دنیا کی قدیم ترین کلہاڑی کی دریافت
آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی کے ماہرین آثار قدیمہ نے جدیدٹیکنالوجی (Carbon Dating)کی مدد سے معلوم کیاہے کہ چند سال قبل آسٹریلیاکے شمال مغربی علاقہ سے دریافت ہونے والی کلہاڑی کا پھل جو سیاہ سنگ مرمر ( basalt ) کو تراش کر بنایا گیا ہے، 44 ہزار تا 49 ہزار سال پرانا ہے۔پتھر کی اس کلہاڑی پرموجود ایک نشان سے معلوم ہوتا ہے کہ اسے باقاعدہ لکڑی کا دستہ لگاکر استعمال کیا جاتا تھا۔ اس سے قبل دنیا کی قدیم ترین سمجھی جانے والی کلہاڑی جاپان میں دریافت ہوئی تھی جو تقریباً پینتیس ہزار سال پرانی بیان کی جاتی ہے۔
ہزاروں برس پرانے اس اوزار کی دریافت سے اس حقیقت پر ایک اور مہر تصدیق ثبت ہوئی ہے کہ بائبل میں مذکورحضرت آدم علیہ السلام سے قبل بھی اس زمین پر انسان بستے تھے۔
بانی جماعت احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام نے امریکہ اور آسٹریلیا کے قدیمی باشندوں کے بارہ میں ایک سوال کے جواب میں فرمایا تھا :
’’ہم اس بات کے قائل نہیں اور نہ ہی اس مسئلہ میں ہم توریت کی پیروی کرتے ہیں کہ چھ سات ہزار سال سے ہی ،جب یہ آدم پیدا ہوا تھا، اس دنیا کا آغاز ہوا ہے اور اس سے پہلے کچھ بھی نہ تھا اور خداگویامعطل تھا اور نہ ہی ہم اس بات کے مدعی ہیں کہ یہ تمام نسلِ انسانی جو اس وقت دنیا کے مختلف حصوں میں موجود ہے یہ اسی آخری آدم کی نسل ہے۔
ہم تو اس آدم سے پہلے بھی نسلِ انسانی کے قائل ہیں جیسا کہ قرآن شریف کے الفاظ سے پتہ لگتا ہے ۔خدا تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ اِنّی جَاعِلٌ فِی الاَرۡضِ خَلِیفَۃً (البقرہ:21) خلیفہ کہتے ہیں جانشین کو۔اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ آدم سے پہلے بھی مخلوق موجود تھی۔پس امریکہ اور آسٹریلیا وغیرہ کے لوگوں کے متعلق ہم کچھ نہیں کہہ سکتے کہ وہ اس آخری آدم کی اولاد میں سے ہیں یا کہ کسی دوسرے آدم کی اولاد میں سے ہیں۔‘‘
(ملفوظات جلد 5 صفحہ 675۔ ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ)
حضور علیہ السلام نے اس ضمن میںحضرت شیخ محی الدین ابن عربی ؒ (1165-1240 ء ) کا بھی حوالہ دیا جن کی ملاقات کشفاً ایسے افراد سے دورانِ حج ہوئی تھی جو خود کو چالیس ہزار سال سے بھی پہلے کا بتاتے تھے۔
حضرت شیخ ابن عربی ؒ نے اپنی کتاب فتوحات مکیہ میںتحریر فرمایا ہے کہ ان افرادکی باتیں سن کر مجھے وہ حدیث نبوی یاد آگئی کہ آنحضور ﷺ نے فرمایا تھاکہ اِنّ اللّٰہ خَلق قَبل اٰدَم الْمَعْلوم عنْد نا مائۃ اَلف اٰدَم ۔ یعنی اللّٰہ تعالیٰ نے ہمارے اس معلوم آدم سے پہلے لاکھ آدم پیدا کئے۔ (تصدیق براہین احمدیہ۔صفحہ 5 12)
حالیہ تازہ ترین دریافت سے ماہرین آثارقدیمہ کو بخوبی یہ بھی اندازہ ہوا ہے کہ آسٹریلیا میںپچاس ہزار سال قبل بسنے والے انسان ہنرمند تھے اوراوزار بنانا جانتے تھے۔
دسویں صدی عیسوی کے ایک عالم ابوبکر اَحمد اِبن وَحشیہ اَلکَلدانی کی کتاب(اَلفِلاحَۃ النَبَطِیّہ) میں، جو دراصل کچھ قدیم سُریانی(Ancient Syriac) مسودات کا عربی ترجمہ ہے،بابلؔمیں بسنے والی ایک ایسی قوم کا ذکر ہے جو حضرت آدم علیہ السلام کی نسل سے نہیں تھی لیکن ان کے دور میں پہلے سے موجود تھی۔یہ لوگ نہ صرف اوزار بنانا جانتے تھے بلکہ مبینہ طورپر ان کا کھیتی باڑی کا نظام نہایت ترقی یافتہ تھا۔اس قوم کے بابائے آدم کے بارہ میں بیان کیا گیا ہے کہ اسے خوابوں کے ذریعہ علوم ِحکمت ومعرفت عطا ہوتے تھے۔
(بحوالہ:The Last Pagans Of Iraq.
مؤلفہ : Jaakko Hameem-Anttila
مطبوعہ : 2006)
یہ ایک دلچسپ توارد ہے کہ آسٹریلیا کی قدیم Aborigines اقوام میں بھی خوابوں کو ایک غیر معمولی اہمیت دی جاتی ہے اور اب بھی ان کے ہاں’’تذکارِ رؤیا‘‘ یعنی Dream Time Stories کے لئے باقاعدہ مجالس منعقد ہوتی ہیں جن میں عموماً غیر مقامی افراد کی شرکت ممنوع ہوتی ہے۔




