دین کے معاملے میں کوئی دنیاوی چیز روک نہیں بننی چاہئے
جماعت احمدیہ میں ایک فقرہ ہر مرد عورت، چھوٹا بڑا جانتا ہے اور وہ ہے کہ ’’میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا‘‘۔
(ملفوظات جلد 2صفحہ70۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)
اس لئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی ہمیں اس طرف بہت توجہ دلائی ہے۔ خلفاء کی تقریروں میں عموماً اور ہمارے مقررین کی بھی اکثر تقریروں تحریروں میں، اس فقرے کا استعمال ہوتا ہے۔ شرائط بیعت کا بھی خلاصہ یہی ہے کہ دین کو دنیا پر مقدم رکھا جائے گا۔ اسی طرح تمام ذیلی تنظیموں کے جو عہد ہیں ان کا خلاصہ بھی یہی ہے کہ دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا۔ اسی طرح بیعت کے الفاظ میں بھی ہم ان الفاظ کو دہراتے ہیں۔ غرض کہ یہ فقرہ ایک احمدی کا عہد ہے جس پر اس کی بیعت کا انحصار ہے۔ خلافت سے اور نظام سے جڑے رہنے کا انحصار ہے۔ اگر یہ نہیں تو پھر بیعت کا دعویٰ غلط ہو جاتا ہے۔ نظام سے جڑے رہنے کا، خلافت سے وابستگی کا دعویٰ غلط ہو جاتا ہے۔ اور بیعت کا اعلان اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کی باتیں صرف منہ کی باتیں رہ جاتی ہیں۔ اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک جگہ فرمایا ہے کہ ’’اگر کوئی بیعت میں تو اقرار کرتا ہے کہ دین کو دنیا پر مقدم کروں گا مگر عمل سے وہ اس کی سچائی اور وفائِ عہد ظاہر نہیں کرتا تو خدا کو اس کی کیا پرواہ ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد 4صفحہ71 حاشیہ۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)
پس ہم میں سے ہر ایک کو اس بات کو ہر وقت اپنے سامنے رکھنے کی ضرورت ہے۔ جیسا کہ اس فقرے سے واضح ہے کہ دین کے معاملے میں کوئی دنیاوی چیز روک نہیں بننی چاہئے۔ اور دین کیا ہے؟ دین اللہ تعالیٰ کے احکامات کے تابع ہو کر اپنی زندگیاں گزارنا ہے۔ اپنے ہر قول و فعل سے خدا تعالیٰ کو راضی کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم میں سے بڑی تعداد یہ کوشش کرتی ہے کہ دین کے راستے میں جو چیز روک بن رہی ہو اُسے دُور کرے۔ لیکن یہ بھی صحیح ہے کہ ہر ایک کی کوشش ایک جیسی نہیں ہو سکتی کیونکہ ہر انسان کی علمی صلاحیت بھی مختلف ہوتی ہے اور دوسری استعدادیں اور صلاحیتیں بھی مختلف ہوتی ہیں۔ ہاں اللہ تعالیٰ کیونکہ ہماری نیّتوں کو بھی جانتا ہے اس لئے ہر ایک کی صلاحیت کے مطابق اس سے معاملہ کرتا ہے۔ پس اس عہد کو پورا کرنے کے لئے بنیادی چیز نیک نیّتی ہے۔ اس میں کسی قسم کے عذر اور بہانے نہیں ہونے چاہئیں۔ دنیاوی معاملات میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ ہر انسان کا دائرہ مختلف ہوتا ہے۔ کسی کی کوشش محدود دائرے میں ہوتی ہے کیونکہ اس کا علم اور صلاحیت اس چیز کو حاصل کرنے کے لئے محدود ہے یا بعض دفعہ یہ بھی ہوتا ہے کہ دوسری ترجیحات اس کے کام میں روک بن رہی ہوتی ہیں جو اسے محدود کر دیتی ہیں اور کسی کی کوشش بہت زیادہ ہوتی ہے اور صحیح رنگ میں ہوتی ہے۔ جس مقصد کو حاصل کرنا ہو صرف اسی پر نظر ہوتی ہے اور پھر وہ اسے مکمل حاصل ہو بھی جاتا ہے۔
(خطبہ جمعہ ۱۷ اکتوبر ۲۰۱۴ مطبوعہ الفضل انٹر نیشنل مورخہ ۷ نومبر تا ۱۳ نومبر ۲۰۱۴)
مزید پڑھیں: دعاؤں اور صدقات سے بلائیں ٹل جاتی ہیں



