نظم
مري رات دن بس يہي اک صدا ہے
مِري رات دن بس يہي اِک صدا ہے
کہ اس عالَمِ کون کا اِک خُدا ہے
اُسي نے ہے پيدا کيا اِس جہاں کو
ستاروں کو سُورج کو اور آسماں کو
وُہ ہے ايک اس کا نہيں کوئي ہمسَر
وُہ مالک ہے سب کا وُہ حاکم ہے سب پر
پہاڑوں کو اُس نے ہي اونچا کيا ہے
سمند رکواُس نے ہي پاني ديا ہے
يہ دريا جوچاروں طرف بہہ رہے ہيں
اُسي نے تو قدرت سے پيدا کيے ہيں
سمندرکي مچھلي ہَوا کے پرندے
گھريلوچرندے بنوں کے درندے
سبھي کو وُہي رِزق پہنچا رہا ہے
ہراک اپنےمطلب کي شَے کھا رہا ہے
ہر اک شَے کوروزي وہ ديتا ہے ہردم
خزانے کبھي اس کے ہوتے نہيں کم
وہ زندہ ہے اور زندگي بخشتا ہے
وُہ قائم ہے ہر ايک کا آسرا ہے
(کلام محمود صفحہ 168)