خطبہ جمعہ

خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 28؍اگست 2026ء

’’سب سے پہلے مجھے اللہ تعالیٰ کا شکر دل میں جوش مارتا ہے جس نے میری جماعت کو سچی ارادت اور محبت اور ہمدردی عطا فرمائی ہے۔
اگر خدا تعالیٰ کا فضل ان کے ساتھ نہ ہوتا تو یہ توفیق ان کو ہرگز نہ دی جاتی کہ وہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے قدم پر اس درجہ کی اطاعت کرتے کہ باوجود اپنی مالی مشکلات اور کمی آمدن کے اپنی طاقت سے بڑھ کر خدمتِ مالی میں مصروف ہوتے۔ مَیں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ان سب کے مالوں میں برکت دے اور یہ نصرت اور اعانت جو وہ دینی اغراض کی تکمیل کے لئے کر رہے ہیں خدا تعالیٰ دونوں جہانوں میں ان کی بھلائی کا موجب کرے‘‘ (حضرت مسیح موعودؑ)

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کو دنیا میں لہرانے کے لیے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے جو کوششیں کیں وہ تو ظاہر ہیں لیکن آپؑ اپنے ان مددگاروں کے بھی بہت شکرگزار ہوتے تھےجنہوں نے آپؑ کے اس مشن کو پورا کرنے کے لیے کسی بھی رنگ میں مدد کی

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کسی کی کوئی معمولی خدمت بھی ہو تو بےانتہا شکریہ ادا فرمایا کرتے تھے

حضورؑ نے فرمایا کہ اللہ کا شکر پہلے ادا کرو ۔پھر بندوں کا شکر ادا کرو

حضورؑ نے نہایت تشکر کے ساتھ جو چہرے سے ظاہر تھاان دو توسوں کو نکال کر شکّر سے لگا کر کھا لیا اور اس کے اوپر پانی پی لیا۔ اس وقت مجھے خیال آیا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ بھول اس لیے ڈالی کہ حضور ؑکا صبر اور شکراور مرتبہ دنیا پر ظاہر ہو(ایک روایت)

شکر گزاری کے ساتھ ہی آپؑ ان کے دین کی ترقی کے لیے بھی ہر ایک کے لیے دعا کیا کرتے تھے

جب خطبہ [الہامیہ]ختم ہوا تو آپؑ سجدہ شکر میں جا پڑے۔آپ کے ساتھ تمام حاضرین نے سجدۂ شکر ادا کیا۔ سجدہ سے سر اٹھا کر حضرت اقدسؑ نے فرمایاکہ ابھی میں نے سرخ الفاظ میں لکھا دیکھا ہے کہ مبارک۔ یہ گویا قبولیت کا نشان ہے

قریباً عصر کا وقت تھا حضورؑ ٹہلتے ٹہلتے لکھتے تھے اور کبھی کبھی سجدہ میں بھی گر جاتے تھے یعنی اس وقت کوئی خاص مضمون اللہ تعالیٰ سمجھاتا ہوگا تو سجدۂ شکر بجا لاتے تھے۔ (ایک روایت)

جاتے وقت اتفاق سے آپؑ کا ایک جوتا جو بالکل سادہ تھا پاؤں سے نیچے گر گیا جسے خاکسار نے اٹھا کر اپنے ہاتھ سے آپ کے پاؤں میں پہنا دیا
جس پر حضور ؑنے متبسم صورت میں محبت بھرے الفاظ میں فرمایا جَزَاکَ اللّٰہ (ایک روایت)

’’اللہ تعالیٰ نے جن پر فضل کیا ہے اس کی شکر گزاری یہی ہے کہ اس کی مخلوق کے ساتھ احسان اور سلوک کریں اور اس خداداد فضل پر تکبر نہ کریں اور وحشیوں کی طرح غرباء کو کچل نہ ڈالیں ‘‘(حضرت مسیح موعودؑ)

اللہ تعالیٰ سے علم پا کر آپؑ لوگوں کے معاملات کے بارے میں بھی بعض دفعہ پہلے اطلاع دے دیتے تھے۔
جب وہ بات پوری ہو جاتی تو آپؑ انتہائی شکر گزاری کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہو جاتے

اللہ تعالیٰ ہمیں جہاں شکر گزاری کا حقیقی ادراک عطا فرمائے وہاں ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق کی بیعت میں آ کر حقیقی روشنی، بصارت اور معرفت بھی عطا فرمائے

شکرگزاری کے حوالے سے سیدنا حضرت اقدس مسیح موعودؑ کا پاکیزہ عملی نمونہ

خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 28؍اگست 2026ء بمطابق 28؍ظہور1405 ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے)،یوکے

(خطبہ جمعہ کا یہ متن ادارہ الفضل اپنی ذمہ داری پر شائع کر رہا ہے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾

اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾

اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ﴿۷﴾

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کو دنیا میں لہرانے کے لیے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے جو کوششیں کیں وہ تو ظاہر ہیں لیکن آپؑ اپنے ان مددگاروں کے بھی بہت شکرگزار ہوتے تھےجنہوں نے آپؑ کے اس مشن کو پورا کرنے کے لیے کسی بھی رنگ میں مدد کی۔

چنانچہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے 4؍اکتوبر 1899ء کو اشتہار میں ایک تحریک فرمائی جس میں مالی مدد کرنے والے مخلصین جماعت کا تذکرہ کیا۔ آپؑ نے فرمایا: ’’یہ خدا تعالیٰ کی سنّت ہے کہ ہر ایک اہل اللہ کے گروہ کو اپنی ابتدائی حالت میں چندوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کئی مرتبہ صحابہؓ پر چندے لگائے جن میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سب سے بڑھ کر رہے۔ سو مردانہ ہمّت سے امداد کے لئے بلاتوقف قدم اٹھانا چاہیے۔ ‘‘ اس وقت لنگرخانے کی تحریک کی تھی کیونکہ یہ بھی ایک مقصد تھا ۔مہمان آتے تھے تا کہ اسلام کے بارے میں معلومات حاصل کریں ۔آپؑ کے دعوے کو سنیں۔ آپؑ نے فرمایا کہ’’ہر ایک اپنی مقدرت کے موافق اس لنگرخانہ کے لئے مدد کرے۔ مَیں چاہتا ہوں کہ اگر ممکن ہو توایک ایسا انتظام ہو کہ ہم لنگر خانہ کے سردرد سے فارغ ہو کر اپنے کام میں بافراغت لگے رہیں۔‘‘ یعنی آپؑ کا جو اشاعتِ اسلام کا کام تھا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو دنیا میں پہنچانے کا کام تھا اس طرف توجہ اَور بھی زیادہ ہو جائے اور جو مہمان آتے ہیں اس مقصد کے لیے ان کے لیے ایک علیحدہ انتظام آپؑ چاہتے تھے کہ ہو۔ بہرحال آپؑ فرماتے ہیں کہ بافراغت ہم لگے رہیں’’اور ہمارے اوقات میں کچھ حرج نہ ہو اور جو ہمیں مدد دیتے ہیں آخروہ خدا کی مدد دیکھیں گے۔‘‘

