خطبہ جمعہ بطرز سوال و جواب

خطبہ جمعہ بطرز سوال و جواب

(خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۷؍جنوری ۲۰۲۵ء بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے) یوکے)

سوال نمبر۱: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے خطبہ کے عنوان کی بابت کیابیان فرمایا؟

جواب:فرمایا:آج جن سرایا کا ذکر ہو گا ان میں سے ایک سریہ عبداللہ بن رواحہ جو اُسَیر بن رِزَام کی طرف ہے اس کا ذکر پہلے ہو گا۔

سوال نمبر۲:حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے سریہ حضرت عبداللہ بن رواحہؓ کےپس منظرکی بابت کیابیان فرمایا ؟

جواب: فرمایا: عبداللہ بن رواحہ کا یہ سریہ شوال 6ہجری میں اُسَیر یا یسَیر بن رِزَام کی طرف خیبر میں ہوا۔ جب ابورافع سَلَّام بن ابی حقیق کو قتل کیا گیا تو یہودیوں نے اُسَیر بن رِزَام کو اپنا امیر مقرر کیا۔ وہ یہود میں کھڑا ہو کر خطاب کرنے لگا کہ اللہ کی قسم! محمد (ﷺ) جب بھی یہود میں سے کسی طرف چلے یا اپنے ساتھیوں میں سے کسی کو بھیجا تو جس بات کا ارادہ کیا اس میں کامیاب ہو گئے لیکن میں وہ کام کروں گا جو میرے ساتھیوں میں سے کسی ایک نے بھی نہیں کیا۔ یہود نے پوچھا کہ تمہارا کیا کرنے کا ارادہ ہے؟ اُسَیر بن رِزَام کہنے لگا۔ میں قبیلہ غَطَفَان کی طرف جاتا ہوں اور ان کو اکٹھا کرتا ہوں اور ہم محمد ﷺ کی طرف چل کر ان کے گھر میں گھس جائیں گے۔ جب بھی کوئی اپنے دشمن کے گھر میں آ کر حملہ کرتا ہے تو وہ اپنے مقصد میں کسی حد تک کامیاب ہو ہی جاتا ہے۔ تو یہود نے کہا کہ تمہارا خیال بہت اچھا ہے۔ چنانچہ وہ غَطَفَان اور دیگر قبائل کی طرف چلا گیا اور ان کو رسول اللہ ﷺ کے خلاف جنگ کرنے کے لیے اکٹھا کرنے لگا۔ یہ خبر رسول اللہ ﷺ کو پہنچ گئی تو رسول اللہ ﷺ نے اس خبر کی حقیقت واضح کرنے کے لیے حضرت عبداللہ بن رَوَاحہؓ  کو تین آدمیوں کے ساتھ ماہ رمضان میں خفیہ طور پربھیجا۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے لکھا ہے کہ ’’جب آنحضرت ﷺ کو ان حالات سے اطلاع ہوئی تو آپؐ نے فوراً اپنے ایک انصاری صحابی عبداللہ بن رواحہ کوتین دوسرے صحابیوں کی معیت میں خیبر کی طرف روانہ فرمایا اور انہیں تاکید فرمائی کہ خفیہ خفیہ جائیں اور سارے حالات معلوم کر کے جلدترواپس آ جائیں۔ چنانچہ عبداللہ بن رواحہؓ اور ان کے ساتھی گئے اور خفیہ خفیہ تمام حالات اور کوائف کاپتہ لے کر اور یہ تصدیق کر کے کہ یہ خبریں درست ہیں واپس آ گئے۔ بلکہ عبداللہ بن رواحہ اوران کے ساتھیوں نے ایسی ہوشیاری سے کام لیا کہ خیبر کے قلعوں کے آس پاس گھوم کر اور اُسَیر بن رِزَام کی مجلس گاہوں کے پاس پہنچ کرخود اُسَیر اور اس کے ساتھیوں کی زبانی یہ سن لیا کہ وہ آنحضرت ﷺ کے خلاف یہ یہ تدبیریں کر رہے ہیں۔ انہی دنوں میں ایک غیر مسلم شخص خارجہ بن حُسَیل اتفاقاً خیبر کی طرف سے مدینہ میں آیا اور اس نے بھی عبداللہ بن رواحہ کی تصدیق کی اور کہا کہ میں اُسَیر کو ایسی حالت میں چھوڑ کر آیا ہوں کہ وہ مدینہ پر حملہ آور ہونے کے لیے اپنے لاؤ لشکر کوجمع کر رہا تھا۔اس تصدیق کے بعد آنحضرت ﷺ نے عبداللہ بن رواحہ کی امارت میں تیس صحابہ کی ایک پارٹی خیبر کی طرف روانہ فرمائی اور گو روایات سے یہ پتہ نہیں چلتا کہ آنحضرت ﷺ نے اس پارٹی کو کیا ہدایات دے کر روانہ فرمایا تھا مگراس گفت وشنید سے جو خیبر میں عبداللہ بن رَوَاحَہ اور اُسَیر بن رِزَام میں ہوئی یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کا منشاء یہ تھا کہ اُسَیر کومدینہ میں بلا کر اس کے ساتھ کوئی ایسا سمجھوتہ کیا جائے جس سے اس فتنہ انگیزی کا سلسلہ رک جائے اور ملک میں امن وامان کی صورت پیدا ہو۔ اس خواہش میں آپؐ اس حد تک تیار تھے کہ اگر اُسَیر کو خیبر کے علاقہ کا امیر تک تسلیم کرنا پڑے توتسلیم کر لیا جائے بشرطیکہ آئندہ کے لیے وہ مسلمانوں کے خلاف اپنی فتنہ انگیزی سے بازآجائے۔

