مکتوب مشرقِ بعید (جولائی ۲۰۲۶ء)
مشرقِ بعید کے تازہ حالات و واقعات کا خلاصہ
جاپان کے جنوبی خطے میں ۶.۸ شدت کا زلزلہ
جاپان کے جنوبی جزیرے کیوشو کے صوبے Kumamoto Prefecture میں ۲۸؍جولائی ۲۰۲۶ء کو آنے والے شدید زلزلے سے کم از کم ۳۰ افراد ہلاک اور ۳۸۰ سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔ ریسکیو ٹیمیں اور جاپانی فوجی ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ زلزلے کے باعث عمارتیں منہدم ہو گئیں، سڑکیں اور پل متاثر ہوئے، بجلی اور پانی کی فراہمی معطل ہو گئی جبکہ ہزاروں افراد کو اپنے گھروں سے نقل مکانی کرنا پڑی۔
امریکی جیولوجیکل سروے (USGS) کے مطابق زلزلے کی شدت 6.8 ریکارڈ کی گئی، جبکہ جاپان کی موسمیاتی ایجنسی (JMA) نے اس کی شدت7.1 بتائی ہے۔ زلزلہ زمین میں محض ۱۰؍کلومیٹر کی کم گہرائی پر آیا، جس کی وجہ سے سطحِ زمین پر شدت کی پیمائش جاپانی ’شِندو‘ اسکیل پر سب سے زیادہ ۷ درجے تک محسوس کی گئی۔ زلزلے کا مرکز کُماموٹو شہر سے تقریباً ۲۰ کلومیٹر جنوب میں تھا۔
زلزلے کے بعد Kumamoto کے ایک Aeon شاپنگ مال میں گیس لیک ہونے کے باعث زوردار دھماکا ہوا۔ اطلاعات کے مطابق کچھ ملازمین عمارت میں واپس داخل ہوئے تھے جب دھماکا پیش آیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔ جاپانی حکام اس واقعے کی مکمل تحقیقات کررہے ہیں۔
زلزلے کے باعث تقریباً ۵۰؍ہزار گھر بجلی سے محروم ہوگئے، جبکہ ۱ لاکھ ۴۰؍ ہزار سے زیادہ گھروں کو پینے کے پانی کی فراہمی منقطع ہو گئی۔ کیوشو شنکانسن (بلٹ ٹرین) سمیت مقامی ٹرین لائنوں کی ریل کی پٹریاں متاثر ہونے اور جھٹکوں کی وجہ سے سفر روک دیا گیا۔ کُماموٹو ایئرپورٹ پر بھی پروازوں کی آمد و رفت عارضی طور پر تاخیر کا شکار ہوئی۔متاثرہ اضلاع میں ۵۰۰ سے زائد پناہ گاہیں قائم کی گئی ہیں جہاں ۹ ہزار سے زائد افراد نے پناہ لی ہے۔
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا دورہ انڈونیشیا، آسٹریلیا و نیوزی لینڈ
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے جولائی ۲۰۲۶ء کے دوسرے ہفتے (۶ تا ۱۱ جولائی) کے دوران انڈونیشیا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کا سہ ملکی دورہ کیا۔ اس دورے کا بنیادی مقصد انڈو-پیسیفک خطے میں اقتصادی، تجارتی اور دفاعی تعلقات کو نچلی سطح سے اٹھا کر ایک نئی اسٹریٹجک اونچائی پر لے جانا تھا۔
وزیر اعظم مودی نے ۶ سے ۸؍جولائی تک انڈونیشیا کا دورہ کیا، جہاں ان کا استقبال صدر پرابوو سوبیانتو نے کیا۔ دورے کے دوران ہندوستان اور انڈونیشیا کے درمیان دفاعی تعلقات میں بڑی پیش رفت ہوئی۔ دونوں ممالک نے ۱۴ اہم معاہدوں پر دستخط کیے۔ ان میں ۶۳۰ ملین ڈالر مالیت کا بھارت کا ’براہموس‘ سپرسونک کروز میزائل سسٹم انڈونیشیا کو فراہم کرنے کا معاہدہ شامل ہے۔ علاوہ ازیں، انڈونیشیا ہندوستان سے ’اسٹرا‘ (Astra) ایئر ٹو ایئر میزائل خریدنے والا پہلا غیر ملکی ملک بن گیا۔اسی طرح دونوں راہنماؤں نے ۲۰۱۸ء میں قائم ہونے والی ’کمپری ہینسو اسٹریٹجک پارٹنرشپ‘ کو مزید مضبوط بنانے اور سالانہ سربراہی اجلاس منعقد کرنے پر اتفاق کیا۔دونوں ممالک نے (Maritime Domain Awareness)، معلومات کے تبادلے اور آزاد و کھلے انڈو-پیسیفک خطے کے عزم کو دہرایا۔
