خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 21؍اگست2026ء
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی سیرت کا ایک روشن پہلو یہ بھی ہے کہ آپؑ کی طبیعت میں ذرّہ نوازی اور قدردانی اس قدر تھی کہ بظاہر چھوٹی چھوٹی خدمت اور بات پر شکریہ ادا فرمایا کرتے تھے
بازاری عورتوں کے عمل کو دیکھ کر بھی آپؑ کی نظر خدا تعالیٰ کا حق ادا کرنے کی طرف پھری اور بڑے دَرد سے اس بات کا اظہار فرمایا کہ یہ لوگ چند روپوں کے لیے اپنی نیندیں برباد کرتے ہیں اور ہم اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں کا بھی شکر ادا نہیں کرتے اور نوافل اور نمازوں کی طرف توجہ نہیں دیتے اور جاگ نہیں سکتے۔ بلکہ بہت سے ایسے ہیں جو فرض نمازوں کی ادائیگی میں بھی سستی کر جاتے ہیں۔ فجر کی نماز پہ اٹھنا ہمارے لیے مشکل ہو جاتا ہے۔پس ہر احمدی کو اس حوالے سے اپنا جائزہ لینا چاہیے
حضورؑ فرمایا کرتے تھے کہ اسباب سے کام لینا بھی اللہ تعالیٰ کی نعمت کا شکر ادا کرنا ہے
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب براہینِ احمدیہ تصنیف فرمائی تو اس کی مالی اعانت کرنے والوں کے نام اس کتاب میں لکھے اور ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے دعا کی تحریک فرمائی اور اس دعائیہ فہرست میں ان کے نام بھی ہیں جنہوں نے پانچ روپے، دو روپے، یہاں تک کہ دو آنے بھی دیے
کوئی موقع آپؑ ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے جب اپنے ساتھیوں کا، ذرا سا بھی کام کرنے والوں کاشکر نہ ادا کرتے ہوں اور اپنی ساری محنت کا جو آپؑ نےاپنے ساتھیوں پر کی کبھی بھی اظہار نہیں کیا بلکہ تعریف کر رہے ہیں کہ انہوں نے میری مدد کی اور یہ کام میرے لیے آسان ہو گئے
خدام کے چھوٹے چھوٹے کام کی ہمیشہ قدر فرماتے اور ان کی دلجوئی فرماتے۔ ان کی محنت سے زیادہ دیتے۔ جن ایام میں کوئی کتاب یا رسالہ جلدی اور ضروری چھاپنا اور شائع کرنا مقصود ہوتا اور راتوں کو کام ہوا کرتا تھا تو جو لوگ حضور کے ساتھ عملہ پریس یا کاتب کام کرتے ان کے لیے دودھ اور دوسری ضروری چیزیں خاص توجہ سے مہیا فرماتے اور معمولی سے زیادہ اجرتیں دیتے اور باایں ان کی کارگذاری پر نہ صرف خوشی بلکہ شکریہ کا اظہار فرماتے (ایک روایت)
’’ انبیاء کا دل بڑا شکر گذار ہوتا ہے۔ ایک معمولی سے معمولی بات پر بھی بڑا احسان محسوس کرتے ہیں۔ ‘‘ (حضرت مصلح موعودؓ)
’’مَیں کئی بار آپؑ کو کام کرتے دیکھ کر سویا۔اور جب کہیں آنکھ کھلی تو کام ہی کرتے دیکھا حتّٰی کہ صبح ہو گئی۔ دوسرے لوگ اگرچہ خدا کے لیے کام کرتے تھے لیکن آپ علیہ السلام ان کی تکلیف کو محسوس کرتے تھے۔ کیوں؟ اس لیے کہ انبیاء کے دل میں احسان کا بہت احساس ہوتا ہے‘‘ (حضرت مصلح موعودؓ)
حضرت صاحبؑ کے لیے جب کوئی شخص تحفہ لاتا تو آپ بہت شکر گزار ہوتے تھے اور گھر میں بھی اس کے اخلاص کے متعلق ذکر فرمایا کرتے تھے اور
اظہار کیا کرتے تھے کہ فلاں شخص نے یہ چیز بھیجی ہے (ایک روایت)
آپؑ چھوٹے چھوٹے تحفوں پر شکر گزاری کا اظہار فرمایا کرتے تھے
اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے کیسے اعلیٰ انتظامات روحانی و جسمانی مہیا کیے ہیں کہ انسان ان کا شکر بھی ادا ہی نہیں کر سکتا۔ (حضرت مسیح موعودؑ)
یہ سوال لوگ اٹھاتے ہیں کہ شاید حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کے خاندان کے تمام افراد یا خلفاء پر چندہ فرض نہیں ہے اور وہ مستثنیٰ ہیں۔تو واضح ہو کہ یہ استثنا صرف آپؑ کے پانچ بچوں کے لیے تھی۔ نہ بیٹوں کی بیویوں کے لیے۔ نہ بیٹیوں کے خاوندوں کے لیے۔ نہ ان کی اولاد کے لیے۔ اور جو بھی وصیت کرے گا اس کو بہرحال وصیت کا چندہ دینا پڑے گا اور اپنا حصہ جائیداد بھی دینا پڑے گا اور اسی طرح چندہ دینا پڑے گا جس طرح دوسرے موصی دیتے ہیں یہ بھی واضح ہو کہ نہ کوئی خلیفہ حضرت مصلح موعودؓ کے بعد اس سے مستثنیٰ ہے بلکہ سب نے وصیت کی ہے اور اپنا وصیت کا چندہ ادا کرتے ہیں اور اسی طرح باقی تحریکات جو خلفاء کرتے ہیں ان میں سب نے حصہ لیا اور اپنی استطاعت کے مطابق بڑھ چڑھ کے حصہ لیا۔ کوئی استثنا نہیں نہ کسی خلیفہ کو نہ خاندان کے کسی فرد کو۔ یہ صرف ان پانچ بچوں کو استثنا تھا ۔یہ وضاحت میں اس لیے کر رہا ہوں کہ بعض جگہ سے مجھے ایک سوال پہنچا تھا
شکرگزاری کے حوالے سے سیدنا حضرت اقدس مسیح موعودؑ کا پاکیزہ عملی نمونہ
أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾
اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾
اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ﴿۷﴾
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام اس گہرائی سے اپنے اصحابؓ کو شکر گزاری کی طرف توجہ دلاتے تھے کہ اس بارے میں حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانیؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک موقع پر ان سے فرمایا کہ’’ آج تمہارا اور میراں بخش سودائی کا کیا جھگڑا ہو رہا تھا؟‘‘ وہاں ایک مجذوب سا آدمی تھا، اس سے پیر صاحبؓ نے کوئی بحث کی ہوگی۔ تو کہتے ہیں’’ مَیں ڈر گیا کہ خدا جانے حضرت اقدس کیا فرما دیں گے۔ ہماری ساری باتیں سنی ہو نگی۔ مَیں نے ڈرتے ڈرتے سب حال سنایا۔ فرمایا یہ سودائی مجنون مرفوع القلم ہوتے ہیں ‘‘ یعنی ایسا آدمی جس کی کوئی سوچ نہیں ہوتی اور جس پر شریعت کے مطابق نیک اور بداعمال بھی لکھے نہیں جاتے اور اس کے گناہ پر کوئی گرفت بھی نہیں ہوتی۔تو آپؑ نے فرمایا کہ یہ ایسے لوگ ہوتے ہیں’’ یہ ایسی حالت میں جو کچھ کہیں یا جو کریں تو ان کی کچھ بھی پکڑ نہیں ہے۔‘‘ سوچ ہی نہیں ہے ان کی، پکڑ کیا ہو گی۔ پکڑ تو اس کی ہوتی ہےجس میں کوئی عقل ہو۔ آپؑ نے فرمایا کہ ’’ایسے لوگوں کو دنیا مجذوب، ولی اللہ اور قطب، صاحبِ خدمت کہاکرتی ہے۔