یادِ رفتگاں

حضرت شیخ محمد مبارک اسماعیل صاحب رضی اللہ عنہ

(ڈاکٹر مبارز احمد ربانی۔ یوکے)

ذیل میں خاکسار اپنے پڑ نانا جان حضرت شیخ محمد مبارک اسماعیل صاحب رضی اللہ عنہ کی زندگی کے چند واقعات دعا کی غرض سے پیش کر رہا ہے جوکہ آپ کی خود تحریر کردہ ڈائری‘‘حیات مبارک’’سے لئے گئے ہیں۔ یہ ڈائری آپؓ نے 1945میں تحریر کرنا شروع کی تھی۔

آپ حضرت صوفی مولا بخشؓ آف لاہور (جو 313 صحابہ حضرت مسیح موعودؑ میں سے تھے) کے بڑے فرزند تھے۔ آپ کی والدہ صاحبہ کا نام برکت بی بی تھا جوکہ صحابیہ تھیں۔ آپ کی پیدائش 17؍اپریل 1891ء کو بمقام لدھیانہ ہوئی۔ آپ حضرت شیخ یعقوب علی عرفانیؓ صاحب کے چچا زاد تھے۔

آپ نے ہندوؤں، عیسائیوں اور سکھوں کے ساتھ بے شمار مناظروں میں شرکت کی۔ آپ کو خدا تعالیٰ کے فضل سے عربی، فارسی، انگلش، سنسکرت اور گورمکھی زبانوں پر عبور تھا۔ آپ تدریس کے شعبہ سے منسلک رہے۔

آپ کو حقّہ اور سگریٹ نوشی سے سخت نفرت تھی۔

آپ نے اپنے آبا ؤ اجداد کے بارہ میں جاننے کے لئے اپنے چچا زاد بھائی حضرت شیخ یعقوب علی عرفانیؓ صاحب کو ایک خط تحریر کیا۔ جس پر انہوں نے جوابًا ستمبر 1957ء میں لکھا:

’’ہم عرب ہیں اور قبیلہ بنو اسد کے نام لیوا ہیں۔ حضرت خدیجہ الکبریٰ ؓ امّ المومنین بھی اسی قبیلہ سے ہیں۔ ہمارے خاندان میں کوئی نہ کوئی بزرگ پیدا ہوتا رہا ہے۔

پچھلے اور قریب کے زمانہ میں ہمارا داداؒ جس کا نام بابا قلندر علی تھا اور لوگ قلندر بابا کہتے تھے۔ اس کی دعائیں قبول ہوتی تھیں اور جو زبان سے نکل جاتا پورا ہوتا۔ ‘‘

آپ کو حضرت مسیح موعود ؑ کی رفاقت میں سیر پر بھی جانے کے مواقع حاصل ہوئے۔ آپ تحریر کرتے ہیں’’ یہ برکت کا زمانہ تھا۔ ہرروز صبح گھر سے چلتے۔ چند خدام ساتھ ہیں۔ راستہ میں مسئلہ مسائل اسلام کا ذکر ہوتا۔ مولویوں کی مخالفت کا چرچا تھا۔ بعض عقیدتمند باہر سے تشریف لاتے تو اس سیر میں حضرت صاحب سے ملتے تو اپنا ماجرا سناتے یا اگر کوئی مخالف مولوی یا سیاح آتا تو وہ اس وقت گفتگو کرتا۔ نئے نئے سوالات پیش ہوتے۔…حضرتؑ کی گفتگو کا وہ لطف آتا تھا کہ اب اس عمر میں لکھتے وقت بھی محسوس ہو رہا ہے۔ …‘‘

آپ لکھتے ہیں:’’ اس زمانہ میں قادیان میں برادرانہ اخوّت کا زور تھا۔ استاد طلباء سے محبت سے سلوک کرتے، چھوٹا بھائی سمجھتے تھے۔ احمدی ایک دوسرے کو بھائی کے لفظ سے پکارتے تھے۔… نماز روزہ کی سخت پابندی تھی۔ جبر نہیں بلکہ شوق پیدا ہو گیا تھا۔ ‘‘