پھر آپؑ نے آگے فرمایاکہ’’مَیں اس بات کے لکھنے سے رہ نہیں سکتا کہ اس نصرت اور جانفشانی میں اوّل درجہ پر ہمارے خالص مخلص حبی فی اللہ مولوی حکیم نور الدین صاحب ہیں جنہوں نے نہ صرف مالی امداد کی بلکہ دُنیا کے تمام تعلقات سے دامن جھاڑ کر اور فقیروں کا جامہ پہن کر اور اپنے وطن سے ہجرت کر کے قادیان میں موت کے دن تک آ بیٹھے اور ہر وقت حاضر ہیں۔ اگر مَیں چاہوں تو مشرق میں بھیج دوں یا مغرب میں ‘‘بھیج دوں ۔یعنی اسلام کے پیغام کو پہنچانے کے لیے۔ ’’میرے نزدیک یہ وہ لوگ ہیں جن کی نسبت براہین احمدیہ میں یہ الہام ہے۔اَصْحَابُ الصُّفَّةِ وَمَا اَدْرٰکَ مَا اَصْحَابُ الصُّفَّةِ۔‘‘ کہ صفّہ کے رہنے والے ہیں اور تُو کیا جانتا ہے کہ کیا ہیں صفّہ کے رہنے والے۔ پھر فرماتے ہیں کہ’’اور حضرت ممدوح سے دوسرے درجہ پر حبی فی اللہ مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی ہیں۔ اور ان کو تو پہلے ہی خدا تعالیٰ نے دنیا کے مناصب اور جاہ طلبی کی مناسبت نہیں دی مگر اب وہ بالکل دنیوی خیالات کو بھی استعفاء دے کر اس دروازہ پر بیٹھے ہیں اور دن رات اپنے دماغ سے فوق الطاقت کام لے کر خدمت دین کر رہے ہیں اور جمعہ کی نماز میں بہت سے حقائق معارف قرآن شریف بیان کرتے اور مسلمانوں کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔اور مولوی حکیم نور الدین صاحب کے ہم شہر حکیم فضل دین ہیں اور وہ بھی قریباً اسی جگہ رہتے اور خدمات میں مشغول ہیں۔ اور ایک مخلص دوست ہمارے ڈاکٹر بوڑے خان صاحب دُنیا سے گزر گئے مگر جائے شکر ہے کہ چار اَور مخلص ڈاکٹر یعنی خلیفہ رشید الدین صاحب لاہوری اور ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب کلانوری اور ڈاکٹر محمد اسماعیل صاحب اور ڈاکٹر عبدالحکیم خان صاحب ہماری جماعت میں موجود ہیں۔ ایسا ہی نہایت بااخلاص بعض وہ مخلص ہیں جنہوں نے اس جگہ بودوباش اختیار کی ہے ۔منجملہ ان کے مرزا خدا بخش صاحب بھی ہیں۔اور نیز صاحبزادہ سراج الحق صاحب سرساوی اپنے وطن سرساوہ سے ہجرت کر کے قادیان میں آگئےہیں۔اور کئی اَور صاحب ہیں۔اور ہم دعا کرتے ہیں کہ ان تمام صاحبوں کے لئے یہ ہجرتیں مبارک ہوں ۔اور مولوی حکیم نورالدین صاحب تو ہمارے اس سلسلہ کے ایک شمع روشن ہیں۔ ہر روز قرآن شریف اور حدیث کا درس دیتے ہیں اور اس قدر معارف حقائق قرآن شریف بیان کرتے ہیں کہ اگر یہ خدا کی مدد نہیں تو اَور کیا ہے۔ حضرت مولوی صاحب اور حبی فی اللہ مولوی عبدالکریم دونوں دلی صدق سے چاہتے ہیں کہ قادیان میں ہی ان کا جینا ہو اور قادیان میں ہی مرنا۔… اور وہ گروہ مخلص جو ہماری جماعت میں سے کاروبار تجارت میں مشغول ہیں ان میں ایک حبی فی اللہ سیٹھ عبدالرحمان صاحب تاجر مدراس قابل تعریف ہیں اور انہوں نے بہت سے مواقع ثواب کے حاصل کئے ہیں ۔وہ اس قدر پُرجوش محبّ ہیں کہ اتنی دور رہ کر پھر نزدیک ہیں اور ہمارے سلسلہ کے لنگر خانہ کی بہت سی مدد کرتے ہیں اور ان کا صدق اور ان کی مسلسل خدمات جو محبت اور اعتقاد اور یقین سے بھری ہوئی ہیں تمام جماعت کے ذی مقدرت لوگوں کے لئے ایک نمونہ ہیں۔کیونکہ تھوڑے ہی ہیں جو ایسے ہیں۔ وہ ایک سو 100روپیہ ماہواری بلاناغہ بھیجتے ہیں اور آج تک کئی دفعہ پانسو روپیہ تک یکمشت محض اپنی محبت اور اخلاص کے جوش سے بھیجتے رہے ۔‘‘یہ رقم اس زمانے میں بڑی رقم ہوتی تھی جو دین کی اشاعت کے لیے اور مہمانوں کے سنبھالنے کے لیے آپ بھیجتے تھے ’’اور جو ایک سو روپیہ ماہواری ہے وہ اس سے علاوہ ہے۔ اسی طرح حبی فی اللہ شیخ رحمت اللہ صاحب تاجر لاہور سیٹھ صاحب…‘‘ لاہور ہیں۔ ’’مَیں خوب جانتا ہوں کہ شیخ صاحب موصوف دل وجان سے ہمارے محبّ ہیں ۔انہوں نے فوجداری مقدمات میں جو میرے پر کئے گئے تھے اپنے بہت سے روپیہ سے میری مدد کی اور جوشِ محبت سے دیوانہ وار سرگردان ہو کر میری ہمدردی کرتے رہے۔ اب وہ ہمارے کام کے لئے صدہا روپیہ کا خرچ اٹھا کر لندن میں بیٹھے ہیں ۔خدا تعالیٰ ان کو جلد تر خیر و عافیت سے واپس لائے۔‘‘ یہ اس وقت کی بات ہے جب وہ لندن گئے ہوئے تھے۔ آپؑ فرماتے ہیں کہ ’’یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ حبی فی اللہ سردار نواب محمد علی خان صاحب بھی محبت اور اخلاص میں بہت ترقی کر گئے ہیں اور فراست صحیحہ شہادت دیتی ہے کہ وہ بہت جلد قابل رشک اخلاص اور محبت کے منار تک پہنچیں گے اور وہ ہمیشہ حتّی الوسع مالی امداد میں بھی کام آتے رہے ہیں ۔اور امید ہے کہ وہ اس سے بھی زیادہ خدا کی راہ میں اپنے مالوں کو فدا کریں گے۔ خدا تعالیٰ ہر ایک کے عملوں کو دیکھتا ہے‘‘ اور فرمایا کہ ’’مجھے کہنے اور لکھنے کی ضرورت نہیں… اسی طرح‘‘آپؑ نے فرمایا کہ ’’اَوربہت سے مخلص ہیں…‘‘ مگر افسوس کہ اگر میں نام لکھوں تو، یہ اشتہار تھا جو آپؑ نے دیا کہ، بہت بڑا مضمون بن جائے گا۔’’ان سب کے حق میں دعا کرتا ہوں کہ خدا ان کو دونوں جہان کی خوشی عطا کرے۔ جو کچھ وہ خدا کے لئے کرتے ہیں یا آئندہ کریں گے وہ سب خدا تعالیٰ کی آنکھ کے نیچے ہے۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 542تا546 ایڈیشن 2019ء)

یہ تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق کے اپنے مددگاروں کے لیے شکرگزاری کے اظہار کے طریقے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کسی کی کوئی معمولی خدمت بھی ہو تو بےانتہا شکریہ ادا فرمایا کرتے تھے۔

