ملفوظات حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور فارسی ادب(قسط نمبر ۲۱۹)
فرمایا:’’ مسلمان متنبہ ہو جاویں کہ ترقی اسلام کے لیے یہ پہلو نہایت ضروری ہے کہ مسیح کی وفات کے مسئلہ پر زور دیا جاوے اور وہ اس امر کے قائل نہ ہوں کہ مسیح زندہ آسمان پر گیا ہے …مگر مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ میرے مخالف اپنی بدقسمتی سے اس سِرّ کو نہیں سمجھتے اور خواہ نخواہ شور مچاتے ہیں۔ کاش یہ احمق سمجھتے کہ اگر ہم سب مل کر وفات پر زور دیں گے تو پھر یہ مذہب (عیسائی) نہیں رہ سکتا۔ میں یقیناً کہتا ہوں کہ اسلام کی زندگی اُس کی موت میں ہے۔ خود عیسائیوں سے پوچھ کر دیکھ لو کہ جب یہ ثابت ہو جاوے کہ مسیح زندہ نہیں بلکہ مر گیا ہے تو اُن کے مذہب کا کیا باقی رہ جاتا ہے؟ وہ خود اس امر کے قائل ہیں کہ یہی ایک مسئلہ ہے جو اُن کے مذہب کا استیصال کرتا ہے مگر مسلمان ہیں کہ مسیح کی حیات کے قائل ہو کر ان کو تقویت پہنچارہے ہیں اور اسلام کو نقصان پہنچاتے ہیں، ان کی وہی مثال ہے ؎
یکے برسر شاخ و بُن مے برید‘‘
(ملفوظات جلد ہشتم صفحہ ۳۴۵ مطبوعہ ۱۹۸۴ء)
تفصیل: اس حصہ ملفوظات میں آمدہ فارسی مصرع بوستان سعدی کے باب اول میں موجودایک حکایت کے ایک شعر کا پہلا مصرع ہے ۔مکمل حکایت کچھ یوں ہے ۔
حکایت:
یِکِےْ بَرْ سَرِ شَاخ وبُنْ مِےْ بُرِیْد
خُدَاوَنْدِ بُسْتَاںْ نِگَہْ کَرْد و دِیْد
تر جمہ: ایک شخص ٹہنی کےسرے پر بیٹھا اس کی جڑ کاٹ رہا تھا ۔باغ کے مالک نے نظر ڈالی اور دیکھا۔
بِگُفْتَا گَرْ اِیْن مَرْد بَدِی مِیْ کُنَدْ
نَہْ بَامَنْ کِہْ بَانَفْسِ خُوْد مِیْ کُنَدْ
اس نے کہایہ شخص اگر برا کر رہا ہے تو میرے ساتھ نہیں بلکہ خود اپنے ساتھ کر رہاہے۔
(بقیہ حکایت کا اردو ترجمہ)
(اس کے بعد شیخ سعدی بادشاہ کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں)اگر تجھے اللہ نے قوت بازو عطا کی ہے تو اس کے ساتھ کمزوروں کو نہ گرا،ورنہ وہ کمزور کل تجھے اللہ کی بارگاہ میں لے جائے گا،وہ طاقت ور ہوگا اور تو کمزور۔اگرکل قیامت کی بھی سرداری چاہتاہے تو کسی چھوٹے کو اپنا دشمن نہ بنا کیونکہ جب تیری حکومت ختم ہوگی تو وہ کینے کی وجہ سے ضرور تیرا پلہ پکڑے گا۔کمزوروں کا پنجہ نہ مروڑ کیونکہ اگر تو اس کو سو بار بھی گرا لے گاتو اس کا ایک بار تجھے گرالینا شرمسار کردے گا۔صاحبانِ دل کے نزدیک گرے ہوئے کے ہاتھوں گرنا بہت برا ہے۔ خوش نصیب لوگوں نے عقل مندی سے تخت وتاج لئے ہیں ۔تو سیدھوں کے پیچھے ٹیڑھا نہ چل اور سعدی کی نصیحت تجھے سیدھی راہ پر چلائے گی۔
لغوی بحث: یِکِےْ(ایک شخص) بَرْ(پر) سَرِشَاخ(ٹہنی کا سرا) و(اور) بُنْ(جڑ) مِےْبُرِیْد(کاٹ رہا تھا۔ بریدن(کاٹنا) مصدر سے ماضی استمراری سوم شخص مفرد)