انڈونیشیا کے بعد وزیر اعظم مودی ۸ سے ۱۰؍جولائی تک آسٹریلیا پہنچے، جہاں انہوں نے وزیر اعظم انتھونی البانیز سے ملاقات کی اور آسٹریلیا۔بھارت سالانہ سربراہی اجلاس میں شرکت کی۔دونوں ممالک نے دفاعی اور سیکیورٹی تعاون کے لیے ایک نیا Joint Declaration طے کیا۔ اس کے تحت بحری تحفظ، مشترکہ ملٹری مشقوں اور دفاعی ٹیکنالوجی کی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ دونوں ممالک نے کلین انرجی، اہم معدنیات اور ایٹمی توانائی کے سول شعبے میں اہم سمجھوتوں پر دستخط کیے۔
اس دورہ کے دوران مودی نے آسٹریلیا کے ممتاز کاروباری راہنماؤں سے بھی ملاقات کی اور انہیں بھارت میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ اس موقع پر ہزاروں بھارتی نژاد افراد نے میلبورن میں ان کا پرتپاک استقبال کیا، جبکہ بعض انسانی حقوق کی تنظیموں نے احتجاج بھی کیا۔
دورے کے آخری مرحلے میں ۱۰؍جولائی کو نریندر مودی نیوزی لینڈ کے شہر آکلینڈ پہنچے۔ یہ پچھلے ۴۰ سالوں میں کسی بھارتی وزیر اعظم کا پہلا دورہ نیوزی لینڈ تھا، جسے دونوں ممالک کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا گیا۔
نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم کرسٹوفر لکسن اور مودی کے درمیان مذاکرات کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات کو باضابطہ طور پر ’’اسٹریٹجک پارٹنرشپ‘‘ میں اپ گریڈ کر دیا گیا۔ دونوں راہنماؤں نے آزاد تجارتی معاہدے (FTA)، تجارت، دفاع، تعلیم، زراعت، تحقیق، سرمایہ کاری اور افرادی قوت کے تبادلوں سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔
تھائی لینڈ میں ۱۱ سالہ بچے کے ہاتھوں خوفناک حادثہ بدھ راہبوں کی ہلاکت
تھائی لینڈ کے شمال مشرقی صوبے Mukdahan میں ایک المناک حادثے کے نتیجے میں کم از کم ۱۰؍بدھ راہب ہلاک اور ۱۳ سے زائد شدید زخمی ہو گئے۔ یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب ایک ۱۱ سالہ بچے نے اپنے والدین کی تیز رفتار پک اپ ٹرک پر سے کنٹرول کھو کر راہبوں کے پیدل مذہبی قافلے کو روند ڈالا۔ یہ واقعہ ۲؍جولائی ۲۰۲۶ء کو پیش آیا اور اسے حالیہ برسوں میں تھائی لینڈ کے بدھ راہبوں سے متعلق سب سے المناک حادثات میں شمار کیا جا رہا ہے۔
پولیس اور مقامی انتظامیہ کے مطابق، تقریباً ۳۵ بدھ راہبوں کا ایک گروپ صوبہ موکداہان سے Ubon Ratchathani صوبے کی طرف ۲۶۰ کلومیٹر کیPilgrimage Walk پر روانہ ہوا تھا۔ سفر شروع ہونے کے بمشکل ۳۰ منٹ بعد، سڑک کے کنارے قطار میں چلنے والے راہبوں کو پیچھے سے آنے والے تیز رفتار پک اپ ٹرک نے شدید ٹکر مار دی۔ حادثے کی جگہ کی سی سی ٹی وی (CCTV) فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ زرد لباس میں ملبوس راہب سڑک کے کنارے جا رہے تھے کہ ایک لہراتی ہوئی گاڑھی اچانک سڑک سے نیچے اتری اور سیدھی ان سے جا ٹکرائی۔