‘‘ تو یہ غلط کہتی ہے۔’’ لیکن دراصل یہ لوگ مجذوب اور ولی اللہ نہیں ہوتے۔ یہ لوگ محروم ہوتے ہیں یعنی تمام نعماء الٰہیہ سے محروم رہتے ہیں۔ چنانچہ عقل سے، ذہن سے، لباس سے،کھانے پینے کی لذّت، بیوی بچوں کی اور ان کی پرورش کی نعمتوں اور ثواب سے محروم ‘‘ہوتے ہیں۔ ’’اللہ تعالیٰ کی شناخت اور معرفت سے محروم‘‘ ہوتے ہیں۔’’ اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کے علوم سے محروم‘‘ ہوتے ہیں۔’’رسول نبی کی شناخت اور ان کی اتباع اور پیروی سے محروم ‘‘ہوتے ہیں۔’’ قرآن شریف کی تلاوت اور اس کے معانی اور اَسرار اور معارف اور نکات سے محروم۔شریعت و طریقت سے محروم۔ پھر نماز جو معراج المومنین ہے اور روزہ جس کی خاص اللہ تعالیٰ ہی جزا ہے اور حج کے طریقوں اور زکوٰة اور پھر ان کے حصولِ ثواب اور درجات سے محروم ہیں۔ تم کو ایسے شخصوں کو دیکھ کر‘‘ بجائے ان سے بحث کرنے کے، لڑنے کے ’’خدا تعالیٰ کا شکر کرنا چاہیے کہ تم کو تمام نعمتوں اور فیوضوں سے متمتّع فرمایا ‘‘ اللہ تعالیٰ نے’’ اور محروم نہیں کیا۔عقل دی ۔ذہن دیا۔قرآن شریف کی تلاوت اور اس کا علم اور اَسرار و معارف و نکات سے بہرہ وَر کیا۔ ہر ایک چیز حلال و حرام کی تمیز دی۔ رسولوں کی شناخت کی توفیق دی۔ اپنی ذات اور صفات کا علم دیا۔‘‘
(تذکرة المہدی از پیر سراج الحق صاحب نعمانیؓ حصہ اول صفحہ 182۔183)
پس جہاں آپؑ نے مرفوع القلم لوگوں سے بحث نہ کرنے کی بلکہ حسنِ سلوک کرنے کی تلقین فرمائی وہاں اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں پر شکر گزاری کی تعلیم بھی دی کہ ہمیں ایسے لوگوں کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں سب نعمتیں عطا فرمائی ہیں۔
اسی طرح حضرت ملک حسن محمد صاحبؓ کہتے ہیں کہ ’’حضورؑ فجر کی نماز کے لیے تشریف لائے۔ بعد نماز حضورؑ نے خدام سے مخاطب ہو کر فرمایا۔ رات کو سارنگیاں اور طنبورے کہاں بجتے رہے‘‘ ہیں؟باجے گانے قریب کہیں ہمسائیگی میں ہوتے رہے ہیں ’’کسی نے عرض کیا حضور !مرزا نظام الدین صاحب نے کنچنی کو بلایا ہے‘‘ ناچنے والی کو۔ وہ اس قسم کی حرکتیں کرتے تھے ’’اور بیس(20) روپے رات کا وعدہ کیا ہے۔‘‘ بیس روپے اس کو دینے تھے اور’’ رات بھر مرزا نظام الدین کے ہاں ناچ ہوتا رہا ہے۔ حضور پُرنورؑ نے لمبی آہ بھر کر فرمایا۔اللہ !یہ کس قدر نمک حلال ہے‘‘ یعنی وہ کنچنی۔ فرمایا کہ یہ تو نمک حلال ہے کہ ’’بیس(20) روپے کے عوض میں ساری رات ناچتی گاتی رہی اور جاگی رہی ہے
ہم اپنے حقیقی خالق و مالک کے لیے ایک دو گھنٹے بھی نہیں جاگ سکتے جس نے ہمیں بے شمار نعمتوں سے متمتّع فرمایا ہوا ہے
اور ان فقروں کو دو تین دفعہ‘‘ آپؑ نے’’ دہرایا۔‘‘
(روایات اصحاب احمدؑ جلد 3 صفحہ 278)
ان بازاری عورتوں کے عمل کو دیکھ کر بھی آپؑ کی نظر خدا تعالیٰ کا حق ادا کرنے کی طرف پھری اور بڑے دَرد سے اس بات کا اظہار فرمایا کہ یہ لوگ چند روپوں کے لیے اپنی نیندیں برباد کرتے ہیں اور ہم اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں کا بھی شکر ادا نہیں کرتے اور نوافل اور نمازوں کی طرف توجہ نہیں دیتے اور جاگ نہیں سکتے بلکہ بہت سے ایسے ہیں جو فرض نمازوں کی ادائیگی میں بھی سستی کر جاتے ہیں۔ فجر کی نماز پہ اٹھنا ہمارے لیے مشکل ہو جاتا ہے۔پس ہر احمدی کو اس حوالے سے اپنا جائزہ لینا چاہیے کہ کس حد تک ہم اللہ تعالیٰ کی شکرگزاری کا حق ادا کر رہے ہیں۔
حضورؑ کے کھانا کھانے کے وقت شکر گزاری
کا نقشہ حضرت شیخ محمد اسماعیل صاحبؓ سرساوی یوں بیان کرتے ہیں کہ ’’حضورؑ کی عادت تھی کہ حضورؑ کھانا کھاتے وقت سُبْحَانَ اللّٰہِ، اَلْحَمْدُلِلّٰہِ کہا کرتے تھے اور یوں کھاتے تھے جیسے کسی چیز کی تلاش کر رہے ہیں۔‘‘
(روایات اصحاب احمدؑ جلد2صفحہ413)
یعنی اس دوران بھی ہر لقمہ پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد کر کے آپؑ شکر گزاری کرتے تھے۔
حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس بارے میں فرمایا کہ حضور’’ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کو بھی ہم نے دیکھا ہے۔ آپؑ کا یہ طریق تھا کہ جب آپؑ روٹی کھاتے تو روٹی کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا توڑ کر اپنے منہ میں ڈال لیتے اور اس وقت تک کہ دانت اس کو چبا سکیں اچھی طرح چباتے رہتے۔ آپؑ کی عادت بڑا لقمہ لینے کی نہیں تھی بلکہ آپؑ ہمیشہ چھوٹا لقمہ لیتے اور جہاں اس پہلے لقمہ کو دیر تک چباتے رہتے وہاں روٹی کا ایک اَور ٹکڑا لے کر اپنے ہاتھ میں ملتے جاتے اور ساتھ ہی سبحان اللہ سبحان اللہ کہتے جاتے۔ کچھ دیر کے بعد اس میں سے کوئی ٹکڑا سالن لگا کر منہ میں ڈال لیتے۔‘‘
(تفسیر کبیر جلد 9 صفحہ 261-262 ایڈیشن 2023ء)
حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ ’’مجھے بوجہ کمسن ہونے کے نیز اس لیے بھی کہ حضرت اقدس ؑمیرے والد حضرت ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب کو اپنے گھر میں ہی بحیثیت مہمان ٹھہرایا کرتے تھے اور ہم گھر میں ایسے ہی رہتے تھے جیسے ایک کنبہ کے افراد۔ ہم بے تکلفی سے اندر باہر آیا جایا کرتے تھے اور حضورؑ کے گھر میں ہی سویا کرتے تھے۔‘‘ کہتے ہیں کہ’’ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جونہی علاقہ میں یا شہر میں طاعون نمودار ہوتی تو حضورؑ نہ صرف اپنے گھر کی صفائی کا حکم دیتے بلکہ بورڈنگ ہاؤس کی صفائی کے متعلق بھی اہتمام فرماتے اور ایسا ہی تمام احباب کو حکم دیتے کہ اپنے گھروں میں گندھک اور آگ اور فینائل اور گُوگل وغیرہ۔ ‘‘یہ گُوگل ایک درخت کی گوند ہوتی ہے جو جراثیم مارنے کے لیے، دھونی کے لیے استعمال ہوتی ہے ’’اشیاء سے جراثیم کو ہلاک کرنے کا انتظام کیا جائے۔
