ادبیات

ملفوظات حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور فارسی ادب(قسط نمبر ۲۲۰)

(محمود احمد طلحہ ۔ استاد جامعہ احمدیہ یو کے)

’’غرض یہ باتیں دنیا دار خود ہی بنالیتے ہیں کہ جھوٹ اور فریب کے بغیر گذارہ نہیں۔کوئی کہتا ہے فلاں شخص نے مقدمہ میں سچ بولا تھا اس لیے چار برس کو دھراگیا۔ میں پھر کہوں گا کہ یہ سب خیالی باتیں ہیں جو عدم معرفت سے پیدا ہوتی ہیں۔ ؏

کسب کمال کن کہ عزیز جہاں شوی

یہ نقص کے نتیجے ہیں۔ کمال ایسے ثمرات پید انہیں کرتا۔ ایک شخص اگر موٹی سی کھدر کی چادر میں کوئی توپابھرے تو اس سے وہ درزی نہیں بن جاوے گا۔ اور یہ لازم نہ آئے گا کہ اعلیٰ درجہ کے ریشمی کپڑے بھی وہ سی لے گا۔اگر اس کو ایسے کپڑے دیئے جاویں تو نتیجہ یہی ہوگا کہ وہ انہیں برباد کردے گا۔ پس ایسی نیکی جس میں گند ملا ہوا ہو کسی کام کی نہیں خد اتعالیٰ کے حضور اس کی کچھ قدر نہیں۔لیکن یہ لوگ اس پر ناز کرتے ہیں اور اس کے ذریعہ نجات چاہتے ہیں۔(ملفوظات جلد ہشتم صفحہ۳۵۴ مطبوعہ ۱۹۸۴ء)

تفصیل : اس حصہ ملفوظات میں ایک فارسی ضرب المثل آئی ہے۔

کَسْبِ کَمَالْ کُنْ کِہْ عَزِیْزِجَہَاںْ شَوِیْ

ترجمہ : جیسےاردو کہاوت ہے: ’’ہنرمند کی قدر ہوتی ہے۔‘‘ اسی طرح اس کا مطلب ہے کہ’’اپنے اندر خوبیاں پیدا کرو ،تب ہی تمہیں دنیا میں عزت ملے گی۔‘‘

لغوی بحث:کَسْبِ کَمَالْ(صلاحیت/فضیلت حاصل) کُنْ (کر ۔کردن(کرنا) مصدرسے فعل امرمفرد) کِہْ(کہ/تب) عَزِیْزِجَہَاںْ (دنیا کا پیارا) شَوِیْ(توہوتا ہے یاہوجائےگا۔ شدن(ہونا) مصدر سے مضارع سادہ دوم شخص مفرد)

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: ملفوظات حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور فارسی ادب(قسط نمبر ۲۱۹)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button