سوال نمبر۳:حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے سریہ حضرت عبداللہ بن رواحہؓ میں اسیربن رزام کے کردار کی بابت کیابیان فرمایا ؟

جواب: فرمایا: جب عبداللہ بن رواحہ کی پارٹی خیبر میں پہنچی توسب سے پہلے انہوں نے اُسَیر بن رِزَام سے دوران گفتگو کے لیے امن وامان کاعہد لیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت خطرہ اس قدر بڑھ چکا تھا کہ مسلمان سمجھتے تھے کہ کہیں اس گفت وشنید کے درمیان ہی اُسَیر کی طرف سے کوئی غداری کی صورت نہ پیدا ہو جائے۔ اُسَیر نے اقرار کیا کہ ایسا نہیں ہوگا‘‘ ٹھیک ہے معاہدہ کرتا ہوں۔ ’’مگر ساتھ ہی اپنی شرم رکھنے کے لیے اسی قسم کاعہد عبداللہ بن رواحہ سے بھی لیا‘‘ کہ وہ بھی ان کو کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گے۔ ’’مگرعبداللہ بن رواحہ کی طرف سے اس معاملہ میں پہل ہونا ظاہر کرتا ہے کہ اصل خطرہ کس کی طرف سے تھا۔ بہرحال اس قول وقرار کے بعد عبداللہ بن رواحہ نے اُسَیر سے گفتگو شروع کی جس کا مآل یہ تھا‘‘ مقصد اس کا یہ تھا ’’کہ آنحضرت ﷺ تمہارے ساتھ ایک امن وامان کامعاہدہ کرنا چاہتے ہیں تاکہ یہ آپس کی جنگ رک جائے اوراس کے لیے بہترین صورت یہ ہے کہ تم خود مدینہ میں چل کر آنحضرت ﷺ سے بالمشافہ بات کرو۔ اگر اس قسم کا معاہدہ ہو گیا تو مَیں امید کرتا ہوں کہ رسول اللہؐ تمہارے ساتھ احسان کامعاملہ کریں گے اورممکن ہے کہ تمہیں خیبر کا باقاعدہ رئیس تسلیم کرلیا جائے۔ اُسَیر کوجو سخت جاہ طلب تھا یا یہ بھی ممکن ہے کہ اس کے دل میں کوئی اَور نیت مخفی ہو یہ تجویز پسند آئی اور کم از کم اس نے یہ ظاہر کیا کہ مجھے یہ تجویز پسند ہے مگر ساتھ ہی اس نے خیبر کے یہودی عمائد کو جمع کرکے ان سے مشورہ مانگا کہ مسلمانوں کی طرف سے یہ تجویز پیش ہوئی ہے اس کے متعلق کیا کیا جائے۔ یہود نے جو اسلام کے خلاف عامیانہ عداوت میں اندھے ہو رہے تھے عام طور پر اس تجویز کی مخالفت کی اور اُسَیر کو اس ارادے سے باز رکھنے کی غرض سے کہا کہ ہمیں امید نہیں کہ محمد (ﷺ) تمہیں خیبر کا امیر تسلیم کریں۔ مگر اُسَیر جو حالات سے زیادہ واقف تھا اپنی بات پر قائم رہا اور کہنے لگا ’’تم نہیں جانتے محمدؐ اس جنگ سے تنگ آیا ہوا ہے اور دل سے چاہتا ہے کہ جس طرح ہواس لڑائی کاسلسلہ رک جائے۔