جانوروں پر شفقت اور رحم دلی
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں کہ
اَحْنَف بن قَیس کا بیان ہے کہ ہم عمر بن خطابؓ کے پاس ایک وفد کی شکل میں فتحِ عظیم کی خوشخبری لے کر آئے۔ آپؓ نے پوچھا آپ لوگ کہاں ٹھہرے ہو؟ میں نے کہا فلاں جگہ۔ پھر آپؓ میرے ساتھ چل پڑے۔ ہماری سواری کے اونٹوں کے باڑے یعنی ان کے باندھنے کے مقام تک پہنچے اور ایک ایک کو غور سے دیکھنے کے بعد فرمانے لگے کیا تم اپنی سواریوں کے بارے میں اللہ سے خوف نہیں کھاتے! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ ان کا بھی تم پر حق ہے؟ انہیں کھلا کیوں نہ چھوڑ دیا کہ گھاس وغیرہ چرتے۔
حضرت عمرؓ نے ایک اونٹ دیکھا جس پر بے بسی اور بیماری کے آثار بالکل نمایاں تھے۔ سالم بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطابؓ نے اپنا ہاتھ اونٹ کی پشت پر ایک زخم کے پاس رکھا اور خود کو مخاطب کر کے کہنے لگے کہ میں ڈرتا ہوں کہ کہیں تیرے بارے میں اللہ کے ہاں میری بازپرس نہ ہو۔
پھر ایک روایت اسلم سے ہے۔ وہ روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمرؓ نے فرمایا میرے دل میں تازہ مچھلی کھانے کی خواہش پیدا ہوئی۔ یَرْفَا (حضرت عمرؓ کے غلام کا نام ہے) سواری پر سوار ہوا اور آگے پیچھے چار میل تک دوڑا کر ایک عمدہ مچھلی خرید کر لایا۔ پھر سواری کی طرف متوجہ ہوا اور اسے غسل دیا۔ اتنے میں حضرت عمرؓ بھی آ گئے اور فرمانے لگے چلو یہاں تک کہ آپؓ نے سواری کو دیکھ کر فرمایا۔ تم اس پسینہ کو دھونا بھول گئے ہو جو اس کے کان کے نیچے ہے۔ تم نے عمر کی خواہش پوری کرنے کے لیے ایک جانور کو تکلیف میں مبتلا کر ڈالا ہے۔ اللہ کی قسم!عمر تیری اس مچھلی کو نہیں چکھے گا۔
ایک دفعہ حضرت عمرؓ کے پاس گرمی کے موسم میں دوپہر کے وقت عراق سے ایک وفد آیا۔ اس میں اَحْنَف بن قَیس بھی تھے۔ حضرت عمرؓ سر پر پگڑی باندھ کر زکوٰۃ کے ایک اونٹ کو تارکول وغیرہ لگا رہے تھے۔ آپؓ نے فرمایا اے اَحْنَف! اپنے کپڑے اتارو اور آؤ۔ اس اونٹ میں امیر المومنین کی مدد کرو۔ یہ زکوٰۃ کا اونٹ ہے۔ اس میں یتیم، بیوہ اور مسکین کا حق ہے۔
(خطبہ جمعہ 26؍ نومبر 2021ء)
