اسلامی جمہوریہ پاکستان میں احمدیوں پر ہونے والے دردناک مظالم کی الَم انگیز داستان
۲۰۲۵ء میں سامنےآنے والے تکلیف دہ واقعات سے انتخاب
عبادتگاہیں اور دوسری مذہبی جگہیں مقدس سمجھی جانی چاہئیں۔ جہاں ہر عبادت گزار خود کو محفوظ سمجھتے ہوئے اپنی عبادت کرسکے۔ (امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی)
مساجد پر حملے
ڈسکہ ضلع سیالکوٹ:۱۶؍ستمبرکو ڈسکہ کلاں کی مقامی حکومتی انتظامیہ نے گاؤں کی احمدیہ مسجد کو ناجائز تجاوزات کا بہانہ بنا کر مسمار کر دیا۔ اس سے قبل مختلف گلیوں میں گھروں اور کاروباروں کے مالکان کو نوٹس دیا گیا کہ دو روز کے اندر وہ ان تجاوزات کو ہٹا دیں۔ جو نوٹس مسجد کو دیا گیا اس میں لکھا تھا کہ سامنے کی دیوار سے ۱۳؍فٹ اور دوسری جانب سے ۹؍فٹ جگہ تجاوزات میں شامل ہے۔ ۱۵؍جنوری کو احباب جماعت نے مسجد کے مرکزی حصے کو محفوظ کرنے کے لیے مرکزی حصے کے گرد ایک چاردیواری کر دی۔ جب مقامی انتظامیہ کو اس معاملے سے آگاہ کیا گیا تو احباب جماعت کو بتایا گیا کہ اب انتظامیہ کو مسجد پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ لیکن ۱۶؍ستمبر کو ڈسکہ کی اسسٹنٹ کمشنر ماہم مشتاق میونسپل کمیٹی اور پولیس کے عملے کے ساتھ بعد از نماز مغرب وہاں پہنچ گئی۔ بغیر کسی نوٹس کے ان گلیوں کی بجلی منقطع کر دی گئی اور ان گلیوں تک رسائی بند کر کے بھاری مشینری کے ساتھ مسجد کو منہدم کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا۔ یہ کام ۷ بجے سے ۱۱ بجے تک جاری رہا اور مسجد کو مکمل طور پر منہدم کر دیا گیا۔جبکہ باقی گھروں کو نہ ہونے کے برابر نقصان پہنچایا گیا۔ اس عمل کے دوران احمدی احباب نے اے سی سے ملنے کی کوشش کی لیکن اس نے صاف منع کردیا اور عملے نے بھی احمدیوں کو اصرار کرنے پر سنگین نتائج اور جسمانی تشدد کی دھمکی دی۔ اس کارروائی میں مسجد کو مکمل طور پر مسمار کر دیا گیا۔ مسجد مسمار کرنے کے عمل کے دوران شدت پسند موقع پر موجود رہے اور احمدیت مخالف نعرے بازی کرتے ہوئے اس عمل کو سراہتے رہے۔ یہ مسجد تقسیم پاکستان سے قبل وجود میں آئی تھی اور تاریخی اہمیت کی حامل تھی کیونکہ یہ مسجد پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ چودھری سر ظفر اللہ خان صاحبؓ کی خاندانی مسجد تھی۔
اسی طرح ماہ فروری میں پنجاب حکومت کی انتظامیہ نے مختلف اضلاع میں کارروائیاں کرتے ہوئے کئی احمدی مساجد کے مینار اور محراب مسمار کردیے۔ ان کارروائیوں کی وجہ انتہاپسند تنظیم تحریک لبیک اور مقامی شدت پسند مذہبی تنظیمیں تھیں جنہوں نے حکومتی انتظامیہ پر دباؤ ڈالاکہ وہ احمدیہ مساجد سے اسلامی طرز تعمیر کو مکمل طور پرہٹائیں۔ آئین میں دی گئی مذہبی آزادی کی یقین دہانی کے باوجود یکے بعد دیگرے ہونے والے ان واقعات نے اس بات کو واضح کر دیا کہ احمدیہ مقدس مقامات کے خلاف یہ کارروائی حکومت کی سرپرستی میں ایک منظّم انداز میں عمل میں لائی جا رہی ہے۔