الغرض اُسَیر بنِ رزَام عبداللہ بن رَوَاحَہ کی پارٹی کے ساتھ مدینہ چلنے کے لیے تیار ہو گیا اور عبداللہ بن رواحہ کی طرح خود اس نے بھی تیس یہودی اپنے ساتھ لے لیے۔ جب یہ دونوں پارٹیاں خیبر سے نکل کر ایک مقام قَرْقَرَہ میں پہنچیں جو خیبر سے چھ میل کے فاصلہ پر تھا۔ تو اُسَیر کی نیت بدل گئی یا اگر اس کی نیت پہلے سے خراب تھی تو یوں سمجھنا چاہیے کہ اس کے اظہار کا وقت آ گیا۔ چنانچہ اس نے باتیں کرتے کرتے بڑی ہوشیاری کے ساتھ مسلمانوں کی پارٹی کے ایک معزز فرد عبداللہ بن اُنَیس انصاری کی تلوار کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ عبداللہ فوراً تاڑ گئے کہ اس بدبخت کے تیور بدلے ہوئے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے جھٹ اپنی اونٹنی کوایڑ لگا کر اسے آگے کرلیا اور پھر اُسَیر کی طرف گھوم کر آواز دی کہ ’’اے دشمن خدا! کیا تم ہمارے ساتھ غداری کرنا چاہتے ہو؟‘‘عبداللہ بن اُنَیس نے دو دفعہ یہ الفاظ دہرائے۔ مگر اُسَیر نے کوئی جواب نہیں دیا اورنہ ہی اس نے اپنی کوئی بریت کی بلکہ وہ سامنے سے جنگ کے لیے تیار تھا۔ یہ غالباً یہودیوں میں پہلے سے مقررشدہ اشارہ تھا کہ ایسا موقع آئے توسب مل کر مسلمانوں پر ٹوٹ پڑیں۔ چنانچہ اسی جگہ عین راستہ میں مسلمانوں اور یہودیوں میں تلوار چل گئی۔‘‘ جنگ شروع ہو گئی۔’’اور گو دونوں پارٹیاں تعداد میں برابر تھیں اور یہودی لوگ پہلے سے ذہنی طور پر تیار تھے اور مسلمان بالکل بے ارادہ تھے۔‘‘ جنگ کا کوئی ارادہ نہیں تھا ان کا۔ ’’مگر خدا کا ایسا فضل ہوا کہ بعض مسلمان زخمی تو بیشک ہوئے مگر ان میں سے کسی جان کا نقصان نہیں ہوا لیکن دوسری طرف سارے یہودی اپنی غداری کامزا چکھتے ہوئے خاک میں مل گئے۔ جب صحابہ کی یہ پارٹی مدینہ میں واپس پہنچی اورآنحضرت ﷺ کوحالات سے اطلاع ہوئی تو آپؐ نے مسلمانوں کے صحیح سلامت بچ جانے پر خدا کا شکر کیا اور فرمایا قَدْنَجَاکُمُ اللّٰہُ مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِینَ۔ ’’شکر کرو کہ خدا نے تمہیں اس ظالم پارٹی سے نجات دی۔

سوال نمبر۴: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے سریہ عمروبن امیہ ضمری کےپس منظراورابوسفیان کےکردارکی بابت کیابیان فرمایا؟