چنانچہ حضرت منشی محبوب عالم صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے محلے میں ایک غیر احمدی تھا۔ فالودہ بنایا کرتا تھا۔ جب حضرت صاحب علیہ السلام خواجہ کمال الدین صاحب کے مکان پر تشریف لائے تو اس فالودہ بنانے والے نے مجھے کہا کہ اگر حضورؑ سے اجازت لے دیں تو میں حضورؑ کو فالودہ پلانا چاہتا ہوں۔ چنانچہ مَیں نے حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں عرض کی۔ حضورؑ نے منظور فرمایا۔ چنانچہ وہ سب سامان لے کر وہاں چلا آیا۔ حضرت صاحب علیہ السلام خواجہ کمال الدین کے صحن میں پلنگ پر تشریف فرما تھے۔ مَیں نے اس کو پیش کیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اُسے فرمایا کہ فالودہ بنائیں۔ چنانچہ وہ باہر بیٹھ گیا اور اس نے ایک پیالہ فالودہ کا بنا کر حضور ؑکو پیش کیا۔ حضورؑ نے اسے نوش فرمایا ۔پسندیدگی کا اظہار کیا کہ بڑا اچھا ہے۔ پھر اس نے دس بارہ پیالے اندر بھیجے اور سب کو پلائے ۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دو روپے نکال کر مجھے دیے کہ اس کو دے دیں۔ اس زمانے میں اس کی بڑی قیمت تھی ۔ مَیں وہ دو روپے لے کر اس کے پاس گیا۔ اس نے لینے سے انکار کر دیا اور مجھے کہا کہ مجھے حضرت صاحبؑ کے حضور پیش کرو۔ چنانچہ میں اس کو حضرتؑ کی خدمت میں لے گیا۔ اس نے حضرت صاحب علیہ السلام کے سامنے ہاتھ جوڑ دیے اور کہا کہ مجھے دو روپے درکار نہیں۔ مَیں نے بطور ہدیہ فالودہ پیش کیا تھا۔ اس کے اصرار پر حضرت صاحبؑ نے پھر اُسے وہ روپے تو نہیں دیے، اور دعا بھی کی اور جَزَاکُمُ اللّٰہُ اَحْسَنَ الْجَزَاءِ فرمایا۔ یہ کہتے ہیں کہ اس دعا کی برکت یہ ہے کہ اس لڑکے کے بچے بڑے اچھے عہدوں پر فائز ہیں۔

(ماخوذ از روایات اصحاب احمد جلد 4صفحہ278-279)

حضرت مولوی ابراہیم صاحب بقا پوریؓ بیان کرتے ہیں کہ’’ایک دفعہ جماعت سیالکوٹ نے جن میں حضرت میر حامد شاہ صاحب مرحوم، چوہدری نصر اللہ خان صاحب مرحوم اور خاکسار شامل تھے کچھ روپے بطور ہدیہ حضورؑ کی خدمت میں پیش کیے۔ حضور علیہ السلام نے اس رومال کو جس میں روپے بندھے تھے لیا پہلے اَلْحَمْدُلِلّٰہ کہہ کر پھر جَزَاکُمُ اللّٰہ فرمایا۔ جس سے ہمارے ایمان میں ایک قسم کی ترقی ہوئی کہ پہلے حضورؑ نے خدا کا شکر ادا کیا پھر ہمارے لئے دعا فرمائی۔ ‘‘

(روایات اصحاب احمد جلد 4صفحہ 56)

پہلے بھی ایک دفعہ بیان کر چکا ہوں کہ

حضورؑ نے فرمایا کہ اللہ کا شکر پہلے ادا کرو ۔پھر بندوں کا شکر ادا کرو۔

(ماخو ذ از حیات قدسی صفحہ 134)

ایک واقعہ حضرت ذوالفقار علی خان گوہر صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضورؑ بیت الدعا میں جو نیچے کی منزل میں تھا مہندی لگانے کی وجہ سے قریب دس بجے کے برآمد ہوئے۔ بیت الدعا سے ملحق ایک کوٹھری تھی جس کے ایک دروازے سے تشریف لائے۔ داڑھی اور سر کے بالوں پر رنگ لگایا تھا۔ خضاب لگایا تھا۔ اس زمانے میں مہندی لگا کرتی تھی تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام وہ لگاتے تھے۔ کہتے ہیں ایک دروازہ کھلتا تھا صحن میں اور ایک میرے کمرے کی طرف تھا۔ مَیں قریب سکونت کی وجہ سے اس کوٹھری میں حضور کی آمد برآمدگی کا منتظر تھا کہ حضورؑ بیت الدعا سے باہر تشریف لائے اور چارپائی پر بیٹھ گئے۔ مجھ سے فرمایا کہ مولوی سید سرور شاہ صاحب سے کہہ دیں کہ کچھ کھانا ہمارے لیے یہاں لے آئیں۔ اس زمانہ میں مہمان آئے ہوئے تھے تو کھانا اکٹھا پکتا تھا۔ سرور شاہ صاحبؓ کے ذمہ انتظام تھا۔ تو کہتے ہیں مَیں نے جا کر عرض کر دیا۔ اسی وقت ہم لوگ کھانا کھا کر فارغ ہوئے تھے۔ مشکل سے دس منٹ گزرے ہوں گے۔ لیکن کھانا کچھ باقی نہیں تھا۔ دس منٹ میں ہی ختم ہو گیا تھا۔ کھانا نہیں تھا۔ لوگ کھا چکے تھے۔ تو کہتے ہیں کہ جب مَیں نے پیغام دیا تو مولوی سرور شاہ صاحبؓ کا چہرہ سفید پڑ گیا ۔ بہرحال انہوں نے ایک چھوٹے سے پیالے میں دودھ لیا اور تین توس ایک طشتری میں رکھ کر اور شکر کے ساتھ لے آئے۔ ان کا منہ اترا ہوا تھا۔ بڑے مغموم تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کھانا مانگا ہے اور کھانا نہیں ہے۔ تو انہوں نے عرض کیا کہ حضور! اس وقت کچھ اَور نہیں رہا۔ ذوالفقار علی خان صاحبؓ کہتے ہیں مجھے سخت حیرت ہوئی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لیے کھانا نہیں رکھا گیا۔ یہ کیسا انتظام ہے؟

حضورؑ نے نہایت تشکّر کے ساتھ جو چہرے سے ظاہر تھا۔

یہ نہیں کہ ظاہری تھا، بناوٹی تھا بلکہ تشکّر کااظہار تھا جو چہرے سے بھی ظاہر ہو رہا تھا کہتے ہیں

ان دو توسوں کو نکال کر شکّر سے لگا کر کھا لیا اور اس کے اوپر پانی پی لیا۔

تو کہتے ہیں

اس وقت مجھے خیال آیا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ بھول اس لیے ڈالی کہ حضور ؑکا صبر اور شکراور مرتبہ دنیا پر ظاہر ہو۔

(ماخوذ از روایات اصحاب احمد جلد 3صفحہ54)

صحابہؓ چھوٹی چھوٹی باتیں نوٹ کیا کرتے تھے۔

7؍ اگست 1900ء کو حضورؑ نے حضرت نواب محمد علی خان صاحبؓ  کو شکریہ کا خط تحریر کرتے ہوئے فرمایا۔ انہوں نے کچھ تحفہ بھیجا تھا کپڑوں کا کہ ’’آپ کا تحفہ پارچات نفیس و عمدہ جو آپ نے نہایت درجہ کی محبت اور اخلاص سے عطا فرمائے تھے مجھ کو مل گئے ہیں اس کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ہر ایک پارچہ کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ آںمحبّ نے بڑی محنت اور اخلاص سے ان کو تیار کرایا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے عوض میں اپنے بےانتہا اور نامعلوم کرم اور فضل آپ پر کرے اور لباس التقویٰ سے کامل طور سے اولیاء اور صلحاء کے رنگ سے مشرف فرما وے۔‘‘

(اصحاب احمد جلد دوم صفحہ 686۔687)