حضورؑ فرمایا کرتے تھے کہ اسباب سے کام لینا بھی اللہ تعالیٰ کی نعمت کا شکر ادا کرنا ہے۔ ‘‘
یہ بھی اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے اور اس کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس نے ایسی چیزیں پیدا کی ہیں جو ان وباؤں میں ان بیماریوں کا توڑ ہیں ماحول میں جو ایک Pollution ہو جاتی ہے ،گندگی پائی جاتی ہے یا زہر پھیل جاتا ہے اس کو صاف کرنے کے لیے۔ آپؑ فرماتے تھے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی نعمت کا یہ بھی شکر ادا کرنا چاہیے ’’اور اس کے حکم کی تعمیل کے مترادف ہے اور ترکِ اسباب شریعت الٰہیہ کے خلاف ہے۔‘‘ یعنی کہ اسباب کو استعمال نہ کرنا یہ بھی شریعت کے خلاف ہے۔’’ توکّل کا مقام اس کے بعد ہے۔یعنی یہ کہ
اسباب کو اختیار کر کے انہی پر بھروسہ نہ کیا جائے بلکہ سچی معرفت یہ ہے کہ اسباب کے پیچھے خدا تعالیٰ کے ہاتھ کو دیکھا جائے۔‘‘
(روایات اصحاب احمد ؑجلد5 صفحہ35) (اردو لغت جلد 16 صفحہ 304 اردو بورڈ کراچی)
کہ یہ جو میں کر رہا ہوں یہ بھی اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی چیزیں ہیں اور اس میں اللہ تعالیٰ ہمارے لیے بہتری کے سامان پیدا فرمائے اور اس پر شکر ادا کرو۔ اگر اس طرح انسان سوچے تو ہر وقت اللہ تعالیٰ کی شکرگزاری کرتا رہے۔
حضرت محمد ابراہیم صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ’’ ایک دفعہ جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام 1904ء میں مقدمہ کرم دین والے کے واسطے گورداسپور میں تشریف فرما تھے ‘‘تو یہ کہتے ہیں’’ یہ عاجز بھی ایک مہینے کے لیے گورداسپور حضورؑ کی خدمت میں رہا۔ ایک دن ایک دوست ملتان کے رہنے والے تازہ پکی ہوئی کھجوریں لائے۔ کسی دوست نے کہا کہ یہ گرم ہوتی ہیں۔ وہ صاحب جو کھجوریں لائے تھے کہنے لگے کہ جتنی چاہو یہ کھجوریں کھا لو اوپر سے تھوڑا سا پیاز کھا لو کوئی تکلیف نہیں ہو گی۔‘‘ یہ بھی پرانے زمانہ میں بزرگوں کے اپنے ایک علاج کے ٹوٹکے ہوتے تھے کہ گرم چیز کوئی کھا لی ہے تو پیاز کھا لو اس کا اثر زائل ہو جائے گا۔’’ حضرت مسیح موعودؑ فرمانے لگے کہ اللہ تعالیٰ نے خوب سامان کیا ہوا ہے کہ ہر ایک چیز کا مصلح بھی موجود ہوتا ہے‘‘ یعنی اس کے اثرات سے بچانے کے لیے ایک دوسری چیز بھی موجود ہے۔ فرمایا کہ’’ آم جتنے چاہو کھا لو‘‘ شوگر کے مریضوںکو کہتے ہیں آم نہیں کھانے چاہئیں میٹھا بہت ہوتا ہے۔’’ اوپر سے تھوڑے سے جامن کھا لو۔‘‘ جامن جو ہیں یہ بھی شوگر کے مریض کا علاج ہے۔’’ کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔ کیلا‘‘ ہے اس کے بھی نقصانات ہیں فائدے بھی ہیں تو۔’’ جتنا چاہو کھا لو اوپر سے تھوڑے سے کچے چاول چبا لو۔ سب ہضم ہو جائیں گے۔ اس پر
حضور ؑنے ایک تقریر فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے کیسے اعلیٰ انتظامات روحانی و جسمانی مہیا کیے ہیں کہ انسان ان کا شکر بھی ادا ہی نہیں کر سکتا۔‘‘
(روایات اصحاب احمد ؑجلد 2 صفحہ 172)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی تصنیف تذکرة الشہادتین کو تحریر کرنے کے وقت بیماری سے شفا پانے پر شکر کا اظہار کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں: ’’جب مَیں نے اس کتاب کو لکھنا شروع کیا تو میرا ارادہ تھا کہ قبل اس کے جو 16؍اکتوبر 1903ءکو بمقام گورداسپور ایک مقدمہ پر جاؤں جو ایک مخالف کی طرف سے فوجداری میں میرے پر دائر ہے یہ رسالہ تالیف کر لوں اور اس کو ساتھ لے جاؤں۔ تو ایسا اتفاق ہوا کہ مجھے درد گردہ سخت پیدا ہوا۔ مَیں نے خیال کیا کہ یہ کام ناتمام رہ گیا۔ صرف دو چار دن ہیں۔ اگر میں اسی طرح درد گردہ میں مبتلا رہا جو ایک مہلک بیماری ہے تو یہ تالیف نہیں ہو سکے گا۔ تب خدا تعالیٰ نے مجھے دعا کی طرف توجہ دلائی۔ مَیں نے رات کے وقت میں جبکہ تین گھنٹے کے قریب بارہ بجے کے بعد رات گزر چکی تھی اپنے گھر کے لوگوں سے کہا کہ اب میں دعا کرتا ہوں تم آمین کہو۔‘‘سارے گھر والوں کو اکٹھا کر لیا۔’’ سو میں نے اسی دردناک حالت میں صاحبزادہ مولوی عبداللطیف کے تصوّر سے دعا کی کہ یا الٰہی اس مرحوم کے لئے میں اس کو لکھنا چاہتا تھا ‘‘یہ کتاب۔ کہتے ہیں جب مَیں نے یہ دعا کی ’’تو ساتھ ہی مجھے غنودگی ہوئی اور الہام ہوا۔ سَلَامٌ قَوْلًا مِنْ رَبٍّ رَحِیْمٍ۔ یعنی سلامتی اور عافیت ہے۔ یہ خدائے رحیم کا کلام ہے۔ پس قسم ہے مجھے اُس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ ابھی صبح کے چھ نہیں بجے تھے کہ مَیں بالکل تندرست ہو گیا اور اُسی روز نصف کے قریب کتاب کو لکھ لیا۔ فَالْحَمْدُلِلّٰہ ِعَلٰی ذَالِکَ۔
(تذکرۃ الشہادتین روحانی خزائن جلد20 صفحہ74-75)
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی سیرت کا ایک روشن پہلو یہ بھی ہے کہ آپؑ کی طبیعت میں ذرّہ نوازی اور قدردانی اس قدر تھی کہ بظاہر چھوٹی چھوٹی خدمت اور بات پر شکریہ ادا فرمایا کرتے تھے۔
حضرت مولوی عبدالکریم صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ’’ اس ہفتہ میں‘‘۔ جب بیان کر رہے ہیں اس وقت کی کہ’’ سب سے عجیب اور دلچسپ بات جو واقع ہوئی اور جس نے ہمارے ایمانوں کو بڑی قوّت بخشی وہ ایک چٹھی کا حضرت کے نام آنا تھا۔ اس میں پختہ ثبوت اور تفصیل سے لکھا ہے کہ جلال آباد (علاقہ کابل) کے علاقہ میں یوزآسف نبی کا چبوترا موجود ہے اور وہاں مشہور ہے کہ دو ہزار برس ہوئے کہ یہ نبی شام سے یہاں آیا تھا اور سرکار کابل کی طرف سے کچھ جاگیر بھی اس چبوترہ کے نام ہے۔ زیادہ تفصیل کا محل نہیں۔ ‘‘یہ لکھتے ہیں مولوی صاحبؓ کہ ’’اس خط سے حضرت اقدس اس قدر خوش ہوئے کہ‘‘ آپؑ نے فرمایا۔ اس خوشی میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ’’فرمایا اللہ تعالیٰ گواہ اور علیم ہے کہ اگر مجھے کوئی کروڑوں روپے لا دیتا تو مَیں کبھی اتنا خوش نہ ہوتا جیسا اس خط نے مجھے خوشی بخشی ہے۔‘‘ مولوی عبدالکریم صاحبؓ کہتے ہیں کہ’’ برادران! دینی بات پر یہ خوشی کیا یہ من جانب اللہ ہونے کا نشان نہیں؟ کون ہے آج جو اعلائے کلمة اللہ کی باتوں پر ایسی خوشی کرے؟مَیں اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مَیں اس وقت حضرت کی خوشی کو دیکھ کر اور اندازہ کر کے اپنے دل میں سخت شرمندہ ہوتا تھا کہ مَیں بھی اگرچہ خوش ہوں اور اوراحباب بھی خوشیاں منا رہے ہیں کہ باطل کی شکست کے لیے ایک اَور راہ نکل آئی اور اب مسیح علیہ السلام کی رفتار کا پورا نقشہ مل گیا‘‘ لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خوشی کا مقابلہ ہی کوئی نہیں تھا۔
