مکتوب شمالی امریکہ (جون و جولائی ۲۰۲۶ء)
(محمد سلطان ظفر۔کینیڈا)
براعظم شمالی امریکہ کے تازہ حالات و واقعات کا خلاصہ
براعظم شمالی امریکہ کے لیے جون اور جولائی ۲۰۲۶ء نہایت اہم مہینے ثابت ہوئے۔ اس عرصہ میں جہاں ایک طرف امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو نے مشترکہ طور پر فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کی میزبانی کے ذریعے عالمی توجہ حاصل کی، وہیں دوسری طرف مصنوعی ذہانت، طب، تجارت، ماحولیات، بین الاقوامی تعلقات اور سلامتی کے میدانوں میں بھی ایسی پیش رفت سامنے آئیں جن کے اثرات مستقبل میں بھی محسوس کیے جائیں گے۔ کینیڈا کو ایک طرف اپنی تاریخ کے ایک اور شدید جنگلاتی آگ کے موسم کا سامنا رہا، تو دوسری طرف سائنسی میدان میں Brain-Computer Interface کی نئی کامیابی نے عالمی توجہ حاصل کی۔ امریکہ میں نئی اقتصادی اور تجارتی پالیسیاں بحث کا مرکز رہیں، جبکہ میکسیکو میں صنعت اور تجارت کے شعبوں میں پیش رفت جاری رہی۔ اسی دوران جزائرِ غرب الہند (کیریبین) میں کھیل، علاقائی تعاون اور قدرتی آفات سے متعلق سرگرمیاں نمایاں رہیں۔
کینیڈا
جون اور جولائی ۲۰۲۶ء کے دوران کینیڈا میں سب سے اہم مسئلہ جنگلاتی آگ رہا۔ منی ٹوبا، سسکیچیوان، البرٹا، برٹش کولمبیا، اونٹاریو اور شمال مغربی علاقوں میں سینکڑوں مقامات پر آگ بھڑک اٹھی۔ متعدد علاقوں میں ہنگامی حالت نافذ کرنا پڑی اور ہزاروں افراد کو اپنے گھروں سے محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ جولائی کی رپورٹس کے مطابق فعال آتش زنی کی تعداد تقریباً ۸۲۶؍اور سالانہ متاثرہ رقبہ تقریباً ۳.۸۰ ملین ہیکٹر بتایا گیا۔ آگ سے اٹھنے والا دھواں امریکہ کی شمالی اور شمال مشرقی ریاستوں تک جا پہنچا ہے۔ جولائی میں ٹورنٹو، اوٹاوا، مونٹریال، نیویارک، ڈیٹرائٹ، شکاگو اور دیگر شہروں میں کئی مواقع پر فضائی معیار خطرناک سطح تک پہنچ گیا تھا، جس پر عوام کو غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز اور سانس کے مریضوں کو خصوصی احتیاط کی ہدایت کی گئی۔
سائنسی میدان میں کینیڈا عالمی توجہ کا مرکز اس وقت بنا جب ایلون مسک کی کمپنی Neuralink کی دماغی چِپ ٹیکنالوجی کے تحت کینیڈا میں Neuralink امپلانٹ کروانے والے پہلے ALS مریضوں میں شامل Lee Marten کو مئی ۲۰۲۶ء میں ٹورنٹو ویسٹرن ہسپتال میں برین کمپیوٹر انٹرفیس کے ذریعے صرف اپنے خیالات سے فون، لیپ ٹاپ اور کمپیوٹر کے Cursor کنٹرول کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی۔ اگرچہ اس نوعیت کے تجربات پہلے امریکہ میں بھی کیے جا چکے تھے تاہم کینیڈا میں یہ پیش رفت اعصابی بیماریوں کے علاج کی سمت ایک اہم قدم قرار دی جارہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل میں یہ ٹیکنالوجی کامیاب ثابت ہوتی ہے تو فالج، ریڑھ کی ہڈی کی چوٹ اور دیگر اعصابی امراض میں مبتلا لاکھوں افراد کے لیے نئی امید پیدا ہو سکتی ہے۔
اقتصادی اور تجارتی میدان میں ۲۷؍جولائی ۲۰۲۶ء کو ونڈسر (اونٹاریو) اور ڈیٹرائٹ (مشی گن) کے درمیان Gordie Howe International Bridgeکو آمدورفت کے لیے کھول دیا گیا۔ یہ پُل تقریباً ۲.۵کلومیٹر لمبا اور چھ لینز پر مشتمل ہے۔ جبکہ مرکزی پھیلاؤ ۸۵۳؍میٹر ہے۔ یہ پل گذشتہ کئی دہائیوں کے دوران کینیڈا اور امریکہ کے درمیان سب سے بڑے مشترکہ انفراسٹرکچر منصوبوں میں شمار ہوتا ہے؛ تازہ منصوبہ جاتی/کنٹریکٹ لاگت تقریباً ۶.۴؍ارب کینیڈین ڈالر بتائی گئی ہے۔ اس پل کا مقصد ایمبیسیڈر برج پر انحصار کم کرنا اور شمالی امریکہ کی آٹوموبائل صنعت کی سپلائی چین کو زیادہ مؤثر بنانا ہے۔ اگرچہ افتتاح ایسے وقت میں ہوا جب دونوں ممالک کے درمیان بعض تجارتی محصولات پر اختلافات موجود تھے تاہم مبصرین کے نزدیک یہ منصوبہ اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ سیاسی اختلافات کے باوجود دونوں ممالک کی معیشتیں ایک دوسرے سے گہرے طور پر وابستہ ہیں۔