اب یہ ظاہری لباس آپؑ کو دیا تو آپؑ نے اس کا شکریہ ادا کرنے کے ساتھ اس کے جواب میں فرمایا کہ آپ کو اللہ تعالیٰ لباس التقویٰ کامل طور پر عطا فرمائے اور صلحاء کے رنگ میں مشرف کرے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام حضرت منشی احمد جان صاحب ؓکو اپنے مکتوب میں تحریرفرماتے ہیں: ’’مخدومی مکرمی اخویم منشی احمد جان صاحب سلمہٗ اللہ تعالیٰ وَجَزَاکُمُ اللّٰہُ خَیْرَ الْجَزَاءِ۔ السلام علیکم و رحمۃاللہ وبرکاتہ۔ آںمخدوم کا عنایت نامہ پہنچا۔ خداوند کریم کے احسانات کا شکر ادا نہیں ہو سکتا جس نے اس احقر العباد کے لئے ایسے دلی احباب میسّر کیے جن کے وجود اس ناچیز کے لئے موجب عزّت و فخر ہیں۔خداوند کریم آپ کو خوش و خرم رکھے اور آپ کو ان دلی توجہات کا اجر بخشے۔‘‘ بڑی عاجزی سےآپؑ فرما رہے ہیں کہ’’یہ عاجز سخت ناکارہ اور حقیر ہے اور حضرت ارحم الراحمین کا سراسر منت اور احسان ہے کہ اس نالائق پر بغیر ایک ذرّہ استحقاق کے تفضّلاتِ کثیرہ کی بارش کر رہا ہے۔‘‘ قصور پر قصور پاتا ہوں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا جو مقام تھا اس کو دیکھیں اور پھر آپؑ کی عاجزی کو دیکھیں۔ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ ’’قصور پر قصور پاتا ہے اور احسان پر احسان کرتا ہے اور ظلم پر ظلم دیکھتا ہے ‘‘اللہ تعالیٰ مجھ سے ظلم پہ ظلم دیکھتا ہے ’’اور انعام پر انعام کرتا ہے۔ فی الحقیقت وہ نہایت رحم و کریم ہے۔ ایسی زبان کہاں سے لاؤں جو اس کا شکر ادا کر سکوں۔ یہ عاجز ہیچ اور ذلیل اور بے بِضَاعت اور سراسر مفلس ہے۔ اس نے خاک میں مجھے پایا اور اٹھا لیا اور نالائق محض دیکھا اور میری پردہ پوشی کی۔ میرے ضعف پر نظر کر کے مجھ کو آپ قوّت دی اور میری نادانی کو دیکھ کر مجھ کو آپ علم بخشا۔ میرے حال پر وہ عنایتیں کیں جن کو میں گن نہیں سکتا اور

اس کی عنایات کا ایک یہ ظہور ہے کہ آپ جیسے بزرگ بھائیوں کے دلوں میں اس احقر کی محبت ڈال دی۔‘‘

مددگاروں کے لیے کس طرح آپؑ کا شکر گزاری کااظہار ہے۔ ’’سو اس کے احسانات سے تعلق ہے کہ اس حب‘‘ یعنی محبت’’کو ترقی دے گا اور وہ ان سب پر فضل کرے گا جن کو اس سلک میں منسلک کیا ہے۔ اس خط کی تحریر کے بعد یہ شعر کسی بزرگ کا الہام ہوا ‘‘آپؑ نے لکھا کہ

’’ہرگز نَمِیرَدْ آنکہ دِلَشْ زِندہ شُد بِعِشْقِ

ثَبْتْ اَسْت بَرْ جَرِیْدَۂ عَالَم دَوامِ مَا‘‘

کہ وہ شخص کبھی نہیں مرتا جس کا دل عشق سے زندہ ہو گیا ہو۔ دنیا کے دفتر یعنی تاریخ عالم پر ہماری دائمی زندگی ثبت ہو چکی ہے۔

(مکتوبات احمد جلد سوم صفحہ 25۔26)

اسی طرح اپنے ایک مکتوب میں حضرت قاضی ظہور الدین اکمل صاحب ؓکو آپؑ تحریر فرماتے ہیں۔ انہوں نے آپؑ کو کچھ کتابیں تائید میں بھیجی تھیں۔ کہ’’آپ کی تینوں کتابیں آپ کی طرف سے تحفہ مجھ کو ملا۔ جَزَاکُمُ اللّٰہُ خَیْرًا۔ تھوڑا تھوڑا میں نے تینوں کو دیکھ لیا ہے۔ عمدہ اور مدلّل بیان ہے۔ خدا تعالیٰ جزائے خیر دے۔ آمین۔ آپ کو اس کی ہر یک موقع مناسب پر اشاعت کرنی چاہیے تا دوہراثواب ہو۔‘‘

(مکتوبات احمد جلد پنجم صفحہ 245)

اسی طرح ایک مکتوب ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحبؓ  کو تحریر فرمایا۔ حضرت خلیفہ رشیدالدین صاحبؓ حضرت خلیفة المسیح الثانیؓ کے سسر تھے ۔حضرت اُمّ ناصر کے والد تھے۔ فرمایا: ’’محبی اخویم ڈاکٹر خلیفہ رشیدالدین صاحب سلمہٗ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مبلغ 50روپیہ مرسلہ آپ کے مجھ کو پہنچ گئے۔ ایسے نازک اور ضرورت کے وقت میں جبکہ بدطینت حاسدوں نے عدالت میں میرے پر مقدمہ اٹھایا ہوا ہے آپ کا متواتر مالی مدد کرنا قابل شکر گزاری ہے۔ جَزَاکُمُ اللّٰہُ خَیْرَ الْجَزَاء۔ اب مقدمہ کی تاریخ‘‘ پھر آپؑ نے بتایا کہ ’’24؍فروری 1899ء ہے غالباً اتوار کے دن عید ہوگی اس صورت میں‘‘ اور اگلے دن ’’پیر کو بمقام پٹھان کوٹ مقدمہ پر جانا ہوگا۔ واللہ اعلم۔‘‘ فرماتے ہیں کہ’’اب مَیں نے عہد کر لیا ہے کہ کچھ عرصہ آپ کے لئے دعا کرتا رہوں گا۔ ‘‘شکر گزاری کے طور پر آپؑ نے فرمایا: مَیں آپ کے لیے کچھ عرصہ دعا کرتا رہوں گا۔ ’’اللہ تعالیٰ دوری اور مہجوری سے بخیر و عافیت رستگاری عنایت فرماوے۔ آمین ثم آمین‘‘ کیونکہ کسی دُور کے علاقے میں ان کی پوسٹنگ تھی۔ وہاں سے آنا چاہتے تھے۔

(مکتوبات احمد جلد چہارم صفحہ 214)

اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام حضرت صاحبزادہ سراج الحق صاحب ؓکو اپنے مکتوب میں فرماتے ہیں: ’’بخدمت اخویم مکرم صاحبزادہ سراج الحق صاحب۔ السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ۔ عنایت نامہ پہنچا جو کچھ آپ نے بطور تحفہ عمامہ اور عطر عطا فرمایا ہے۔‘‘ اب چھوٹی سی چیز ہے اس کے لیے بھی خط لکھ کر شکریہ ادا کر رہے ہیں۔’’اس ہدیۂ دوستانہ کا آپ سے شکر گزار ہوں۔ جَزَاکُمُ اللّٰہُ خَیْرَالْجَزَاءِ وَاَحْسَنَ اِلَیْکُمْ فِی الدُّنْیَاوَالْعُقْبٰی۔خدا تعالیٰ آپ کو بہت خوش رکھے اور مکروہاتِ دنیا و دین سے بچاوے۔ ‘‘

(مکتوبات احمد جلد سوم صفحہ 110)

شکر گزاری کے ساتھ ہی آپؑ ان کے دین کی ترقی کے لیے بھی ہر ایک کے لیے دعا کیا کرتے تھے۔

سید محمود عالم صاحب بیان کرتے ہیں کہ’’حضرت مولوی نور الدین صاحب ؓفرمایا کرتے تھے کہ جب حضرت مسیح موعودؑ نے عربی میں خطبہ عید الاضحی پڑھایا …تو بعد میں جب اس کی کیفیت پوچھی گئی تو فرمایا‘‘ یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے جب پوچھا گیا تو آپؑ نے فرمایا’’کہ فرشتے میرے سامنے موٹے موٹے حروف میں لکھی ہوئی تختی لاتے جاتے تھے جسے مَیں دیکھ دیکھ کر پڑھتا جاتا تھا۔ ایک تختی آتی جب مَیں وہ سنا چکتا تو دوسری تختی آتی اور پہلی چلی جاتی اس طرح تختیوں کا سلسلہ رہا۔ جب کوئی لکھنے والا پوچھتا‘‘ دوبارہ پوچھتا کیونکہ دو آدمی آپؑ نے لکھنے کے لیے بٹھائے ہوئے تھے تو فرمایا کہ ’’تو گئی ہوئی تختی پھر واپس آ جاتی جسے دیکھ کر مَیں بتا دیتا۔‘‘