تھائی لینڈ کی تقریباً ۹۰ فیصد سے زائد آبادی بدھ مت کی پیروکار ہے، اور بدھ راہب معاشرے میں انتہائی احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ مذہبی یاترا کے دوران راہب پیدل سفر کرتے ہیں اور راستے میں مقامی لوگ انہیں خوراک اور دیگر ضروری اشیاء پیش کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے اس حادثے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے اس واقعہ کی مذمت کی ہے اور اس کو قومی سانحہ قرار دیا ہے۔
چین کا دوبارہ استعمال کے قابل خلائی راکٹ کو سمندر میں اتارنے کا پہلا کامیاب تجربہ
چین نے خلائی ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک بڑا سنگ میل عبور کرتے ہوئے لانگ مارچ 10-بی (Long March-10B) راکٹ کے پہلے اسٹیج (Booster) کو مدار میں سیٹلائٹ بھیجنے کے بعد کامیابی کے ساتھ عمودی (Vertical) حالت میں سمندر میں قائم ایک فلوٹنگ پلیٹ فارم پر اتار کر محفوظ کر لیا ہے۔یہ چین کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ کسی آربیٹل کلاس (مدار میں جانے والے) راکٹ کا بوسٹر خلائی مشن مکمل کرنے کے بعد زمین کی طرف واپس آیا اور اسے بحفاظت کنٹرولڈ لینڈنگ کے ذریعے ریکور کر لیا گیا۔
عام طور پر امریکی کمپنی اسپیس ایکس اپنے فالکن ۹ (Falcon 9) راکٹ کو لینڈنگ لیگز (ٹانگوں) کے ذریعے سیدھا زمین یا بحری جہاز پر اتارتی ہے۔ لیکن چینی انجینئرز نے ایک نئی ٹیکنالوجی متعارف کرائی ہے۔ اس لینڈنگ کے دوران راکٹ کو ہلکا رکھنے کے لیے اس میں لینڈنگ ٹانگیں نصب نہیں کی گئیں۔ سمندر میں موجود Navigator نامی بحری جہاز پر ایک مضبوط Net System لگایا گیا تھا۔ جیسے ہی راکٹ بوسٹر نیچے آیا، اس پر لگے چار ہکس (Hooks) اس جال کی گرفت میں آکر محفوظ ہو گئے۔ چینی خلائی ادارے (CNSA) کے مطابق اس طریقہ کار سے راکٹ کا وزن کم رہتا ہے اور وہ زیادہ سے زیادہ سامان (Payload) خلا میں لے جا سکتا ہے۔
لانگ مارچ ۱۰-بی ایک دو منزلہ راکٹ ہے جس کی لمبائی تقریباً ۲۰۷ فٹ (۶۳ میٹر) ہے۔ چینی خلائی سائنسدانوں کے مطابق اس راکٹ کی ضروری تفتیش اور مرمت کے بعد اسے سال ۲۰۲۶ء کے اختتام سے قبل دوبارہ پرواز کے لیے تیار کیا جائے گا۔ خلائی راکٹس کا دوبارہ استعمال (Reusability) خلائی مشنز کے اخراجات کو ۷۰ سے ۸۰ فیصد تک کم کر دیتا ہے۔ چین اس ٹیکنالوجی کی مدد سے اپنے بڑے مواصلاتی نیٹ ورک (Satellite Constellations) کو خلا میں بھیجنے اور ۲۰۳۰ء سے قبل چاند پر انسان بھیجنے کے اپنے مشن کو مزید سستا اور تیز بنانا چاہتا ہے۔
چین کا کہنا ہے کہ یہ کامیابی اس کے مستقبل کے خلائی پروگرام، خصوصاً چاند پر انسانی مشن، بڑے پیمانے پر سیٹلائٹ نیٹ ورک کی تعمیر اور تجارتی خلائی سرگرمیوں کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوگی۔
’صدی کی سب سے مہنگی طلاق‘: جنوبی کوریا کے کاروباری ٹائیکون کو سابقہ اہلیہ کو تقریباً ۱۷۹؍ارب روپے ادا کرنے کا حکم