(ماخوذ از الحکم جلد 3 نمبر 24 مؤرخہ 10؍جولائی 1899ء صفحہ 3کالم1)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب براہینِ احمدیہ تصنیف فرمائی تو اس کی مالی اعانت کرنے والوں کے نام اس کتاب میں لکھے اور ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے دعا کی تحریک فرمائی اور اس دعائیہ فہرست میں ان کے نام بھی ہیں جنہوں نے پانچ روپے، دو روپے، یہاں تک کہ دو آنے بھی دیے۔
حضورؑ تحریر فرماتے ہیں:’’ اس خداوندِ عالَم کا کیا کیا شکر ادا کیا جائے کہ جس نے اوّل مجھ ناچیز کو محض اپنے فضل اور کرم اور عنایت غیبی سے اس کتاب کی تالیف اور تصنیف کی توفیق بخشی اور پھر اس تصنیف کے شائع کرنے اور پھیلانے اور چھپوانے کے لیے اسلام کے عمائد اور بزرگوں اور اکابر اور امیروں اور دیگر بھائیوں، مومنوں اور مسلمانوں کو شائق اور راغب اور متوجہ کر دیا۔ پس اس جگہ ان تمام حضرات معاونین کا شکریہ کرنا بھی واجبات سے ہے کہ جن کی کریمانہ توجہات سے میرے مقاصدِ دینی ضائع ہونے سے سلامت رہے اور میری محنتیں برباد جانے سے بچ رہیں۔ مَیں ان صاحبوں کی اعانتوں سے ایسا ممنون ہوں کہ میرے پاس وہ الفاظ نہیں کہ جن سے مَیں ان کا شکر ادا کر سکوں۔ بالخصوص جب مَیں دیکھتا ہوں کہ بعض صاحبوں نے اس کارِ خیر کی تائید میں بڑھ بڑھ کے قدم رکھے ہیں اور بعض نے زائد اعانتوں کے لئے اور بھی مواعید فرمائے ہیں تو یہ میری ممنونی اور احسان مندی اَور بھی زیادہ ہوجاتی ہے۔ ‘‘پھر آپؑ نے ان اعانت کرنے والوں کے نام بھی لکھے ہیں جنہوں نے مددفرمائی تھی اور آپؑ نے فرمایا کہ ’’مَیں نے… اسماء مبارک ان تمام مردانِ اہلِ ہمت اور اولی العزم کے کہ جنہوں نے خریداری اور اعانت طبع اس کتاب میں کچھ کچھ عنایت فرمایا مع رقوم عنایت شدہ ان کی کے زیب تحریر کئے ہیں‘‘ اور ایسے آپؑ نے ساروں کے نام لکھے اور آپؑ نے فرمایا’’ اور ایسا ہی آئندہ بھی تا اختتام طبع کتاب عمل درآمد رہے گا کہ‘‘ یعنی مَیں نام لکھتا رہوں گا’’تا جب تک صفحۂ روزگار میں نقش اِفادہ اور اِفاضہ اس کتاب کاباقی رہے۔‘‘ جب تک لوگ اس کتاب سے فیض پاتے رہیں گے یہ نام لکھے جائیں گے تاکہ لوگ ان کے لیے دعا کرتے رہیں کیونکہ آپؑ نے فرمایا کہ اس کتاب کا (اِفادہ اور اِفاضہ) باقی رہے ’’ہر یک مستفیض کہ جس کا اس کتاب سے وقت خوش ہو مجھ کو اور میرے معاونین کو دعائے خیر سے یاد کرے۔‘‘ (براہین احمدیہ حصہ اوّل روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 5) جو بھی اس سے فائدہ اٹھائے وہ مجھے اور معاونین کے لیے دعا کرتا رہے۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے ایک کتاب تصنیف فرمائی جس کا نام مِنَنُ الرحمان رکھا اور اس میں آپؑ نے ثابت فرمایا کہ عربی زبان اُمُّ الْاَلْسِنَةہے۔ یعنی تمام زبانوں کی ماں ہے اور اس سلسلہ میں
جن احباب نے کچھ حوالہ جات نکالنے میں آپؑ کی مدد کی ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے
بیان فرماتے ہیں:’’ ہم اس جگہ اپنے ان دوستوں کا شکر ادا کرنے سے رہ نہیں سکتے جنہوں نے ہمارے اس کام میں زبانوں کا اشتراک ثابت کرنے کے لئے مدد دی ہے۔ ہم نہایت خوشی سے اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ
ہمارے مخلص دوستوں نے اشتراک السنہ ثابت کرنے کے لیے وہ جان فشانی کی ہے جو یقیناً اُس وقت تک اِس صفحۂ دنیا میں یادگار رہے گی جب تک کہ یہ دنیا آباد رہے۔
اِن مردانِ خدا نے بڑی بہادری سے اپنے عزیز وقتوں کو ہمیں دیا ہے اور دن رات بڑی محنت اور عرق ریزی اٹھا کر اس عظیم الشان کام کو انجام دے دیا ہے۔ مَیں جانتا ہوں کہ ان کو جناب الٰہی میں بڑا ہی ثواب ہوگا کیونکہ وہ ایک ایسے جنگ میں شریک ہوئے جس میں عنقریب اسلام کی طرف سے فتح کے نقارے بجیں گے۔ پس ہر ایک ان میں سے الٰہی تمغہ پانے کا مستحق ہے۔ میں اس کیفیت کو بیان نہیں کر سکتا کہ وہ کیونکر ہریک جلسہ میں اشتراک نکالنے کے لئے اندر ہی اندر صدہا کوس نکل جاتے تھے اور پھر کیوں کر کامیابی کے ساتھ واپس آ کر کسی لفظ مشترک کا تحفہ پیش کرتے تھے۔ یہاں تک کہ اسی طرح دنیا کی زبانیں ہمارے پاس جمع ہو گئیں۔ میں کبھی اس کو فراموش نہیں کروں گا کہ اس عظیم الشان کام میں ہمارے مخلص دوستوں نے وہ مدد دی جو میرے پاس وہ الفاظ نہیں جن کے ذریعہ سے مَیں اس کا اندازہ بیان کر سکوں اور مَیں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ یہ ان کی محنتیں قبول فرماوے اور ان کو اپنے لئے قبول کر لیوے اور گندی زیست سے ہمیشہ دور اور محفوظ رکھے اور اپنا انس اورشوق بخشے اور ان کے ساتھ ہو۔ آمین ثم آمین…‘‘