جب یہ خطبہ ختم ہوا تو آپؑ سجدہ شکر میں جا پڑے۔’’آپ کے ساتھ تمام حاضرین نے سجدۂ شکر ادا کیا۔ سجدہ سے سر اٹھا کر حضرت اقدسؑ نے فرمایاکہ ابھی میں نے سرخ الفاظ میں لکھا دیکھا ہے کہ مبارک۔ یہ گویا قبولیت کا نشان ہے۔‘‘

(تذکرہ صفحہ334-335و حاشیہ، ایڈیشن 2023ء)

حضرت میاں فیروز دین صاحب بیان کرتے ہیں کہ’’حضرت اقدس علیہ السلام نے لیکچر سیالکوٹ میرحسام الدین صاحب کے مکان کی چھت پر لکھا تھا۔ چار دواتیں چاروں دیواروں پر رکھی ہوئی تھیں‘‘ چھوٹی دیوار ہوتی ہے اس پہ دواتیں رکھی ہوئی تھیں اور ٹہلتے ہوئے لکھ دیا کرتے تھے۔ کہتے ہیں

’’قریباً عصر کا وقت تھا حضورؑ ٹہلتے ٹہلتے لکھتے تھے اور کبھی کبھی سجدہ میں بھی گر جاتے تھے‘‘ یعنی اس وقت کوئی خاص مضمون اللہ تعالیٰ سمجھاتا ہوگا تو سجدۂ شکر بجا لاتے تھے۔

لکھتے ہوئے رک کر سجدے میں چلے جاتے تھے۔ ’’یہ تمام نظارہ ‘‘کہتے ہیں ’’ہم نے اپنے مکان کی چھت پر کھڑے ہو کر دیکھا تھا۔ اَوربھی بہت سے لوگ ہمارے مکان پر یہ نظارہ دیکھنے کے لئے جمع ہو گئے تھے۔ ہمارا مکان اس مکان سے نزدیک تھا اور اونچا بھی تھا۔ اس سے

تمام نظارہ دکھائی دیتا تھا‘‘ کہ کس طرح آپؑ کتاب لکھ رہے ہیں اور کس طرح ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کا شکر بھی ادا کر رہے ہیں۔

(روایات اصحاب احمد جلد 4 صفحہ 375)

آپؑ کی شکر گزاری کی صفت

بیان کرتے ہوئے ایک صحابی حضرت خیر الدین صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ’’ایک دفعہ ہمارے گاؤں قادر آباد میں مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام تشریف لائے تو میری والدہ تاج بی بی صاحبہ نے ایک تھال شکر کا بھر کر دیا۔تو حضورؑ نے وہ شکر دادی جان کی جھولی میں ڈال دی‘‘ اس وقت ان کی دادی بیٹھی ہوئی تھیں اُن کو دے دیا’’اور جَزَاکُمُ اللّٰہُ کہا اور ہمارے واسطے دعا فرمائی۔‘‘

(روایات اصحاب احمدجلد3 صفحہ89)

چھوٹی سے چھوٹی چیز پہ بھی شکریہ ادا کیا۔

حاجی محمدالدین صاحب بیان کرتے ہیںکہ ’’ایک مرتبہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق خاکسار کو علم ہوا کہ کسی تقریب پر سیالکوٹ تشریف لا رہے ہیں۔ تاریخ مقررہ پر مَیں بھی بہ شوق زیارت وہاں پہنچا۔ حضورؑ ایک مکان کی اوپر کی منزل میں تشریف فرما تھے اور پروانگان ِشمعِ رسالت ایک ہجوم کی صورت میں نیچے منتظرِ دیدار کھڑے تھے کہ اتنے میں حضرتؑ نیچے تشریف لے آئے اور شرفِ زیارت سے حاضرین کو بہرہ اندوز فرمایا۔ ایک بڈھا جب حضورؑ سے ملا تو دھاڑیں مار کررونے لگا۔ حضورؑ نے اسےتسلی دیتے ہوئے حالات دریافت فرمائے۔ اس نے عرض کی کہ حضور! مَیں حضرت امام مہدی کی آمد تک زندہ رہنے کی دعا کیا کرتا تھا۔ حضرتؑ نے فرمایا: بابا پھر تو آپ کی دعا کو خدا تعالیٰ نے قبول فرمایا۔ اس پر وہ بہت خوش ہوا اور اپنا ایک پوتا حضرتؑ کے پیش کرکے عرض کی کہ اس پر اپنا ہاتھ مبارک پھیریں اور اس کے حق میں دعا فرماویں۔ حضورؑ نے دعا کی اور اوپر تشریف لے گئے۔‘‘ آگے یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا شکر گزاری کا واقعہ بیان کر رہے ہیں۔ یہ تو وہاں ساری تمہید تھی، آگے واقعہ یہ ہے۔ کہتے ہیں کہ

’’جاتے وقت اتفاق سے ‘‘جب آپؑ جا رہے تھے اوپر تو ’’آپؑ کا ایک جوتا جو بالکل سادہ تھا پاؤں سے اتر کر نیچے آ رہا۔‘‘ پاؤں سے نیچے گر گیا ’’جسے خاکسار نے اٹھا کر اپنے ہاتھ سے آپ کے پاؤں میں پہنا دیا جس پر حضور ؑنے متبسّم صورت میں محبت بھرے الفاظ میں فرمایا جَزَاکَ اللّٰہ‘‘ اور بہت شکریہ ادا کیا۔

(روایات اصحاب احمد جلد 5 صفحہ 334)

کوئی موقع بھی آپؑ شکریہ ادا کرنے کا جانے نہیں دیتے تھے ۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام حضرت منشی رستم علی صاحب ؓکو اپنے ایک مکتوب میں لکھتے ہیں:’’منشی رستم علی صاحب سلمہٗ۔ السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ۔ مبلغ پچاس روپے مرسلہ آپ کے بدست میاں امام الدین صاحب پہنچ گئے۔ جس قدر آپ نے اور چوہدری محمد بخش صاحب نے کوشش کی ہے خداوند کریم جل شانہ ٗآپ کو اجر عظیم بخشے اور دنیا اور آخرت میں کامیاب کرے۔ اس جگہ تادم تحریر ہر طرح سے خیریت ہے ‘‘آپؑ نے پھر اپنی اطلاع دی۔

(مکتوبات احمد جلددوم صفحہ467-468)