یکم جولائی ۲۰۲۶ء سے امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو کے درمیان CUSMA تجارتی معاہدے کے چھ سالہ مشترکہ جائزے اور اس سے منسلک سالانہ جائزوں کے سلسلے کا رسمی آغاز ہوا۔ کینیڈا نے اس موقع پر اس بات پر زور دیا کہ شمالی امریکہ کی صنعتی اور تجارتی ترقی کے لیے آزاد تجارت، قابلِ اعتماد سپلائی چین اور باہمی تعاون ناگزیر ہیں۔ امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر کے مطابق امریکہ نے معاہدے کی موجودہ شکل میں خودکار تجدید سے اتفاق نہیں کیا، تاہم معاہدہ نافذ رہا اور جائزے کا عمل آگے بڑھتا رہا۔ آٹو موبائل، زراعت، معدنیات، توانائی اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں کینیڈا اپنی مسابقتی حیثیت برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ امریکہ کی جانب سے بعض نئے تجارتی اقدامات نے کینیڈا کے لیے سفارتی چیلنج بھی پیدا کیے۔
رہائش کا بحران بھی کینیڈا میں ایک اہم داخلی مسئلہ بنا رہا۔ جس کے باعث وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے نئے رہائشی منصوبوں، انفراسٹرکچر اور کم لاگت گھروں کی تعمیر کے لیے اضافی سرمایہ کاری کے اعلانات کیے ہیں۔ ماہرین کے مطابق آبادی میں اضافہ، ہجرت اور محدود رہائشی فراہمی اس مسئلے کی بنیادی وجوہات ہیں۔
ریاستہائے متحدہ امریکہ
جون اور جولائی ۲۰۲۶ء کے دوران ریاستہائے متحدہ امریکہ کی سیاست، معیشت اور بین الاقوامی تعلقات عالمی توجہ کا مرکز رہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اپنی ’’America First‘‘ پالیسی کے تحت تجارتی اور اقتصادی معاملات میں سخت مؤقف برقرار رکھا۔ کینیڈا، میکسیکو اور دیگر تجارتی شراکت داروں کے ساتھ محصولات، صنعتی تحفظ اور درآمدات کے حوالے سے مذاکرات جاری رہے۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق امریکہ کی کوشش ہے کہ صنعتی پیداوار، بالخصوص آٹو موبائل، سٹیل، سیمی کنڈکٹر اور توانائی کے شعبوں میں زیادہ سرمایہ کاری ملک کے اندر ہی رہے، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ زیادہ محصولات سے صارفین اور کاروباری اداروں پر اضافی مالی بوجھ پڑ سکتا ہے۔
امریکی معیشت مجموعی طور پر مستحکم رہی، اگرچہ افراطِ زر، بلند شرح سود اور وفاقی قرضے پر تشویش برقرار تھی۔ جون ۲۰۲۶ء میں بے روزگاری کی شرح تقریباً ۴.۲ فیصد رہی، جبکہ شرح سود ۳.۵ تا ۳.۷۵ فیصد کی حد میں تھی۔ مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، سیمی کنڈکٹرز اور ڈیٹا سینٹرز میں سرمایہ کاری میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا۔ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے اربوں ڈالر کے نئے منصوبوں کا اعلان کیا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ امریکہ مستقبل کی ٹیکنالوجی میں اپنی عالمی برتری برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔
خلائی تحقیق کے میدان میں NASA اور نجی کمپنیوں SpaceX اور Blue Origin نے اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں۔ امریکہ نے چاند اور مریخ سے متعلق اپنے طویل المدتی خلائی پروگراموں پر کام تیز کیا، جبکہ تجارتی خلائی صنعت میں نجی شعبے کا کردار مزید مضبوط ہوتا دکھائی دیا۔
داخلی سطح پر Illegal Immigration ایک مرتبہ پھر اہم سیاسی موضوع رہی۔ امریکہ اورمیکسیکو کی سرحد پر نگرانی سخت کرنے، غیر قانونی آمدورفت روکنے اور منشیات خصوصاً Fentanylکی اسمگلنگ کے خلاف اقدامات پر وفاقی حکومت نے زور دیا۔ اس موضوع پر کانگریس، ریاستی حکومتوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے درمیان مختلف آراء سامنے آئیں۔
ماحولیات کے حوالے سے امریکہ کے مغربی علاقوں، خصوصاً اوریگن، واشنگٹن، کیلیفورنیا اور آئیڈاہو میں شدید گرمی اور جنگلاتی آگ نے حکام کو تشویش میں مبتلا رکھا۔ ہزاروں فائر فائٹرز آگ پر قابو پانے میں مصروف رہے جبکہ بعض علاقوں میں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا۔ کینیڈا سے آنے والے دھوئیں نے بھی شمالی اور مشرقی ریاستوں میں فضائی معیار کو متاثر کیا، جس سے یہ حقیقت مزید واضح ہوئی کہ ماحولیاتی مسائل قومی سرحدوں کے پابند نہیں ہوتے۔
میکسیکو
میکسیکو میں جون اور جولائی کے دوران صدر کلاڈیا شینبام کی حکومت نے اقتصادی اصلاحات، صنعت، سلامتی اور امریکہ کے ساتھ تعلقات پر خصوصی توجہ دی۔ امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سرحدی سلامتی، غیر قانونی ہجرت اور منشیات کی اسمگلنگ بدستور اہم موضوعات رہے۔ دونوں ممالک نے مشترکہ کارروائیوں اور معلومات کے تبادلے کے ذریعے فینٹینائل اور دیگر منشیات کی غیر قانونی تجارت روکنے کی کوششیں جاری رکھیں۔
اقتصادی میدان میں میکسیکو کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ گذشتہ چند برسوں سے دنیا کی بڑی کمپنیاں اپنی صنعتیں ایشیا سے منتقل کر کے شمالی امریکہ میں قائم کر رہی ہیں، جسے Nearshoringکہا جاتا ہے۔ اس رجحان سے میکسیکو کو نمایاں فائدہ پہنچا ہے۔ آٹوموبائل، برقی آلات، طبی سازوسامان اور الیکٹرانکس کی صنعت میں نئی سرمایہ کاری نے روزگار کے مواقع میں اضافہ کیا۔ شمالی امریکہ کی سپلائی چین میں میکسیکو کا کردار پہلے سے زیادہ مضبوط ہوتا جارہا ہے۔
جولائی میں CUSMA معاہدے کے جائزے کے دوران میکسیکو نے اس امر پر زور دیا کہ تینوں ممالک کے درمیان آزاد تجارت نہ صرف اقتصادی ترقی بلکہ خطے کے استحکام کے لیے بھی ضروری ہے۔ مبصرین کے مطابق اگرچہ بعض تجارتی اختلافات موجود ہیں، تاہم امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو کی صنعتیں اس حد تک ایک دوسرے سے منسلک ہو چکی ہیں کہ مکمل علیحدگی کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں۔
میکسیکو کو سلامتی کے شعبے میں بھی چیلنجز کا سامنا رہا۔ بعض ریاستوں میں منظّم جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں، جبکہ حکومت نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو برقرار رکھنے اور سیاحت کے فروغ کے لیے اضافی اقدامات کیے۔ دوسری طرف سیاحت بدستور میکسیکو کی معیشت کا اہم ستون رہی اور Cancún، لاس کابوس، Puerto Vallarta اور دیگر ساحلی علاقوں میں بین الاقوامی سیاحوں کی آمد میں اضافہ دیکھا گیا۔
کھیل کے میدان میں فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کی مشترکہ میزبانی سے میکسیکو دنیا کا پہلا ملک بن گیا جس نے مردوں کے فیفا ورلڈ کپ کے مقابلوں کی تین مختلف ادوار میں میزبانی کی، جو اس کے لیے ایک تاریخی اعزاز ہے۔