ان کارروائیوں میں پہلی کارروائی ۱۱؍فروری کو لبے ضلع سیالکوٹ میں کی گئی جہاں ایک احمدیہ مسجد کے محراب کو مسمار کیا گیا جو سالہا سال سے اردگرد بڑھتی ہوئی کاروباری مصروفیات کی وجہ سے نظروں سے اوجھل ہو چکی تھی۔ انتظامیہ نے محراب مسمار کرنے کے لیے ایک دوکان دار سے اس جگہ کی چابی لی اور مقامی صدر جماعت کو پولیس وین میں محصور رکھا تا کہ موقع پر کوئی بھی احمدی موجود نہ رہے۔
۲۰؍فروری کو ٹھرو ضلع سیالکوٹ میں ایک احمدیت مخالف گروہ نے حکومتی انتظامیہ کے ساتھ ملکر مقامی احمدیہ مسجد کے محراب کو منہدم کر دیا۔۸؍فروری کو بھی انتظامیہ نے یہ مذموم کوشش کی تھی لیکن جب افراد جماعت نے ان سے کسی تحریری حکم نامے کا مطالبہ کیا تو وہ واپس چلے گئے۔ مسجد کو نقصان پہنچانے کےبعد شدت پسند احمدیت مخالف گروہ نے مطالبہ کیا کہ تمام احمدی قبروں کے کتبوں اور احمدی افراد کے گھروں کے باہر کندہ اسلامی الفاظ کو بھی ہٹایا جائے۔
اسی طرح ۲۰؍فروری کوآدھی رات کے وقت چک ۲۰ این پی ضلع رحیم یار خان میں پولیس نے شدت پسند تنظیم تحریک لبیک کی جانب سے دی گئی آخری مہلت سے ایک روزقبل مقامی احمدیہ مسجد کے مینار مسمار کر دیے۔ انتظامیہ نے سامنے کی دیوار پر لکھا کلمہ بھی مٹا دیا۔پولیس نے دو احمدی احباب کو ویڈیو بنانے کی وجہ سے محصور رکھا اور اس کارروائی کے بعد ان کو رہا کر دیا۔
۲۷ اور ۲۸؍فروری کی درمیانی شب ۲ بجے مدرسہ چٹھہ ضلع گوجرانوالہ میں انتظامیہ نے اس نوعیت کی سب سے بڑی کارروائی کی۔ انتظامیہ کے افراد سو سال سے بھی پرانی احمدیہ مسجد کی دیواریں پھلانگ کر مسجد کی چھت پر چڑھ گئے تاکہ وہ مسجد کے مینار مسمار کر سکیں۔ جب ارد گرد کے احمدی اور غیر احمدی افراد کو اس بات کا علم ہوا تو انہوں نے مداخلت کی جس پر یہ لوگ اس وقت وہاں سے چلے گئے۔ لیکن کچھ ہی دیر کے بعد یہ لوگ ایس ایچ او ،اسسٹنٹ کمشنر اور تقریباً ۲۰۰ عملے کے افراد کے ساتھ وہاں آ گئے۔ انہوں نے ۵؍احمدیوں سمیت کُل ۹؍افراد کو گرفتار کر لیا کیونکہ انہوں نے مینار مسمار کرنے پر سب سے زیادہ اعتراض کیا تھا۔ پولیس نے احمدیوں کو اس بات سے بھی آگاہ کر دیا کہ وہ دوبارہ آئیں گے اور مسجد کے اندر لکھی ہوئی قرآنی آیات کو بھی مٹائیں گے۔