ہر بات پر ہر ایک سے کوئی چھوٹی سی چیز بھی ہوتی تو آپؑ شکر ادا کیا کرتے تھے۔

ایک واقعہ ہے۔ حضرت میاں میراں بخش صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ خاکسار حضرت اقدس مسیح موعود اور مہدی مسعود علیہ السلام کی بیعت میں قریباً 1897ء یا 98ء میں آیا مگر اپنے والد صاحب سے کچھ عرصہ تک اس امر کا اظہار نہ کیا۔ آخر کب تک پوشیدہ رہ سکتا تھا، بھید کھل گیا تو والد صاحب نے خاکسار کو صاف جواب دے کر گھر سے نکال دیا کہ تم احمدی ہو گئے ہو۔ اب میرے گھر سے نکل جاؤ۔ خاکسار نے خدا رازق پر توکّل کرکے ایک الگ دکان کرائے پر لے لی۔ تنگدستی تو تھی مگر دل میں شوق تھا کہ جس طرح بھی ہو سکے بموجب حیثیت حضرت اقدس علیہ السلام کے لیے ایک پوشاک بنا کر اور اپنے ہاتھ سے سی کر، کیونکہ یہ درزی تھے، حضورؑ کی خدمت میں پیش کی جائے۔ تو اس خیال سے کہتے ہیں مَیں نے ایک کُرتہ ململ کا اور ایک شلوار لٹھے کی اور ایک کوٹ سیاہ رنگ کا اور ایک دستار ململ کی خرید کر اپنے ہاتھ سے سی کر پوشاک تیار کر لی اور قادیان شریف کا کرایہ اِدھر اُدھر سے پکڑ پکڑا کر قادیان پہنچا۔ دوسرے روز جمعہ کا دن تھا اس لیے خیال تھا کہ اگر ہو سکے تو یہ ناچیز اس غریبانہ تحفہ کو آج ہی حضور ؑکی خدمت میں پہنچا دے تو شاید حضورؑ جمعہ کی نماز سے پہلے ہی پہن کر اس غریب کے دل کو خوش کر دیں۔ غرض اس سوچ بچار میں قاضی ضیاء الدین صاحب کی دکان پر پہنچ گیا اور ان کے آگے اپنی دلی خواہش کا اظہار کر دیا۔ وہ سنتے ہی کہنے لگے کہ چل میاں میں تم کو حضورؑ کی خدمت میں پہنچا دیتا ہوں۔ چنانچہ وہ اسی وقت اٹھ کر مجھے حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں لے گئے۔ اس وقت حضور علیہ السلام ایک تخت پوش پر بیٹھے ہوئے تھے اور کچھ لکھ رہے تھے اور خواجہ کمال الدین صاحب تخت پوش کے سامنے ایک چٹائی پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ہم دونوں بھی وہاں خواجہ صاحب کے پاس بیٹھ گئے۔ خواجہ صاحب نے دریافت کیا کہ اس وقت آپ کیسے آئے ؟تو قاضی صاحب نے میری خواہش کا اظہار کر دیا۔ خواجہ صاحب تھوڑی دیر تو خاموش رہے پھر میری طرف مخاطب ہوئے اور کہا کیوں میاں مَیں تمہاری وکالت کر دوں؟ خواجہ صاحب وکیل تھے اس موقع پر بھی انہوں نے اپنے پیشہ وارانہ الفاظ ہی استعمال کیے۔ کہتے ہیں: تو مَیں نے کہا یہ تو آپ کی نہایت مہربانی ہوگی۔ وکالت کردیں۔ اس پر خواجہ صاحب نے مجھ سے وہ کپڑے لے کر حضور علیہ السلام کو پیش کر دئے اور ساتھ ہی یہ عرض بھی کر دی کہ حضور !اس لڑکے کی خواہش ہے کہ حضورؑ ان کپڑوں کو پہن کر جمعہ کی نماز پڑھیں۔ خواجہ صاحب کی یہ بات سن کر حضورؑ فیض گنجور نے کپڑے اٹھا کر پہننے شروع کر دیے مگر جب کوٹ پہنا تو وہ بہت تنگ تھا۔ مَیں نے عرض کی کہ حضور !کوٹ بہت تنگ ہے۔ اگر اس کو اتار دیں تو مَیں اس کو کچھ کھول دوں۔ اُس وقت وہاں تو بہرحال نہیں پہنے ہوں گے، اسی وقت پہن کے آئے ہوں گے۔ حضورؑ اپنے کام چھوڑ کے گئے اور کپڑے پہن کے آئے۔ کہتے ہیں کوٹ جب پہنا تو تنگ تھا تو حضورؑ نے کوٹ اتار کرمجھے دے دیا۔ مَیں نے کہا مَیں ٹھیک کر دیتا ہوں یہ کچھ تنگ ہے۔ کہتے ہیں مَیں اس پر جلدی سے اٹھ کر بازار میں آیا اور درزی کی دکان پر بیٹھ کر کوٹ کی پیٹھ کا سارا دباؤ کھول دیا اور پھر حضورؑ کی خدمت میں حاضر ہوگیا۔ پھر حضورؑ نے پہنا مگر ابھی بھی کوٹ کے بٹن خود بخود حضور ؑکی خواہش کے مطابق نہیں مل سکتے تھے۔ بند نہیں ہو رہے تھے ۔لیکن بہرحال حضورؑ نے میرا دل رکھنے کے لیے کھینچ تان کر بٹن لگا لیے اور کچھ بھی خیال نہیں کیا کہ یہ کپڑے پہننے کے لائق ہیں کہ نہیں۔

(ماخوذ ازروایات اصحاب احمد جلد 1 صفحہ 368-369)

آپؑ نے اس حالت میں پہن کر اس لڑکے کے، جو نیا نیا احمدی ہوا تھا اور تحفہ لے کے آیا تھا اس کے جذبات کا بھی خیال رکھا اور پھر اس کا شکریہ بھی بہت ادا کیا۔

حضرت میاں سیف اللہ صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ’’مَیں ایک دفعہ قادیان گیا۔ کسی شخص نے حضرت اقدس علیہ السلام کے سامنے پچاس ساٹھ روپے کی ڈھیری لگا دی مگر حضرت اقدس علیہ السلام نے اس طرف توجہ بھی نہ کی۔‘‘ عام طور پہ تو شکریہ ادا کیا کرتے تھے لوگوں کے دینے سے لیکن شاید اس میں کوئی خاص وجہ ہو۔ بہرحال کہتے ہیں کہ انہوں نے نقد رقم دی۔ حضور ؑنے کوئی توجہ نہیں دی۔ ’’اتنے میں ایک بڑھیا جو غالباً ہندنی تھی اوراس کے ساتھ ایک بچہ تھا اس نے کپڑے میں گڑ کی ایک ڈھیلی باندھی ہوئی تھی۔ اس عورت نے عرض کی کہ حضور ! یہ بچہ آپ کے لئے گڑ کی ڈھیلی لایا ہے۔ حضورؑ اس کے لئے دعا کریں۔ حضورؑ نے فرمایا بہت اچھا اور بڑے خوش ہوئے اور اس بچہ کے ہاتھ سے وہ گڑ کی ڈھیلی بمع کپڑے کے لے لی اور کندھے پر ڈال لی۔‘‘

(روایات اصحاب احمد جلد 4 صفحہ453)

اب

اس غریب بچے سے وہ معمولی تحفہ بھی لے کر بڑی قدر کی۔ اس کا شکریہ ادا کیا اور اس کے لیے دعا بھی کی۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام احمدی قوم کے نام ایک مکتوب میں فرماتے ہیں:

’’سب سے پہلے مجھے اللہ تعالیٰ کا شکر دل میں جوش مارتا ہے جس نے میری جماعت کو سچی ارادت اور محبت اور ہمدردی عطا فرمائی ہے۔ اگر خدا تعالیٰ کا فضل ان کے ساتھ نہ ہوتا تو یہ توفیق ان کو ہرگز نہ دی جاتی کہ وہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے قدم پر اس درجہ کی اطاعت کرتے کہ باوجود اپنی مالی مشکلات اور کمی آمدن کے اپنی طاقت سے بڑھ کر خدمتِ مالی میں مصروف ہوتے۔ مَیں دعا کرتا ہوں کہ خداتعالیٰ ان سب کے مالوں میں برکت دے اور یہ نصرت اور اعانت جو وہ دینی اغراض کی تکمیل کے لئے کر رہے ہیں خدا تعالیٰ دونوں جہانوں میں ان کی بھلائی کا موجب کرے۔‘‘

(مکتوبات احمد جلد5 صفحہ 365)

پھر نصیحت کرتے ہوئے آپؑ فرماتے ہیں :

’’اللہ تعالیٰ نے جن پر فضل کیا ہے اس کی شکر گزاری یہی ہے کہ اس کی مخلوق کے ساتھ احسان اور سلوک کریں اور اس خداداد فضل پر تکبر نہ کریں اور وحشیوں کی طرح غرباء کو کچل نہ ڈالیں ‘‘

(ملفوظات جلد 7 صفحہ 314، ایڈیشن 2022ء )

یعنی غریبوں کی مدد کی طرف بھی آپؑ نے توجہ دلائی۔

اللہ تعالیٰ سے علم پا کر آپؑ لوگوں کے معاملات کے بارے میں بھی بعض دفعہ پہلے اطلاع دے دیتے تھے

یا مخالفین کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے علم پاکر یہ بتاتے تھے کہ اس کے ساتھ یہ یہ ہو گا۔ لیکن بعض دفعہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کے تحت ان کو پورا ہونے میں وقت لگ جاتا تھا۔ ایسے موقع پر آپؑ بےچین ہو جاتے تھے اور دعاؤں میں لگ جاتے تھے کہ مخالف اس سے شور مچائیں گے لیکن

