خطبہ جمعہ بطرز سوال و جواب
(خطبہ جمعہ فرمودہ ۲۴؍جنوری ۲۰۲۵ء بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے) یوکے)
سوال نمبر۱: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے خطبہ کے عنوان کی بابت کیابیان فرمایا؟
جواب:فرمایا: آنحضرت ﷺ کے زمانے کے سریات کا ذکر ہو رہا ہے۔
سوال نمبر۲: حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نےسریہ کُرزبن جابر کا کیا پس منظر بیان فرمایا؟
جواب: فرمایا:بخاری کتاب الجہاد اور کتاب الدیات میں حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ وہ آٹھ آدمی قبیلہ عُکْل اور عُرَینہ میں سے تھے۔ ابن جریر اور ابو عَوَانہ کے نزدیک چار عُرَینہ میں سے تھے اور تین عُکْل میں سے تھے اور آٹھواں آدمی ان دونوں قبیلوں میں سے نہیں تھا۔ اس کا نسب معلوم نہیں ہے۔ چنانچہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور اسلام کے بارے میں گفتگو کی۔ اور ایک روایت میں ہے کہ انہوں نے اسلام پر بیعت کرلی اور وہ بیمار تھے۔ ابوعَوَانہ نے بیان کیا ہے کہ وہ بہت کمزور تھے اور ان کے رنگ بہت زیادہ زرد تھے اور ان کے پیٹ بڑھے ہوئے تھے اور انہوں نے کہا: یا رسول اللہ ﷺ! ہمیں پناہ دیں اور ہمیں کھانا کھلائیں۔ اور وہ مسجد نبوی کے چبوترے میں ٹھہرے تھے۔ پس جب تندرست ہو گئے تو ان کے بدنوں کو مدینہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی…بہرحال ایک روایت میں ہے کہ مدینہ میں ان دنوں وبا پیدا ہوئی جسے بِرسام کہتے ہیں۔ …وہ کہنے لگے کہ یہ مرض یہاں آچکی ہے اور مدینہ کی آب و ہوا ہمارے ناموافق ہے۔ ہم مال مویشی والے ہیں اور ہم کھیتی باڑی والے نہیں ہیں۔ ہمارے لیے دودھ کا انتظام کر دیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرے پاس اَور تو کچھ نہیں ہے مگر تم دودھ والی اونٹنیوں کے پاس چلے جاؤ اور ان کو چراگاہ میں بھیج دیا۔ ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کو فَیفَاءُ الخَبَار کے چرواہوں کے پاس جانے کا حکم دیا…ایک اَور روایت میں بھی یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کو صدقہ کی اونٹنیوں کے پاس جانے کی رخصت دی کہ وہ ان اونٹنیوں کا دودھ پئیں۔ سو انہوں نے اونٹوں کی طرف نکل کر ان کا دودھ پیا۔ پس جب تندرست ہو گئے اور ان کے بدن اپنی حالت پر لوٹ آئے اور ان کے پیٹ چھوٹے ہو گئے تو اسلام لانے کے بعد کافر ہو کر دودھ والی اونٹنیوں کو ہانک کر لے گئے۔ ایک طرف تو آنحضرت ﷺ کا شفقت کا یہ سلوک، دوسری طرف ان کا یہ رویہ کہ ٹھیک ہوکےانہوں نے دھوکا دیا۔ بیان کیا جاتا ہے کہ یہ جب کافر ہو کے دودھ والی اونٹنیوں کو ہانک کے اپنے ساتھ لے گئے تو ان کو رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام یسار اور ان کے چند ساتھیوں نے پا لیا۔ بہرحال ان کو مسلمانوں نے چیلنج کیا ،پکڑا تو انہوں نے آگے سےلڑائی کی اور انہوں نے بھی قتال کیا ۔چنانچہ یہ جو لوگ آئے تھے اور ڈاکہ ڈال کے یاچوری کر کے اونٹنیاں لے گئے تھے انہوں نے مسلمان جو رکھوالے تھے ان کو بھی قتال کرکے قتل کردیا۔ پھر وہ لوگ چرواہوں کی طرف مائل ہوئے اور پہلے یسار کو قتل کیا۔ان لوگوں نے یسار کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ کر ان کی زبان اور آنکھوں میں کانٹے چبھوئے یہاں تک کہ وہ فوت ہو گئے۔اور پھر باقی چرواہوں کو بھی قتل کر دیا۔ ایک شخص آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہاکہ انہوں نے میرے ساتھی کو قتل کر دیا ہے۔ ایک ان میں سے بچ گیا تھا وہ آنحضرت ﷺ کے پاس پہنچ گیا اور یہ کہا کہ وہ لوگ اونٹوں کو لے کر چلے گئے ہیں۔
سوال نمبر۳: حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ نےسریہ کرزبن جابر میں کفار کے پکڑے جانے اور ان کے انجام کی بابت کیا بیان فرمایا ؟
جواب: فرمایا: صحیح مسلم کی روایت ہے کہ رسول اللہﷺ کے پاس انصار کے بیس نوجوان موجود تھے۔ آپﷺ نے ان کو بھیجا ۔ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہﷺ نے ان کے قدموں کے نشانات پر بیس شہسواروں کو بھیجا ۔ یعنی جب وہ لے کے چلے گئے تھے اور آپ کو خبر پہنچی تو آپؐ نے ان کے پیچھے بیس آدمیوں کو پکڑنے کے لیے بھیجا۔ ان میں سے چند کے نام بھی لکھے ہوئے ہیں۔ جن میں سَلَمہ بن اَکْوَعْ، ابو رُھم، ابوذَر غِفَاری، بُرَیدَہ بن حُصَیب، رافع بن مَکِیث اور ان کے بھائی جُنْدُبْ، بلال بن حارث، عبداللہ بن عمرو بن عوف مُزَنِی، جُعَال بن سُرَاقَہ ثَعْلَبِی، سُوَیدِ بْنِ صَخْر جُہَنِی۔ یہ سب مہاجرین میں سے تھے اور ان پر کُرز بن جابر فِہْرِی کو امیر بنایا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کو دشمن کے تعاقب میں بھیجا۔ ان کے ساتھ ایک کھوج لگانے والے کو بھی بھیجا جو ان کے نشانات کا کھوج لگاتا تھا اور آپ ﷺ نے ان دشمنوں پر بددعا کی اور فرمایا کہ اے اللہ !ان کو راستے سے اندھا بنا دے اور اسے ان کے لیے اونٹ کی کھال سے بھی تنگ بنا دے۔ یعنی وہ سفر نہ کر سکیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو راستے سے اندھا کر دیا۔ چنانچہ وہ اسی دن پکڑے گئے۔ جب دن چڑھا تو ان کو رسول اللہ ﷺ کے پاس لایا گیا۔ یہ جو بیس آدمی گئے تھے ان کو پکڑ کر لے آئے۔ ایک روایت میں ہے کہ کرز بن جابر اور اس کے ساتھی ان کی تلاش میں نکلے یہاں تک کہ ان کو رات ہو گئی ۔چنانچہ انہوں نے رات حَرَّہ میں گزاری۔ پھر انہوں نے صبح کی اور وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ وہ لوگ کدھر گئے ہیں تو اچانک ایک عورت اونٹ کے شانے کو اٹھائے ہوئے تھی۔ چنانچہ انہوں نے اس کو پکڑا اور اس عورت سے پوچھا یہ کیا ہے؟ عورت کہنے لگی کہ میں ایک قوم کے پاس سے گزری ہوں انہوں نے اونٹ ذبح کیا ہوا تھا، انہوں نے مجھے یہ شانہ دیا ہے اور وہ اس جنگل میں ہیں۔ اس کو بھی کچھ گوشت کا ٹکڑا، ایک ٹانگ کی ران کا اوپر کا حصہ دیا تھا۔ وہ کہنے لگی کہ جب تم ان کو دیکھو گے تو ان کا دھواں نظر آئے گا۔ جہاں وہ بیٹھے ہوئے ہیں وہاں دھواں اٹھ رہا ہو گا۔ پس صحابہ چل پڑے یہاں تک کہ ان کے پاس اس وقت آئے جب وہ کھانے سے فارغ ہوچکے تھے۔ صحابہؓ نے ان سے اپنے آپ کو حوالے کرنے کا مطالبہ کیا تو سب قیدی ہو گئے اور ان میں سے کوئی ایک بھی باقی نہ رہا۔ پس صحابہ ؓنے ان کو باندھ لیا اور ان کو اپنے پیچھے گھوڑوں پر بٹھا کر مدینہ لے آئے۔ رسول اللہ ﷺ رِغَابَہ نامی جگہ میں تشریف فرما تھے… بہرحال وہ ان کو لے کر رسول اللہ ﷺ کی طرف چلے۔ حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ میں ان کے پیچھے چند لڑکوں کے ساتھ نکلا یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ ان کو وادی رِغَابَہ میں پانی کے بہاؤ کے جمع ہونے کی جگہ پر ملے۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے سلائیاں لانے کا حکم دیا۔ وہ گرم کی گئیں تو رسول اللہ ﷺ نے ان سلائیوں کو ان کی آنکھوں میں پھیرا کیونکہ انہوں نے چرواہوں کی آنکھوں میں سلائیاں پھیری تھیں۔ ایک روایت میں ہے کہ ان کو رسول اللہ ﷺ کے پاس لایا گیا تو آپ ﷺ نے ان کے ایک طرف کے ہاتھ کاٹے اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹے اور ان کی آنکھوں میں گرم سلائی پھیر کر ان کو دھوپ میں ڈال دیا یہاں تک کہ وہ مر گئے۔ ایک روایت میں ہے ان کی آنکھوں میں گرم سلائی پھیری گئی اور ان کو دھوپ میں ڈال دیا گیا۔ وہ پانی مانگتے تھے ان کو پانی نہیں دیا جاتا تھا۔
سوال نمبر۴: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اعتراض کہ ’’دشمنوں کےساتھ ظالمانہ سلوک کیاگیا‘‘ کاکیاجواب بیان فرمایا؟
جواب: فرمایا: (حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ) لکھتے ہیں کہ’’مسلمانوں کے لیے یہ دن بہت خطرناک تھے کیونکہ قریش اور یہود کی انگیخت سے سارا ملک ان کی عداوت کی آگ سے شعلہ زن ہو رہا تھا۔ اور اپنی جدیدپالیسی کے ماتحت انہوں نے یہ بھی فیصلہ کیا تھا کہ مدینہ پر باقاعدہ حملہ کرنے کی بجائے درپردہ طریقوں سے نقصان پہنچایا جائے اور چونکہ دھوکا دہی اور غداری عرب کے وحشی قبائل کے اخلاق کاحصہ تھی اس لیے وہ ہرجائز وناجائز طریق سے مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے درپے تھے۔ چنانچہ جس واقعہ کاذکرہم اب کرنے لگے ہیں۔‘‘ اسی واقعہ کو بیان کیا ہے۔ ’’وہ اسی ناپاک سلسلہ کی ایک کڑی تھی جو ایک ہولناک رنگ میں اپنے انجام کو پہنچی۔‘‘ پھر آپؓ لکھتے ہیں کہ’’ تفصیل اس کی یہ ہے کہ شوال 6ھ میں قبیلہ عُکْل اورعُرَینَہ کے چند آدمی جوتعداد میں آٹھ تھے۔ مدینہ میں آئے اور اسلام کے ساتھ محبت اور موانست کااظہار کرکے مسلمان ہو گئے۔ کچھ عرصہ کے قیام کے بعد انہیں مدینہ کی آب وہوامیں معدہ اورتلی وغیرہ کی جو کچھ شکایت پیدا ہوئی تو وہ اسے بہانہ بناکر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی تکلیف بیان کرکے کہا کہ یارسول اللہ! ہم جنگلی لوگ ہیں اور جانوروں کے ساتھ رہنے میں عمرگزاری ہے اور شہری زندگی کے عادی نہیں اس لیے بیمار ہو گئے ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اگر تمہیں یہاں مدینہ میں تکلیف ہے تو مدینہ سے باہر جہاں ہمارے مویشی رہتے ہیں وہاں چلے جاؤ۔