بعض جانور خدا نے زینت کے طور پر پیدا کئے ہیں
حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحبؓ بیان فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ حضور سے کسی بچہ نے پوچھا۔کہ کیا طوطا حلال ہے۔ مطلب یہ تھا کہ ہم طوطا کھانے کے لئے مار لیا کریں۔ حضور نے فرمایا۔ میاں حلال تو ہے۔ مگر کیا سب جانور کھانے کے لئے ہی ہوتے ہیں؟ مطلب یہ تھا کہ خدا نے سب جانور صرف کھانے ہی کے لئے پیدا نہیں کئے۔ بلکہ بعض دیکھنے کے لئے اور دُنیا کی زینت اور خوبصورتی کے لئے بھی پیدا کئے ہیں۔
حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحبؓ بیان فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ حضور سے کسی بچہ نے پوچھا۔کہ کیا طوطا حلال ہے۔ مطلب یہ تھا کہ ہم طوطا کھانے کے لئے مار لیا کریں۔ حضور نے فرمایا۔ میاں حلال تو ہے۔ مگر کیا سب جانور کھانے کے لئے ہی ہوتے ہیں؟ مطلب یہ تھا کہ خدا نے سب جانور صرف کھانے ہی کے لئے پیدا نہیں کئے۔ بلکہ بعض دیکھنے کے لئے اور دُنیا کی زینت اور خوبصورتی کے لئے بھی پیدا کئے ہیں۔
حضرت مرزا بشیر احمدصاحبؓ بیان فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھ سے بھی یہی فرمایا تھا کہ سارے جانور نہیں مارا کرتے کیونکہ بعض جانور خدا نے زینت کے طور پر پیدا کئے ہیں۔ لیکن خاکسار کی رائے میں کسی جانور کی کثرت ہو کر فصلوں وغیرہ کے نقصان کی صورت ہونے لگے تو اس کا انسداد کرنا اس ہدایت کے خلاف نہیں ہے۔(سیرت المہدی جلدی اول صفحہ 511 روایت نمبر 485)حضرت مرزا بشیر احمدصاحبؓ بیان فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھ سے بھی یہی فرمایا تھا کہ سارے جانور نہیں مارا کرتے کیونکہ بعض جانور خدا نے زینت کے طور پر پیدا کئے ہیں۔ لیکن خاکسار کی رائے میں کسی جانور کی کثرت ہو کر فصلوں وغیرہ کے نقصان کی صورت ہونے لگے تو اس کا انسداد کرنا اس ہدایت کے خلاف نہیں ہے۔(سیرت المہدی جلدی اول صفحہ 511 روایت نمبر 485)