جواب: فرمایا: اس سریہ کی تفصیل یوں ہے کہ ابوسفیان نے قریش کے چند آدمیوں کو کہا کہ کیا تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جو محمد (ﷺ) کو اچانک قتل کر دے جب وہ بازاروں میں چلتے پھرتے ہوں۔ چنانچہ ابوسفیان کے پاس بادیہ نشینوں میں سے ایک آدمی ان کے گھر آیا اور اس نے کہا کہ تُو مجھے لوگوں میں سے سب سے زیادہ مضبوط دل والا پائے گا۔ میری گرفت ان سے زیادہ سخت ہے اور میں سب سے تیز بھاگ سکتا ہوں۔ اگر تُو میری مدد کرے تو میں ان کی طرف جاؤں گا یہاں تک کہ اچانک محمد (ﷺ) پر حملہ کر دوں اور میرے پاس ایک خنجر ہے جو گدھ کے پَر کی طرح ہے۔ اس سے میں محمد (ﷺ) پر حملہ کروں گا پھر میں کسی قافلے میں مل جاؤں گا اور بھاگ کر اس قوم سے آگے بڑھ جاؤں گا کیونکہ راستہ کا میں بہت ماہر ہوں۔ ابو سفیان نے کہا تُو ہی ہمارا ساتھی ہے۔ چنانچہ ابوسفیان نے اس کو اونٹ اور زادِراہ دیا اور کہا اپنے کام کو پوشیدہ رکھنا۔ وہ رات کو نکلا اور اپنی سواری پر پانچ دن چلتا رہا اور چھٹی صبح وہ حرّہ میں پہنچا۔ حَرَّہ سیاہ پتھریلی زمین کو کہتے ہیں اور مدینہ دو حَرَّوں کے درمیان تھا۔ ایک مشرقی حَرَّہ اور ایک مغربی حَرَّہ۔ بہرحال پھر وہ لوگوں کی طرف متوجہ ہوا۔ مدینہ پہنچ گیا اور رسول اللہ ﷺ کے بارے میں پوچھنے لگا یہاں تک کہ اس کو آپ کے متعلق بتایا گیا تو اس نے اپنی سواری کو باندھا۔ پھر رسول اللہ ﷺ کی طرف آیا اور آپ ﷺ بنوعبدالاشہل کی مسجد میں تھے۔ جب نبی کریم ﷺ نے اس کو دیکھا تو فرمایا: یقیناً اس آدمی کا دھوکہ دینے کا ارادہ ہے۔ پہچان گئے اس کی حالت سے اور اللہ تعالیٰ اس کے اور اس کے ارادے کے درمیان میں حائل ہے۔ چنانچہ وہ رسول اللہ ﷺ پر حملہ کرنے کے لیے چلا تو اُسَید بن حُضَیر نے اس کو اس کی چادر کے اندر والے کنارے سے پکڑ کر کھینچا تو اچانک اس کے ہاتھ سے خنجر گر پڑا اور وہ پکارنے لگا میرا خون میرا خون یعنی میری جان بخشی کر دو۔ پکڑا گیا۔ حضرت اُسَید نے اس کو گردن سے پکڑا پھر اس کو چھوڑ دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے فرمایا مجھے سچ سچ بتاؤ کہ تم کون ہو؟ اس نے کہا میں امان طلب کرتا ہوں۔ تو آپ نے فرمایا ہاں ٹھیک ہے۔ اس نے اپنا کام اور جو کچھ ابوسفیان نے اس کے لیے مقرر کیا بتایا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے اس کو چھوڑ دیا اور اس شفقت پہ وہ مسلمان ہو گیا اور کہنے لگا کہ اے محمد ﷺ! میں لوگوں سے نہیں ڈرتا تھا لیکن جب میں نے آپ ﷺ کو دیکھا تو میری عقل چلی گئی اور میرا دل کمزور ہو گیا۔ پھر میں اپنے اس ارادے پر آگاہ ہواجو میرا عزم تھا جس کے بارے میں کئی سوار کوشش کر چکے تھے مگر کوئی کامیاب نہ ہوا۔ میں نے جان لیا کہ آپؐ کی حفاظت کی گئی ہے اور یقیناً آپؐ حق پر ہیں یعنی اللہ تعالیٰ آپؐ کی حفاظت کرتا ہےاور ابوسفیان کا لشکر شیطان کا لشکر ہے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ مسکرانے لگے۔ پھر وہ آدمی چند دن ٹھہرنے کے بعد رسول اللہ ﷺ سے اجازت لے کر چلا گیا۔ اس کے بعد اس آدمی کا کوئی ذکر نہیں سنا گیا۔ تاریخ میں بعد میں اس کا ذکر نہیں آتا۔

مزید پڑھیں: آنحضورﷺ کی بے مثال شکرگزاری۔ خلاصہ خطبہ جمعہ ۷؍اگست ۲۰۲۶ء

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button