جزائرِ غرب الہند
جزائرِ غرب الہند (کیریبین) میں جون اور جولائی کے دوران کھیل، سیاحت، علاقائی تعاون اور موسمی حالات اہم موضوعات رہے۔ بحرِ اوقیانوس میں بحری طوفانوں کے موسم کے آغاز کے ساتھ ہی مختلف جزیرہ نما ممالک نے ممکنہ طوفانوں سے نمٹنے کے لیے ہنگامی منصوبے فعال کیے۔ اس عرصے میں کوئی بڑا بحری طوفان پورے خطے پر اثرانداز نہیں ہوا، تاہم ان ممالک نے شدید بارشوں، سیلاب اور سمندری طغیانی کے ممکنہ خطرات کے پیش نظر حفاظتی اقدامات برقرار رکھے۔
علاقائی تنظیم CARICOM نے اقتصادی تعاون، موسمیاتی تبدیلی، غذائی تحفظ اور علاقائی تجارت کے فروغ پر اپنے اجلاسوں میں غور کیا۔ چھوٹے جزیرہ نما ممالک نے ایک مرتبہ پھر ترقی یافتہ ممالک سے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے مالی اور تکنیکی تعاون بڑھانے کا مطالبہ کیا، کیونکہ بڑھتا ہوا سمندری درجۂ حرارت، ساحلی کٹاؤ اور شدید موسمی طوفان ان ممالک کی معیشت کے لیے مستقل خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔
جزائرِ غرب الہند میں کرکٹ ہمیشہ سے عوامی زندگی کا ایک اہم حصہ رہی ہے۔ جون اور جولائی کے دوران خطے میں بین الاقوامی کرکٹ سرگرمیوں نے ایک مرتبہ پھر شائقین کی توجہ حاصل کی۔ پاکستان کرکٹ ٹیم تادمِ تحریر ویسٹ انڈیز کا دورہ کر رہی ہے، جس میں ٹیسٹ میچز عالمی ٹیسٹ چیمپئن شپ کے سلسلے کا حصہ ہیں۔ٹرینیڈاڈ کے برائن لارا کرکٹ اکیڈمی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے۔ پہلے ٹیسٹ میں ویسٹ انڈیز نے پاکستان کو ۹۰ رنز سے شکست دی۔ ویسٹ انڈیز کے فاسٹ باؤلر Jayden Seales نے شاندار باؤلنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کی دوسری اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ پاکستان کو فتح کے لیے ۲۱۱ رنز کا ہدف ملا تھا، لیکن پوری ٹیم ۱۲۰ رنز پر آؤٹ ہوگئی۔
سیاحت، جو بیشتر کیریبین ممالک کی معیشت کا بنیادی ستون ہے، موسمِ گرما میں بہتر کارکردگی دکھاتی رہی۔ امریکہ، کینیڈا اور یورپ سے آنے والے سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہوا، جس سے ہوٹلوں، بحری جہازوں، فضائی کمپنیوں اور مقامی کاروباروں کو فائدہ پہنچا۔ تاہم ماہرین نے خبردار کیا کہ موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خطرات مستقبل میں اس صنعت کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتے ہیں۔
مجموعی جائزہ
جون اور جولائی ۲۰۲۶ء کے واقعات سے واضح ہوتا ہے کہ شمالی امریکہ ترقی اور چیلنج، دونوں کا ایک ساتھ سامنا کر رہا ہے۔ ایک طرف مصنوعی ذہانت، طبی تحقیق، انفراسٹرکچر اور صنعتی سرمایہ کاری نئے امکانات پیدا کر رہی ہے، جبکہ دوسری طرف موسمیاتی تبدیلی، جنگلاتی آگ، تجارتی اختلافات اور سلامتی کے مسائل پالیسی سازوں کے لیے مسلسل آزمائش بنے ہوئے ہیں۔
فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کی مشترکہ میزبانی براعظم شمالی امریکہ کے تینوں ممالک، کینیڈا، امریکہ اور میکسیکو کے لیے ایک تاریخی اور فائدہ مند موقع ثابت ہوئی۔ مختلف شہروں میں منعقد ہونے والے مقابلوں سے سیاحت، ہوٹلنگ، ٹرانسپورٹ، مقامی کاروبار اور روزگار کے مواقع میں نمایاں سرگرمی پیدا ہوئی، جبکہ دنیا بھر سے آنے والے شائقین کی بڑی تعداد نے ان مقابلوں سے بھرپور لطف اٹھایا۔ اس عالمی ایونٹ نے تینوں ممالک کی معیشت اور ان کے بین الاقوامی تشخص پر بھی مثبت اثرات مرتّب کیے۔
مزید پڑھیں: مکتوب مشرقِ بعید (جولائی ۲۰۲۶ء)