جنوبی کوریا کے سب سے بڑے کاروباری گروپس میں سے ایک، ایس کے گروپ (SK Group) کے سربراہ اور ارب پتی چیئرمین Chey Tae-won کو ان کی سابقہ اہلیہ Roh Soh-yeong کے ساتھ قانونی جنگ کے بعد عدالت کی جانب سے جائیداد کی تقسیم کے تحت ۹۴۴ ارب کوریائی وان (تقریباً ۶۴۴ ملین امریکی ڈالر یا ۱۷۹ ارب پاکستانی روپے) نقد ادا کرنے کا بڑا حکم جاری کیا گیا ہے۔ مقامی و عالمی میڈیا کی جانب سے اسے ’صدی کی سب سے مہنگی طلاق‘ (Divorce of the Century) قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ مقدمہ تقریباً دس برس تک مختلف عدالتوں میں زیرِ سماعت رہا۔ چوئے تے وون اور روہ سو ہیونگ کی شادی ۱۹۸۸ء میں ہوئی تھی اور ان کے تین بچے ہیں۔ تاہم ۲۰۱۵ء میں چوئے نے عوامی طور پر اعتراف کیا کہ وہ ایک دوسری خاتون کے ساتھ تعلقات رکھتے ہیں اور ان سے ایک بچہ بھی ہے، جس کے بعد انہوں نے طلاق کی درخواست دائر کر دی۔سیول ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ روہ سو ہیونگ نے صرف گھریلو ذمہ داریاں ہی نہیں نبھائیں بلکہ اپنے شوہر کے کاروباری سفر اور خاندان کی دولت کے تحفظ و ترقی میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ اسی بنیاد پر عدالت نے انہیں مشترکہ ازدواجی اثاثوں میں ایک بڑا حصہ دینے کا حکم دیا۔ عدالت نے ہدایت کی کہ یہ رقم نقد ادا کی جائے گی، نہ کہ SK گروپ کے حصص کی صورت میں، تاکہ کمپنی کے انتظامی کنٹرول پر کوئی اثر نہ پڑے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ۲۰۲۴ء میں ایک اپیلٹ عدالت نے روہ سو ہیونگ کے حق میں ۱.۳۸ ٹریلین وون (تقریباً ۹۴۰ ملین ڈالر) کا فیصلہ دیا تھا، لیکن بعد میں جنوبی کوریا کی سپریم کورٹ نے بعض قانونی نکات پر نظرِ ثانی کا حکم دیا۔ نئی سماعت کے بعد رقم کم کرکے ۹۴۴ ارب وون کر دی گئی، تاہم یہ اب بھی جنوبی کوریا کی تاریخ کا سب سے بڑا طلاقی تصفیہ ہے۔
ایس کے گروپ چیئرمین چے تائے وون کے وکلاء کے مطابق وہ فیصلے کا جائزہ لے رہے ہیں اور دوبارہ سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ اس عدالتی فیصلے سے جنوبی کوریا کی کارپوریٹ دنیا میں ہلچل مچ گئی ہے، کیونکہ اتنی بڑی نقد رقم کی ادائیگی کے لیے تاجر کو اپنے کچھ اثاثے فروخت کرنے یا حصص کے بدلے قرض لینا پڑ سکتا ہے۔
چین کا بحرالکاہل میں بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا تجربہ
چین (PLA Navy)نے جنوبی بحرالکاہل میں ایٹمی صلاحیت کے حامل ایک بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ یہ تجربہ ۶؍جولائی ۲۰۲۶ء کو کیا گیا۔ تجربہ کے بعد امریکہ جاپان، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور تائیوان سمیت متعدد ممالک نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یہ تجربہ خطے میں بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیوں اور عالمی طاقتوں کے درمیان اسٹریٹجک کشیدگی کے تناظر میں نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
چینی حکام کے مطابق میزائل ایک جوہری آبدوز سے داغا گیا اور اس میں حقیقی جوہری وارہیڈ کے بجائے ایک ڈمی (آزمائشی) وارہیڈ نصب تھا۔ میزائل نے طویل فاصلے کا سفر کرتے ہوئے ( تقریباً ۷,۳۰۰ کلومیٹر ) کا فاصلہ طے کیا۔
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: جماعت احمدیہ سیرالیون کی مجلس مشاورت ۲۰۲۶ء کا کامیاب انعقاد




