متفرق مضامین

تر بیتِ اولا داور انصار اللہ کی ذمہ داریاں (قسط 4)

(قرآن و حدیث اورحضرت اقدس مسیح موعود ؑ اورآپ کے خلفاء کرام کے ارشادات کی روشنی میں)

تر بیت کے سلسلے میں کو ششوں کے نتا ئججانچنے کا طریق

اصل مربی تو خدا تعا لیٰ کی ہی ذات ہے لیکن وہ بندوں کی دعا ؤں کو بھی سنتا ہے اور ان کی کو ششوں کو بھی پھل لگا تا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کے فضل کس قدر نتیجہ خیز رہے ہیں۔ اس کا کسی قدر اندازہ بچے کے اندر پیدا ہو نے والی صفات سے بھی لگا یا جا سکتا ہے۔ حضرت مصلح موعودؓ نے بیان فرمایا ہے کہ وہی بچہ تربیت یافتہ کہلائے گا جس میں درج ذیل باتیں پائی جاتی ہوں:

1۔ ذاتی طور پربا اخلا ق ہواور اُس میں رُوحانیت ہو: اس امر کا معیار یہ ہے کہ:

1۔ جب بچہ بڑا ہو تو امورِ شرعیہ کی لفظاً و عملاًو عقیدتاً پابندی کرے۔

2۔ اس کی قوتِ ارادی مضبوط ہو تا آئندہ فتنہ میں نہ پڑے۔

3۔ اپنی ضروریات زندگی کا خیال رکھنا اور جان بچانے کی قابلیت رکھنا۔

4۔اپنے اموال اور جائیداد بچانے کی قابلیت کا ہونا اور اس کے لئے کوشش کرنا۔

2۔ دوسروں کو بھی بااخلاق بنانے کی قابلیت رکھتا ہو: اس امر کا معیار یہ ہے کہ:

1۔ا خلاق کا اچھا نمونہ پیش کرے۔

2۔ دوسروں کی تربیت اور (تبلیغ) میں حصہ لے۔

3۔ اپنے ذرائع کو ضائع ہونے نہ دے بلکہ انہیں اچھی طرح استعمال کرے جس سے جماعت و دین کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچے۔

3۔ قانونِ سلسلہ کے مطابق چلنے کی قابلیت رکھتا ہو: اس کا معیار یہ ہے کہ :

1۔ اپنی صحت کا خیال رکھنے والا ہو۔

2۔ جماعتی اموال اور حقوق کا محافظ ہو۔

3۔کوئی ایسا کام نہ کرے جس سے دوسروں کے حقوق کو نقصان پہنچے۔

4۔ قومی جزا اور سزاکو برداشت کرنے کے لئے تیار ہو۔

4۔ اللہ تعالیٰ سے خا لص محبت رکھتا ہو جو سب محبتوں پر غالب ہو: اس امر کا معیار یہ ہے کہ

1۔ اُسے کلامِ الٰہی کا شوق اور ادب ہو۔

2۔ خدا تعالیٰ کا نام اُسے ہر حالت میں مئودب اور ساکن بنادے۔

3۔ دنیا میں رہتے ہوئے دنیاسے بکلّی الگ ہو۔

4۔ خدا تعالیٰ کی محبت کی علامات اُس کے وجود میں پائی جائیں۔

( بحوالہ منہاج الطالبین، انوار العلوم جلد 9صفحہ 200 تا208 )

(د) تربیتِ اولاد کے اہم گُر

بچے کی زندگی کے ابتدائی چند سالوں یعنی پنگو ڑھے کے وقت میں اس کی تر بیت کے لئے بعض اہم امور:

نیتیں سیدھی کرنا:

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے تھے کہ پنگوڑھے کے وقت کا زمانہ نیتیں سیدھی کرنے کا وقت ہوا کرتا ہے۔یعنی وہ زمانہ جبکہ ابھی بچے پر عبادت فرض نہیں ہوئی ہوتی اُس وقت اخلاقی تعلیم دینے کی ضرورت ہے اور یہ زمانہ نیتوں کو درست کرنے میں سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔اس وقت گھروں کے ماحول کو اس نیت سے صاف اور درست رکھنے کی ضرورت ہے کہ ماں باپ یقینی طور پر یہ جان لیں کہ اگر ان کی بد اخلاقیوں کی وجہ سے اولاد کی نیتوں میں فتور پیدا ہو گیا تو پھر ان کی تمام عمر کی بد اعمالیوں میں وہ حصّہ دار قرارپائیں گے اور اس معاملہ میں وہ خدا کے حضور جوابدہ ہوں گے۔

دائیں کان میں اذان اور بائیں میں اقامت کہنا:

یہ محض ایک رسم نہیں بلکہ باوجود اذان اور اقامت کے الفاظ کے نہ سمجھنے کے، بچہ لازماً ان کلمات کی پاکیزگی سے متاثر ہو گا اور اس کے دماغ پر ان کلمات کے پاکیزہ مفہوم کا اثر ساری زندگی قائم رہے گا۔

پہلی خوراک کے ساتھ برکت کی دعا:

آنحضور صلی اللہ علیہ و سلم بچے کو پہلی خوراک (گھٹی) دیتے وقت برکت کی دعا کیا کرتے جو نہایت ضروری اور بابرکت فعل ہے کیونکہ خدائے بزرگ و برتر کی مدد کے بغیر کوئی تربیت اور کوئی اصلاح قائم نہیں ہو سکتی۔

اچھے نام رکھنا:

آنحضور صلی اللہ علیہ و سلم تفاؤل کے طور پر اچھے نام بچوں کے رکھا کرتے تھے۔حضرت ابو درداء ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا تمہیں قیامت کے روز تمہارے ناموں اور تمہارے آباء کے ناموں سے پکارا جائے گا۔ پس تم اچھے نام رکھا کرو۔(سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی تغییر الاسماء)

بچہ بھی بسا اوقات اپنے نام کے مطابق ہی بنتا ہے یا بننے کی کوشش کرتا ہے۔اس لئے ایسا نام رکھنا چاہئیے جو محض سننے میں خوبصورت نہ ہو بلکہ معنوی لحاظ سے بہت اچھا اور معنی خیز ہو۔

بچے کا عقیقہ اور اس کی طرف سے قربانی:

عقیقہ سے ایک مقصدبچے کی تربیت کا احساس اجاگر کرنا بھی ہے اور یہ بتانا مقصود ہے کہ بچے کو محض کھلانا پلانا اور آرام سے رکھنا ہی ضروری نہیں کیونکہ کھا پی کر تو یہ محض حیوان ہو گا جبکہ حیوان تو وہ جانور بھی تھا جواس کے لئے قربان کر دیا گیا۔اصل غرض تو اسے با اخلاق اور با خدا بنانا ہے، محض کھلا پلا کر موٹا کر کے دُنبہ نہیں بنانا۔ اگر دُنبہ بنانا مقصود ہوتا تو ایک پلے پلائے دُنبے کو اس بچے کے لئے کیوں ذبح کرایا جاتا۔اس کی بجائے بچے ہی کو ذبح کر کے دنبہ کو کیوں نہ گھر میں باندھ لیا جاتا۔

آنحضور صلی اللہ علیہ و سلم عقیقہ کے علاوہ ساتویں دن بچے کے سر کے بال بھی اُتروایا کرتے اور بالوں کو تول کر اُن کے ہم وزن چاندی صدقہ کردیتے۔یہ ظاہر کرنے کے لئے کہ اس بچے کی تعلیم وتربیت میں یہ مدّ نظر نہیں ہو گا کہ یہ بڑا ہو کر محض مال و دولت کمائے کیونکہ مال یعنی چاندی سونا تو ایسی حقیر چیزیں ہیں کہ اس بچے کے کاٹ کر پھینک دئیے جانے والے بالوں کے برابر بھی نہیں۔ پھر یہ خود کس طرح محض سونے چاندی کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔اس کی پیدائش کی غرض تو اپنے پیا رے خدا کا حصول اور اس کی تربیت کا مقصود دین اور روحانیت حاصل کر نا ہے۔

لڑکے کا ختنہ:

ابتدائی چند ہفتوں کے اندر ہی نو مولود لڑکے کے ختنے کروا دینے چاہییں۔ختنوں کے دیگر طبی فوائد کے علاوہ اس سے یہ بات بھی والدین کے ذہن نشین کروانی مقصود ہے کہ جس طرح بچے کی باطنی پاکیزگی اور طہارت کا خیال رکھنا ماں باپ کا فرض ہے اسی طرح اس کے جسم کی درستی اور صحت کا خیال رکھنا بھی ان پر واجب ہے۔

صفائی کی عادت:

بچے کو ہمیشہ صاف ستھرا رکھنا چا ہئے۔ جب بچہ گند کرے تو اُسے فوراً صاف کر دیا جائے تا کہ اُسے صاف رہنے کی عادت ہو۔اگر بچہ ظاہر میں صاف ہو گا تو اِس کا اثر اُس کے باطن پر بھی پڑے گا اور اُس کا باطن بھی پاک ہو گا۔

بچے کو عدمِ تحفظ کا احساس نہ ہونے دینا:

بچہ پہلا قدم اٹھائے تو بڑوں کو گھبراہٹ کا اظہا ر نہیں کر نا چاہئے۔ اُسے کوشش کرنے دیں۔ گرنے پر بھی تشویش کا اظہار نہ کریں۔ ‘ہائے‘ کہہ کر اُسے خوفزدہ نہ کریں۔خوف سے محفوظ رکھنے کے لئے والدین کومعلوم ہونا چاہئے کہ بچہ مندرجہ ذیل امور سے خوف کھاتا ہے:

(1)تیز آوازجو اچانک پیدا ہو: مثلاًبچے کے پاس زور سے تالی بجانا کہ وہ چونک اُٹھے، زور سے دروازہ بند ہو جانا وغیرہ، اسی طرح بچے کو چونکا دینا اسے خوفزدہ کردینے کے مترادف ہے۔