’’جماعت نہم، دہم شعور کا زمانہ تھا۔ والد صاحب گھر پر بدستور پڑھایا کرتے تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جبکہ احمدی ہونے کی وجہ سے بہت سی تکالیف آیا کرتی تھیں۔ گلی بازار میں سکول میں لوگوں کے مذاق کا نشانہ بنے رہتے تھے۔ سکول میں عربی اور دینیات پڑھانے والے مولوی محمد ذاکر صاحب بھگوی تھے۔ جو نہایت ہی خاموش زاہد صفت آدمی تھے۔ ایک دفعہ پڑھاتے پڑھاتے فرمانے لگے کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ رام چندر بھی نبی تھا، کرشن بھی نبی تھا بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے اگر وہ نبی ہوتے تو ان کے بعد بت پرستی کیوں شروع ہو جاتی۔ میں نے فورًا اٹھ کر جواب دیا کہ مولوی صاحب اس میں رام چندر اور کرشن کا کیا قصور ہے۔ حضرت عیسیٰ ؑ کو عیسائی خدا کا بیٹا قرار دیتے ہیں اور بعض گرجوں میں ان کا بت ہے اس کی پرستش کرتے ہیں ، کیا حضرت عیسیٰ ؑ نے فرمایا تھا کہ میری پرستش کیا کرو۔ اسی طرح رام چندر اور کرشن کا کیا قصور تھا۔ مولانا نے شرمندہ ہوتے ہوئے اپنے استادانہ رعب سے کام لیا اور فرمایا …بیٹھ جاؤ۔ یونہی باتیں نہ بنایا کرو۔… یہ وہ زمانہ تھا کہ مجھے نماز پڑھنے اور قرآن کریم کی تلاوت کا بہت شوق تھا۔ رات کو تہجد بھی کبھی کبھی پڑھتا اور والد صاحب مرحوم کی سکھائی ہوئی دعائیں مانگا کرتا۔‘‘

’’جماعت دہم میں 1904ء میں پڑھا کرتا تھا۔ ان دنوں یونیورسٹی کا دستور تھا کہ اگر کوئی لڑکا انگریزی کے پرچہ B میں فیل ہو جاتا تو وہ سارے امتحان میں فیل ہو جاتا تھا۔ میں حساب میں تو پاس ہو گیا مگر انگریزی میں فیل ہو گیا۔ نتیجہ میں نے قادیان میں سُنا۔ بہت صدمہ ہوا۔ کمرہ بند کر کے سجدے میں گِر پڑا اور خوب رویا۔ دعا مانگنے سے دل کو تسکین سی ہو گئی۔ ایک چٹھی حضرت مسیح موعود ؑ کی خدمت میں بھی لکھی کہ میں فیل ہو گیا ہوں۔ میرے لئے تسلی کی دعا فرمائیں اور آئندہ کامیابی کے لئے دعا فرمائیں۔ یہ چٹھی حضرت امّاں جان کی موجودگی میں ہی پیش ہوئی۔ آپ نے امّاں جان صاحبہ سے دریافت کیا کہ یہ کون ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ یہ شیخ مولا بخش لاہور والوں کا لڑکا ہے۔ آپ نے میرے رقعہ پر تحریر فرمایا کہ دعا کی گئی آئندہ بھی کبھی کبھی یاد کراتے رہا کریں۔‘‘