اوکاڑہ۔۱۲۔۱۳؍مارچ: گذشتہ کئی ہفتوں سے جماعت احمدیہ اوکاڑہ کے افراد کو انتہاپسند تنظیم تحریک لبیک کی جانب سے احمدیہ مسجد کےمینار مسمار کرنے کے لیے دباؤ کا سامنا تھا۔ بڑھتی ہوئی شورش کے پیش نظر پولیس نے مقامی احمدی قیادت پر مزید دباؤ ڈالا کہ وہ مسجد کے مینار خود ہی مسمار کر دیں۔ گفت و شنید کے بعد سب اس بات پر رضا مند ہوگئے کہ یہ مسجد ۱۹۸۴ء سے قبل تعمیر کی گئی تھی اس لیے اس کے میناروں کو فلیکس بینر کے پیچھے چھپا دیا جائے۔ معاہدے کے باوجود تحریک لبیک نے ۹؍فروری کو مطالبہ کر دیا کہ ان میناروں کو ہٹایا جائے ورنہ ۱۲ اور ۱۴؍تاریخ کو وہ دھرنا دیں گے۔ بڑھتے ہوئے دباؤ کی تاب نہ لا کر پولیس نے دوبارہ مقامی احمدی قیادت کو کہا کہ وہ مینار مسمار کردیں لیکن احمدیوں نے کہا کہ یہ مسجد ۱۹۸۴ء سے قبل تعمیر کی گئی تھی لہٰذا اس مسجد کو قانونی اور آئینی تحفظ حاصل ہے۔ اور مینار مسمار کرنے کی ہدایت پر عمل درآمد سے انکار کر دیا۔ ۱۲؍مارچ کو جب ۲۰؍فٹ بلند ان میناروں کو ڈھانپنے کا عمل شروع کیا گیا تو تحریک لبیک نے ارد گرد کے علاقوں سے تقریباً ۴۰۰ سے ۵۰۰؍افراد کو غوثیہ چوک میں جمع کرلیا گیا اور احمدیت مخالف اشتعال انگیز تقاریر کا آغاز کر دیا۔ اور مطالبہ کیا کہ اس مسجد کے مینار مسمار کیے جائیں اوراس کو سیل کیا جائے۔ اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری وہاں پر تعینات تھی۔ ۱۱ بجے کے قریب پولیس نے دوبارہ مینار منہدم کرنے کا مطالبہ کیا لیکن افراد جماعت نے انکار کر دیا اور مطالبہ کیا کہ اگر حالات قابوسے باہر ہیں تو رینجرز یا فوج کو مدد کےلیے بلا لیا جائے۔ ڈی پی اوسے بات چیت کے بعد سب اس بات پر رضامند ہوگئے کہ میناروں کو مکمل طور پر ڈھانپ دیا جائے تا کہ وہ نظروں سے اوجھل ہو جائیں۔ صبح ۵بجے کے قریب ہجوم منتشر ہو گیا اور حالات معمول پر آگئے۔
پچنند ضلع چکوال: ۱۷؍مارچ کو تقریباً ہزار کے قریب تحریک لبیک کے شدت پسند پچنند گاؤں میں جمع ہو گئے۔ اس سے قبل تحریک لبیک کی جانب سے انتظامیہ کو ۴۸؍گھنٹے کی مہلت دی گئی تھی کہ وہ پچنند گاؤں کے احمدی افراد کے خلاف اسلامی نقش و نگار کے استعمال کرنے پر قانونی کارروائی کریں۔ تحریک لبیک کے شدت پسند اس سے قبل ڈپٹی کمشنر کو احمدیہ مسجد پر موجود اسلامی نقش و نگار کے خلاف شکایت درج کروا چکے تھے۔ ڈپٹی کمشنر نے یہ شکایت اسسٹنٹ کمشنر کو منتقل کر دی اور حکم دیا کہ تین دن کے اندر تحقیقات کر کے رپورٹ جمع کروائی جائے۔ اس سے قبل کہ رپورٹ مکمل کی جاتی تحریک لبیک کے مقامی راہنما آصف شاہ گیلانی نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پیغام نشر کر کے ایک حتمی مہلت کا اعلان کرتے ہوئےعملی کارروائی کا مطالبہ کیا۔ جب مہلت کا وقت ختم ہو گیا تو تحریک لبیک کے شدت پسند احمدیہ مسجد کے باہر جمع ہو گئے اور انتظامیہ سے کارروائی کا مطالبہ کیا۔ صورتحال پر قابو پانے کےلیے پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی۔ پولیس اور تحریک لبیک کے درمیان گفت و شنید کے بعد پولیس نے احمدیہ مسجد کی دیوار پر موجود لوہے کے بورڈ پر کندہ نقش ونگار کو ہٹا دیا۔ تحریک لبیک کے شدت پسندوں نے گاؤں میں موجود احمدیوں کے گھروں کی ایک لسٹ بھی لوگوں میں تقسیم کی۔ یہ مسجد تقسیم پاکستان سے قبل کی ہے۔ ۱۲یا ۱۳؍سال قبل اس مسجد پر موجود مینار بھی مقامی شدت پسندوں کے دباؤ کی وجہ سے انتظامیہ نے مسمار کر دیے تھے۔
