جماعت احمدیہ کبابیر کے انتیسویں جلسہ سالانہ ۲۰۲۶ء کا کامیاب انعقاد
٭… صدر مملکت اسحاق ہرزوگ، علمائے کرام، ماہرین تعلیم اور ممتاز شخصیات کی شرکت
٭… میثاق مدینہ کی روشنی میں امن، عدل اور بقائے باہمی پر اہم تقاریر ٭… ۱۳۰۰؍احباب کی شمولیت
محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ کبابیر کو اپنا ۲۹واں جلسہ سالانہ ’’میثاق مدینہ کا نمونہ-آنحضرتﷺ اور یہود کے درمیان‘‘ کے مرکزی موضوع پر مورخہ ۱۷و ۱۸؍ستمبر ۲۰۲۶ء کو شہر حیفا میں منعقد کرنے کی توفیق ملی۔ جلسہ کے عبرانی اجلاس میں اسرائیل کے صدر مملکت جناب اسحاق ہرزوگ نے خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر حیفا کے میئر جناب یونا یاہف کے علاوہ علمائے کرام، ماہرین تعلیم، حیفا کے سابق میئرز اور ثقافتی و سماجی حلقوں سے تعلق رکھنے والی متعدد ممتاز شخصیات بھی موجود تھیں۔ متعدد سفراء اور غیر ملکی مہمانوں نے بھی جلسہ میں شرکت کی۔
جلسہ سالانہ کے دوسرے روز اردن سے ایک وفد نے شرکت کی۔ ویسٹ بینک فلسطین سے بھی ایک بڑا وفد جلسہ میں شریک ہوا۔

پہلے روز ’’میثاق مدینہ سے عصر حاضر تک‘‘ کے موضوع پر دو مرکزی تقاریر پیش کی گئیں۔ مکرم ایقان احمد شمس صاحب نے ’’صحیفۂ مدینہ: مشترکہ شہریت کا نمونہ- ایک تاریخی اور عملی مطالعہ‘‘ کے موضوع پر اپنی تقریر میں میثاق مدینہ کے تاریخی پس منظر اور اس کے بنیادی اصولوں پر روشنی ڈالی۔ مکرم محمد شریف عودہ صاحب امیر جماعت احمدیہ کبابیر نے میثاقِ مدینہ کی روشنی میں امن، عدل، باہمی احترام اور سماجی ہم آہنگی کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ آپ نے پائیدار امن کے لیے اعتماد، محبت اور انصاف کو بنیاد بنانے، مذہبی جبر سے اجتناب، انسانی جان کی حرمت اور عادلانہ طرزِ حکمرانی کی ضرورت اُجاگر کرتے ہوئے تورات اور قرآن کریم کی تعلیمات کے حوالے پیش کیے۔
اس اجلاس میں اسرائیل کے صدر مملکت جناب اسحاق ہرزوگ نے مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان ملاقات اور مکالمے کی اہمیت بیان کرتے ہوئے جماعت احمدیہ کی جانب سے امن، رواداری، عدل اور باہمی احترام کی اقدار کو سراہا۔ انہوں نے یہودی اسلامی مکالمے کے فروغ میں جماعت احمدیہ کے کردار کی بھی تعریف کی۔
اجلاس کے دوران حیفا کے میئر یونا یاہف، شیخ توفیق حلبي، اسرائیل میں بھارت کے سفیر جناب جے پی سنگھ اور پروفیسر شمعون شطریت نے بھی اظہار خیال کیا۔ مقررین نے بقائے باہمی، بین المذاہب مکالمے، شراکت داری اور باہمی احترام کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