جب وہ بات پوری ہو جاتی تو آپؑ انتہائی شکر گزاری کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہو جاتے ۔

چنانچہ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں کہ ’’ایک دفعہ میں نے بَسمْبَر داس برادر شَرَمْپَتْ کھتری کے بارہ میں ایک پیشگوئی کی تھی کہ وہ اس مقدمہ فوجداری سے جو اس پر بنا تھا بری تو نہیں ہوگا مگر نصف قید رہ جائے گی۔ بعد اس کے ایسا اتفاق ہوا کہ جب بَسمبرداس نصف قید بھگت کر رہا ہو گیا جیسا کہ پہلے سے پیشگوئی میں بتلایا گیا تھا تو اُس کے وارثوں نے خلاف واقعہ طور پر یہ مشہور کر دیا کہ بَسمبرداس بَری ہو گیا۔ رات کا وقت تھا اور میں اپنی بڑی مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے گیا تھا۔ جب ایک شخص علی محمد نام مُلّا ساکن قادیان نے مسجد میں آکر یہ بیان کیا کہ بسمبر داس بَری ہو گیا ہے اور بازار میں اُس کو مبارکبادیاں مل رہی ہیں تو مجھے یہ خبر سنتے ہی بہت صدمہ پہنچا اور دل میں بیقراری پیدا ہوئی کہ متعصب ہندو اس بات پر حملہ کریں گے کہ تم نے تو یہ خبر دی تھی کہ بسمبرداس بَری نہیں ہوگا۔ اب دیکھو وہ تو بَری ہو گیا ۔ مجھے اِس غم سے ایک ایک رکعت نماز کی ایک ایک سال کے برابر ہو گئی اور جب میں نماز میں کسی رکعت کے بعد سجدہ میں گیا تو اس وقت میرا اضطرار نہایت تک پہنچ گیاتھا ۔تب سجدہ کی حالت میں ہی بلند آواز سے خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا لَا تَخَفْ اِنَّکَ اَنْتَ الْاَعْلٰی۔ یعنی کچھ خوف مت کر تُو ہی غالب ہے۔ پھر مَیں منتظر رہا کہ یہ پیشگوئی کس طرح پوری ہوگی مگر کوئی نشان ظاہر نہ ہوا۔ مَیں بار بار اسی شرمپت سے پوچھتا تھا کہ کیا یہ سچ ہے کہ بسمبرداس بَری ہو گیا ؟تو وہ یہی جواب دیتا تھا کہ وہ درحقیقت بَری ہو گیا ہے۔ مجھے جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت تھی۔‘‘ وہ ہندو یہ کہتا تھا۔’’اور اس گاؤں میں جس سے مَیں کہتا تھا دریافت کرتا وہ یہی کہتا کہ ہم نے بھی سنا ہے کہ وہ بَری ہو گیا ہے۔ اسی طرح قریباً چھ ماہ گزر گئے یا کچھ کم و بیش۔ اور شریر لوگ ٹھٹھا اور ہنسی کرتے تھے جیسا کہ ان کی قدیم سے عادت ہے مگر شرمپت نے کوئی ٹھٹھا اور ہنسی نہیں کی جس سے مجھے یقین ہوا کہ اب تو اس نے شرافت کا برتاؤ مجھ سے کیا ہے مگر پھر بھی مَیں اس کے روبرو نادم ہوتا تھا کہ اس قدر تاکید سے مَیں نے اُس کو اُس کے بھائی کے بَری نہ ہونے کی خبر دی تھی اور اب یہ صورت پیش آئی لیکن تاہم اپنے خدا پر میرا پختہ ایمان تھااور مجھے یقین تھا کہ خدا کوئی نظارۂ قدرت دکھلائے گا اور ممکن ہے کہ بَری ہونے کے بعد پھر ماخوذ ہو جائے۔ مگر یہ مجھے خبر نہ تھی کہ خود یہ خبر بریّت ہی ایک بناوٹ ہے۔‘‘ غلط خبر تھی جو اڑائی گئی تھی۔’’بعد اس کے ایسا اتفاق ہوا کہ صبح کے وقت آٹھ بجے کے قریب بٹا لہ کا ایک تحصیل دار حافظ ہدایت علی ‘‘اس کا’’نام‘‘ تھا’’… بطور دورہ قادیان میں آیا کیونکہ قادیان تحصیل بٹالہ کے متعلق ہے اور وہ ہمارے مکان پر آگیا اور ابھی گھوڑے پر سے نہیں اترا تھا کہ چند ہندو جیسا کہ ان کی رسم ہے اُس کو سلام کرنے کے لئے آگئے اور اُن میں بسمبر داس بھی تھا۔ تب تحصیلدار نے بسمبرداس کو دیکھ کر کہا کہ بسمبرداس ہم اس سے خوش ہوئے کہ تم نے قید سے رہائی پائی مگر افسوس کہ تم بری نہ ہوئے۔ مَیں نے تو اس بات کو سنتے ہی سجدہ شکر کیا اور فی الفور شرمپت کو بلایا کہ تُو کس لئے اتنی مدت تک میرے پاس جھوٹ بولتا رہا کہ بسمبرداس بری ہو گیا اور مجھے ناحق دکھ دیا۔ اس نے جواب دیا کہ ایک معذوری کی وجہ سے یہ جھوٹ بولنا پڑا اور وہ یہ ہےکہ ہماری قوم میں رشتوں اور ناطوں کے وقت ادنیٰ ادنیٰ باتوں میں نکتہ چینیاں ہوتی ہیں اور کسی بد چلنی کے ثابت ہونے سے لڑکیاں ملنی مشکل ہو جاتی ہیں۔ سو اسی معذوری سے میں خلافِ واقعہ کہتا رہا اور خلافِ واقعہ شہرت دی ۔‘‘اور جھوٹ بولتا رہا۔

(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 314تا 315) (براہین احمدیہ حصہ چہارم ، روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 657 حاشیہ در حاشیہ نمبر 4)

(نوٹ: حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتب میں جیسے براہین احمدیہ ،تریاق القلوب ،نزول المسیح وغیرہ یہ نام ’’بشمبرداس‘‘ لکھاہے،صرف حقیقۃ الوحی میں بسمبرداس،یعنی سین سے تحریر فرمایا ہے۔)

حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنے ایک نشان کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’ایک ایسی پیشگوئی چند آریوں کے روبرو جو پنڈت دیانند کے توابع ہیں ‘‘یعنی اتباع اور پیروی کرنے والے ہیں’’پوری ہوئی کہ جس کی کیفیت پر مطلع ہونا ناظرین کے لئے خالی فائدہ سے نہیں۔ سو اگرچہ اس کے لکھنے سے کسی قدر طول ہی ہو لیکن بہ نظر خیر خواہی ان لوگوں کے جو عظمتِ اسلام سے بےخبر ہیں لکھی جاتی ہے اور اس پیشگوئی کے پورےہونے سے پہلے ایک عجیب طور کی مشکلات اور مکروہات پیش آئے۔‘‘ یعنی یہاں بھی آپ کی پیشگوئیاں یہی ہیں کہ اسلام کی عظمت ظاہر ہو۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا دنیا پہ لہرائے۔ فرماتے ہیں :’’آخر خداوند کریم نے ان سب مشکلات کو دور کر کے بتاریخ دہم ستمبر 1883ء روز دوشنبہ اس پیشگوئی کو پورا کیا…‘‘ اس کی تفصیل بیان فرماتے ہیں کہ ’’6 ستمبر 1883ء روز پنج شنبہ خداوند کریم نے عین ضرورت کے وقت میں اس عاجز کی تسلی کے لئے اپنے کلام مبارک کے ذریعہ سے یہ بشارت دی کہ بست وَیَک روپیہ ‘‘یعنی اکیس روپے’’آنے والے ہیں چونکہ اس بشارت میں ایک عجیب بات یہ تھی کہ آنے والے روپیہ کی تعداد سے اطلاع دی گئی اور کسی خاص تعداد سے مطلع کرنا ذات غیب دان کا خاصہ ہے کسی اَور کا کام نہیں ہے۔‘‘ یہ بات معمولی نہیں ہے کہ معین رقم کی اطلاع دی جا رہی ہے کہ اتنی رقم آئے گی اور’’دوسری عجیب بر عجیب یہ بات تھی کہ یہ تعداد غیر معہود طرز پر تھی ‘‘یعنی پہلے کوئی خیال بھی نہیں تھا اس کا ’’کیونکہ قیمت مقررہ کتاب سے اس تعداد کو کچھ تعلق نہیں۔ پس انہیں عجائبات کی وجہ سے یہ الہام قبل از وقوع بعض آریوں کو بتلایا گیا۔ پھر 10 ستمبر 1883ء کو تاکیدی طور پر سہ بارہ الہام ہوا کہ بَسْتْ وَ یَکْ روپیہ آئے ہیں۔ جس الہام سے سمجھا گیا کہ آج اس پیشگوئی کا ظہور ہوجائے گا ۔چنانچہ ابھی الہام پر شاید تین منٹ سے کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزرا ہوگا کہ ایک شخص وزیر سنگھ نامی بیمار دارآیا اور اس نے آتے ہی ایک روپیہ نذر کیا۔ ہر چند علاج معالجہ اس عاجز کا پیشہ نہیں ہے اور اگر اتفاقاً کوئی بیمار آ جاوے تو اگر اس کی دوا یاد ہو تو محض ثواب کی غرض سے للہ فی اللہ دی جاتی ہے۔‘‘ مَیں نے کبھی پیسےنہیں لیے۔ آپؑ فرماتے ہیں ’’لیکن وہ روپیہ اس سے لیا گیا کیونکہ فی الفور خیال آیا کہ یہ اس پیش گوئی کی ایک جز ہے ۔‘‘یعنی کہ اکیس روپے آنے کا جو تھا ’’پھر بعد اس کے ڈاک خانہ میں ایک اپنا معتبر بھیجا گیا اس خیال سے کہ شاید دوسری جز بذریعہ ڈاک خانہ پوری ہو۔ ڈاک خانہ سے ڈاک منشی نے جو ایک ہندو ہے جواب میں یہ کہا کہ میرے پاس صرف ایک منی آرڈر پانچ روپیہ کا جس کے ساتھ ایک کارڈ بھی نتھی ہے ڈیرہ غازی خان سے آیا ہے۔ سو ابھی تک میرے پاس روپیہ موجود نہیں جب آئے گا تو دوں گا۔ اس خبر کے سننے سے سخت حیرانی ہوئی اور وہ اضطراب پیش آیا جو بیان نہیں ہوسکتا ‘‘کیونکہ یہاں آپؑ غیر مسلموں کے سامنے یہ پیشگوئی بیان کر رہے ہیں تاکہ اسلام کی حقّانیت ثابت ہو۔ فرمایا کہ اب مجھےبڑا اضطراب پیدا ہوا ’’چنانچہ یہ عاجز اسی تردّد میں سر بزانو تھا اور اس تصوّر میں تھا کہ پانچ اور ایک مل کر چھ ہوئے۔ اب اکیس کیونکر ہوں گے۔ یا الٰہی یہ کیا ہوا۔ سو اسی استغراق میں تھا کہ یکدفعہ یہ الہام ہوا۔ بَسْتْ وَ یَکْ آئے ہیں اس میں شک نہیں۔ اس الہام پر دو پہر نہیں گزرے ہوں گے کہ اسی روز ایک آریہ کہ جو ڈاک منشی کے پہلے بیان کی خبر سن چکا تھا ڈاک خانہ میں گیا اور اس کو ڈاک منشی نے کسی بات کی تقریب سے خبر دی کہ دراصل بست روپیہ آئے ہیں اور پہلے یوں ہی مونہہ سے نکل گیا تھا جو میں نے پانچ روپیہ کہہ دیا ۔چنانچہ وہی آریہ بیس روپیہ معہ ایک کارڈ کے جو منشی الٰہی بخش صاحب اکونٹنٹ کی طرف سے تھا لے آیا اور معلوم ہوا کہ وہ کارڈ بھی منی آرڈر کے کاغذ سے نتھی نہ تھا اور نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ روپیہ آیا ہوا تھا ۔اور نیز منشی الٰہی بخش صاحب کی تحریر سے جو بحوالہ ڈاک خانہ کے رسید کی تھی یہ بھی معلوم ہوا کہ منی آرڈر 6 ستمبر 1883ء کو یعنی اسی روز جب الہام ہوا قادیان میں پہنچ گیا تھا۔ پس ڈاک منشی کا سارا املاء انشاء غلط نکلا اور حضرت عالم الغیب کا سارا بیان صحیح ثابت ہوا۔ پس اس مبارک دن کی یادداشت کے لئے ایک روپیہ کی شیرینی لے کر بعض آریوں کو بھی دی گئی۔‘‘ آپؑ نے پھر اس خوشی میں آریوں کو کیونکہ بتایا تھا کہ یہ دیکھو اللہ تعالیٰ نے مجھے اس طرح بتایا ہے اور اس خوشی میں پھر ان کو مٹھائی بھی کھلائی ’’فَالْحَمْدُلِلّٰہِ عَلٰی آلَائِہٖ وَنُعَمَائِہِ ظَاھِرِھَا وَبَاطِنِھَا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کی ظاہری اور باطنی نعمتوں پر اللہ تعالیٰ ہی ہر قسم کی حمد اور تعریف کامستحق ہے۔

(براہین احمدیہ حصہ چہارم، روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 623 تا 626 حاشیہ در حاشیہ نمبر 3)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:’’کوئی قوم نہیں جس میں میرے نشان ظاہر نہیں ہوئے۔ اور کوئی فرقہ نہیں جو میرے نشانوں کاگواہ نہیں۔ اگر ان نشانوں کے گواہ دس کروڑ بھی کہیں تو کچھ مبالغہ نہیں ہوگامگر مخالفوں کے حال پر رونا آتا ہے کہ انہوں نے کچھ فائدہ نہ اٹھایا۔ اگر یہ نشان جو اُن کو دکھلائے گئے حضرت عیسیٰ بن مریم کے وقت میں یہودیوں کو دکھلائے جاتے تو وہ ضُرِبَتْ عَلَیْھِمُ الذِّلَّةُ۔‘‘ ان پر ذلت اور مسکینی کی مار ڈالی گئی۔ قرآن شریف میں آیا ہے۔ اس’’کے مصداق نہ ہوتے اور اگر لوط کی قوم ان نشانوں کا مشاہدہ کرتی تو وہ ایک بھاری زلزلہ سے زمین کے نیچے نہ دبائی جاتی مگر افسوس ان دلوں پر کہ وہ پتھر سے بھی زیادہ سخت ثابت ہوئے اور ہر ایک تاریکی سے زیادہ ان کے دل کی تاریکی بڑھ گئی۔ اصل بات یہ ہے کہ جیسا کہ زمانہ نے ہر ایک دنیوی سامان میں ترقی کی ایسا ہی کفر اور بے ایمانی میں بھی ترقی کی۔ پس یہ ترقی یافتہ کفر چاہتا ہے کہ کوئی معمولی عذاب ان پر نازل نہ ہو بلکہ وہ عذاب نازل ہو جو ابتدائے دنیا سے آج تک کبھی نازل نہیں ہوا۔ بہرحال ہم خدا کا ہزار ہزار شکر کرتے ہیں کہ جس روشنی کو مخالفوں نے قبول نہیں کیا اور اندھے رہے، وہی روشنی ہماری بصارت اور معرفت کی زیادت کا موجب ہو گئی۔‘‘

(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 312)

حقیقة الوحی میں یہ آپؑ نے لکھا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں جہاں شکر گزاری کا حقیقی ادراک عطا فرمائے وہاں ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلامِ صادق کی بیعت میں آ کر حقیقی روشنی، بصارت اور معرفت بھی عطا فرمائے ۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 21؍اگست2026ء

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button