خلیفہ اوّل ؓ والد صاحب سے بہت محبت کیا کرتے تھے۔ اور اس سلسلہ میں مجھ پر بہت مہربان تھے۔ جب کبھی فرصت ملتی میں قادیان میں ان کی خدمت میں حاضر ہوتا۔ درس کے نوٹ لیتا۔ 1908ء میں امتحان دیا۔ اب کے میں نے خلیفہ اوّل ؓ کی خدمت میں اس مضمون کے خطوط لکھے کہ حضرت مسیح موعودؑ کا مجھ سے وعدہ تھا کہ میں دعا کروں گا۔ اب چونکہ وہ موجود نہیں آپ ان کے جانشین ہیں یہ ذمّہ داری آپ پر عائد ہوتی ہے۔ الغرض آپ میرے لئے دعا کرتے رہے۔ نتیجہ نکلنے کے دن آگئے اور نتیجہ نکل بھی گیا۔ میں قادیان میں تھا مجھے کسی نے اطلاع نہ دی۔ جب میں خلیفہ اوّل کے سامنے جاتا تو آپ دریافت فرماتے۔ کیوں بھئی تمام جہان کا نتیجہ نکلا تمہارا کچھ پتہ نہ چلا۔ آخر دو دن کے بعد مجھے اطلاع ملی تو میں نے آپ کو مطلع کیا۔ فرمانے لگے الحمد للہ۔ مجھے تو تمہاری ذمّہ داری کا فکر تھا۔ میں نے بہت دعائیں کیں کہ الٰہی یہ کسی ابتلاء میں نہ آ جائے۔ خدا کا شکر ہے کہ تم کامیاب ہو گئے۔

آپ لکھتے ہیں:میں نے 1911ء میں ایف۔ اے کا امتحان پاس کیا اور جلد ہی اسی سال بی۔اے میں داخل ہو گیا۔ ایف ۔ اے کے زمانہ میں مسٹر عبد العزیز خاں بی۔ اے کالج کے پرنسپل ہوا کرتے تھے۔ آدمی بہت شریف تھے۔ نظم و ضبط کالج میں رکھنا چاہتے تھے ذرا سخت گیر تھے۔ ان کی سختی اکثر طلباء محسوس کرتے تھے۔ ایک اور صاحب تھے ان کا نام میں بھول گیا ہوں۔ انہوں نے طلباء میں مسٹر عبد العزیز خاں صاحب کے خلاف پراپیگنڈا کرنا شروع کیا۔ اس پراپیگنڈا کا یہ نتیجہ نکلا کہ لڑکوں نے سٹرائیک کر دی۔ ان دنوں کالج کی کوئی بلڈنگ نہ تھی۔ ہوسٹل کا نصف حصّہ کالج اور نصف ہوسٹل کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔ خیر سٹرائیک ہوا تو شہر میں بہت شور غوغا ہوا۔ کالج میں کچھ احمدی طلباء بھی تھے۔ انہوں نے مجھ سے مشورہ کیا۔مَیں نے حضرت خلیفہ اوّل ؓ کی خدمت میں لکھا تو جواب آیا کہ احمدی طلباء کو افسران بالا کے خلاف سٹرائیک نہیں کرنی چاہئے۔ پس اس حکم پر ہم اس سے باز رہے۔ سید عبد القادر صاحب کو یہ خیال آیا کہ احمدی طلباء کو بھی ساتھ ملانا چاہئے۔ میں عمومًا موچی دروازہ کے راستہ سے ہو کر نہر کے کنارے کالج جایا کرتا تھا۔ انہوں نے میرا رستہ روک لیا اور مجھے بہت سمجھایا کہ کالج کی بہتری اس میں ہے کہ سٹرائیک مکمل ہو۔ میں نے بالکل انکار کر دیا کہ ہمیں اپنے امام جماعت کی طرف سے حکم ہے کہ احمدی طلباء ایسے کام میں شامل نہ ہوں۔الغرض میں نے سٹرائیک میں نہ خود حصّہ لیا، نہ کسی اور احمدی کو حصہ لینے دیا ۔ اس بات کی اطلاع میں نے پرنسپل صاحب کو بھی دی۔ یہ سب سر کردہ اصحاب ہم سے بہت خوش تھے۔