پہلے دن کے شام کے پروگرام میں ’’امن کے قیام میں مذہب کا کردار‘‘ کے عنوان سے ڈسکشن ہوئی جس کی صدارت حیفا یونیورسٹی کے حیفا انسٹی ٹیوٹ برائے مطالعۂ مذاہب کے بانی ڈائریکٹر پروفیسر اوریئل سیمونسون نے کی۔ پینل میں مکرم امیر صاحب، ہارادر کے ربی نفتالی روتنبرگ، نائب پادری اعظم بشپ ڈاکٹر رفیق نہرا اور خاتون ربی عدینہ بار شالوم نے شرکت کی۔ ان احباب نے امن کے قیام میں مذہب کے کردار، مذہبی قیادت کی ذمہ داری، تعلیم و معاشرتی اداروں اور بین المذاہب مکالمے کے کردار پر گفتگو کی اور اس امر کا جائزہ لیا کہ امن کی اقدار کو عملی زندگی میں کس طرح مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔
پروفیسر راسم خماسی، خاتون ربی نعما ڈافنی اور وکیل ایتان لدرر نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ گفتگو میں رحم، عدل، مساوات اور امن کی اقدار کے فروغ، مذہب و معاشرے کے باہمی تعلق اور اختلافات کو مکالمے کے ذریعے حل کرنے میں افراد و اداروں کی ذمہ داری پر روشنی ڈالی گئی۔
دوسرا روز:جلسہ سالانہ کے دوسرے روز کا آغاز نماز تہجد اور فجر سے ہوا۔ ویسٹ بینک اور مملکت اردن سے آنے والے وفود بھی اس روز جلسہ میں شریک ہوئے۔
نماز عصر کے بعد مسجد کے صحن میں ایک خصوصی تقریب منعقد ہوئی جس میں لوائے احمدیت لہرایا گیا۔ بعد ازاں مسجد کے ہال میں تبلیغی پروگرام منعقد ہوا۔

پہلا اجلاس خاکسار (مبلغ انچارج) کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ مکرم شیخ حسین مصری صاحب نے تلاوت قرآن کریم پیش کی جس کے بعد خاکسار نے مختصر استقبالیہ تقریر میں غیر از جماعت افراد کے ساتھ محبت، ان کی ہدایت کے لیے تڑپ اور حضرت خلیفۃالمسیح کی ہدایات کے حوالے سے گفتگو کی اور حضرت مسیح موعودؑ کے الفاظ میں جماعت احمدیہ کی حقیقی تعریف پیش کی گئی۔ بعد ازاں مکرم ربیع مفلح عودہ صاحب نے مختصر پریزینٹیشن کے ذریعہ جماعت احمدیہ کے عقائد اور حضرت مسیح موعودؑ کا مقام واضح کیا۔ اس کے بعد مہمانوں کے سوالات کے جواب دیے گئے۔ سوال و جواب کا سلسلہ مغرب کے وقت تک جاری رہا۔ خاکسار کے ساتھ مکرم عبدالقادر صاحب صدر جماعت ویسٹ بینک فلسطین اور مکرم محمود زکی صاحب سیکرٹری تبلیغ نے بھی سوالات کے جواب دیے۔
اختتامی اجلاس:شام کے وقت اختتامی اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت مکرم امیر صاحب نے کی۔ پروگرام کا آغاز مکرم محمود طلعت عودہ صاحب کی تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔ بعد ازاں مکرم فرج عودہ صاحب نے حضرت مسیح موعودؑ کا ایک قصیدہ پیش کیا۔ مکرم عمادالدین مصری صاحب مبلغ سلسلہ و سیکرٹری تربیت نے ’’بانیٔ جماعت کی اپنے آقا و مطاع حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے محبت‘‘ کے موضوع پر اور مکرم حاجی راشد خطاب صاحب صدر مجلس انصار اللہ نے ’’نظام خلافت کا تقدس، اس کی اہمیت اور اس کی برکات‘‘ کے موضوع پر تقاریر کیں۔
بعد ازاں حالات حاضرہ کے مسائل اور ان کے حل کے حوالے سے ایک ڈاکومنٹری دکھائی گئی جس میں جماعت احمدیہ کی جانب سے انسانیت کے لیے کی جانے والی مقامی و عالمی خدمات کا مختصر ذکر کیا گیا۔ اختتامی تقریر خاکسار نے ’’جماعت احمدیہ امن کا راستہ اور سلامتی کی ضامن‘‘ کے عنوان سے کی۔ اس کے بعد بعض معزز عرب مہمانوں نے اپنے تاثرات پیش کیے اور اجتماعی دعا کے ساتھ جلسے کی کارروائی اختتام پذیر ہوئی۔
امسال جلسہ سالانہ پر کل حاضری ۱۳۰۰ تھی۔ الحمد للہ۔ اللہ تعالیٰ اس جلسہ کو اسرائیل میں اور پوری دنیا میں قیام امن کا ذریعہ بنائے اور اس بابرکت جلسہ کی برکات سے جماعت احمدیہ کو نوازے۔ آمین
(رپورٹ: شمس الدین مالاباری۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل)
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: ریجن جگوں (Djougou)، بینن میں بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کی مساعی