پھر آپؑ نے ان لوگوں کے نام بھی لکھے ہیں جنہوں نے مدد کی۔ جن میں آپؑ نے حضرت حکیم مولوی نورالدین صاحبؓ کو سب سے پہلے فرمایا۔ پھر حضرت مولوی عبدالکریم صاحبؓ اور اسی طرح اَور بہت سے صحابہؓ ہیں۔ آپؑ فرماتے ہیں کہ ’’خدا تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ کس کی کوششیں اس کام میں زیادہ ہیں اور وہ کسی مخلص کی محنت کو ضائع نہیں کرے گا مگر جہاں تک ہمارا علم اور رویت ہمیں جتلاتا ہے وہ یہ ہے کہ سب سے زیادہ کوشش اخویم حکیم مولوی نوردین صاحب اور اخویم مولوی عبدالکریم صاحب کی ہیں جو تمام تعلقات چھوڑ کر کئی مہینوں سے اس کام کے لئے میرے پاس موجود ہیں اور حضرت مولوی نور دین صاحب نے نہ صرف اتنی ہی مدد دی بلکہ اس کام کے لئے عمدہ عمدہ کتابیں انگریزی اپنی قیمت سے خرید کر منگوا دیں اور اسی مطلب کے لیے قیمتی کتابوں کاذخیرہ اکٹھا کیا۔ جَزَاھُمُ اللّٰہُ خَیْرًا۔ وَاللّٰہُ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ انہیں بہتر جزا دے اور اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں کااجر ضائع نہیں کرتا۔
(منن الرحمٰن ، روحانی خزائن جلد9 صفحہ 143-144)
حضرت اقدسؑ میاں منظور محمد صاحبؓ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:’’ بطور شکر احسان باری تعالیٰ کے اس بات کا ذکر کرنا واجبات سے ہے کہ میرے اہم کام تحریر تالیفات میں خدا تعالیٰ کے فضل نے مجھے ایک عمدہ اور قابل قدر مخلص دیا ہے یعنی عزیزی میاں منظور محمد کاپی نویس جو نہایت خوشخط ہے جو نہ دنیا کے لئے بلکہ محض دین کی محبت سے کام کرتا ہے اور اپنے وطن سے ہجرت کر کے اسی جگہ قادیان میں اقامت اختیار کی ہے۔اور یہ خدا تعالیٰ کی بڑی عنایت ہے کہ میری مرضی کے موافق ایسا مخلص سرگرم مجھے میسّر آیا ہے کہ مَیں ہر ایک وقت دن کو یا رات کو کاپی نویسی کی خدمت اس سے لیتا ہوں۔ اور وہ پوری جان فشانی سے خدا تعالیٰ کی رضا مندی کے لئے اس خدمت کو انجام دیتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ اس روحانی جنگ کے وقت میں میری طرف سے دشمنوں کو شکست دینے والے رسالوں کے ذریعہ سے تاڑ تاڑ مخالفوں پر فیر ہو رہے ہیں اور درحقیقت ایسے مؤیّد اسباب میسّر کر دینا یہ بھی خدا تعالیٰ کا ایک نشان ہے جس طرف سے دیکھا جائے تمام نیک اسباب میرے لیے میسّر کئے گئے ہیں اور تحریر میں مجھے وہ طاقت دی گئی کہ گویا میں نہیں بلکہ فرشتے لکھتے جاتے ہیں گو بظاہر میرے ہی ہاتھ ہیں۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 546ایڈیشن 2019ء )
کوئی موقع آپؑ ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے جب اپنے ساتھیوں کا، ذرا سا بھی کام کرنے والوں کاشکر نہ ادا کرتے ہوں اور اپنی ساری محنت کا جو آپؑ نےاپنے ساتھیوں پر کی کبھی بھی اظہار نہیں کیا بلکہ تعریف کر رہے ہیں کہ انہوں نے میری مدد کی اور یہ کام میرے لیے آسان ہو گئے۔
حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانیؓ بیان کرتے ہیں کہ
’’ خدام کے چھوٹے چھوٹے کام کی ہمیشہ قدر فرماتے اور ان کی دلجوئی فرماتے۔ ان کی محنت سے زیادہ دیتے۔ جن ایام میں کوئی کتاب یا رسالہ جلدی اور ضروری چھاپنا اور شائع کرنا مقصود ہوتا اور راتوں کو کام ہوا کرتا تھا تو جو لوگ حضور کے ساتھ عملہ پریس یا کاتب کام کرتے ان کے لیے دودھ اور دوسری ضروری چیزیں خاص توجہ سے مہیا فرماتے اور معمولی سے زیادہ اجرتیں دیتے اور باایں ان کی کارگذاری پر نہ صرف خوشی بلکہ شکریہ کا اظہار فرماتے۔‘‘
(سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ، حصہ سوم صفحہ 348)
حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ لکھتے ہیں کہ
’’ انبیاء کا دل بڑا شکر گذار ہوتا ہے۔ ایک معمولی سے معمولی بات پر بھی بڑا احسان محسوس کرتے ہیں۔ ‘‘
آپؓ فرماتے ہیں:’’مَیں نے دیکھا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابیں جب دن رات چھپتیں تو باوجود اس کے کہ آپؑ کئی کئی راتیں بالکل نہیں سوتے تھے لیکن جب کوئی شخص رات کے وقت پروف لاتا تو اس کے آواز دینے پر خود اٹھ کر لینے کے لیے جاتے اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہتے جاتے کہ جَزَاک اللّٰہُ اَحْسَنَ الْجَزَاءِِ۔ اس کو کتنی تکلیف ہوئی ہے۔ یہ لوگ کتنی تکلیف برداشت کرتے ہیں۔ خدا ان کو جزائے خیر دے حالانکہ آپؑ خود ساری رات جاگتے رہتے تھے۔‘‘ آپؓ فرماتے ہیں کہ
’’مَیں کئی بار آپؑ کو کام کرتے دیکھ کر سویا۔‘‘حضرت مصلح موعود ؓکہتے ہیں کئی بار میں آپؑ کو کام کرتے دیکھ کر سویا’’اور جب کہیں آنکھ کھلی تو کام ہی کرتے دیکھا حتّٰی کہ صبح ہو گئی۔ دوسرے لوگ اگرچہ خدا کے لیے کام کرتے تھے لیکن آپ‘‘ علیہ السلام’’ ان کی تکلیف کو محسوس کرتے تھے۔ کیوں؟ اس لیے کہ انبیاء کے دل میں احسان کا بہت احساس ہوتا ہے۔‘‘
(الفضل19؍اگست1916ءجلد4نمبر13صفحہ7کالم3)
پھر ایک واقعہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ ’’حافظ نبی بخش صاحب ساکن فیض اللہ چک نے مجھ سے بیان کیاکہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے باغ میں سیر کے لیے تشریف لے گئے۔ اس وقت حضورؑ کے دستِ مبارک میں ایک بید کا عصا تھا۔ ایک درخت پر پھل اتارنے کے لیے وہ عصا مارا مگر وہ عصا درخت میں ہی اٹک گیا۔ ‘‘پھینکا دور سے، وہیں اٹک گیا ’’اور ایسی طرح پھنسا کہ اترنے میں ہی نہ آتا تھا۔‘‘ نیچے نہیں گر رہا تھا۔’’ اصحاب نے ہر چند سوٹا اتارنے کی کوشش کی مگر کامیابی نہ ہوئی۔‘‘ تو نبی بخش صاحبؓ کہتے ہیں کہ ’’مَیں نے عرض کیا کہ حضور! مَیں درخت پر چڑھ کر اتار دیتا ہوں اور مَیں جھٹ چڑھا اور عصا مبارک اتار لایا۔ حضورؑ اس قدر خوش اور متعجب ہوئے کہ بار بار محبت بھرے الفاظ میں فرماتے تھے کہ’’ میاں نبی بخش یہ تو آپ نے کمال کیا کہ درخت پر چڑھ کر فوراً سوٹا اتار لیا۔ کیسے درخت پہ چڑھے اور کس طرح سے درخت پر چڑھنا سیکھا۔ یہ سوٹا تو ہمارے والد صاحب کے وقت کا تھا جسے گویا آج آپ نے نیا دیا ہے۔‘‘ حضورؑ راستہ میں بھی بار بار فرماتے تھے کہ میاں نبی بخش نے درخت پر چڑھ کر سوٹا اتارنے میں کمال کیا ہے۔ نیز حضور ؑکی عادت میں داخل تھا کہ خواہ کوئی چھوٹا ہو یا بڑا کسی کو تُو کے لفظ سے خطاب نہ کرتے تھے حالانکہ میں چھوٹا بچہ تھا مجھے کبھی حضورؑ نے تُو سے مخاطب نہ کیا تھا۔‘‘