دہائیوں سے پاکستان میں احمدیہ مساجد کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے،انہیں زبردستی بند کیا جا رہا ہے اور منہدم کیا جا رہا ہے۔ تاہم ۲۰۱۹ء کے بعد سے احمدیہ مساجد کے خلاف مہم میں گراں قدر اضافہ ہوا ہے۔اس کی شدت پہلے سے بڑھ گئی ہے اور اس مہم جوئی کے حدود اربعہ میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس بڑھتی ہوئی مہم جوئی کا سب سے اہم حصہ جماعت احمدیہ سے منسوب عمارتوں جیسے کہ مساجد کے واضح اسلامی طرز تعمیر اور خدوخال کو نشانہ بناتے ہوئے ان کے مینار اور محراب مسمار کرنا ہے۔ شدت پسندوں کی جانب سے متعدد بار احمدیہ مساجد کے مینار اور محراب کی جانب اشارہ کرکے انہیں مسمار کرنے یا ہٹائے جانے کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔ اور انتظامیہ نے کبھی تو یہ کام امن عامہ کے قیام کے نام پر کیا اور کبھی قانونی ہتھکنڈوں کا ناجائز استعمال کرکے۔ اور اس حقیقت کو بھی ردّی کی ٹوکری میں پھینکا گیا کہ ان میں سے بیشتر مساجد احمدیت مخالف قوانین کے نفاذ سے دہائیوں قبل معرض وجود میں آئی تھیں۔ ان کارروائیوں نے منظّم طریق پر احمدیہ مساجد سے ان کی اسلامی شناخت چھین لی اور انہیں پہچان کے قابل نہ چھوڑا جس سے پتا چل سکے کہ یہ اسلامی عبادتگاہیں ہیں۔
احمدیہ مساجد کو نقصان پہنچانے کا یہ عمل ایک منظّم دباؤ کا نتیجہ ہے۔ مقامی انتظامیہ،پولیس اور محکمہ اوقاف نے مذہبی شدت پسندوں کی جانب سے نقض امن اور احتجاج کی دھمکیوں کے دباؤ میں آکر یہ قدم اٹھایا۔بیشتر مواقع پر انتظامیہ نے احمدیوں کو کہا کہ وہ خود ہی مساجد سے مینار اور محراب ہٹا دیں اور کئی مواقع پر انہوں نے حکومتی مشینری کا استعمال کرکے یہ کارروائی کی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عمومی معاشرے اور پاکستان کے تعمیراتی منظرنامے سے جماعت کی احمدیہ کی مذہبی لحاظ سے حاضری مکمل طور پر غائب ہو گئی۔تحریک لبیک جیسے گروہوں کے قیام کا مقصد ہی احمدیہ مساجد کو بند کرنے،احمدیہ عمارتوں سے اسلامی طرز تعمیر کو ہٹانا اور احمدیوں کے اسلامی عبادات بجالانے کے عمل کو مجرمانہ سرگرمی قرار دلوانا تھا۔ ان گروہوں کی بڑے ہجوم اکھٹے کرنے اور نقض امن برپا کرنے کی صلاحیت نے ہر بار انتظامیہ کے رد عمل کو طے کیا ہے اور ریاستی اداروں نے آئین و قانون کی پاسداری کی بجائے ہمیشہ ان کے سامنے سر تسلیم خم کیا ہے۔
٭…٭…٭