‘‘مہمان نوازی کا حق ادا کیا۔ شفقت کا سلوک فرمایا۔’’ اوراونٹوں کا دودھ وغیرہ پیتے رہو۔ اچھے ہوجاؤگے‘‘وہاں صحت مند جگہ پہ رہ کے۔’’اور ایک روایت میں یہ ہے کہ انہوں نے خود کہا کہ یارسول اللہ! اگرآپ ہمیں اجازت دیں تو ہم مدینہ سے باہر جہاں آپ کے مویشی رہتے ہیں وہاں چلے جاتے ہیں جس کی آپؐ نے اجازت دے دی۔ بہرحال وہ آنحضرت ؐسے اجازت لے کر مدینہ سے باہر اس چراگاہ میں چلے گئے جہاں مسلمانوں کے اونٹ رہتے تھے۔ جب ان بدبختوں نے یہاں اپنا ڈیرا جما لیا اور آگے پیچھے نظرڈال کر سارے حالات معلوم کر لیے اور کھلی ہوا میں رہ کر اور اونٹوں کا دودھ پی کر خوب موٹے تازے ہو گئے تو ایک دن اچانک اونٹوں کے رکھوالوں پرحملہ کرکے انہیں مار دیا اور مارا بھی اس بے دردی سے کہ پہلے تو جانوروں کی طرح ذبح کیا اور پھر جب ابھی کچھ جان باقی تھی توان کی زبانوں میں صحرا کے تیز کانٹے چبھوئے تا کہ جب وہ منہ سے کوئی آواز نکالیں یا پیاس کی وجہ سے تڑپیں تویہ کانٹے ان کی تکلیف کو اَور بھی بڑھاویں۔ اور پھر ان ظالموں نے اسی پر بس نہیں کی بلکہ گرم سلائیاں لے کر ان نیم مردہ مسلمانوں کی آنکھوں میں پھیریں۔ اور اس طرح یہ بےگناہ مسلمان کھلے میدان میں تڑپ تڑپ کرجان بحق ہو گئے۔ ان میں آنحضرت ﷺ کاایک ذاتی خادم بھی تھا جس کا نام یسار تھا جو آنحضرت ﷺ کے اونٹوں کے چرانے پر مقرر تھا۔ جب یہ درندے اس وحشیانہ رنگ میں مسلمانوں کاکام تمام کر چکے تو پھر سارے اونٹوں کو اکٹھا کر کے انہیں ہنکا لے گئے۔ آنحضرت ﷺ تک یہ حالات ایک رکھوالے نے پہنچائے جو اتفاق سے بچ کر نکل آیا تھا جس پر آپؐ نے فوراً بیس صحابہؓ کی ایک پارٹی تیار کرکے ان کے پیچھے بھجوادی اور گو یہ لوگ کچھ فاصلہ طے کر چکے تھے مگر خدا کایہ فضل ہوا‘‘ یعنی کہ دشمن جو تھا وہ فاصلہ طے کرچکا تھا مگر خدا کا یہ فضل ہوا ’’کہ مسلمانوں نے پھرتی کے ساتھ پیچھا کرکے انہیں جا پکڑا اور رسیوں سے باندھ کر واپس لے آئے۔ اس وقت تک آنحضرت ﷺ پر یہ احکام نازل نہیں ہوئے تھے کہ اگر کوئی شخص اس قسم کی حرکت کرے تواس کے ساتھ کیا سلوک ہونا چاہئے ۔چنانچہ آپؐ نے اپنے قدیم اصول کے ماتحت کہ جب تک اسلام میں کوئی نیا حکم نازل نہ ہو اہل کتاب کے طریق پر چلنا چاہئے۔ ‘‘اسی طرح کرتے تھے۔ ’’موسوی شریعت کے مطابق حکم دیا کہ جس طرح ان ظالموں نے مسلمان رکھوالوں کے ساتھ سلوک کیا ہے اسی طرح قصاصی اور جوابی صورت میں ان کے ساتھ کیا جائے۔‘‘یہ حضرت موسیٰ ؑکی تعلیم تھی۔ اسی پہ عمل ہوتا تھا جب تک شریعت کے احکامات پوری طرح نہیں آئے۔ بہرحال یہ اس لیے کیا ’’تاکہ یہ سزا دوسروں کے لیے عبرت ہو۔ چنانچہ خفیف تغیر کے ساتھ اسی رنگ میں مدینہ سے باہر کھلے میدان میں ان لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ مگر اسلام کے لیے خدا نے دوسری تعلیم مقدر کررکھی تھی۔چنانچہ آئندہ کے لیےجوابی اورقصاصی صورت میں بھی مثلہ کی سزا منع کردی گئی یعنی اس بات کو ناجائز قرار دیا گیا کہ کسی رنگ میں مقتول کے جسم کو بگاڑا جائے یا انتقامی رنگ میں اعضا کو ٹکڑے ٹکڑے کیا جائے وغیرہ ذالک۔ اس واقعہ کے متعلق‘‘آپؓ لکھتے ہیں کہ ’’ہمیں کچھ زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں کیونکہ بہرحال اس معاملہ میں ظلم کی ابتداء کفار کی طرف سے تھی جنہوں نے بغیر کسی جائز وجہ کے محض اسلام کی عداوت میں بے گناہ مسلمانوں کے ساتھ اس قسم کا ظالمانہ اور وحشیانہ سلوک کیا اور جو کچھ ان کی سزا میں کیا گیا وہ محض قصاصی اور جوابی تھا۔‘‘یعنی جو کچھ دشمنوں کو سزا دی گئی وہ قصاص تھا ’’اور تھا بھی ایسے حالات میں جب کہ اسلام کے خلاف سارا ملک دشمنی اور عداوت کی آگ سے بھڑک رہا تھا۔ اور پھر یہ فیصلہ بھی موسوی شریعت کے مطابق کیا گیا تھا لیکن پھر بھی اسلام نے اسے برقرار نہیں رکھا اور آئندہ کے لیے ایسے طریق سے منع کر دیا۔ ان حالات میں کوئی عقل مند اس پر اعتراض نہیں کر سکتا۔ اس موقع پر یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ یہ لوگ شروع سے ہی بری نیت کے ساتھ مدینہ میں آئے تھے اور غالباً اپنے قبیلہ کے سکھائے ہوئے تھے کہ تا مسلمانوں میں رہ کر انہیں نقصان پہنچائیں اور ممکن ہے کہ خود آنحضرت ﷺ کے خلاف بھی ان کا کوئی برا ارادہ ہو مگر جب مدینہ میں رہ کر انہیں کوئی موقع نہیں ملا تو انہوں نے یہ تجویز کی کہ مدینہ سے باہر نکل کر کارروائی کی جاوے۔ ان کی اس نیت کا اس سے بھی پتہ لگتا ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کے چرواہوں کے ساتھ جو سلوک کیا وہ خالی چوروں اور لٹیروں والا سلوک نہیں تھا بلکہ سراسر منتقمانہ رنگ رکھتا تھا۔ اگر وہ ابتدا میں سچے دل سے مسلمان ہوئے تھے اور بعد میں اونٹ دیکھ کر ان کی نیت بدل گئی تواس صورت میں ہونا یہ چاہئے تھا کہ وہ اونٹ لے کر بھاگ جاتے اور اگر کوئی رکھوالا روک بنتا تو زیادہ سے زیادہ اسے مار کر نکل جاتے مگر جس رنگ میں انہوں نے مسلمان چرواہوں کو قتل کیا اور اپنے آپ کوخطرہ میں ڈال کر قتل کے سفاکانہ فعل کو لمبا کیا‘‘ وہاں کچھ دیر تک رہے ’’اور عذاب دے دےکر مارا اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان کایہ فعل اتفاقی لالچ کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ سراسر معاندانہ رنگ رکھتا تھا اور دلی کینہ اور لمبے بغض کا نتیجہ تھا۔ اور ان کے اس ظالمانہ فعل کے جواب میں آنحضرت ﷺ نے جو کچھ کیا وہ محض قصاصی اور جوابی تھا جو اسلامی احکام کے نزول سے پہلے موسوی شریعت کے مطابق کیا گیا لیکن اس کے بعد جلد ہی اسلامی احکام نازل ہوگئے اور اس قسم کی تعذیب انتقامی رنگ میں بھی ناجائز قراردے دی گئی ۔چنانچہ بخاری کے الفاظ یہ ہیںاَنَّ النَّبِّیَ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذٰلِکَ کَانَ یَحُثُّ عَلَی الصَّدَقَةِ وَیَنْھٰی عَنِ الْمُثْلَةِ۔یعنی ’’اس واقعہ کے بعد آنحضرت ﷺ احسان اور حسن سلوک کی تاکید فرمایا کرتے تھے اور ہرحال میں دشمنوں کے جسموں کے مُثلہ کرنے سے منع فرماتے تھے۔
مزید پڑھیں: اسلام نے چودہ سو سال پہلے عورتوں کے حقوق قائم فرمائے