(سیرت المہدی جلد 1 حصہ سوم روایت نمبر 543 صفحہ 536)
حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ لکھتے ہیں کہ’’ ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ
حضرت صاحبؑ کے لیے جب کوئی شخص تحفہ لاتا تو آپ بہت شکر گزار ہوتے تھے اور گھر میں بھی اس کے اخلاص کے متعلق ذکر فرمایا کرتے تھے اور اظہار کیا کرتے تھے کہ فلاں شخص نے یہ چیز بھیجی ہے۔‘‘
(سیرت المہدی جلد 1 حصہ سوم روایت نمبر 713صفحہ 647)
کس طرح
آپؑ چھوٹے چھوٹے تحفوں پر شکر گزاری کا اظہار فرمایا کرتے تھے
اس بارے میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ اہلیہ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحبؓ مرحوم نے اپنی تحریر میں لکھ کے بیان کیا کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ڈاکٹر صاحبؓ تین ماہ کی رخصت لے کر آگرہ سے قادیان آئے۔ آگرے میں خورمے،بالو شاہی قسم کی ایک مٹھائی ہے، وہ بہت عمدہ اور بڑے بڑے بنتے تھے۔ حضور ؑکو پسند بھی تھے۔ ڈاکٹر صاحبؓ جب آتے تو حضرت صاحبؑ کے لیے خورمے ضرور لاتے تھے۔ ایک دن جب وہ آئے تو حضور علیہ السلام نے اس دن صبح سے کھانا نہیں کھایا ہوا تھا۔ کہتی ہیں عصر کے وقت مَیں گھر میں آئی اور آپؑ بہت خوش ہوئے۔ مجھ سے سفر کا حال پوچھا۔ اماں جانؓ نے کہا کہ کھانا تیار ہے ۔آپؑ نے فرمایا طبیعت نہیں چاہ رہی کھانا کھانے کو۔ پھر حضرت اماں جانؓ نے کہا کہ مراد خاتون۔ یعنی یہی خاتون جو تھیں آپؑ کے لیے آگرے سے خورمےلائی ہیں۔ پہلے تو آپؑ بہت خوش ہوئے۔پھر فرمایا کہ مجھے پسند ہیں لاؤ کھاؤں۔ جب سامنے لائے گئے تو آپؑ نے بڑی تعریف فرمائی۔ فرمایا اتنے زیادہ۔پھر حضورؑ نے انہیں کھایا اور فرمایا کہ میرے لیے رکھ لو۔ کچھ کھایا کچھ کھاؤں گا۔ آپؑ کے کھانے کے بارے میں تو پہلے بیان ہو ہی چکا ہے کس طرح آپؑ تھوڑا تھوڑا کھاتے تھے اور دعا کرتے ہوئے کھایا کرتے تھے۔ بہرحال کہتی ہیں کہ آپؑ کے اس طرح اس چھوٹی سی بات پر اتنی تعریف کرنے پر میرا دل بڑا خوش ہوا کہ مَیں بیان نہیں کر سکتی۔ مَیں نے ڈاکٹر صاحبؓ کو بتایا تو وہ بھی بہت خوش ہوئے اور کتنی دیر تک آسمان کی طرف منہ کر کے سبحان اللہ سبحان اللہ پڑھتے رہے۔ بڑے مخلص تھے ڈاکٹر صاحبؓ بھی۔
(مأخوذ از سیرت المہدی جلد 2حصہ پنجم روایت نمبر 1297صفحہ 193 – 194) (اردو لغت جلد 8 صفحہ 540)
حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ’’حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام پر جب گورداسپور میں‘‘ مولوی کرم دین آف بِھیں کی طرف سے’’ مقدمہ دائر تھا اس وقت روپے کی تنگی تھی۔ اخراجات بڑھ گئے تھے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے ماتحت بعض لوگوں کو تحریک کی گئی اور جنہیں تحریک کی گئی ان میں سے ایک ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب بھی تھے۔ اس موقع پر ان کے گھر میں جو کچھ تھا انہوں نے جمع کر کے سب بھجوا دیا اور لکھ دیا کہ آئندہ بھی جو آمدنی ہوگی وہ بھیجتا رہوں گا۔ چنانچہ تنخواہ اور پریکٹس سے جو کچھ انہیں ملتا اسے بھیج دیتے ‘‘حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں۔ ’’ایک دوست نے جو ان دنوں ان کے مہمان تھے سنایا کہ مَیں نے کہا :۔سب کچھ وہاں بھیج دیتے ہیں اپنے لیے کیوں کچھ نہیں رکھتے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں اب وقت ایسا ہی ہے۔ اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے ان کو ایک چٹھی لکھی جو مَیں نے خود پڑھی ہے۔‘‘ ڈاکٹر صاحبؓ نے فرمایا کہ یہ وقت ہی ایسا ہے کہ مسیح موعودؑ کی خدمت کی جائے۔ تو بہرحال اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک چٹھی بھی ان کو لکھی اور حضرت مصلح موعودؓ کہتے ہیں کہ مَیں نے وہ چٹھی خود پڑھی ہوئی ہے اور ’’اس میں آپ نے لکھا آپ نے قربانی کی حد کر دی۔ ‘‘ڈاکٹر خلیفہ رشیدالدین ؓکو حضرت مسیح موعود علیہ السلام لکھ رہے ہیں کہ آپؓ نے قربانی کی حد کر دی ہے ’’اب آپ کو چندہ دینے کی ضرورت نہیں۔‘‘ اتنی زیادہ قربانی کر رہے ہیں’’ حالانکہ آپ نے فرمایا ہے‘‘ حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک جگہ فرماتے ہیں بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام یہی تلقین فرمایا کرتے تھے کہ باقاعدہ چندہ دیا کرو اور آپؑ نے فرمایا کہ’’ جو تین ماہ چندہ نہ دے وہ جماعت میں نہیں رہ سکتا۔ یہ چٹھی‘‘ حضرت مصلح موعودؓ کہتے ہیں’’ اب بھی شاید خلیفہ صاحب مرحوم کے گھر میں ہو۔ وہ اس کے بعد بھی چندہ دیتے تھے اور انہیں دینا چاہیے تھا۔ ‘‘یہ نہیں کہ ایک چٹھی لکھنے کے بعد انہوں نے چندہ دینا بند کر دیا۔ وہ پھر بھی چندہ دیتے رہے اور حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ انہیں دینا چاہیے تھا’’ کیونکہ پہلے وہ فرض ادا کرتے تھے اور بعد میں شکریہ کے طور پر دیتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے اللہ تعالیٰ کی وحی کے ماتحت جو کتاب لکھی اس میں ہمیں وصیت سے مستثنیٰ کیا ہے۔‘‘ حضرت مصلح موعودؓ کہتے ہیں کہ رسالہ الوصیت جو لکھا اس میں ہمیں یعنی اپنی اولاد کو مستثنیٰ قرار دیا۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ’’میرے دل میں ہمیشہ ایک خلش سی رہتی تھی کہ ہمیں قربانی کے ایک موقع سے محروم کر دیا گیا مگر پھر خیال آیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر عبادت کرتے تھے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں آپؐ کے پاؤں متورّم ہو جاتے ۔