کالج لائف میں مجھے کچھ امتیاز حاصل تھا وہ یہ کہ سکول لائف میں بھی اکثر جلسوں پر قرآن شریف کی تلاوت کیا کرتا تھا۔ مولانا حالی مرحوم کی نظمیں پڑھ کر سنایا کرتا تھا۔ اور کالج میں بھی آتے ہر اتوار وعظ سے پہلے قرآن مجید کی تلاوت کیا کرتا تھا۔ حالانکہ وعظ کرنے والے ہمارے کالج کے ہی علماء ہوا کرتے تھے یعنی مولوی عمر صاحب پروفیسر فارسی، مولوی احمد علی صاحب پروفیسر عربی اور احمدیوں سے سخت تعصب والے اصغر علی صاحب۔ یہ میرے قرآن شریف کی تلاوت کرنے پر کبھی اعتراض نہیں کیا کرتے تھے۔ قرآن شریف کی تلاوت کی وجہ سے لوگوں نے میرا نام مولوی ڈالا ہوا تھا۔ اکثر مجھے مولوی کہہ کر پکارتے تھے۔ اس کی وجہ یہ بھی تھی کہ احمدی ہونے کی وجہ سے مسئلے مسائل کا اکثر شغل رہتا تھا اور کالج کے طلباء حضرت مرزا صاحب کے متعلق اکثر بات چیت کرتے رہتے تھے۔

آپ(حضرت شیخ محمد مبارک اسماعیلؓ صاحب ) کی تعلیم B.A.B.T تھی اور آپ تدریس کے شعبے سے منسلک تھے۔ اس سلسلہ میں آپ کو مختلف شہروں کے سکولوں میں کام کرنے کے مواقع حاصل ہوئے۔ اس سلسلہ میں آپ کی خدمات قابل قدر رہیں۔ آپ نے اوکاڑہ، ڈیرہ غازی خاں، مظفر گڑھ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، موروتی پور قصبہ، گوجرہ اور سمندری کے سکولوں میں تدریسی خدمات انجام دیں۔ آپ کے ساتھی اساتذہ اور افسرانِ بالا نے آپ کی شفقت اور قابلِ قدر خدمات کو نہایت شاندار الفاظ میں یاد کیا۔

آپ کی پہلی شادی آپ کے چچا زاد بھائی حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی ؓ صاحب کی بیٹی محمودہ بیگم سے ہوئی جوکہ جلد ہی فوت ہو گئیں۔دوسری شادی زینب صاحبہ سے ہوئی جوکہ حضرت میاں چراغ دینؓ صحابی حضرت مسیح موعودؑ کے خاندان سے تھیں۔ دونوں سے ایک ایک بچہ ہوا جو بچپن میں ہی فوت ہو گیا۔ زینب صاحبہ کی وفات کے بعد آپ کی تیسری شادی خان بہادر غلام محمد خاںؓ پولیٹکل ایجنٹ گلگت کی بڑی بیٹی رسول بی بی صاحبہ سے ہوئی۔ ان میں سے حیات رہنے والے بچوں میں 4بیٹیاں اور دو بیٹے تھے۔

آپ کو اپنی چھوٹی بہن مبارکہ صاحبہ سے بہت پیار تھا۔ مبارکہ اپنی والدہ کی وفات کا صدمہ برداشت نہ کر سکیں اور کچھ عرصہ کے بعد بیمار پڑ گئیں اور اسی بیماری میں آپ کی وفات ہو گئی جس کا آپ کو بہت دکھ تھا۔ اور اسی وجہ سے آپ نے اپنے نام کے ساتھ مبارک لفظ کا اضافہ کیا۔

آپ کی آخری عمر بیماری میں گزری اور اسی بیماری میں آپ کی وفات27فروری 1966ء کو ہوئی۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ آپ کے درجات بلند کرتا جائے اور آپ کی نسلوں کو آپ کی نیکیوں پر قائم کرنے والا بنائے۔(آمین ثم آمین)

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button