کلام حضرت مصلح موعود ؓ

قطعات از کلام محمود

باغِ کفار سے ہم نِت نئے پھل کھاتے ہیں

دل ہی دل میں وہ جسے دیکھ کے جل جاتے ہیں

یہ نہ سمجھو کہ وہ بِن کھائے پئے جیتے ہیں

وہ بھی کھاتے ہیں مگر نیزوں کے پھل کھاتے ہیں

(بدر ۱۸؍فروری ۱۹۰۵ء)

لیکھوؔ سے کہا تھا جو ہوا وہ پورا

کیا تم نے وہ دیکھی نہیں مرزاؑ کی دعا

اب بھی کرو انکار تو حیرت کیا ہے

مشہور ہے بے شرم کی ہے دور بلا

(بدر ۶؍مارچ ۱۹۰۷ء)

چھ۶ مارچ کو لیکھوؔ نے اٹھایا لنگر

دنیا سے کیا کوچ سوئے نارِ سقر

تھی موت کے وقت اس کی یہ طُرفہ حالت

لب پہ تھی اگر آہ تو تن میں خنجر

یہ آریہ کہتے ہیں کہ لیکھوؔ ہے شہید

ایسی تو نہ تھی ہم کو بھی ان سے امید

تھی موت وہ ذلّت کی شہادت کیسی

کیا جن پہ پڑے قہرِِ خدا ہیں وہ شہید

(بدر ۲۱؍مارچ ۱۹۰۷ء)

کہتا ہے زاہد کہ میں فرمانروائی چھوڑ دوں

گر خدا مجھ کو ملے ساری خدائی چھوڑ دوں

دانۂ تسبیح اور اشکوں کا مطلب ہے اگر

آب و دانہ کے لیے سب پارسائی چھوڑ دوں

(بدر ۱۸؍فروری ۱۹۰۹ء)

(کلام محمود صفحہ ۲۸۱)

مزید پڑھیں: بےسامان طالب کی پکار

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button