیں ہم پچیس ہزار تھیں۔ پس ان پچاس ہزار شامل ہونے والے لوگوں کو شکرگزار ہونا چاہیے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے کام کرنے والوں کے ذریعہ ان کے لیے آسانیاں پیدا کیں۔ انہیں ٹرانسپورٹ کے معاملے میں دقت پیدا نہیں ہوئی۔ کھانے کے معاملے میں دقت پیدا نہیں ہوئی اور جلسہ کے پروگرام سننے کے معاملے میں کوئی دقت پیدانہیں ہوئی اور ان کی دیگر مختلف ضروریات پوری ہوتی رہیں۔ رہائش کا بھی انتظام تھا اور کافی مناسب تھا۔ چنانچہ جومہمان جماعتی رہائش گاہوں میں ٹھہرے ان کے لیے بہتر انتظام ہوا۔ پس یہ سارے کام جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہوئے اس پرہمارا کوئی کمال نہیں بلکہ ان پر اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔

مزید پڑھیں: ہمیشہ صبر کا مظاہرہ ہو اور ہمیشہ صبر دکھاتے رہو

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button