یہ دیکھ کر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا:جب اللہ تعالیٰ نے آپؐ کے سب گناہ معاف کر دیئے تو آپ اس قدر تکلیف کیوں اٹھاتے ہیں آپؐ نے فرمایا: اَفَلَا اَکُوْنَ عَبْدًا شَکُوْرًا۔یعنی کیا مَیں شکر گزار بندہ نہ بنوں۔ ‘‘ایسے مقام پر پہنچ کر، حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ’’ ایسے مقام پر پہنچ کر فرضاً اور وجوباً نہیں تو شکریہ کے طور پر عمل ہونا چاہئے۔‘‘ اگر فرض نہ بھی ہو تو شکریہ کے طور پر عمل ہونا چاہیے ۔یہ مجھے خیال آیا کہ گو ہمیں وصیت کے چندے سے استثناء کیا گیا ہے لیکن شکریہ تو ادا کرنا چاہیے۔’’ چنانچہ اس کے بعد مَیں نے ایسا طریق اختیار کیا کہ میرا چندہ موصیوں کے چندوں سے زیادہ ہی ہو۔ پھر مجھے یاد آیا میرا ایک الہام بھی ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی وفات کے تھوڑے دنوں بعد مجھے الہام ہوا: اِعْمَلُوْا اٰلَ دَاوٗدَ شُکْرًا‘‘ کہ ’’خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو داؤد قرار دیا ہے۔ یَا دَاوٗدُ عَامِلْ بِالنَّاسِ رِفْقًا وَّحُسْنًا۔‘‘ کہ اے داؤد! لوگوں کے ساتھ نرمی اور حسن سلوک کا معاملہ کرو’’ یعنی اللہ تعالیٰ بعض لوگوں سے مشقّت اٹھا دیتا ہے مگر ان کا فرض ہوتا ہے کہ شکریہ کے طور پر پھر بھی عمل کریں۔ شاید یہ الہام میرے اسی وہم کے ازالہ کے لیے ہو۔‘‘ (خطبات محمود جلد1 صفحہ 220-221و حاشیہ صفحہ 224-225)(تذکرہ صفحہ 109و 120ایڈیشن1956ء،تذکرہ صفحہ 91 و 255 ایڈیشن2023ء) تو حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ پھر مَیں نے چندہ بہت دیا۔ تو یہاں یہ بھی بتا دوں کہ ایک سوال مجھے بھی پہنچا۔
یہ سوال بعض لوگ اٹھاتے ہیں کہ شاید حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کے خاندان کے تمام افراد یا خلفاء پر چندہ نہیں ہے اور وہ مستثنیٰ ہیں۔تو واضح ہو کہ یہ استثنا صرف آپؑ کے پانچ بچوں کے لیے تھی۔ نہ بیٹوں کی بیویوں کے لیے۔ نہ بیٹیوں کے خاوندوں کے لیے۔ نہ ان کی اولاد کے لیے۔ اور جو بھی وصیت کرے گا اس کو بہرحال وصیت کا چندہ دینا پڑے گا اور اپنا حصہ جائیداد بھی دینا پڑے گا اور اسی طرح چندہ دینا پڑے گا جس طرح دوسرے موصی دیتے ہیں۔
بہرحال یہ بھی میں واضح کر دوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قادیان کی جو بہشتی مقبرہ کی زمین ہے وہ بھی عطا فرمائی تھی۔ شاید ایک یہ بھی وجہ ہے۔اَور بھی وجوہات تھیں بہت ساری، اللہ تعالیٰ کی نظر میں ہوں گی جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آپؑ کے پانچ بچوں کو چندے سے استثنا دیا، وصیت کے چندے سے اور بہشتی مقبرہ میں تدفین کی اجازت دی لیکن قربانیاں ان لوگوں نے بہت زیادہ کی ہیں۔ حضرت اماں جانؓ نے بھی اور آپؑ کی اولاد نے بھی بہت قربانیاں ہر تاریخ میں کی ہیں۔
تو بہرحال جس طرح حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا ہے آپؓ نے جماعتی مقاصد کے لیے ایک موصی سے بڑھ کر مالی قربانیاں کی ہیں ۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی باقی اولاد نے بھی کی ہیں اور
یہ بھی واضح ہو کہ نہ کوئی خلیفہ،حضرت مصلح موعودؓ کے بعد اس سے مستثنیٰ ہے بلکہ سب نے وصیت کی ہے اور اپنا وصیت کا چندہ ادا کرتے ہیں اور اسی طرح باقی تحریکات جو خلفاء کرتے ہیں ان میں سب نے حصہ لیا اور اپنی استطاعت کے مطابق بڑھ چڑھ کے حصہ لیا۔ کوئی استثنا نہیں نہ کسی خلیفہ کو نہ خاندان کے کسی فرد کو۔ یہ صرف ان پانچ بچوں کو استثنا تھا ۔یہ وضاحت میں اس لیے کر رہا ہوں کہ بعض جگہ سے مجھے ایک سوال پہنچا تھا۔
حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ منشی عبدالعزیز صاحب اَوْجَلْوِیؓ نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ جبکہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر گورداسپور میں فوجداری دعویٰ کیا ہوا تھا اور حضورؑخان صاحب علی محمد صاحب پنشنر کے مکان متصل مسجد حجاماںمیں مقیم تھے۔ خاکسار اور میاں جمال الدین اور امام الدین اور خیر الدین صاحبان ساکنان سیکھواں حضورؑ کے ساتھ تھے۔ باقی دوست دوسری جگہ ٹھہرے ہوئے تھے۔ ایک دن حضورؑ کو پیٹ کی خرابی کی شکایت ہوئی۔ عام طور پہ آپؑ کو انتڑیوں کی تکلیف رہا کرتی تھی تو بار بار قضائے حاجت کے لیے تشریف لے جاتے تھے۔ حضورؑ نے ہمیں سوئے رہنے کے لیے فرمایا کہ مَیں اٹھتا ہوں تم لوگ نہ اٹھا کرو۔ جب حضورؑ رفع حاجت کے لیے اٹھتے تو خاکسار اسی وقت اٹھ کر پانی کا لوٹا لے کر حضورؑ کے ساتھ ساتھ جاتا۔ تمام رات ایسا ہی ہوتا رہا۔ ہر بار حضورؑ یہی فرماتے ہیں کہ تم سوئے رہو۔ صبح کے وقت حضورؑ نے مجلس میں بیٹھ کر ذکر فرمایا کہ مسیح ؑکے حواریوں اور ہمارے دوستوں میں ایک نمایاں فرق ہے۔ ایک موقع مسیح ؑپر تکلیف کا آتا ہے تو وہ اپنے حواریوں کو جگاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جاگتے رہو اور دعائیں مانگو مگر وہ سو جاتے ہیں اور بار بار جگاتے ہیں مگر وہ پھر سو جاتے ہیں لیکن
مسیح محمدیؐ کے حواریوں کا یہ حال ہے کہ ہم اپنے دوستوں کو بار بار تاکید کرتے ہیں کہ سو رہو لیکن وہ پھر بھی جاگتے ہیں۔
چنانچہ خاکسار کا نام لے کر فرمایا کہ
مَیں نہیں جانتا کہ میاں عبدالعزیز تمام رات سوئے بھی ہیں کہ نہیں۔ میرے اٹھنے پر فوراً ہوشیاری کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوتے تھے اور باوجود میرے بار بار تاکید کرنے کے کہ سوئے رہو، اٹھ کھڑے ہوتے تھے۔
حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے اس پر تبصرہ کیا ہے کہ