(2) گرنے کا احساس: گرنے کا احساس بھی بچے میں sense of insecurity یعنی عدمِ تحفظ کا احساس اور اس کے نتیجے میں خوف کی کیفیت پیدا کرنے کا موجب بنتاہے۔ اس لئے بچے کو ایک ہاتھ سے اُٹھانا مناسب نہیں۔ دیکھا گیا ہے کہ بچہ رو رہا ہے ماں نے جِھلّا کر ایک بازو سے پکڑ کر اٹھا یا تو بچہ اور زور سے رونا شروع کردیتا ہے۔ اس لئے بچے کو اس طرح اٹھایا جائے کہ محسوس کرے کہ وہ محفوظ ہے۔

(3)تنہائی اور تاریکی: تنہائی اور تاریکی میں خود کو اکیلا محسوس کرنے کی وجہ سے بچے میں خوف کی کیفیت پیدا ہو جائے گی۔ اس لئے بچے کو اس عمر میں اکیلے کمرے میں نہیں سلانا چاہئے تاکہ جاگنے پر ماں یا باپ کو نہ پا کر خوفزدہ نہ ہو جائے۔ دن کو بھی کام کرتے وقت ماں بچے کی نظروں کے سامنے رہے تو اُسے تحفظ کا احساس گا۔

بچے کا تعلیمی سلسلہ شروع کرنا:

چند ماہ کا بچہ دوسروں کی نظریں پہچاننے لگتا ہے کہ کون اسے خوش ہو کر دیکھ رہا ہے یا غصّہ سے دیکھ رہا ہے۔ جس کے جواب میں وہ مسکراتا ہے یا کوئی اور ردّ عمل دکھاتا ہے۔ اس لئے یہ بہت ضروری ہے کہ اس کے سامنے ہر کام، ہر بات سوچ سمجھ کر اور احتیاط سے کی جائے۔

ہر بچہ اپنی صلاحیت کے مطابق اس عمر میں ہی بعض باتیں سیکھ لیتا ہے یا سیکھ سکتا ہے۔ مثلاً

1۔ وقت کی پابندی

2۔ پا کیزگی و طہارت ( نفاست پسند بچہ گیلا ہوتے ہی رونے لگتا ہے )

3۔ ضد کرنا یا صبر کرنا

4۔ خود اعتمادی

5۔ بہادری

6۔ زبان سیکھنا

7۔ ردّعمل کا اظہار

8۔ نقل کرنے سے سیکھنے کار حجان

چنانچہ والدین کو چاہئے کہ اسی عمر سے اس کا تعلیمی سلسلہ بھی شروع کردیں۔

بطور مثال چند امور پیشِ خدمت ہیں:

بچہ جھوٹ بلکہ ہر برائی سے ناآشنا ہوتا ہے۔۔ بچوں کو جھوٹ بڑے سکھاتے ہیں۔ اس لئے بے حد ضروری ہے کہ بڑے کوئی ایسا کام یا بات نہ کریں جس میں جھوٹ کی ملونی ہو۔

پھر بچے میںصبر کی عادت پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ فوری طور پر بچہ کی خواہش یا ضرورت پوری نہ کی جائے بلکہ اسے اُمید دلائیں کہ ابھی تھوڑی دیر کے بعد ٹافی، بسکٹ یا جو بھی وہ مانگ رہا ہے وہ دیں گے۔

اس عمر میںبچے کو چڑ چڑے پن اور ضد ی پن سے محفوظ رکھنے کے لئے باربار روکنا یا منع کرنا مناسب نہیں۔مثلاً یہ نہ کرو، یہ نہ پکڑو، اُدھر مت جائو، اُوپر مت چڑھو گر جائو گے۔

اسی طرح کوئی چیز بھی بچے کے ہاتھ سے چھیننی نہیں چاہئے۔بلکہ کسی اور طریق سے مثلاً توجہ کسی اور طرف بدل کر وہ چیز اُس سے لی جا سکتی ہے۔ بہتر یہ ہو گا کہ جو اشیاء بچے کے لئے خطرناک ہوں یا جن چیزوں کے نقصان کا اندیشہ ہو انہیںمحفوظ مقام پر رکھ دیا جائے تاکہ نہ تو باربار منع کرنے اور روکنے سے بچے کی طبیعت میں چڑ چڑا پن پیدا ہو، نہ ہی ماں باپ کے اعصاب پر تنائو کی کیفیت طاری ہو۔

پھراس عمر میں بچہ بالعموم بولنا بھی شروع کردیتا ہے۔ اس لئے بڑے جو چاہیں بچے کو بولنا سکھا سکتے ہیں۔

شروع ہی سے اُس کی کسی ناز یبابات یا حرکت کی حوصلہ شکنی کرنی چاہئے۔ بہتر ہے کہ اس عمر میںبچہ کی منفی بات یا حرکت کا نوٹس ہی نہ لیا جائے تا کہ وہ خود بخود اُسے ترک کردے۔ اُس کی کسی نا مناسب بات پر اگر اُسے داد دی جائے گی تو وہ اُسے دہرائے گا اورپھر اُس بات کو چھڑوانا قدر ے مشکل ہوگا۔

………

(باقی آئندہ)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button