بچوں کا الفضل

کیوں؟

پیارے بچو! آج کے نئے سوال اور اس کے جواب کے ساتھ حاضر ہیں۔ اور آج کا سوال یہ ہے کہ

جانوروں کی چار ٹانگیں کیوں ہوتی ہیں؟

پیارے بچو! آپ نے ضرور دیکھا ہوگا کہ بلی، کتا، گھوڑا، گائے، ہرن اور ہاتھی جیسے بہت سے جانور چار ٹانگوں پر چلتے ہیں۔ کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ان کی دو یا تین ٹانگیں کیوں نہیں ہوتیں؟ آخر چار ٹانگیں ہی کیوں ہوتی ہیں؟

بچو! اللہ تعالیٰ نے ہر جانور کو اس کی ضرورت اور رہنے کے انداز کے مطابق پیدا فرمایا ہے۔ بہت سے جانوروں کا جسم کافی بڑا اور بھاری ہوتا ہے، اس لیے ان کے جسم کا وزن سنبھالنے کے لیے چار ٹانگیں بہت موزوں ہوتی ہیں۔ چار ٹانگوں کی وجہ سے وہ آسانی سے کھڑے رہ سکتے ہیں، چل سکتے ہیں، دوڑ سکتے ہیں اور گرنے سے بھی زیادہ محفوظ رہتے ہیں۔

ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ جب جانور چلتے یا دوڑتے ہیں تو ان کی چاروں ٹانگیں ایک خاص ترتیب سے حرکت کرتی ہیں۔ اس ترتیب کی وجہ سے ان کا جسم متوازن رہتا ہے اور وہ تیزی سے دوڑ سکتے ہیں۔ اسی لیے گھوڑے، ہرن اور چیتا جیسے جانور بہت تیز رفتار ہوتے ہیں۔

مزے کی بات یہ ہے بچو، کہ تمام جانوروں کی چار ٹانگیں نہیں ہوتیں۔ پرندوں کی دو ٹانگیں اور دو پَر ہوتے ہیں، جبکہ سانپ کی تو ٹانگیں ہی نہیں ہوتیں، پھر بھی وہ بہت تیزی سے رینگ سکتا ہے۔ اسی طرح مچھلیاں ٹانگوں کی بجائے اپنے پَروں کی مدد سے پانی میں تیرتی ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ہر مخلوق کو اس کے ماحول اور ضرورت کے مطابق بنایا ہے۔

تو پیارے بچو! خوب اچھی طرح سمجھ لیں کہ زیادہ تر جانوروں کی چار ٹانگیں اس لیے ہوتی ہیں تاکہ وہ اپنے جسم کا وزن آسانی سے سنبھال سکیں، توازن برقرار رکھیں اور آرام سے چل پھر سکیں۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کی کامل حکمت اور بہترین تخلیق کا ایک خوبصورت نمونہ ہے۔

اب آپ کے لیے ایک چھوٹا سا سوال!

بچو! کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ ایسا کون سا جانور ہے جس کی صرف دو ٹانگیں ہوتی ہیں؟ اپنا جواب ہمیں ضرور بھیجیں۔ اگلے شمارے میں ہم درست جواب بھی بتائیں گے۔ شاید آپ کا جواب سب سے پہلے درست ہو!

بچو! آپ کو آج کا سوال اور اِس کا جواب کیسا لگا؟ اگر آپ کے ذہن میں کوئی بھی سوال ہو تو ہمیں بھجوائیں۔ ان شاء اللہ ہم آپ کو اُس کا بھی جواب دیں گے۔آپ کا بھائی،خلیق احمد شرجیل۔ جرمنی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button