حضرت مسیح ناصریؑ کا یہ قول سچا ہے اور ضرور سچا ہے کہ درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے تو ہر غیر متعصّب شخص کو ماننا پڑے گا کہ جو شیریں پھل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت نے پیدا کیا ہے وہ حضرت مسیح ناصریؑ کی صحبت ہرگز پیدا نہیں کر سکی۔ حضرت مسیح موعودؑ کے انفاسِ قدسیہ نے ہزاروں لاکھوں انسانوںکی ایسی جماعت پیدا کر دی جو آپؑ کے لیے اپنی جان قربان کر دینے کو سب فخروں سے بڑھ کر فخر سمجھتی تھی اور بلکہ اب تک سمجھتی ہے۔
اور آپؑ کی ذرا سی تکلیف پر اپنا ہر آرام اور راحت قربان کر دینے کو تیار تھی اور ہے۔مگر حضرت مسیح ناصریؑ بارہ آدمیوں کی قلیل جماعت کو بھی سنبھال نہ سکے اور ان میں سے ایک نے تیس روپے لے کر آپؑ کو پکڑوا دیا۔ حکومت کو خبر کر دی۔
(ماخوذ از سیرت المہدی جلد 1روایت نمبر 701صفحہ 639 تا 640)
حضرت عنایت اللہ صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ ’’جب میں پہلی دفعہ قادیان آیا تو ایک عطر کی شیشی ہمراہ لایا۔ پیدل سفر کیا۔ رات بٹالہ رہا ‘‘تو کہتے ہیں’’ جب شیشی دیکھی‘‘ مَیں نے ’’تو سوائے ایک قطرہ کے باقی ضائع ہو گیا‘‘ تھا۔ ’’مجھے سخت افسوس ہوا۔ شام کی نماز کے وقت جب حضور ؑمسجد مبارک کی چھت پر تشریف لائے، مصافحہ کیا اور حضورؑ کو بندہ نے دبانا شروع کیا ‘‘تو مَیں نے ’’عرض کی کہ مَیں ایک شیشی عطر لایا تھا وہ راستہ میں ضائع ہو گیا۔ شیشی حضورؑ کی خدمت میں پیش کر دی‘‘ اسی طرح ایک قطرے کے ساتھ ہی۔’’ فرمایا :تم کو پوری شیشی کا ثواب مل گیا ہے۔‘‘ جَزَاکَ اللّٰہ کہا۔
(روایات اصحاب احمد جلد 1 صفحہ 131)
حضرت محمد اسماعیل صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ’’ میں قریباً بیس(20)سال کا تھا کہ گورداسپور میں کرم الدین جہلمی (دراصل بِھیں ضلع جہلم کا تھا)‘‘ یا آج کل تو ضلع چکوال میں ہے۔ بہرحال اس ’’کے مقدمہ کا حکم سنایا جانا تھا۔ میں ایک دن پہلے اپنے گاؤں سے وہاں پہنچ گیا (تھا )۔ وہاں پر ایک کوٹھی (میں )حضور علیہ السلام بھی اترے ہوئے تھے۔ گرمی کا موسم تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ادھر کے ایک کمرے میں بیٹھے تھے۔ وہاں پر میرے والد صاحب میاں جمال الدین صاحب، میاں امام الدین صاحب سیکھوانی اور چوہدری عبدالعزیز صاحب بھی موجود تھے۔ مَیں نے جا کر حضورؑ کو پنکھا جھلنا شروع کر دیا۔ حضورؑ نے میری طرف دیکھا اور میرے والد میاں جمال الدین صاحب کی طرف اشارہ کر کے مسکرا کر فرمایا کہ میاں اسماعیل نے بھی آ کر ثواب میں سے حصہ لے لیا ہے۔ حضورؑ کا معمولی اور ادنیٰ خدمت سے خوش ہو جانا ‘‘کہتے ہیں’’ اب بھی مجھے یاد آتا ہے تو طبیعت میں سرور پیدا ہو تاہے۔‘‘
(روایات اصحاب احمد جلد2صفحہ139)
حضرت میاں صدر الدین صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ ’’آپ کے جسم پر اونی لوئی ہوتی تھی جو مونڈے پر ڈال کر حضورؑ باہر (تشریف )لایا کرتے تھے۔ ایک دفعہ چوہدری بھولے نے مجھے بتایا کہ ایک دفعہ میں حضرت اقدس علیہ السلام کے ساتھ بٹالہ گیا ۔آپؑ کے پاس ایک گھوڑا تھا ۔کچھ دیر آپؑ اوپر چڑھے رہے ۔پھر مجھے چڑھا دیا۔‘‘ یعنی پہلے خود سوار ہوئے ۔پھر ان کو چڑھا دیا ’’اور کچھ وقت خالی گھوڑے کو لے گئے تاکہ وہ بھی آرام کر لے۔ اسی طرح چراغ چپڑاسی مدرسہ احمدیہ کے باپ نے مجھے بتایا تھا کہ ایک دفعہ حضورؑ فَجّےکشمیری والے کنویں پر لے گئے تاکہ وہاں جا کر نہائیں۔ رستہ میں مجھے ایک پیسہ دیا کہ ریوڑیاں لاؤ۔‘‘ پہلے تو وہ اپنی واقعات کی کہانی سنا رہے ہیں لیکن اصل واقعہ شکر گزاری کا یہاں سے شروع ہوتا ہے۔ کہتے ہیں آپؑ نے مجھے پیسہ دیا کہ ریوڑیاں لے کے آؤ۔’’جب مَیں لایا تو آپؑ نے ان کے دو حصے کیے اور ایک حصہ مجھے دینے لگے۔ مَیں نے لینے سے انکار کر دیا۔ حضرتؑ نے فرمایا کہ مَیں اکیلا کس طرح کھاؤں ۔پیسہ میرا‘‘ مَیں نے منگوا لیےہیں۔ ’’اور محنت تمہاری‘‘ تم لے کے آئے۔ تم نے محنت کی ہے۔ ’’چنانچہ نصف ریوڑیاں ‘‘آپؑ نے’’ مجھے دیں۔ ‘‘
(روایات اصحاب احمد جلد 4 صفحہ93)
یہ بھی دوسرے کے کام کی شکر گزاری کا ایک انداز ہے۔ہر چھوٹے بڑے کا جو آپؑ کا کسی بھی رنگ میں کام کرتا تھا آپؑ اس کا شکر ادا فرماتے تھے
کئی مثالیں مَیں نے دی ہیں۔
حضرت شیر محمد صاحبؓ بھی بیان کرتے ہیں کہ’’ کرم دین کے مقدمہ میں جب کہ حضورؑ جہلم تاریخ پر گئے تو بٹالہ میں میرے دوستوں نے چائے کا بندوبست کیا ہوا تھا اور ہمیں بلایا۔ سب دوست بمع حضرت مسیح موعودؑ (مولوی عبد اللطیف صاحب شہیدؓ) بھی ساتھ تھے۔ تب حضرت ؑنے فرمایا کہ چائے پلانے والا کون ہے‘‘ چائے پر ان کے دوستوں نے بلایا ہوا تھا۔ کہتے ہیں ’’تو خاکسار نے عرض کیا کہ حضور آپ کے خادم ہیں‘‘ اور وہ لوگ جو تھے ’’یہ ان لیڈیوں کے ‘‘جو انگریز عورتیں تھیں، افسروں کی بیویاں تھیں، ان کے گھروں کے خانسامے تھے۔ کھانا پکانے والے تھے۔یہ ان کے ’’خانسامے ہیں جو کہ حضرت مسیحؑ کے متعلق خدا اور اس کا بیٹا کہنے کی منادی کرتی پھرتی ہیں۔‘‘یہ خدمت کرنے والے جو اس وقت یہاں ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو ان لوگوں کی خدمت کرنے والے ہیں یا ان لوگوں کے ملازم ہیں جو مسیح ناصری ؑکو خدا کا بیٹا کہتے ہیں۔ تو یہ وہ لوگ ہیں۔ بہرحال حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ بات سنی اور’’اس پر حضرت صاحب ؑنے خوشی کا اظہار کیا‘‘ اور پھر ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔ ان لوگوں کا جنہوں نے چائے کا انتظام کیا تھا، عیسائی تھے یا غیر مسلم تھے یا جو بھی دوست تھے ان کے اور صرف وہاں شکریہ ادا نہیں کیا بلکہ لکھتے ہیں کہ’’اور ان کا شکریہ کا اعلان اخبار میں کیا‘‘ کہ ان لوگوں نے میری وہاں خدمت کی۔ تو یہ اہمیت آپؑ نے ان کو دی کہ شکریہ صرف کہا نہیں بلکہ اعلان بھی فرما دیا۔
(روایات اصحاب احمد جلد 2 صفحہ376)
اللہ تعالیٰ ہمیں بھی شکر گزاری کےاعلیٰ معیار اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 14؍اگست 2026ء




